آئینۂ عالم

امریکہ:سسکتی انسانیت دم توڑتی جمہوریت

 علم، تحقیق، ایجادات و انکشافات سائنسی ترقی، زمین و آسمان کے درمیانی خلاؤں میں موجود اہم ترین غیر مرئی اشیاء کی تحقیقات امریکہ کی پہچان ہے، دنیا کا عظیم ترین اور قدیم جمہوری ملک ذات برادری نفرت و تعصب کی دیواروں کو پاٹ کر ترقی کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے، کالے گورے کا امتیاز گذرے زمانے کی بات ہوچکی، پوری دنیا میں اس کا سکہ چلتا ہے،  اس کی جنگی صلاحیتوں کا لوہا مانا جاتا ہے، اس کی تکنیک کے قصیدہ پڑھے جاتے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم میں اس نے اپنی طاقت کا لوہا منوایا، اگر چہ انسانیت لہو لہان ہوگئی، لاکھوں چلتے پھرتے انسان پل بھر میں دھوئیں کی شکل اختیار کرگئے، رونے والا اور ماتم کرنے والا بھی میسر نہیں آیا، جنازے اور کاندھے تو بہت دور کی کوڑی ہے، اس عظیم معرکہ کا ہیرو بنا،  اور دنیا بھر میں اپنی سرداری ثابت کرنے میں کامیاب رہا،  وقت کے بہتے دریا میں یہ انسانیت کش جرم غرقاب ہوگیا اور دنیا کے اکثر ممالک نے اس سے تعلقات استوار کرنے میں کوئی شرم،  جھجھک یا انسانیت کی توہین محسوس نہیں کی۔ چند سالوں میں ہی امریکہ پوری دنیا کا مرکز و مرجع قرار پایا، لاکھوں افراد کے لہو کے داغ اس کے دامن سے لٹ گئے، پوری دنیا اس کی غلام محسوس ہونے لگی، اقوام متحدہ میں حکم چلنے لگا، جو چاہا کیا، جب چاہا کیا، مفلسوں کمزوروں کی آواز نہیں سنی، فلسطین میں ہونے والی آہ و بکا پر کان نہیں دھرے، اس کی پالیسی ہمیشہ انسانیت پر بھاری رہی، یہ طرز اور طریقہ آج بھی موجود ہے اور ہر صبح طلوع ہونے والا سورج اس میں اضافہ ہی کرتا ہے، حکومتیں بدلتی رہیں، صدر تبدیل ہوتے رہے، مگر سوچ و فکر اور مزاج یکساں نظر آئے اور ہٹلرشاہی کے طرز پر ہی امریکہ کا سفر ترقی کی شاہراہ پر سبک رفتار محسوس ہوتا رہا۔

مگر وقت کا گرداب اور زمانے کی گردش کب کسے اپنی لپیٹ میں لے لے،  کون جان سکتا ہے ؟آندھیوں کے جھکڑ کب مغرور شاخوں کو ناک رگڑنے پر مجبور کردیں،  کسے علم ہے ؟آسمان کے بوسے لیتی عمارتیں کب زمین کی چھاتی پر گر پڑیں کون بتا سکتا ہے ؟ امریکہ کی سرزمین آج کچھ ایسے ہی حالات سے نبرد آزما ہے اور اس کا وقار داؤ پر لگا ہوا ہے، براک حسین اوبامہ کی مدت مکمل ہوئی، انتخاب میں سیاسی جماعتوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور کرسی پر بیٹھنے کے لئے ہر پینترے کا استعمال کیا گیا، رات دن عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی،پوری دنیا اندازے لگا رہی تھی، اخبارات و رسائل پیشین گوئی کررہے تھے، اینکرس کود کود کر مدلل انداز میں ثابت کررہے تھے،  ہلری کلنٹن کو امریکہ کا صدر منتخب ہونے کی بشارتیں سنائی جارہی تھیں، ان ہی کے سر پر عوام کے بھروسہ کا تاج سجنے کا اعلان کیا جارہا تھا، لیکن ساری دنیا نے دیکھا ایک تاجر رنگ و نسل مذہب اور ذات کا راگ الاپتا میدان میں آیا، مذہب خاص پر پھبتیاں کستا اور عظیم جمہوریت کی طنابیں ہلاتا،  ملک کے سب سے بڑے عہدہ پر فائز ہوگیا اور مد مقابل جسے سیاست میں بلند مقام حاصل ہے، جس نے دو لوگوں کو کرسی تک پہونچانے میں اہم رول ادا کیا، اس گھاگ کو جھاگ ثابت کرنے میں چند جذباتی جملے ہی کافی ہوگیے،  ساری پیشین گوئیاں دھری کی دھری رہ گئیں، ساری دنیا نے دیکھا مسلمانوں کی مخالفت ٹرمپ کے لئے آب حیات ثابت ہوئی، اس کی فتح و کامرانی کا راز سربستہ ثابت ہوئی، مادہ پرستوں کی اسلام مخالفت اور ان کا ذہنی معیار عالم آشکارہ ہوگیا، بلاآخر ٹرمپ نے 20جنوری کو صدر کا عہدہ سنبھالا اور اپنے سابقہ طرز کو برقرار رکھتے ہوئے۔

مسلمانوں کی مخالفت میں الٹے سیدھے بیانات جاری رکھے۔  اس عظیم عہدہ کے وقار کو مجروح کیااور مسلم دشمنی کے الفاظ ان کی زبان سے جدا نہ ہوسکے،  اس شدت میں انہوں نے ایک ایسا اعلان کیا جس سے پوری دنیا ہکا بکا رہ گئی، ہوش مند طبقہ دانتوں تلے انگلیاں دبانے پر مجبور ہوا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے 7اسلامی ممالک کے باشندوں کا امریکہ میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا، ان پر عارضی پابندی لگانے کا اعلان کردیا اور مہاجرین پر بھی پابندی عائدی کردی، جو انتہائی چونکانے والا فیصلہ تھا، مگر جو اس راستہ سے ایوان بالا میں آیا اس کے لئے یہ کون سا مشکل اور نیا کام ہے، مہینوں سے وہ اسی طرز اور انداز میں کام کرتے اور فتح کے پرچم لہراتے چلے آرہے تھے، اگرچہ مٹھی بھر افراد اس طریقہ کی مخالفت کر چکے ہیں اور مثل مشہور ہے، خون منہ کو لگ جائے تو چھوٹنا مشکل ہوتا ہے، مگر اس سخت ترین فیصلہ کے بعد امریکی عوام جو پہلے سے ٹرمپ سے پورے طور خوش نہیں تھے، سڑکوں پر اتر آئے اور ٹرمپ کی مخالت میں احتجاج ہوئے،  ’’واپس جاؤ‘‘ کے نعرے لگے، 8لاکھ لوگوں نے مواخذہ کرنے کی آن لائن درخواستیں دیں اور اپنی رائے کا اظہار کیا، سب بے اثر ثابت ہوا اور عوام چیختے چلاتے رہے، بات جمہوریت کے مندر تک پہونچی، یہاں انصاف کو فتح حاصل ہوئی اور اس فیصلہ پر عمل روک دیا گیا، عدالت نے اس فیصلہ کو غیر قانونی قرار دیا، مسلمانوں کی مخالفت امریکی صدر کو اتنی راس آرہی ہے، کہ انہوں نے عدلیہ کی توہین میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور اس فیصلہ کو امریکہ کے خلاف گردانا، ججوں پر طعن و تشنیع کی  اور انہیں مرعوب کرنے کی کوشش کی، اگر امریکہ میں کوئی دہشت گردانہ حملہ ہوتا ہے، تو اس کے ذمہ دار یہ جج ہوں گے، اس طرح کے جملہ ایک صدر کی زبان سے ادا ہونا،  جمہوریت کے لئے خطرناک نہیں ہے، یہ عدلیہ کو لرزہ بر اندام کرنے والا عمل نہیں ہے۔

ٹرمپ شاید جانتے نہیں ہے،  عدلیہ جمہوریت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کے مثل ہے۔ اگر اس کا وقار مجروح کردیا گیا،اس کی حیثیت کو ٹھیس لگی، تو ملکی نظام در برہم ہوجائے گا، جرائم کی شرح میں اضافہ ہوگا، امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگا، شریفوں پر امریکہ کی زمین تنگ ہوجائے گی، غنڈے، بدمعاش، چور، اُچکے بے لگام ہوجائیں گے، ٹرمپ نے مسلم مخالفت میں اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری لی ہے، ان کی مخالفت میں ہوتے سینکڑوں مظاہرے اس امر کی بین دلیل اور امریکی عوام کی دور اندیشی کی علامت ہے، یہ تو وقت کی لہریں منصئہ شہود پر لے آئیں گی کے مستقبل کی گہرائی میں کیا پوشیدہ ہے، مگر فی الوقت منظرنامہ اس امر کو عیاں کرتا ہے،  کہ دنیا کی عظیم جمہوریت خطرے میں ہے اور ایک مادہ پرست خود کو تاناشاہ ثابت کرنے میں مصروف ہے، عوام کی چیخ و پکار اس کی سماعتوں سے ٹکرا رہی ہے اور نہ حقائق اس کی نگاہوں پر وا ہورہے ہیں، وہ بھول گیا ہے، دنیا بھر کی مشنریوں کی گردش مسلمانوں کی مرہون منت ہیں، شاید اسے علم نہیں کرہ ارضی پر سات نہیں 58اسلامی ممالک ہیں اور دنیا کو 85فی صد پیٹرول ان ہی سے دستیاب ہوتا ہے۔

اگر انہوں نے اس عمل کا رد عمل ظاہر کیا، تو ٹرمپ ایمپائر پل میں بھر زمیں بوس ہوجائے گا اور امریکی ترقی ایک خواب بے تعبیر بن کر رہ جائے گی، اس کے علاوہ یہ طریقہ مسلمانوں کے لئے نہیں امریکہ کے لیے انتہائی خطرناک ہے، لوگ اسلام کی طرف راغب ہورہے ہیں،  قرآن کریم کا مطالعہ کررہے ہیں اور حقائق کو پرکھنے اور جانچنے کی کوشش کررہے ہیں، جو ٹرمپ کے منصوبوں کو ڈھیر کرنے کے لئے کافی ہے اور اگر وہ اپنے طرز پر باقی رہے یا یہ فیصلہ نافذ ہوا تو امریکہ مشکل دور سے گذرے گا عوام کی بے چینی شباب پر پہونچ جائے گی، جس کے نتائج زمینی حقایق میں تبدیل ہوں گے اور سپر پاور خانہ جنگی کا اڈہ بن کررہ جائے گا، ٹرمپ کا مزاج ان ہی حالات کی جانب مشیر ہے۔ بہرحال کچھ بھی کہا جائے یہ تو واضح ہے  کہ امریکہ نے اپنا مدمقابل اپنے سینہ پر پیدا کرلیا، جو دن بدن اپنے کارناموں سے اس دعوی کو تقویت بخشتا جا رہا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close