آئینۂ عالم

ٹرمپ کے عہدہ سنبھالتے ہی امریکہ میں  نئے دور کا آغاز 

ڈونالڈ جے ٹرمپ کے 20 ؍ جنوری 17 ء کو 45 ویں  امریکی صدر کے عہدہ کا حلف لیتے ہی امریکہ ایک نئے دور میں  داخل ہو گیا ہے۔ امریکہ کی تاریخ میں  پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ امریکہ کے صدر کے امیدوار کے طور پر سامنے آنے کے بعد ٹرمپ کے بعض متنازعہ بیانات دیتے ہی ان کی مخالفت کا جوسلسلہ جو شروع ہوا،  وہ ان کے امریکی صدر کے طور پر حلف لینے کے بعد بھی تھم نہیں  رہا ہے۔ ویسے ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ 2017ء سے امریکہ کی نئی تاریخ لکھی جائیگی۔  صدر ٹرمپ نے  عوام کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ تمہارے خواب ہمارے ہونگے اور میری توجہ امریکہ اور امریکی شہریوں  کے شاندار متقبل پر ہوگی،  جس میں  نیا وژن ہوگا۔ تمہارے ہر خواب پورے ہونگے۔ ہاں ،صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں  اس طرح کا تاثر ضرور دیا کہ جیسے اس سے قبل کسی دوسرے صدر نے اپنے ملک کے عوام پر توجہ دی ہی نہیں ۔  حالانکہ اپنے صدارتی عہدہ سے سبکدوش ہونے سے قبل تک براک حسین اباما نے اپنی صاف ستھری شبیہ سے اپنے ملک کے تقریباََ ہر طبقہ کے لوگوں  کے دلوں  میں  جگہ بنا نے میں  کامیاب رہے ہیں ۔

 2008ء سے وہ دو بار یعنی پورے آٹھ سال تک امریکہ کے صدر رہتے ہوئے اپنی مقبولیت کو برقرار رکھا۔ نسلی امتیاز اور کالے گورے کی تفریق کے باوجود ایک کالے براک اوباما کا وھائٹ ہاؤس پہنچ جانا، ایک معجزہ سے کم نہیں  تھا۔  لیکن لمبے عرصے تک ہمت،  حوصلہ،امید،  پیہم جدوجہد اور کبھی بھی شکست تسلیم نہ کرنے کے جزبہ نے انھیں  آخر کار وھائٹ ہاؤس تک کے سفر کو آسان بنا ہی دیا۔  سابق صدر اباما کو بلا شبہ اس سیاسی سفر میں  کانگریس تک پہنچنے میں  ناکامی بھی ملی،  لیکن اس شکست سے وہ گھبرائے نہیں  اور امریکی سینیٹ اور پھر وھائٹ ہاؤس پہنچ کرآٹھ سال تک پوری دنیا پر نظر رکھنے والے ملک کے صدر کے طور پر حکومت کی۔ ان کی مخالفت نہیں  ہوئی،  ایسی بات بھی نہیں  تھی،  خوب مخالفت ہوئی۔  یہاں  تک کہ اوباما کے حلف لینے والی شب ہی، واشنگٹن کے ایک ریستوراں  میں  پندرہ ریپبلکن لیڈروں  نے ان کی حکومت کو کمزور کرنے کی سازش بھی رچی تھی۔ ان لوگوں  نے ہر اس بات کی مخالفت شروع کر دی تھا،  جن باتوں  کی حمایت اباما نے کی تھی۔  یہاں  تک کہ میک کونل نے کہا تھا کہ ملازمت، تعلیم، صحت یا گھر نہیں  بلکہ اباما کو صرف ایک ٹرم کے طور پر صدر بنا کر رکھنا ہے۔  لیکن اباما نے بڑے عزم،  حوصلے اور برد باری  سے اپنے مخالفین کا سامنا کرتے ہوئے انھیں  بھی اپنا ہمنوا بنا لیا تھا۔

 دراصل اباما نے اس بات کو بہت شدت سے محسوس کر لیا تھا کہ کالے اور گورے کے درمیان خلیج کافی گہری ہے اور ایک کالے صدرکے طور پر ان کی راہ آسان نہیں  ہے۔  انتہا تو یہ تھی کہ بعض کالے بھی ان کی مخالفت پر اترے ہوئے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ انھیں  جو سیاسی حصہ داری ملنا چاہیئے،  وہ اباما نہیں  دے رہے ہیں ۔  حالانکہ اباما  بار بار یہ کہتے رہے وہ ہر امریکی شہری کے صدر ہیں  صرف کالوں  کے نہیں  ہیں ۔  حقیقت بھی یہی ہے کہ اباما نے رنگ ونسل سے اُپر اٹھ کر ہر کا خیال رکھا اور ہر کے دل میں  جگہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔  امریکی تاریخ اباما کو ایک کامیاب اوربہتر صدر کے طور پر یاد رکھے گی۔  ساتھ ہی ساتھ تاریخ اس بات کی بھی گواہ رہے گی کہ امریکی صدر کے طور پر براک اباما نے امریکہ میں  نسلی امتیازات کے رشتوں  کو سدھارنے میں  بھرپور ذہانت سے کام لیا ہے۔  براک حسین اباما کو دنیا کے سب سے بڑے’ نوبل امن انعام ‘سے بھی نوازا جا چکا ہے۔  لیکن ان کے مخالفین اس امن کے انعام پر اس طرح سوالیہ نشان لگاتے ہیں  کہ یہ وہی براک اباما ہیں ،  جو ایک طرف تو دنیا میں  امن و امان قائم کرنے کے لئے نوبل امن انعام لیتے ہیں  اور دوسری جانب وہ مختلف ممالک میں  بموں  کی برسات بھی کرتے ہیں ۔

 Council Foreign Relations  کی ایک رپورٹ کے مطابق اپنے دور اقتدار میں  براک اباما نے سیریا میں   12,192 ، عراق میں  12,095  افغانستان میں  1,337  ،  لیبیا میں   496 یمن میں   35،  صومالیا میں  14  اور پاکستان میں   3  یعنی کل  26,172 بموں  سے حملہ کر ان ممالک کی نہ صرف اقتصادی طور کمر توڑنے کی کوشش کی بلکہ یہاں  کے ہزاروں  معصوم و بے گناہ شہری خاک و خوں  میں  ڈوبے۔ ان میں  سے کئی ایسے ممالک ہیں ، جہاں  کی اب تک زندگی معمول پر نہیں  لوٹی ہے۔ یہاں  کے شہری بے پناہی کے شکار ہیں  اور در در سر چھپانے کے لئے بھٹک رہے ہیں ۔ ویسے ہم اس حقیقت سے بھی چشم پوشی نہیں  کر سکتے ہیں  کہ جس وقت براک اباما نے 2008 ء میں  جارج ڈبلو بش کے بعد اقتدار سنبھالی تھی،  اس وقت امریکہ مسلسل  مختلف ملکوں  سے جنگ و جدال میں ڈوبا ہوا تھا،  اور کئی ممالک کو جنگ کی آگ میں  جھونکے ہوئے تھا۔  جس کے باعث اس ملک کی اقتصادی، سماجی،  معاشی صورت حال بہت ہی ناگفتہ بہ تھی۔  امریکہ کا پورا اقتصادی ڈھانچہ چرمرایا ہو اتھا۔  یہاں  کے لوگ ایک عجیب سی یقینی اور بے یقینی صورت حال سے دوچار تھے۔  ایسے نازک دور کو اباما نے بلا شبہ معمول پر لایا اور ان کوششوں  کو سراہا گیا۔

 براک اباما نے جاتے جاتے اپنے آخری دنوں  میں  کئی ایسے کام کر گئے ہیں ،  جو آنے والے دنوں  میں  یاد رکھے جائینگے۔  انھوں  نے ایک طرف جہاں  یہودی اور ہندو کو بھی آنے والے وقتوں  میں  امریکہ کے صدر بننے کا خواب دکھایا ہے،  وہیں  انھوں  نے یہ بھی کہا ہے کہ مسلم سمیت دیگر اقلیتوں  اور کالوں  سے منافرت کو امریکہ برداشت نہیں  کرے گا۔  جمہوریت میں  اتحاد ہی متحدہ امریکہ کی پہچان ہے۔  امریکہ کے لوگ اپنی اس مخصوص پہچان کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کرینگے۔ اس لئے کہ یہ اقلیت، مسلمان اور کالے اتنے ہی محب وطن ہیں ،  جتنے دوسرے ہیں ۔  اباما نے ان لوگوں  پر طنز کرتے ہوئے،  جو خود کو بہت زیادہ محب وطن ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،  کہا کہ کچھ لوگ خود کو دوسروں  کے مقابلے زیادہ بہتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں  تو ایسے وقت میں  جمہوریت کی شکست ہوتی ہے۔  دور صدارت ختم ہونے سے چند روز قبل براک اباما نے جہاں  64قیدیوں  کو مکمل معافی دی، وہیں  ایسے 209 قیدیوں  کی سزا  کوختم کرنے کا بھی اعلان کیا،  جو بہت دنوں  سے قیدو بندکی سزا کاٹ رہے تھے۔ ان میں  اگست 2013 ء سے 35 سال کی سزا بھگتنے والی چیلسی میننگ بھی شامل ہے،  جو کہ سفارتی مراسلوں  اور میدان جنگ کی رپورٹوں  کو افشأ کرنے کی مرتکب  پائی گئی تھی اور ان رپورٹوں  کو وکی لکس نے شائع کر ایک طوفان کھڑا کر دیا تھا۔  29سالہ میننگ اپنی جنس تبدیل کرانے سے قبل بریڈلی میننگ کے نام سے ایک مرد کے طور پر جانی جاتی تھی اور جو فوج کے خفیہ معلومات کا تجزیہ کرنے کی ماہر تھی۔  اس کی قید کی مدت 17؍مئی 2045 ء کو ختم ہونے والی تھی۔  اور کنساس میں  واقع فورٹ لیوین جیل میں  قید یہ میننگ دو بار خود کشی کی بھی کوشش کر چکی ہے۔ اس قیدی کو معافی دئے جانے پر اباما کی تنقید بھی کی گئی ہے۔  لیکن اباما نے اس کی پرواہ کئے بغیر اسے معافی دے دی۔  اباما نے امریکی انتظامیہ کے ماتحت پیوٹوریکو کی آزادی کے لئے تحریک چلانے والی 55 سال کی سزا پانے والی آسکر لوپیج ریویرا کی بھی سزا کو معاف کر دیا ہے۔ ویسے رویرا  1999 ء میں  ملنے والی معافی کو ٹھکرا چکی ہیں ۔  براک اباما کے کئے گئے ان فیصلوں  کو نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کس طرح لیتے ہیں ،  یہ سوال لوگوں  کے ذہن میں  سر ابھار رہا ہے۔  ان فیصلوں  اور اپنے آخری عوامی خطاب میں  براک اباما نے جو تا ثر دیا ہے،  وہ یقینی طور پر ایک بہتر انسان،  ایک ذہین اور دور اندیش سیاست داں  اور ایک با اثر صدر مملکت کا ہے۔  اباما کی آخری تقریر سے امریکہ کی ایک بچی اس قدر متاثر ہوئی کہ اس نے ٹویئٹ کر اباما کو لکھا کہ آپ آٹھ سال تک وھائٹ ہاؤس میں  نہیں  رہے،  بلکہ ہم لوگوں  کے دلوں  میں  رہے اور کبھی بھی آپ ہم سے جدا نہیں  ہو سکتے۔

      یہ بات روز روشن کی طرح عیاں  ہے کہ امریکہ آج دنیا کا طاقت ور ملک اس لئے تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہا ں دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ یہاں  کی قومی پیداوار دنیا بھر کی مجموئی قومی پیداوار کا تقریباََ ایک چوتھائی ہے۔  اس کی فوجی طاقت دنیا بھر میں  پہلے نمبر پر ہے، جبکہ روس اور چین دوسرے اور تیسرے نمبر پرہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ میں  دنیا کی قدیم اور مستحکم جمہوریت قائم ہے، جو کہ دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔  اب ایسے میں  یہ دیکھنا ہوگا کہ آنے والے دنوں  میں  اس بڑے ملک کے نئے صدر اسے کس نہج پر لے جاتے ہیں ۔  امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کے ہر عمل و دخل پر پوری دنیا کی نگاہ رہتی ہے۔  یہی وجہ ہے کہ  8نومبر16ء کو ہونے والے امریکی صدر کے انتخاب پر بھی دنیا کے تقریباََ ہر ملک کی نہ صرف گہری نظر بلکہ گہری دلچسپی تھی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع کامیابی سے جہاں  چند ممالک میں  خوشی کی لہر نظر آئی، وہیں  بیشتر ممالک کی حکومت اور عوام کے درمیان مایوسی دیکھی گئی۔ خدشات اور مایوسی کی وجہ امریکہ کے صدر کے انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کے وہ متنازعہ بیانات تھے،  جو بلا شبہ ان لوگوں  کے لئے خوف زدہ اور سراسیمہ کر دینے والے تھے،  جنھیں  ان بیانات سے براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔ اس لئے ٹرمپ کی کامیابی کے بعد ایسے لوگ فطری طور پر پریشان نظر آ رہے ہیں ۔ کچھ لوگ جہاں  ایک طرف اس نئی تبدیلی پر اپنے اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں ،  وہیں  دوسری جانب کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ،جو قطئی مطمئن نہیں  ہیں ۔  امریکہ کی تاریخ میں  ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی امیدوارکے صدر منتخب ہو جانے کے بعد بھی مسلسل مخالفت میں  تحریر، تقریر اور تحریک کا سلسلہ جاری ہو۔  بہت سارے لوگوں  کے ساتھ ساتھ ڈیموکریٹک پا رٹی کے 26 ارکان نے بھی ٹرمپ کے حلف برداری کی تقریب کے بائکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حد تو یہ ہو گئی کہ نئے صدر کے عہدہ کا، جب ٹرمپ حلف لے رہے تھے اس وقت بھی نہ صرف واشنگٹن ڈی سی کے اطراف اور پیریڈ روٹ پر ان کی مخالفت میں  مظاہرے،  اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ چل رہا تھا اور مظاہرین او رپولیس کے درمیان تصادم ہو رہا تھا۔ ایسے مظاہرے دنیا کے کئی اہم ممالک میں  بھی دیکھنے کو ملے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ نے جمہوریت کے چوتھے اہم ستون کو بھی اپنا مخالف بنا لیا ہے۔ اپنی ایک پریس کانفرنس میں  ٹرمپ،  جس طرح سے بعض بڑے میڈیا والوں  کے ساتھ پیش آئے۔  یہ سماں  دیکھ کر تو پوری دنیا کے میڈیا اور اس کی آزادی پر قد غن کے سلسلے میں مباحث کاسلسلہ شروع ہو گیا ہے۔  ٹرمپ اور میڈیا کے درمیان ہونے والے ٹکراؤ کا آگے چل کر کیا نتیجہ کیا نکلے گا،  یہ تو وقت بتا ئیگا۔  لیکن صرف اس بنیاد پر کہ ان کی مخالف امیدوار کو میڈیا والوں  نے زیادہ ترجیح دی،  خفا ہونا مناسب نہیں ۔  عام طور پر تو ہوتا یہ ہے کہ اپنی کامیابی کے بعدبڑے اورعہدہ جلیلہ پر فائز ہونے والے ایسی چھوٹی باتوں  کو فراموش کر دیتے ہیں ۔  برسر اقتدار پارٹی کے رہنما ہوں ، یا حزب مخالف کے رہنمأ،  صحافیوں  کو  ان سے سوال کرنے کا،ہر جمہوری ملک میں  آزادی ہے۔  اس آزادی کو سلب نہیں  کیا جا سکتا ہے۔  پہلے پریس کانفرنس کے دوران میڈیا اور ٹرمپ کے درمیان جس طرح ناچاقی دیکھی گئی،  وہ آنے والے دنوں  میں  کون سا رخ اختیار کرینگے،  یہ ابھی دیکھنا ہے۔ ہر جمہوری ملک میں  حکومت اورعوام کے درمیان در حقیقت یہی میڈیا ہی پُل کا کام کرتے ہیں ۔  سوشل میڈیا اور ٹوئیٹر سے کام نہیں  چلتا ہے۔  میڈیا اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی رنجش یا یہ کہیں  کہ اختلافات کے بعد امریکی میڈیا کی ایک انجمن نے ایک طویل مکتوب بنام ٹرمپ جاری کیا ہے،  جس میں  ٹرمپ سے کہا گیا ہے کہ خبر کیسے اور کہاں  پیش کیا جائے،  اس کا فیصلہ ہمیں  کرنا ہے اور ہم آزاد ہیں  اس بات کے لئے کون سی خبر کہاں  اور کیسے شائع کرنا ہے۔

       ان تمام باتوں  کے مد نظر اس حقیقت سے انکار نہیں  کیا جا سکتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ کے لئے ایک نئے عہد کا آغاز ہو چکا ہے اور امریکہ کی نئی تاریخ  رقم ہوگی،  جس کے اثرات دنیا کے مختلف گوشوں  پر بھی پڑینگیبلکہ پڑنا شروع بھی ہو چکے ہیں ۔  ٹرمپ نے آتے ہی کئی ایسے فیصلے کئے ہیں ،  جن کی مخالفت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔  ٹرمپ نے یہ کہتے ہوئے کہ امریکہ میں  مسلمانوں  کا داخلہ محدود کرنا انتہائی ضروری ہے اور انھوں  نے سات مسلم ممالک عراق، شام،ایران، سوڈان،لیبیا، سومالیہ اور یمن کے شہریوں  پر امریکی ویزہ پر پابندی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ جس کے احتجاج میں  ایران کی مشہور اداکارہ ترانہ علی دوستی نے آسکر ایوارڈ کی تقریب کے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر امریکہ کی سابق وزیر خارجہ میڈلن البرٹ نے کہا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے امریکی مسلمانوں  کا الگ اندراج کرانے کی کوشش کرتے ہیں  تو وہ احتجاجاََ خود کو مسلمان کے طور پر رجسٹر کرائینگی۔ میکسیکو کی درآمدات پر بیس فی صد ٹیکس لگانے کا بھی اعلان کر  ٹرمپ نے چونکادیا ہے۔  برطانوی وزیر اعظم تھرسیامے نے صدر ٹرمپ کو یہ مشور ہ دے کر چونکادیا ہے کہ وہ روسی صدر پوتین سے ہوشیار رہیں ۔ امریکہ میں  ریپبلیکن پارٹی کے اراکین کانگریس سے خطاب کے دوران تھرسیامے نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات کو نئی بلندی پر لے جانا چاہتی ہیں ،  کیونکہ دونوں  ممالک مل کر دنیا کی قیادت کر سکتے ہیں ۔  اس وقت دنیا کا منظر نامہ بڑی تیزی سے بدلاؤ کی طرف بڑھ رہا ہے۔  حالات کب کون سا کروٹ لیتا ہے،  نہیں  کہا جا سکتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close