آئینۂ عالم

یہ چینخ و پکار کیسی ہے؟

حکیم محمد شیراز

( لکچرر شعبہ معالجات، کشمیر یونیورسٹی)

انڈونیشیا  میں ’کراکاٹوا‘ نامی جگہ پر آتش فشاں پھٹنے کی وجہ  سے آبنائے سندا میں آنے والے سونامی سے سماترا اور جاوا میں تباہی پھیل گئی ہے۔ بلند ہونے والی سمندری لہریں رہائشی علاقے میں داخل ہوگئیں ہیں۔ جس کے نتیجے میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 373ہوگئی ہے، انڈونیشیا میں سونامی آنے کے نتیجے میں 1459سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہوگئے ہیں۔

سونامی کے بعد متاثرہ علاقوں میں جگہ جگہ تباہی کے مناظر نظر آ رہے ہیں، سڑکوں پر گاڑیاں اور ملبہ پڑا ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سڑکیں بلاک ہونے اور پانی کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں شدید مسائل کا سامنا ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی غیر معمولی تعداد کی وجہ سے ہسپتا لوں میں بھی مسائل کا سامنا ہے۔ ملک کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے کہا ہے کہ سونامی کی وجہ’ کراکاٹوا‘ آتش فشاں کے پھٹنے کے سبب سمندر کے اندر مٹی کے تودے گرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سونامی میں سینکڑوں عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے خصوصا ً وہ عمارتیں جو Life longمقاصد سے بنائی جاتی ہیں مثلاً سرکاری دفاتر، فائر بریگیڈ عمارتیں  وغیرہ۔ چارٹر طیارے سے بنائی گئی ویڈیو میں آبنائے سندا میں پیش آنے والے اس واقعے کی شدت کو دیکھا جا سکتا ہے۔ صدر جوکو وڈوڈو نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور لوگوں سے صبر کی تلقین کی اور کہا ہے کہ دعا کریں کہ اب  ایسی آفت نہ آئے۔ سونامی کی زد میں آنے والے علاقوں میں مغربی جاوا کا معروف سیاحتی ساحل تانجنگ لیسنگ بھی شامل ہے۔ جہاں کرسمس تہوار کے پیش نظر ملکی و غیر ملکی سیاح مجتمع  تھے۔ ملک کی ریڈ کراس نے کہا کہ وہ اس عمارت کے نیچے دبے لوگوں کی تلاش میں ہیں جو سونامی کے سبب منہدم ہو گئی۔

ریڈ کراس کی اہلکار کیتھی میولر نے کو بتایا کہ زمین ملبے، کچلی ہوئی کاروں اور موٹر سائیکل سے بھری پڑی ہے، ہمیں منہدم عمارتیں نظر آ رہی ہیں۔ عینی شاہد آصف پیرانگکت نے بتایا کہ ‘کاریں اور کنٹینرز دس دس میٹر دور بہہ گئیں۔ (کیریٹا) ساحل کے کنارے کی عمارتیں تباہ ہو گئیں، پیڑ اور بجلی کے کھمبے زمین پر آ گئے۔ زیادہ تر ہلاکتیں  پینڈ گلینگ، جنوبی لامپنگ، سیرانگ اورتانجنگ لیسنگ میں ہوئی ہیں۔ تانجنگ لیسنگ مغربی جاوا کا ایک معروف سیاحتی ساحل ہے۔ سوشل میڈیا پر شئیر کی جانے والی تصاویر میں اونچی اونچی لہریں سیاحتی سکونت گاہ کے اس مقام سے ٹکراتی نظر آتی ہیں جہاں معروف بینڈ و باجہ’’سیونٹین‘‘ اپنا  ناچ گانے کا پروگرام پیش کر رہا تھا۔ جو یکلخت آنے والی سونامی لہروں کی زد میں آگیا اور اپنے ناظرین سمیت غرقاب ہو گیا۔

مگر یہاں کچھ باتیں قابل غور ہیں۔ ڈیز اسٹر مینیجمنٹ کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب  مذکورہ مقام پر تباہی ہوئی۔ کہیں نہ کہیں  اس  میں عبرت کا سامان ہے۔ اس سے پہلے بھی قوموں پر دفعتاً عذاب آیا ہے۔ قوم لوط نے جب اللہ کی نافرمانیوں کا ارتکاب کیا اور اللہ کے عذاب سے بے خوف ہو گئے تو راتوں رات جب کہ وہ بے خبر سو رہے تھے، اللہ کے حکم سے جبرئیل امین نے ان کی بستیوں کو

آسمان تک اٹھایا  اور آسمان کے فرشتوں نے اس بستی والوں کی کی چینخ و پکار کو سنا، پھر انھیں زمین پر  پلٹ دیاگیا۔ سب کے سب فنا ہو گئے۔ أَفَأَمِنَ أَھْلُ الْقُرَیٰ أَن یاتیِھم بَأْسُنَا بَیاتًا وَھمْ نَائِمُونَ (97آیۃ، سورۃ اعراف)

ترجمہ:کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر  ہو گئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب شب کے وقت آ پڑے جس وقت وہ سوتے ہوں۔

 اور

 أَوَلا یرَوْنَ أَنَّھُمْ یُفْتَنُونَ فِي کُلِّ عَامٍ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَین ِ ثُمَّ لا یتُوبُونَ وَلا ھُمْ یذَّکَّرُونَ (سورۃ توبہ آیۃ 126)

ترجمہ:اور کیا ان کو دکھلائی نہیں دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنسے رہتے ہیں۔ پھر بھی نہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت قبول کرتے ہیں۔

مذکورہ آیات اس  پر عادل گواہ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ قرآن میں جن قوموں پر عذاب ذکر ہے، قوم ثمود، قوم عاد، قوم لوط وغیرہ، وہ اللہ کی نافرمانی میں بے باک ہوگئیں تھیں۔ مگر یہاں مسلمان قوم کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ایک اسلامی ملک ہے۔ آبادی کے اعتبار سے یہ دنیا کاسب سے بڑا اسلامی ملک  ہے۔ مگر خبروں کے مطابق اکثریت کی حالت حسب ذیل شعر کے مترادف ہے:

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو  تمدن میں ہنود

یہ  مسلماں ہیں ! جنھیں دیکھ کہ شرمائیں یہود

ویسے بھی سارے عالم میں  اس وقت عریانیت و فحاشیت کا سیلاب آیا ہوا ہے، جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ قرآن کی تعلیمات کے مطابق زنا وہ بے حیائی و برائی ہے کہ اس کا ارتکاب تو در کنار، اس  کے قریب بھی پھٹکنے بلکہ خیال و ارادہ  و نظرسے بھی  روک دیا گیا ہے۔ جب یہ برائی عام ہوتی ہے تو  قرآن و احادیث کے مطابق زلزلوں کا آنا، سیلاب کا آنا، بستیوں کا پلٹ جانا اور برباد ہو جانا بعید از قیاس نہیں۔ کہیں نہ کہیں یہ حالات مسلمانان عالم کے بانگ درا ہیں اور اپنے احتساب کی دعوت دیتے ہیں۔ انڈونیشیا میں اس پہلے بھی 2004میں زلزلے آئے تھے جس میں ایک تخمینہ کے مطابق، انڈونیشیا سمیت آس پاس کے ممالک کی لاکھوں جانیں تلف ہوئیں  اور  مالی نقصانات بے حساب ہوئے۔ زلزلے کی اطلاع دینے والے آلات لگے ہوئے تھے پھر بھی سائنس، اللہ کے جلال و جبروت کے آگے بے بس نظر آیا۔ اب بھی خدشات ہیں کہ یہ زلزے اور سونامی دوبارہ آسکتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے:

وَلَنُذِیقَنَّھُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَیٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَکْبَرِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُونَ (21آیۃ، سورۃ سجدہ)

’’(جھنم کی) بڑی مصیبت  سے پہلے ہم (دنیا میں ) چھوٹی مصیبتیں بھیجتے ہیں تاکہ لوگ( گھبرا کہ) توبہ کر لیں ‘‘

یہاں ایک نگاہ ہمیں اپے  معاشرے پر بھی ڈالنی ہے جہاں بے پردگی اور بے راہ  روی عام  ہوتی جارہی ہے۔ ہر سال31 دسمبر کو جو   بے حیائی کا راگ الاپا جاتا ہے، اس سے مسلمان نوجوانوں کو اجتناب کرنا چاہیئے۔ کیا عذاب کے کوڑوں کے برسنے کے بعد بھی ہم نہیں جاگیں گے؟  کیااب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہم اپنا احتساب شروع کر دیں اس سے پہلے کہ حساب لینے والا، حساب لینا شروع کر دے؟

أَوَأَمِنَ أَھْلُ الْقُرَیٰ أَن یأْتِيَھُم بَأْسُنَا ضُحًی وَھُمْ یَلْعَبُونَ ( سورہ اعراف  آیۃ98 )

ترجمہ:

اور کیا ان بستیوں کے رہنے والیاس بات سے بے فکر ہو گئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ پڑے جس وقت کہ وہ اپنے کھیلوں میں مشغول ہوں۔

 أَفَأَمِنُوا مَکْرَ اللہِ  فَلَا یَأْمَنُ مَکْرَ اللَّہِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ (سورہ اعراف  آیۃ 99)

ترجمہ:کیا پس وہ اللہ کی پکڑ سے بے فکر ہو گئے سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close