آئینۂ عالمخصوصی

ہیوسٹن کا پیغام: سب ٹھیک ٹھاک ہے

ڈاکٹر سلیم خان

وزیر اعظم نریندر مودی نے جب اپنا پہلا امریکی دورہ کیا  تو نیو یارک میں ایک عوامی جلسہ سے بھی خطاب فرمایا  ۔ اس  میں  30 ہزار ہندوستانیوں نے شرکت کی ۔ اس کے بعد وزیر اعظم مختلف ممالک میں ہندوستانیوں سے خطاب کرکے کانگریس کی برائی کرتے رہے لیکن وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوگیا کہ ہندوستانی انتخابات میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اس لیے یہ سلسلہ پچھلے تین سالوں سے تقریباً بند ہوگیا ۔   اس سال جولائی میں جب وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کا پہلا دورہ کیا تو انہوں نے بھی  واشنگٹن کے اندر عوامی خطاب کا منصوبہ بنایا  اور سنا ہے اس میں 40 ہزار پاکستانی  شریک ہوئے ۔  اس دورے کے دو ماہ بعد ہندی وزیر اعظم کو امریکہ کا دورہ کرنا تھا تو انہوں نے 50 ہزار لوگوں کو جمع کرکے اپنی برتری ثابت کردی  لیکن ایسا کرنے کے لیے انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی بلانا پڑا۔  آگے چل کروہ ممالک میں جہاں کافی تعداد میں ہندوستانی رائے دہندگان ہیں  سربراہان مملکت انتخاب میں کامیابی کے لیے  مودی جی خدمات حاصل کریں گے اور یہ سلسلہ ان کے سیاست سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی جاری رہے گا۔

وزیر اعظم مودی کو اکھلیش یادو نے  پردھان منتری  کے بجائے پرچار منتری  کے خطاب سے نوازہ تھا ۔ اب اس کا دائرۂ کار وسیع ہوگیا ہے۔ پہلے وہ ملک و بیرون ملک میں اپنی تشہیر کیا کرتے تھے اب بیرون ملک جاکر وہاں کے سیاستدانوں کا پرچار کرنے لگے ہیں۔  ہیوسٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تعارف کسی اناونسر نے نہیں بلکہ خود مودی جی نے کرایا۔  انہوں نے ٹرمپ کی شان میں جو قصیدہ پڑھا اس کو پیش کرنے  میں کسی پیشہ ور ناظم جلسہ کو بھی تردد ّ ہوسکتا تھا ۔ کسی سربراہِ مملکت کی زبان پر اپنے ہم منصب کی ایسی مبالغہ آمیز  تعریف و توصیف  زیب نہیں دیتی ۔ شاید اس سے متاثر ہوکر امول مکھن والوں نے ’ہاوز ڈی بٹر‘پوسٹر بنایا ۔ اس بینر میں مکھن لگانے اور کھانے والے کا فرق بھی واضح ہے ۔امریکہ میں   ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘  کا نعرہ لگانے والے   مودی جی بھول گئے کہ ابھی تو ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی ٹرمپ کو مخالفت کا سامنا ہے ۔ اس کے بعد اگر وہ صدارتی امیدواربن گئے تو انتخاب میں ہار بھی سکتے ہیں ۔ امریکہ میں رہنے والے چالیس لاکھ ہندوستانی نژاد امریکی کسی صدارتی امیدوار  کو ہرا یا جیتا نہیں سکتے۔  ٹرمپ اگر انتخاب ہار جاتے ہیں تو نئے صدر کی نظر میں ہندوستان اور اس کے وزیر اعظم کی کیا حیثیت اور وقعت ہوگی؟

ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ انتخاب میں بھی مودی بھکتوں نے خوب ووٹ دیا اس کی وجہ ان کے اسلام اور مسلمان دشمنی والے  بیانات تھے لیکن انتخاب جیتنے کے بعدٹرمپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اس لیے انہوں نے وہ سلسلہ بند کردیا ۔’ امریکہ اول ‘  کا وعدہ  پورا کرنے کے لیے انہوں نے پیشہ ورمحنت کشوں   کے   ویزا  کے جو قوانین بنائے اس کی زد میں سب سے زیادہ ہندوستانی آئے۔ ٹرمپ نے غیر رہائشی  پردیسیوں  کے اہل خانہ کی ملازمت پر پابندی لگا کران کا جینا دوبھر کردیا ۔ کم ازکم تنخواہ کی شرح میں اضافہ کرکے ہندوستانیوں کے بجائے امریکی انجینیرس کی راہ ہموار کی۔ ہندوستان  سے درآمدات پر ٹیکس لگا کر تاجروں کے لیے مشکلات کھڑی کیں اور اسے سب سے پسندیدہ ممالک کی فہرست سے خارج کردیا ۔ اس کے جواب میں حکومت ہند نے بھی امریکی برآمدات پر کسٹم میں اضافہ کیا ۔ اس صورتحال میں مودی بھکتوں کے دل  سے ٹرمپ کی محبت ختم ہوگئی اس کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے مسلمانوں کی مخالفت کافی تھی  لیکن ٹرمپ ایسا کرنا نہیں چاہتے تو ہندوستانیوں کا دل جیتنے کے لیے مودی جی  کی مدد لی گئی ۔ اس موقع پر خودستائی کرتے ہوئے ٹرمپ نے اعلان کردیا کہ  ہندوستان کے لیےمجھ سے بہتر صدر کوئی اور نہیں ہوسکتا۔  سوال یہ ہے کہ اگر سب سے بہتر ایسا ہے تو بدتر کیسا ہوگا؟

امریکی صدر نے وزیر اعظم کی بہت زیادہ تعریف تو نہیں کی لیکن امریکہ میں رہنے والے ہندوستانیوں پر فخر کا اظہار کیا کیونکہ آئندہ انتخاب میں  ان کو ووٹ تو وہی لوگ دیں گے ۔انہوں نے  اعلان کیا کہ وزیراعظم اور وہ  یہاں ’مشترک خواب اور روشن مستقبل‘ کا جشن منانے کے لیے آئے ہیں ۔ ٹرمپ نے امریکہ میں رہنے والے چالیس لاکھ ہندوستانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ محنتی لوگ خوشحالی اور  ترقی کی منزلیں طے کررہے ہیں ۔  وہ بولے ’’آپ نے ہماری تہذیب کو توانا کیا ہے۔ آپ ہماری اقدار کے علمبردار ہیں، آپ ہمارے لوگوں کو اونچا اٹھا رہے ہیں ، آپ کو اپنے امریکی ہونے پر واقعی ناز ہے اور ہمیں آپ کے امریکی ہونے پر فخر ہے۔ امریکی صدر کے یہ الفاظ ان  ہندوستانی نژاد امریکیوں کے لیے تھےجو اپنی تکنیکی مہارت کے سبب امریکہ کی  سیلیکون ویلی میں اپنا دبدبہ قائم کیے ہوئے ہیں  ۔ یہ اس لیے ممکن ہوسکا کہ ہندوستان کے اندر ان کو بہترین تعلیم کی سہولیا ت میسر آئیں  لیکن وزیر اعظم کے پکوڑنے کو بھی روزگار کہہ دینے کے بعد جو نئی  صورتحال ملک میں رونما ہورہی ہے اس کا نمونہ  بھی اسی دن سامنے آگیا جب مودی جی  نے امریکہ میں قدم رنجا فرمایا ۔

ایک رپورٹ کے مطابق مودی جی کے 2014 میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے سے لے 2018 تک پیشہ ور اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں زبردست کمی دیکھی گئی ہے ۔ ان پانچ سالوں میں  ایم  ٹیک کے ظلباء کی تعداد  2,89,311  سے گھٹ کر  1,35,500پر پہنچ گئی جو نصف سے کم ہے۔ بی ٹیک میں گراوٹ اتنی زیادہ تو نہیں مگر 11 فیصد ہے۔ بیرون ملک جاکر جن طلباء نے اپنے ملک کا نام روشن کیا  اگر ان کی تعداد گھٹنے لگے تو آگے کیا ہوگا ؟  کیا کوئی وزیراعظم اس طرح کے جلسہ سے خطاب کرسکے گا؟  تقریروں کا اثر فوراً ہوتا ہے اور جلد ہی زائل بھی ہوجاتا ہے لیکن تعلیمی ترقی یا تنزل کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں ۔ عوام کا رحجان اب  فنی تعلیم سے ہٹ کر تجارت اور تدریسی علوم کی جانب آرہا ہے ۔ ایم بی اے کے طلبا میں پندرہ فیصد اور بی ایڈ کے داخلوں میں 90 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ یہ اعدادو شمار ’اسکل انڈیا ‘ اور ’اسٹارٹ اپ  انڈیا ‘  اور ’میک ان انڈیا ‘ جیسے نعروں کے کھوکھلے پن کا ثبوت ہیں ۔ عوام  نے صنعتی تنزل کو بھانپ لیا ہے۔ انہیں یقین ہوگیا ہے کہ اب وہاں ملازمت کے امکانات نہیں ہے۔   جائزے کے مطابق اب سب سے زیادہ طلباء آرٹس ، اس کے بعد سائنس اور سب سے کم کامرس کی جانب آرہے ہیں یعنی بازار کی مندی بھی لوگوں کے انتخاب پر اثر انداز ہورہی ہے لیکن مودی جی نے امریکہ میں 9 زبانوں کے اندر  اعلان کردیا کہ’ ہندوستان میں سب ٹھیک ٹھاک ہے‘۔ فی الحال مودی جی اس خمار میں ہیں کہ ؎

سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا  

مستند ہے میرا فرمایا ہوا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close