آئینۂ عالم

امریکہ کا جنگی جُنون اور دنیا کا مستقبل

امریکہ کو جنگیں لڑنے کےلیےاپنے مُلک سے نکلے ہوئے (دوسال کم) ایک صدی ہوگئی ہے۔ آج سے سوسال پہلے امریکی افواج پہلی جنگِ عظیم میں شرکت کے لیے اپنے گھر سے نکلی تھیں۔ اعدادوشمار کے مطابق پہلی جنگ ِ عظیم کے دوران امریکہ نے چالیس لاکھ سپاہی روانہ کیے۔ ایک لاکھ دس ہزار مارے گئے جن میں سے 43,000 صرف انفلوئنزا سے ہلاک ہوئے۔ اس جنگ کے نتیجہ میں خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ عمل میں آیا اور یورپ میں نئے ملک بسائے گئے۔

مزید پڑھیں >>

فلسطینی تنازعہ

ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ امریکا کے اس اقدام کی پرزور مذمت کریں۔ فلسطینی بھائیوں کہ ہر ممکن اخلاقی، سفارتی و مالی مدد کریں۔ سوشل میڈیا، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر فلسطینی بہن بھائیوں کی آواز بنیں۔ پرامن احتجاج اور منسٹری آف فارن افیئرز کے ذریعے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ برطانیہ میں لابنگ کرکے باالفور معاہدے سے دست برداری کا رستہ ہموار کرائیں۔ عیسائی کمیونٹی کو بھی بیدارکریں۔ او آئی سی، 57 اسلامی ممالک اور اسلامی فوجی اتحاد کے محاذوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے قبلہ اول کی حفاظت کریں اور ٹرمپ انتظامیہ پر پریشر بڑھائیں۔

مزید پڑھیں >>

یہودیوں کا گریٹ گیم اور مسلم حکم راں

آج مسلم حکمران ’’اب یا کبھی نہیں ‘‘کے دوراہے پر کھڑے ہیں ۔ کوئی یہودی عزائم کے آگے’ شیطانِ اخرس ‘بنے یابھیگی بلی، یا لوہے کا چنا ثابت ہو، یہود کی نظر میں وہ دشمن ہی ہے۔ یہ ہر ایک کے اپنے نصیب کی بات ہے کہ وہ شریف حسین مکہ کی صف میں جگہ پانا چاہتا ہے، یاحضرت عمرؓ اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ ونورالدین زنگی کے ساتھ اپنا حشر چاہتا ہے۔ جہاں تک یہودی عزائم کا تعلق ہے، تو یہ اَن مٹ لکیر ہے کہ انھیں دنیا میں خودمختار ریاست کبھی نصیب نہیں ہوگی، یہ خلاق عالم کا فیصلہ ہے، جسے کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں >>

تیسری جنگ عظیم کا اعلان؟

تیسری جنگ عظیم  تو اِبلیس اور اُس کے سبھی دجالی نمائندوں کا پوری  دنیا میں اپنے  واحد  ’’ استعماری استثماری نظام ‘‘ کے قیام کا آخری ایجنڈا ہے۔ اور یہ تیسری عظیم جنگ اجتماعی تباہی والے  جدید ترین ’ایٹمی، کیمیاوی، حیاتیاتی اور موسمی ہتھیاروں ‘کے  ناقابل تصور اِبلیسی اِستعمال کی عظیم جنگ ہوگی اور اس جنگ میں  حقیقی کامیابی با لآخر اُنہیں  کی ہوگی جوٹرمپوں، یا ہوؤں، شاہوں، مودیوں اور یو گیوں   کے بجائے  صرف اور صرف اللہ واحد ا لقہار و جبار سے ڈرنے والے ہوں گے !

مزید پڑھیں >>

عالمی یوم انسداد بدعنوانی اور ملک کی بدعنوانیاں

9 دسمبر کی تاریخ نہ صرف سماجی معیشت کے لئے بلکہ ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لئے کافی اہم ہے کہ اگر حکومت، ملک کے اندر بہت تیزی سے پھیل رہی بدعنوانیوں کے انسداد پر مثبت رویہ اختیار کرتی ہے، تو بہت ممکن ہے کہ کرپشن کے سلسلے میں ہر سال جاری ہونے والی مختلف فہرستوں میں ہمارے ملک کا نام ڈھوندنے سے بھی نہ ملے اور ہم فخریہ اس بات کا اعلان کر سکیں کہ ہمارا ملک بدعنوانیوں سے پاک ہے۔ کاش ایسا ہو۔

مزید پڑھیں >>

امریکہ کی دھمکی کتنی حقیقت کتنا فسانہ

پاکستان اسلام اور مسلمانوں کے نام پر بنا تھا اسے بنانے والے سب کے سب وہ تھے جن کی صرف زبان پر اسلام تھا۔ ہم اس زمانہ میں بریلی میں رہتے تھے اور جس محلہ میں رہتے تھے وہ تھا تو چھوٹا مگر پورے محلہ میں مسلمان تھے اور سب کے سب پاکستان کے حامی تھے لیکن ان کا اسلام سے اتنا تعلق تھا کہ پانچوں نماز کے وقت وہ پاکستان کے حق میں بحث تو کرتے تھے لیکن چند غریبوں کے علاوہ نماز کے لئے مسجد کوئی نہیں جاتا تھا ان کی نماز جمعہ اور عیدین تک محدود تھی۔

مزید پڑھیں >>

تھائی لینڈ

  تھائی لینڈ جنوب مشرقی ایشیا کا ملک ہے، اسکے مغرب اور شمال مغرب میں برما کی ریاست ہے، شمال مشرق اور مشرق میں ’’لائس‘‘اور کمبوڈیاکے ممالک ہیں اورجنوب میں سمندری خلیج ہے جسے ’’خلیج تھائی لینڈ‘کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ خلیج تھائی لینڈ کے ساتھ ہی جنوبی چین کے سمندر اور پھرجزیرہ نما ملائشیا بھی واقع ہیں ۔ تھائی لینڈ کا کل رقبہ دولاکھ مربع میل سے کچھ کم ہے اور یہ سارا ملک اپنی خلیج کے گرد ایک مدار کی صورت میں واقع ہے۔

مزید پڑھیں >>

سقوط اسرائیل کے بعد مشرق وسطی کانقشہ

ترکی نے ایک طویل جدوجہد کے بعد سیکولرجرنیلوں سے نجات حاصل کر لی ہے،اسرائیل کے بالکل جوار میں تیزآگ کی بھٹی بھڑک چکی ہے اور مسلمانوں کو شیعہ اور سنی میں تقسیم کرنے والے اسرائیل کی سرحدوں پرشیعہ اور سنی مل کر اس فسطائی ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں مصروف قتال ہیں۔ مشرق وسطی سے ملحق افریقی علاقوں کا مسلمان بھی جاگ چکاہے، گویا ایک عرصے تک مایوسیوں کی فضاؤں کواب باد صبا کے ٹھنڈے ٹھنڈے جھوکوں نے معطر کر دیاہے۔

مزید پڑھیں >>

دھمکیوں کو خاطر میں نہ لانا معنی خیز عمل ہے!

فلسطین نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ خودپرامریکہ کی طرف  سےاسرائیل کے سامنے سرنگوں ہونے کے لئے ڈالے جانے والے دباؤ کو خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس نے امریکی دھمکیوں کا اسی لب ولہجہ میں جواب  دیتے ہوئے عارضی طور پر امریکہ سے  اپنےرابطے  کوختم کرنے کا اعلان ہی نہیں کیا بلکہ عملا ایسا کربھی دیا ہے۔ اسی اثنا میں اس نے اس سمت مزیدایک قدم بڑھا دیا ہے جو  امریکہ ہی کیا اس وقت بین الاقوامی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کو اپنے لئے خطرہ تصور کرنے والی کسی بھی طاقت کو پسند نہیں ہے۔ وہ ہے  ملت اسلامیہ کا باہمی اتحاد واتفاق جو کسی کو بھی پھوٹی آنکھ نہیں بھارہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

بھوک سے آزاد ی کا خواب آخر کب شرمندۂ تعبیرہوگا؟

اب وقت آگیا ہے جب ملک کو بھوک سے آزاد کرانے کی کوشش شروع ہو۔ باہمی اتحادو مدد کے نظام کو مضبوط کیا جائے، اناج کی بربادی کو روک کر اس کی تقسیم کو بہتر بنایا جائے۔ اس میں پائے جانے والے کرپشن سے سختی سے نمٹنا جائے تاکہ کوئی غریب بھوک سے یا کسی معمولی بیماری سے موت کا شکار نہ ہو۔ عام آدمی ملک کی مضبوط ہوتی معیشت کے جشن میں تبھی شامل ہو پائے گا جب اس کا پیٹ بھرا ہوگا۔

مزید پڑھیں >>