آئینۂ عالم

یورپی یونین: آغاز و ارتقاء

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

 براعظم یورپ کے پچیس ملکوں  کی بین الاقوامی تنظیم ’’یورپی یونین‘‘جو سیاسی،معاشی اور دفاعی مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے بنائی گئی۔یہ بنیادی طور پر مغربی یورپی ملکوں  کی تنظیم تھی لیکن اب مشرقی اور وسطی یورپ کے ممالک بھی اس کا حصہ ہیں ۔اس منصوبے پر اگرچہ ایک عرصہ دراز سے کام ہورہاتھا لیکن دوسری جنگ عظیم کی تباہیوں  نے اس تحریک کو مہمیز لگادی ۔یورپی یونین میں  آسٹریلیا،بیلجیم ،سائپریس،زیچ رپبلک،ڈنمارک،اسٹونیا،فن لینڈ،فرانس،جرمنی،یونان،ہنگری،آئرلینڈ،اٹلی،لٹویا،لتھوینیا،لیگژم برگ، مالٹا، نیدرلینڈ، پولینڈ، پرتگال، سلوواکیا،سلوینیا،اسپین،سویڈن اور برطانیہ شامل ہیں ۔یورپی یونین ،رکن ممالک کے درمیان ایک معاہدے کے تحت یکم نومبر1993کو وجود میں  آئی۔اسکے مقاصد میں  مشترکہ کرنسی یورو،مشترکہ دفاعی حکمت عملی ،مشترکہ شہریت،مشترکہ خارجہ پالیسی اور عدلیہ و انتظامیہ سمیت دیگر متعدد معاملات میں  باہمی مشاورت راہنمائی کے مشترکہ منصوبے شامل ہیں ۔

 دوسری جنگ عظیم کے سنگین تجربات نے یورپی ممالک کو بڑی تیزی سے ایک دوسرے سے قریب کر دیاتھااور انہیں  احساس ہوچلا تھاکہ اب کی بار اگر حالات پر قابو نہ پایا جا سکا اور دوبڑی بڑی جنگوں  کے بعد تیسری جنگ بھی مسلط ہو گئی تواندلس،سلطنت عثمانیہ اور اشتراکیت کی طرح پھر ایشیائی عقائدوافکاروحکمران یورپ پرمسلط ہوجائیں  گے۔اس خوف کے مارے سب سے پہلے چھ یورپی ملکوں  بیلجیم،فرانس،اٹلی،لگژم برگ،نیدرلینڈاور مغربی جرمنی نے معاہدہ فرانس پر1951ء میں  دستخط کیے جس کے تحت یورپین اسٹیل اینڈ کول کمیونٹی وجود میں  آئی۔اس معاہدے کی وجہ سے رکن ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت کے راستے کھل گئے اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ حالی کے بعدخوشحالی کا سفر شروع ہوا۔یہ معاہدہ یورپ کی تاریخ میں  سنگ میل ثابت ہوااور آج تک اس معاہدے کی کوکھ زندہ ہے اسکی گود ہری بھری ہے،اس معاہدے کی وسعت کو سمیٹنے کے لیے کئی اور بین الملکی ادارے وجود میں  آئے جن میں  مشترکہ اسمبلی اور مشترکہ عدالت انصاف قابل ذکر ہیں  تاکہ کسی بھی طرح کی نزاع کے نتیجے میں  عدالت سے انصاف پر منبی فیصلہ کرایاجاسکے۔اسی معاہدے سے نکلنے والے بہت سے دیگر معاہدوں  کو جمع کر کے تو یورپی کمشن بنادیا گیاجس کی ایک شکل یورپی یونین کی شکل اختیار کر گئی۔

 25مارچ1957کو یورپی ملکوں  نے معاہدہ روم پر دستخط کیے،جس کے تحت دو بڑے بڑے ادارے وجود میں  لائے گئے۔پہلا یورپین ایٹمی توانائی کمشن بنایا گیا تاکہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں  باہمی تحقیق و جستجوکے میدان میں  تعاون کی نئی راہیں  دریافت کی جائیں  اور اس ٹیکنالوجی کے دفاعی اور معاشی فوائد سمیٹے جائیں ۔دوسرادارہ یورپین اکنامک کمیونٹی وجود میں  لایا گیا،اس کے تحت آزادانہ تجارت کے راستے کھولے گئے اور اشیائے ضروریہ،خدمات،سرمایااور افرادی قوت کی باہمی فراہمی میں  حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا انتظام کیاگیا۔اسی دوسرے ادارے کے تحت کامن ایکسٹرنل ٹریڈ پالیسی اور کامن ایگریکلچرپالیسی بھی بنائی گئی تاکہ یورپ کے علاوہ دوسری دنیاؤں  کے ملکوں  کے ساتھ بھی ایک ہی طرح کی مشترکہ شرائط کے ساتھ معاشی تعلقات استوار کیے جائیں ۔ان اداروں  کے مقاصد کے حصول کے لیے رکن ممالک کو اپنے قوانین میں  ترامیم بھی کر نی پڑی،کئی قوانین کی سختیاں  دور کرنا پڑیں  اور کئی قوانین میں  سختیاں  داخل کرنا پڑیں  اور کئی قوانین کو ختم بھی کرنا پڑااور کئی نئے قوانین بھی بنائے گئے۔لیکن یورپی جمہوری حکومتوں  نے اپنی عوام کی بہتری کے لیے اپنی اسمبلیوں  سے قوانین کو ان مراحل سے گزارا،انہیں  منظور کیا اور پھر ان قوانین کو نافذ کر کے اپنے عوام کی خوشحالی کاسامان کیا۔

نوے کی دہائی کے وسط میں یورپی یونین نے ایک ’’یورپی معاشی علاقہ‘‘واضع کردیا،اس علاقے میں  تجارت کی آزادانہ ٹریفک شروع کر دی گئی۔1997میں  ایمسٹرڈم معاہدے پر نظر ثانی کی گئی  اور نظر ثانی شدہ معاہدہ یکم مئی1999کو نافذ کر دیا گیا۔اس معاہدے کے تحت رکن ممالک کے عوام کے معیار زندگی کو بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے،معاشرتی تحفظ (سوشل سیکورٹی)کے قوانین کو مزید موثر کیاگیا،سول جوڈیشیل پالیسی نافذ کی گئی اور بنیادی انسانی حقوق کا نیامجموعہ قوانین بھی رکن ممالک میں  نافذ کیا گیا اسکے علاوہ یورپی یونین کے بنیادی ڈھانچے اور عہدیداران کے حدودکار کا تعین بھی اس نظر ثانی شدہ معاہدے میں  شامل تھا۔اسکے بعد2001ء میں  ایک اور معاہدہ ہواجسے یکم فروری2003کو نافذ کردیاگیا،اسے ’’بھلامعاہدہ‘‘کہاجاتاہے۔اس معاہدے کے تحت مشرقی یورپی ممالک کو بھی یورپی یونین میں  داخل کرلیاگیااور یورپی یونین میں  کمشنرز کی تعدادستائس ہوگئی اور کمشن کے صدر کے اختیارات میں  بہت زیادہ اضافہ بھی کردیاگیا۔اس معاہدے میں  قوانین کی ترمیم کے لیے شرط رکھی گئی کہ اگر یونین کے اتنے ممبران ووٹ دیں  جو کہ رکن ممالک کی 62%آبادی کی نمائندگی کرتے ہوں  تب قانون میں  ترمیم ہوسکے گی۔اس معاہدے کی وجہ ایک طویل عرصے تک روس کے ساتھ رہنے والے مشرقی یورپی ممالک کی یورپی یونین میں  داخل ہونے کی درخواست تھی۔

 یورپی یونین کی مشترکہ کرنسی کانام’’یورو‘‘ہے،1998میں  فرنکفرٹ میں  یورپین سنٹرل بنک قائم کیاگیاجسے نئی کرنسی کی جملہ تفصیلات طے کرنے کاکام سونپ دیاگیا،یکم جنوری1999میں  یہ کرنسی متعارف ہوئی اور اسکانام کاروباری دنیامیں  گونجنے لگا،آسٹریلیا کے ایک ماہرنقاش نے اس کرنسی نمونہ تیار کیاجس میں یورپی اتحاد کی ایک شکل نما تیار کی گئی اورایک سینٹ سے دو یورو تک کے آٹھ سکے اور پانچ سے پانچ سو تک کے نوٹ ابتدائی طور پر مارکیٹ میں  فراہم کر دیے گئے۔یکم جنوری 2002سے یہ کرنسی باقائدہ سے نوٹوں  اور سکوں  کی شکل میں  مارکیٹ میں  استعمال ہونے لگی اور 28فروری 2002کے بعد سے یورپی یونین کے ممالک نے اس کرنسی کو اپنے اپنے ملکوں میں  باقائدہ سے قانون سازی کر کے تو رائج کر دیا۔یہ کرنسی یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان 1991ء میں  ہونے والے ماسٹرک معاہدے کا نتیجہ ہے جسے کامن یونٹ آف ایکسچینج کانام دیاگیا۔اس کرنسی سے پہلے بھی اگرچہ یورپ کے معاشی مفادات مشترکہ تھے لیکن نام کی جو کمی تھی وہ اس کرنسی نے پوری کردی۔تادم تحریر یہ کرنسی دنیاکی قیمتی کرنسیوں  میں  شمار ہوتی ہے اور عالمی منڈی میں  ڈالر کے مقابلے میں  اسکی مانگ میں روزبروز بڑھوتری دیکھی جارہی ہے۔جن جن ممالک نے ’’یورو‘‘میں  اپنا حصہ ڈالا ہے انہیں  ’’یوروایریا،یورولینڈیایوروزون‘‘بھی کہتے ہیں ۔کچھ ایسے ممالک بھی ہیں  جنہوں نے یورپی یونین کے رکن نہ ہونے کے باوجود بھی’’یورو‘‘کواپنی کرنسی مان لیاہے،ان ممالک میں  انڈورا،مانٹگرو اور سان مارینو بھی شامل ہیں ۔

 یہ ایک عجیب بات ہے کہ ترکی نے بھی ہمیشہ یورپی یونین میں  سمیت اس سے قبل کے اکثر یورپی معاہدوں  میں  شامل ہونے کی درخواست دی ہے لیکن اسے ہر دفعہ ناکامی کامنہ دیکھنا پڑا اور اسکی وجہ یورپ اوراہل یورپ کا وہ تعصب ہے جو وہ مسلمانوں  سے روا رکھتے ہیں ۔ترکی جب کبھی بھی یورپ کے سیاسی،معاشی یا دفاعی معاہدوں  میں  شامل ہونے کی درخواست دیتا ہے تو اسے جواب ملتا ہے کہ نہیں  ابھی ایمان کی کچھ رمق تم میں  باقی ہے۔ترکی کے حکمرانوں  نے اپنی عوام کو سیکولر بنانے کی بہت کوشش کی اور اپنے ملک میں  اسلام کا جتنا حلیہ بگاڑ سکنے تھے اس کا حق ادا کیا لیکن وہ قرآن کے اس حکم کو نہ سمجھ سکے کہ یہودونصاری اس وقت تک تم سے خوش نہ ہوں  گے جب تک تمہیں  بھی یہودونصاری نہ بنالیں ۔ترکی نے کیا صلہ پایایورپی آقاؤں  کو خوش کرنے کا ؟سوائے مہنگائی اور تنہائی کے۔ یورپ والے جتنے بھی سیکولر ہوجائیں  ان کے قلب و نظر میں  یہودیت و عیسائیت نہیں  نکل سکتی ،مسلمان حکمران انہیں  کتنا ہی اپنا خیرخواہ سمجھیں  وہ ہمارے دشمن تھے،دشمن ہیں  اور دشمن ہی رہیں  گے اورنام نہاد مسلمان دانشورکتنے ہی سیکولر ہو کر اپنی امت سے غداری کے مرتکب ہوں  ،سفید چمڑی والے کبھی انہیں  اپنے جیسا نہیں  سمجھیں  گے۔ترکی ہرلحاظ سے یورپ کا حصہ ہے لیکن تف ہے اس یورپی تعصب پر کہ ستر سالہ طویل دشمنی نبھانے والے ممالک کو تو انہوں  نے یورپی یونین میں  بھی شامل کر لیااور نیٹو میں  بھی داخل کر لیالیکن صرف اسلام کی وجہ سے ترکی کووہ اپنا نہ بناسکے۔

 یورپ اس وقت دنیا کی قیادت کے منصب پر فائز ہے،پوری دنیاکی نظریں  سیاسی اور معاشی بحالی کے لیے یورپ کی طرف لگی ہیں  لیکن کتنے افسوس کامقام ہے انسانیت انسانیت اور انسانی حقوق کاراگ الاپنے والا یورپ آج بھی اپنا ہی پیٹ بھرنے کی فکر میں  ہے۔دنیا کے کم و بیش 86%وسائل یورپ کی دسترس میں  ہیں  جبکہ دنیامیں یورپ کی آبادی ان وسائل کے تہائی سے بھی کم ہے،ان حالات میں  بجائے اس کے کہ یورپ اپنے خزانوں  کامنہ انسانیت کے لیے کھول دے ،لیکن دنیادیکھتی ہے کہ سود در سوداور نئی سے نئی کرنسی متعارف کراکے تو دنیاکی بچی کھچی دولت بھی یورپی ممالک اپنی سرزمین پر لے جانے کی فکر میں  غلطاں  ہیں ۔انسانیت کا دعوے دار،حقوق کا ٹھیکیداراور جمہوریت کاباواآدم دنیاکا معاشی ،سیاسی اور معاشرتی استحصال کرنے والایورپ کب تک انسانیت کا خون نچوڑتا رہے گا؟؟؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

متعلقہ

Close