آئینۂ عالم

ٹرمپ کا صدارتی خطاب اسلام کی نہیں  امریکہ کی تباہی کی تمہید ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں  کہا ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف نیا اتحاد بنائیں  گے اور دنیا بھر سے اسلامی انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں  گے۔ اب ٹرمپ کے اسلامی انتہاپسندی کے خاتمہ کا مطلب کیا ہے ؟اس سے مراد کائنات ارضی پر موجود تمام مسلمان ہیں  یا مغربی میڈیا کا خود ساختہ اسلامی دہشت گردی کے منصوبہ بندپروپیگنڈے والی اسلامی دہشت گردی کاخاتمہ کئے جانے کا اشارہ دیا گیا ہے،  اس کا ندازہ تو اسی وقت لگ پائے گا جب امریکہ کے نومنتخب صدر ٹرمپ عملی طور پر صدارتی امور سنبھا لیں  گے۔ لیکن ٹرمپ نے اگر مغربی میڈیا کے منصوبہ بند اسلامی دہشت گردی کی جانب اقدامات کا عہد کیا ہے تو اس میں  عالم اسلام کیلئے تحفظات ضرور ہیں ،  جسے سنجیدگی سے لینا ہوگا اور یہ اہم ترین ذمہ داری اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم ’’آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز‘‘ کو اٹھانی چاہئے۔ اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو معلوم پڑتاہے کہ امریکہ کے نو منتخب صدر ٹرمپ کے اس جارحانہ تیور نے آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز(او آئی سی)کو سخت امتحان میں  مبتلا کردیا ہے۔

 صورت حال یہ ہے کہ اب تک مسلم ممالک بالخصوص عرب ممالک کیسبھی حکمراں   امریکہ کی غلامی کو ہی اپنی فلاح و کامیابی اور اقتدار کے استحکام کا ذریعہ سمجھتے رہے ہیں ۔  مگر ٹرمپ کے خطاب کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں  کی توجہ انہیں  عرب ممالک کے امریکی غلام سربراہوں  پر مرکوزہوگئی ہیں ۔  اگراس خطہ سے کوئی منظم اور مستحکم آواز ٹرمپ کے غرور کا جواب دینے کیلئے بلند ہوتی ہے تو امید کی جاسکتی ہے امریکہ کے انتہاپسند صدرکی مسلمانوں  اور اسلام کے خلاف لمبی ہوتی زبان پر قفل لگ سکتے ہیں۔  حالانکہ مسلم فرمانرواؤں  کی جانب سے اسی طرح کی چیلنج آمیز صدااگر اسی وقت بلند کی گئی ہوتی جب انتخابی تشہیر کے دوران کسی درندہ صفت بھیڑیے کی طرح مسلمانوں  اور امریکہ میں  مقیم اقلیتوں  پر حملے کررہے تھے تو شاید ٹرمپ پہلے ہی بھیگی بلی کی طرح دم دبا ہوچکے ہوتے اور انہیں  امریکہ کے امن پسند شہریوں  میں  مذہبی تشدد کا زہر اس قدر سرایت کرنے کا موقع بھی نہیں  ملتا، جتنا آج وہاں  کے تثلیث پرستوں  میں  دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لیکن نہ جانے کس خوف کی وجہ سے مسلم ممالک کے کسی بھی حکمراں  نے اس جانب توجہ دینے  کی زحمت نہیں  کی۔ اس کی ایک وجہ تعیش پسند عرب رہنماؤ ں  کا مزاج بھی ہوسکتا ہے،  جس نے انہیں  مغربی استعمار کی کریہہ صورت گوری جلد کا اسیر بنارکھا رہے اور امریکہ کی غلامی کا طوق انہوں  نے اپنی گردنوں  میں  وفادار کتے کے پٹے کی طرح ڈال رکھا ہے اور اسے انتہائی فخر کے ساتھ دکھایا بھی کرتے ہیں۔  یہ وقت بے حد نازک ہے اور عالمی بازار میں  امریکہ کی گرتی ہوئی معیشت کی وجہ سے ٹرمپ کے بڑبولے پن کو اگر باولا پن نہیں  تو اقتدار کے نشہ کا جنون ضرور سمجھنا چاہئے۔

یہاں  عالم اسلام کو صرف اتنا کرنے کی ضرورت تھی کے ٹرمپ کے تجارتی امپریل سے، جس میں  مسلم حکمرانوں  نے بھی سرمایہ لگایا ہوا ہے اس کے تجارتی کائنات سے رشتہ توڑلینے کا فیصلہ سنا دیناتھا تو ٹرمپ کی ساری ہٹلری اپنی موت آپ مرچکی ہوتی اور ان کی زبان سے نکلنے والا زہر بھی بے اثر ہوچکا ہوتا۔ مگر کسی بھی مسلم ملک بالخصوص عرب ممالک کے مغرور شہنشاہوں  نے ایسا مثبت قدم نہیں  اٹھا یا۔  اسی کا نتیجہ ہے کہ ٹرمپ کی زبان وقت کے فرعونوں  کو مات دے رہی ہے،  لیکن امریکی صدر کو یہ بات نہیں  بھولنی چاہئے کہ ’’ہر فرعونے را موسیٰ است‘‘۔ اگر انہوں  نے دہشت گردی کے بے بنیاد الزام میں  جو خود امریکہ کا ناجائز نطفہ ہے،  بے قصور مسلمانوں  اور اسلام کو مسخ کرنے کا سوچا بھی تواسلام کے تحفظ کا ضامن رب العالمین روئے زمین پر کہیں  نہ کہیں  سے کوئی ’’موسیٰ‘‘ ضرور کھڑا کردے گا،  جسے مسخر کرنا تو دور اس کا نام سن کربھی ٹرمپ کی ہوا نکل جائے گی اور قدرت کا طمانچہ انہیں  کہیں  کا نہیں  چھوڑے گا۔ بہر حال امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 45ویں  صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے صدارتی خطاب میں  عوام سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی حکومت کا بنیادی اصول سب سے پہلے امریکہ ہوگا، ملکی مفاد کا تحفظ کرتے ہوئے تمام ملکوں  سے دوستی کریں  گے، نئے اتحادی بنانے کے ساتھ پرانے اتحادیوں  کے ساتھ رابطے مضبوط کریں  گے۔ انہوں  نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف نیا اتحاد بنائیں  گے اور دنیا بھر سے اسلامی انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے کسی بھی حد تک جائیں  گے۔ جہاں  تک اپنے ملک کو اول درجہ دینے اور دیگر ملکوں  سے تعلقات استوار کرنے کی بات ہے تو یہ اچنبھے کی بات نہیں  ہے۔  سبھی جمہوری ملک میں  منتخب ہوکر آنے والا سرکاری نمائندہ اپنے ملک کو اولیت دیتا ہے اور دوسروں  سے تعلقات بحال رکھنے کی باتیں  کہتا ہی ہے۔ البتہ ہر لیڈر کا انداز خطاب مختلف ہوتا ہے،  فطری طور پر چونکہ ٹرمپ مذہبی تفریق پھیلانے میں  ہمیشہ نمایاں  رہے ہیں ،  لہذا صدارتی خطاب کو سیاسی تقریر سے زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں  ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ میں  ان سیاستدانوں  کی طرح نہیں  جو صرف باتیں  کرتے ہیں،  ہم ایک قوم ہیں  اور ہمارے دکھ درد ایک ہیں،  ہم سب مل کر امریکہ کو محفوظ اور عظیم بناسکتے ہیں،  وقت آگیا ہے کہ ہم کالے یا سفید سب کو یہ سوچنا ہوگا کہ ہم سب کا خون لال ہے، باتوں  کا وقت ختم ہوچکا اوراب کام کا وقت آچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارت سے لے کر دفاع تک تمام فیصلے ملک کے مفاد میں  ہوں  گے، ملکی مفاد کا تحفظ کرتے ہوئے تمام ملکوں  سے دوستی کریں  گے، فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قوم کا تحفظ کریں  گے اور ملک سے نسلی منافرت سمیت تمام اختلافات ختم کریں  گے۔

مسئلہ فلسطین کے حل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کسی ملک پرکوئی حل مسلط نہیں  کریں  گے، کسی کو خوف زدہ نہیں  ہونا چاہیے ہم سب کو تحفظ دیں  گے، ہم کسی پراپنا نظریہ مسلط نہیں  کرنا چاہتے، میری ہرسانس امریکی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہوگی، امریکہ اور دنیا کے لیے نئی مثالیں  قائم کریں  گے اور ہر فیصلے میں  ’’امریکہ سب سے آگے ‘‘کا نظریہ سامنے رکھا جائے گا۔ انہوں  نے شکوہ کیا کہ ہم نے اپنی سرحدوں  کی بجائے دوسروں  کی سرحدوں  کی حفاظت کی، ہمیں  اپنی سرحدوں  کی حفاظت کرنا ہوگی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوں  گے۔ ٹرمپ کا ’’بھاشن‘‘بتا تا ہے کہ شدت پسندی سے لبریز ان کی سابقہ انتخابی تقریریں  پولرائزیشن کیلئے تھیں ،  جس کا بھرپور فائدہ انہیں  مل چکا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ امریکیوں  کو بہلاکر اپنی بوتل میں  اتارنے میں  کامیاب بھی ہوئے ہی۔ علاوہ ازیں   یہ کبھی فراموش نہیں  کرنا چاہئے کہ’’بھونکنے والے کتے کاٹا نہیں  کرتے‘‘۔  بلکہ ان کے شکار میں  کوئی دوسرا شریک نہ ہوسکے اس لئے دورسے ہی خوفزدہ کرنے کیلئے بھونکا کرتے ہیں۔  ٹرمپ کا بیان بتا رہا ہے کہ وہ اب امریکہ کو دنیا سے کاٹ کر تنہا لے کر چلنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔  مگر گلوبلائزیشن کے اس دور میں  یہ کام کسی بھی ملک کیلئے چاہے وہ کتنا بھی خود کفیل اور طاقتور کیوں  نہ ہو آسان نہیں  ہے۔ اگر ٹرمپ کی نئی انتظامیہ نے ایسی حماقت کی تو یہ ان کے لئے ہی بے وجود ہوجا نے کا سبب بن سکتا ہے۔  خدا کرے اس سچائی کو ٹرمپ اوران کی نئی انتظامیہ سمجھ سکے اور اقتدار کا غرور انہیں  فریب دینے میں  کامیاب نہ ہونے پائے،  ورنہ دنیا کی تاریخ میں  بس اتنا ہی لکھا مل پائے گا کہ اللہ کی اس زمین ایک سپر پاور ملک امریکہ بھی ہوا کرتا تھا،  جس کے غرور نے ہی اسے بے وجود کردیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close