سبزیاں اگانے میں عملی رہنمائی

سہیل بشیر کار

26 جنوری 2022 کو راقم کا ایک مضمون سبزیوں کی کاشت کی اہمیت کے حوالے سے کشمیر عظمیٰ میں شائع ہوا۔ کئی دوستوں نے اصرار کیا کہ اس سلسلے میں عملی رہنمائی کریں، اس بات کے پیش نظر اس مضمون میں کشمیر میں اگائی جانے والی سبزیوں کے حوالے سے کچھ رہنمائی کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے زمین کو کاشت کے لیے اچھی طرح تیار کریں، کم سے کم تین بار زمین جوتیں، بیڈ(چمن) نہ زیادہ چھوٹے بنائیں اور نہ زیادہ بڑے۔ چھوٹے ہونے کی صورت میں زمین ضائع ہوگی اور بڑے ہونے کی صورت میں گوڈائی کرنے میں دقت ہوگی۔ گوبر کھاد 10 سے 12 کوئنٹل ایک کنال میں ڈالیے- کوشش کیجئے کہ کیمیائی کھاد  کی جگہ ‘ورمی کمپوسٹ’ کا استعمال کریں،اگر زیادہ ہی ضرورت محسوس ہو تو یوریا 10 کلو، ڈی اے پی 5 سے 6 کلو اور ایم او پی 2 سے 5 کلو ڈالیے- ڈی اے پی اور ایم او پی فصل لگانے سے پہلے ہی ڈالیے یوریا میں سے  آدھا بھی۔اگر کسی ایسی جگہ پر جہاں سبزی پہلے نہ اگائی گئی ہو ایسی زمین کو زرخیر بننے میں وقت لگتا ہے، اگر لوگ زیادہ پیدوار حاصل کرنے کے لیے کیمیائی خاد کثیر تعداد میں استعمال کرتے ہیں جس سے فائدہ نہیں ہوتا، اس کے برعکس اگر وہ ورمی کمپوسٹ یا سڑی ہوئی گوبر کی کھاد استعمال کریں گے تو آہستہ آہستہ زمین زرخیر ہوگی بہتر ہے کہ فصل لگانے سے پہلے مٹی کی جانچ کروائیں ، حکومت نے ہر ضلع میں بہت ہی بہترین مٹی کی تجزیہ گاہیں بھی بنائی ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ زراعت کے اہلکاروں سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔بہتر ہے کھاد لگانے کے لیے جو تجاویز وہ دیں ان پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔زمین کو اچھے سے تیار کیجئے۔ گزشتہ سال جس بیڈ میں جو سبزی لگی ہو کوشش کیجئے اگلے سال دوسری قسم کی سبزی لگائیں جیسے اگر پچھلے سال ٹماٹر لگے ہوں تو دوسرے سال مرچ لگائیں اور مرچ والے بیڈ میں ٹماٹر لگائیں ، کراپ سائیکل کے دوران 3 سے چار بار گوڈائی کریں تاکہ گھاس پھوس نہ رہے۔کچھ سبزیوں کو اگانے کے لیے پہلے پنیری تیار کی جاتی ہے اس کے برعکس کچھ سبزیوں کو ڈائریکٹ اگایا جاتا ہے۔ سبزی اگانے کے لیے سب سے اہم بیج کا انتخاب ہے جن بیچوں کو محکمہ زراعت نے سفارش کی ہے ان ہی کا استعمال کریں ،اچھا بیج پیداوار میں بہت ہی اہم رول ادا کرتا ہے۔ ٹاکی، پہوجا، اڈونٹا اور سنجنٹا جیسے معیاری کمپنیوں کے بیج کے نتائج بہت اچھے ہیں، کوشش کیجئے کہ hybrid seeds ہی استعمال کریں، البتہ اگر آپ hybrid seed استعمال کر رہے ہیں تو گزشتہ سال کا بیج اگلے سال استعمال نہ کریں، بلکہ ہر بار نیا بیج خریدیں۔وہ سبزیاں جن میں ٹرانسپلانٹنگ نہیں کی جاتی ہے ان کے لیے جب بیج ڈالا جائے تو یہ خیال رکھیں کہ بیج دور دور ڈالیں۔ ہمارے ہاں عموماً براڈکاسٹنگ کے ذریعہ ہی بیج ڈالا جاتا ہے۔ بیج اس طرح ڈالیے کہ پودوں کے درمیان اچھا فاصلہ رہے، ورنہ پیداوار میں کمی رہتی ہے اور جب جب جرمنیشن ہو جائے اور آپ کو محسوس ہو کہ فاصلہ کم رہ گیا ہے تو بہت early stage پر کچھ پودوں کو نکالیں۔ کیمیائی دوائی سے اجتناب کرنے کی کوشش کریں، سخت ضرورت پڑنے پر محکمہ زراعت کے اپنے علاقے کے انچارج سے مشورہ کرکے دوائی کا استعمال کریں،عام طور پر ہمارے ہاں  cucrbits جیسے کھیرا، کدو، لوکی، کریل، تریل میں پیدوار کم ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ pollination نہ ہونا ہے۔ جوں ہی گرمی شروع ہوتی ہے تو ان سبزیوں کا پھول بہت صبح کھلتا ہے اور دھوپ میں تھوڑی تپش کے بعد ہی بند ہو جاتا ہے۔ لہذا بہتر ہے کہ ہینڈ پالنیشن کی جائے، وہ پھول جس کے نیچے پھل نہیں ہے عموماً میل فلور ہوتا ہے اس کو کاٹیے اور اس ایک پھول سے کہیں فیمیل پھولوں کی پالنیشن کیجئے۔واضح رہے یہ رہنمائی وادی کشمیر کے آب وہوا کے لیے موزوں ہے۔ گرین ہاوس میں سبزی کاشت کرنے کے لیے الگ سے لکھنے کی کوشش کروں گا اب یہاں الگ الگ سبزیوں کے حوالے سے کچھ عملی مشورے پیش خدمت ہے :

1۔لال گوبھی:

ایک کنال کے لیے 25  سے30  گرام بیچ استعمال کریں،لال گوبھی 15 فروری تا 15 مارچ یا جولائی میں لگائی جا سکتی ہے، پنیری 35 سے چالیس دن میں تیار ہوتی ہے، پنیری میں ایک لاین سے دوسری لاین تک 45 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے میں 45 سنٹی میٹر کا فاصلہ رکھیں ، گوڈائی 2 سے تین بار جبکہ سنچائی ہر   10سے پندرہ دن کے بعد کریں۔

2۔لال ساگ :

لال ساگ دیکھنے میں بھی خوبصورت ہوتا ہے اور ذائقہ میں بھی، لال ساگ (وستہء ہاک) کا بیج ڈائریکٹ لگایا جائے۔ اس کے لیے الگ سے پنیری تیار نہیں کی جائے گی،  ایک کنال کے لیے ایک کلو بیج استعمال کیجئے، لال ساگ کا بیج  20 فروری سے  مارچ تک بویا جا سکتا ہے،  اگر محسوس ہو کہ جرمنیشن زیادہ ہوئی ہے تو thining کیجئے، ہمیں چاہیے کہ قطار سے قطار کا فاصلہ 25 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ  10سینٹی میٹر رکھیں ۔ گوڈائی  2سے  3 بار کریں سنچائی ضرورت کے مطابق دیجئے۔

3۔براکولی :

اس سبزی کے بہت سے طبی فوائد بھی ہیں اور مارکیٹ میں اچھی قیمت بھی ملتی ہے، اس سبزی کو زیادہ پیمانے پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک کنال کے لیے 25  سے30  گرام بیچ استعمال کریں،براکولی سال میں دو بار لگائی جا سکتی ہے، مارچ میں یا جولائی میں لگائی جا سکتی ہے، پنیری 35 سے چالیس دن میں تیار ہوتی ہے، پنیری میں ایک لاین سے دوسری لاین تک 60 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے میں 45 سنٹی میٹر کا فاصلہ رکھیں۔گوڈائی 2 سے تین بار جبکہ سنچائی ہر   10سے 15 دن کے بعد کریں۔

4-بند گوبھی:

بند گوبھی  کا بیچ ایک کنال کے لیے 25  سے 40  گرام        بیج کا استعمال کریں، بندگوبھی سال میں دو بار اگائی جا سکتی ہے، بیج مارچ یا جولائی سے اگست میں بوئیں ، پنیری تبدیل کرنے کا وقت مارچ والے کو اپریل اور جولائی اگست میں جو بیچ بویا گیا اس کی پنیری اگست سے سمبتر تک لگوائیں ۔پنیری میں ایک لاین سے دوسری لاین تک 60 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے میں 45 سنٹی میٹر کا فاصلہ رکھے۔ سنچائی ہر 10 سے   15 دن کے بعد کریں، اچھے بیچ کا انتخاب کریں، بند گوبھی کے لیے بہتر رہے گا۔

5۔ پھول گوبھی:     

ایک کنال کے لیے 25  سے30  گرام بیج استعمال کریں۔پھول گوبھی سال میں دو بار لگائی جا سکتی ہے؛مارچ یا جولائی میں۔ پنیری 35 سے چالیس دن میں تیار ہوتی ہے، پنیری میں ایک لاین سے دوسری لاین تک 60 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے میں 45 سنٹی میٹر کا فاصلہ رکھیں۔ گوڈائی 2 سے تین بار جبکہ سنچائی ہر   10سے پندرہ دن کے بعد کریں،

6۔کڈم منڈی knol khol :

ایک کنال کے لیے 60  سے75  گرام بیج استعمال کریں، کڈم منڈی سال میں دو بار اگائی جا سکتی ہے یا تو مارچ میں یا جولائی، البتہ مارچ میں جو بیج ہوتا ہے وہ اس بیج سے الگ ہوتا ہے جو جولائی والے کراپ میں استعمال کیا جاتا ہے، اس بات کا خاص خیال رکھیں اور پنیری تیس سے چالیس روز بعد لگائیں ۔ قطار سے قطار کا فاصلہ 30 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ 15 سنٹی میٹر رکھیں ۔گوڈائی  3سے  4 بار کریں، سنچائی ہر  سات سے دس دن بعد کریں۔

7۔خانیاری ساگ:

ایک کنال کے لیے 100سے  125 گرام بیج استعمال کیجئے، خانیاری کا بیج مارچ سے اپریل ڈالا جا سکتا ہے اور پنیری تیس سے چالیس روز بعد لگایں۔ قطار سے قطار کا فاصلہ 30 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ 50 سنٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی  3سے  4 بار کریں، سنچائی ہر  سات سے دس دن بعد کریں۔

8۔ٹماٹر :

ایک کنال کے لیے 25 سے سے 30 گرام بیج استعمال کیجئے، ٹماٹر کا بیج مارچ سے اپریل تک ڈالا جا سکتا ہے اور پنیری تیس  روز بعد لگائیں ۔ قطار سے قطار کا فاصلہ 60 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ 45 سنٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی  3سے  4 بار کریں ،سنچائی ہر  سات سے دس دن بعد کریں، ٹماٹر کے 3 پودے ایک ساتھ لگائیں ، ٹماٹر میں hybrid کا بیج استعمال کریں جو کہ بہت پیداوار دے گا۔ اگر آپ چری ٹماٹر لگانا چاہیں تو اس کا بیج مارکیٹ میں دستیاب ہے، چری ٹماٹر کا ذائقہ بھی اعلیٰ ہوتا ہے اور ساتھ ہی اس کا مارکیٹ ویلیو بھی اچھا ہے۔

9۔پالک :

پالک کا بیج ڈائریکٹ لگایا جائے ، اس کے لیے الگ سے پنیری تیار نہیں کی جائے گی۔ پالک کا بیج عام طور پر یہاں دو قسم کا استعمال کیا جاتا ہے، ایک پرکیلی سیڈ جو کہ ایک کنال کے لیے 500 سے 600 گرام استعمال کیا جائے گا جبکہ شالیمار گرین 250 سے 300 گرام۔ پالک سال کے مختلف موسموں میں اگائی جاسکتی ہے ، پالک کا بیج  20 فروری سے  مارچ تک بویا جا سکتا ہے،  اگر محسوس ہو کہ جرمنیشن زیادہ ہوئی ہے تو thining کیجئے، ہمیں چاہیے کہ قطار سے قطار کا فاصلہ 25 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ  10سینٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی  2سے  3 بار کریں، سنچائی ضرورت کے مطابق دیجئے ۔

10۔دھنیا:

کوئی بھی ایسا گھر نہیں جہاں دھنیا استعمال نہ کیا جاتا ہو، چاہیے چٹنی بنانی ہو یا سلاد، دھنیا کا استعمال خوب کیا جاتا ہے۔اگر دیکھا جائے تو کشمیر میں دسمبر اور جنوری کے بغیر یہ ہر موسم میں اگایا جا سکتا ہے البتہ مارچ سے سمبتر کا وقت بہتر ہے۔آدھا کلو دھنیا کا بیج ایک کنال کے لیے کافی ہے۔قطار سے قطار کا فاصلہ 25 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ  10سینٹی میٹر رکھے۔ گوڈائی  2سے  3 بار کریں سنچائی ضرورت کے مطابق دیجئے۔بہتر ہے کہ دو  چمن میں لگایا جائے اور اگر ایک چمن میں آپ بیج فروری میں لگائیں گے تو دوسرے میں 10 مارچ کو یعنی چالیس روز بعد اس طرح ایک چمن خالی ہونے کے بعد دوسرا چمن سے آپ کو دھنیا ملے گا،  دھنیاکا بیج ڈائریکٹ لگایا جائے۔

11۔سلاد پتہ (lettuce) :

لیٹیوس exotic سبزی ہے جس کی طبی افادیت بہت زیادہ ہے۔اس کا بیج ڈائریکٹ لگایا جائے اس کے لیے الگ سے پنیری تیار نہیں کی جائے گی۔ lettuce کا بیج  فروری سے مارچ تک لگایا جا سکتا ہے اگر محسوس ہو کہ جرمنیشن زیادہ ہوئی ہے تو thining کیجئے، ہمیں چاہیے کہ قطار سے قطار کا فاصلہ  45 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ  45سینٹی میٹر رکھے ،گوڈائی  2سے  3 بار کریں سنچائی 7 دنوں کے بعد کیجئے۔

 12۔آلو:

ایک کنال کے لیے ایک کوئنٹل اچھا بیج کافی ہے، قطار سے قطار کا فاصلہ 60 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ 20 سینٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی 3 سے 4بار کریں سنچائی 7 سے دس دن بعد کریں (آلو کی کاشتکاری کے لیے انشاء اللہ الگ سے مضمون آئے گا)

13۔بیگن :

ایک کنال کے لیے 25 سے سے 40 گرام بیج استعمال کیجئے، بیگن کا بیج 15 اپریل سے مئی تک بویا جا سکتا ہے اور پنیری تیس  روز بعد ٹرانسپلانٹ کیجئے قطار سے قطار کا فاصلہ 60 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ 45 سنٹی میٹر رکھے گوڈائی  3سے  4 بار کریں سنچائی ہر  سات سے دس دن بعد کریں۔

14۔ کُدو   (pumpkin):

کدو کو پلاسٹک تھیلیوں یا گلاس میں اگائیں۔ پلاسٹک تھیلی یا گلاس کو دو چار بڑے چھید کیجئے تاکہ پانی کی نکاسی ہو، پہلے پچاس فیصد مٹی 20 فیصد ورمی کمپوسٹ اور 30 فیصد کوکو پیٹ(cocopeat) کو مکس کیجئے، پھر اس مکسچر کو تھیلوں یا گلاس میں بھریں , ایک تھیلی میں 2 سے 3 بیج ڈالیے، کدو کا بیج اپریل میں ڈالیے اور مئی میں ٹرانسلپلانٹ کریں۔قطار سے قطار کا فاصلہ 200 سینٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ  100 سینٹی میٹر رکھیں۔گوڈائی 3 سے 4بار کریں سنچائی ہر سات دنوں بعد کریں ۔

15۔کریلا  اور تریلا :

کریلا اور تریلے اگرچہ کشمیر میں کم اگائے جاتے تھے لیکن اب ان کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، بہتر ہے کریلا اور تریلا اگر آپ اگانا چاہتے ہیں تو ان کو پلاسٹک تھیلیوں یا گلاس میں اگائیں۔ پلاسٹک تھیلی یا گلاس کو دو چار بڑے چھید کیجئے تاکہ پانی کی نکاسی ہو، پہلے پچاس فیصد مٹی ،20 فیصد ورمی کمپوسٹ اور 30 فیصد کوکو پیٹ(cocopeat) کو مکس کیجئے، پھر اس مکسچر کو تھیلوں یا گلاس میں ڈالیے , ایک تھیلی میں 2 سے 3 بیج ڈالیے،اگر بیج لگانے سے پہلے ایک دن پانی میں رکھیں تو زیادہ بہتر نتائج آئیں گے ۔کریلا اور تریلا کا بیج ماہ اپریل کے دوسرے ہفتے میں بوئیں اور مئی میں ٹرانسلپلانٹ کریں۔قطار سے قطار کا فاصلہ 150 سینٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ  50 سینٹی میٹر رکھیں۔گوڈائی 3 سے 4بار کریں سنچائی  ہر سات دنوں بعد کریں۔

16۔ کھیرا :

کھیرا ہمارے کشمیر میں بہت بڑے پیمانے پر اگایا جاتا ہے کیونکہ بطور سلاد اب یہ ہر گھر میں استعمال ہوتا ہے،کھیرے کو پلاسٹک تھیلیوں یا گلاس میں اگائیں۔پلاسٹک تھیلی یا گلاس کو دو چار بڑے چھید کیجئے تاکہ پانی کی نکاسی ہو، پہلے پچاس فیصد مٹی 20 فیصد ورمی کمپوسٹ اور 30 فیصد کوکو پیٹ(cocopeat) کو مکس کیجئے، پھر اس مکسچر کو تھیلوں یا گلاس میں بھرے۔ ایک تھیلی میں 2 سے 3 بیج ڈالیے، کھیرے کا بیج اپریل میں بوئیں اور مئی میں ٹرانسلپلانٹ کریں، قطار سے قطار کا فاصلہ 150 سینٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ  50 سینٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی 3 سے 4بار کریں۔ سنچائی  ہر سات دنوں بعد کریں ۔عام طور پر کچن گاڈرن میں جو لوگ سبزی اگاتے ہیں وہ شکایت کرتے ہیں کہ پیداوار زیادہ نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں مشورہ ہے کہ جب کھیرا کا درخت چڑھے، اور جوں ہی اس کی چار شاخیں ہو جائے تو اوپر والی شاخ کو کٹ ماریں، اس کے بعد سائڈ کی شاخوں کو بڑھنے دیں جب وہاں بھی چار شاخیں ہو جائے تو ایک کٹ مارے،اس عمل سے فیمیل فلاور زیادہ آئیں گے، اس کو 2 g اور 3 g کٹ ٹکینک کہتے ہیں۔ اس عمل کی عملی مشق کے لیے آپ YouTube پر دیکھیں ، دوسری بات کہ جب پھول آنا شروع ہو جائے تو ہر صبح پھولوں کو تھوڑا تھوڑا ہلائیں ، کیونکہ صبح پھول کھلتے ہیں اور شام کو بند ہو جاتے ہیں، یہ عمل پالنیشن کے لیے اہم ہے ۔

17۔لوکی (bottle gourds) :

  بوٹل گاڈس کو پلاسٹک تھیلیوں یا گلاس میں اگائیں سلام ، پلاسٹک تھیلی یا گلاس کو دو چار بڑے چھید کیجئے تاکہ پانی کی نکاسی ہو، پہلے پچاس فیصد مٹی 20 فیصد ورمی کمپوسٹ اور 30 فیصد کوکو پیٹ(cocopeat) کو مکس کیجئے، پھر اس مکسچر کو تھیلوں یا گلاس میں بھریں۔ ایک تھیلی میں 2 سے 3 بیج ڈالیے، لوکی کا بیج اپریل میں بوئیں اور مئی میں ٹرانسلپلانٹ کریں، قطار سے قطار کا فاصلہ 200 سینٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ  100 سینٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی 3 سے 4بار کریں سنچائی  ہر سات دنوں بعد کریں ۔

18۔شملہ مرچ :

ایک کنال کے لیے 50 سے سے 70 گرام بیچ استعمال کیجئے، شملہ مرچ کا بیج  اپریل سے15 مئی میں بوئیں اور پنیری تیس  سے 35 روز بعد کریں قطار سے قطار کا فاصلہ 60 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ 45 سنٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی  3سے  4 بار کریں سنچائی ہر  سات سے دس دن بعد کریں۔

19۔لال مرچ: 

ایک کنال کے لیے 100 گرام بیج استعمال کیجئے، لال مرچ کا بیج  اپریل سے 15 مئی میں بوئیں  اور پنیری تیس  سے 35 روز بعد لگائیں۔ قطار سے قطار کا فاصلہ 60 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ 45 سنٹی میٹر رکھیں ۔گوڈائی  3سے  4 بار کریں سنچائی ہر  سات سے دس دن بعد کریں۔عام طور پر کشمیر میں لال مرچ میں بیماری لگتی ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم بہت زیادہ irrigation دیتے ہیں اور ساتھ ہی کراپ روٹیشن بھی نہیں کرتے، چونکہ لال مرچ کا بیج عام طور پر لوکل ہی مل جاتا ہے لہذا وہ treated نہیں ہوتا، بیج کو لگانے سے پہلے ضرور ٹریٹ کیجئے۔

20۔بھنڈی:

بھنڈی ڈائریکٹ لگائی جاتی ہے، اس کے لیے الگ سے پنیری تیار نہیں کی جائے گی۔ ایک کنال کے لیے 750 گرام سے ایک کلو بیج استعمال کیجئے، بھنڈی کا بیج  مئی سے جون تک بویا جا سکتا ہے،  اگر محسوس ہو کہ جرمنیشن زیادہ ہوئی ہے تو thining کیجئے، ہمیں چاہیے کہ قطار سے قطار کا فاصلہ 45 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ 30 سینٹی میٹر رکھیں۔گوڈائی  3سے  4 بار کریں ،سنچائی ہر  سات روز بعد کریں،

21۔فراش بین:

اپریل سے جون تک لگائی جا سکتی ہے، عام طور پر کشمیر میں دو قسم کی فراش بین لگائی جاتی ہے۔ بش ٹائپ اور بیل ٹایپ، بش ٹائپ کے لیے 5 کلو بیج ایک کنال کے لیے لگائیں اور بیل ٹائپ کے لیے 1۔5 کلو لگائیں۔ قطار سے قطار کا فاصلہ 30 سنٹی میٹر بش ٹائپ کے لیے، جبکہ 100 سینٹی میٹر بیل ٹائپ میں رکھیں اور پودے سے پودے کا فاصلہ  10 سینٹی میٹر بش ٹائپ کے لیے جبکہ 50 سنٹی میٹر بیل ٹایپ کیلیےرکھیں۔ گوڈائی 3 سے 4 بار کریں،سنچائی  ہر سات دنوں بعد کریں۔

22۔سمر سکاش :

سمر سکاش کا بیج ڈائریکٹ لگایا جائے۔ ایک کنال کے لیے 400 گرام کا بیج درکا ہے۔ سمرسکاش کا بیج  مئی میں بویا جاتا ہے۔ اگر محسوس ہو کہ جرمنیشن زیادہ ہوئی ہے تو thining کیجئے، ہمیں چاہیے کہ قطار سے قطار کا فاصلہ 100 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ  80 سینٹی میٹر رکھیں ۔ گوڈائی 3 سے 4بار کریں سنچائی  ہر سات دنوں بعد کریں۔

23۔ساگ جی ایم ڈاری یا وند ہاک:

ایک کنال کے لیے 100سے  125 گرام بیج استعمال کیجئے، جی ایم ڈاری کا بیج جولائی سے اگست میں بوئے اور پنیری تیس سے چالیس روز بعد لگائیں ۔ قطار سے قطار کا فاصلہ 30 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ 50 سنٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی  3سے  4 بار کریں سنچائی ہر  سات سے دس دن بعد کریں ۔

24 ۔ گاجر :

گاجرکا بیج ڈائریکٹ لگایا جائے ، اس کے لیے الگ سے پنیری تیار نہیں کی جائے گی،  ایک کنال کے لیے 175 گرام بیج استعمال کیجئے، گاجر کا بیج  اگست سے ستمبر تک بویا جا سکتا ہے،  اگر محسوس ہو کہ جرمنیشن زیادہ ہوئی ہے تو thining کیجئے، ہمیں چاہیے کہ قطار سے قطار کا فاصلہ 30 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ  15 سینٹی میٹر رکھیں ۔گوڈائی  3سے  4 بار کریں سنچائی ہر  سات روز بعد کریں۔

25۔مولی :

مولی کا بیج ڈائریکٹ لگایا جائے ، اس کے لیے الگ سے پنیری تیار نہیں کی جائے گی،  ایک کنال کے لیے 500 گرام بیج درکار ہے ، مولی کا بیج  اگست سے ستمبر تک بویا جا سکتا ہے،  اگر محسوس ہو کہ جرمنیشن زیادہ ہوئی ہے تو thining کیجئے، ہمیں چاہیے کہ قطار سے قطار کا فاصلہ 30 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ  15 سینٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی  2سے  3 بار کریں سنچائی ضرورت پڑنے پر کریں ۔

26 ۔شلغم :

شلغم بیج ڈائریکٹ لگایا جاے ، اس کے لیے الگ سے پنیری تیار نہیں کی جائے گی،  ایک کنال کے لیے 350 گرام بیج درکار ہے ۔ شلغم کا بیج  اگست سے ستمبر تک بویا جا سکتا ہے اگر محسوس ہو کہ جرمنیشن زیادہ ہوئی ہے تو thining کیجئے۔ہمیں چاہیے کہ قطار سے قطار کا فاصلہ 30 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ  15 سینٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی 2 سے 3 بار کریں سنچائی ضرورت پڑنے پر کریں۔

27۔ پیاز :

ایک کنال زمین میں پیاز اگانے کے لیے375 گرام سے 500 گرام بیج استعمال کیجئے، پیاز کا بیج  15 اگست سے 15 ستمبر  میں بوئیں  اور پنیری اکتوبر سے نومبر میں لگائیں۔ قطار سے قطار کا فاصلہ 20 سینٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ 15 سینٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی  2 سے 3 بار کیجے، سنچائی ضرورت پڑنے پر کریں، پیاز کا بیج اچھی کمپنی کا استعمال کیجئے، بہتر ہے ریڈ کلور لگائیں ، اس کی شلف لیف زیادہ ہے۔

 28 ۔میتھی :

میتھی کا بیج ڈائریکٹ لگایا جائے ، اس کے لیے الگ سے پنیری تیار نہیں کی جائے گی۔ ایک کنال کے لیے ایک کلو سے سوا ایک کلو بیج استعمال کیجئے۔ میتھی کا بیج  ستمبر سے نومبر تک بویا جا سکتا ہے،  اگر محسوس ہو کہ جرمنیشن زیادہ ہوئی ہے تو thining کیجئے۔ہمیں چاہیے کہ قطار سے قطار کا فاصلہ 30 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ 20 سینٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی  2 سے  3 بار کریں سنچائی ضرورت کے مطابق دیجئے۔

29۔ مٹر :

مٹر کا بیج ڈائریکٹ لگایا جائے ۔ ایک کنال کے لیے 3 سے 4 کلو بیج درکار ہے ،کشمیر میں مٹر دو قسم کا لگایا جاتا ہے۔ایک سبزی کے لیے جس  کو ‘ارکل’ کہتے ہیں دوسرا ‘رچنا’ جس کو بطور دال استعمال کیا جاتا ہے۔ مٹر کا بیج  اکتوبر سے نومبر تک بویا جاسکتا ہے۔ اگر محسوس ہو کہ جرمنیشن زیادہ ہوئی ہے تو thining کیجئے، ہمیں چاہیے کہ قطار سے قطار کا فاصلہ 30 سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ  10 سینٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی 2 سے 3 بار کریں سنچائی ضرورت پڑنے پر کریں ۔

30۔ لہسن :

لہسن ڈائریکٹ لگایا جائے ایک کنال کے لیے 25 کلو لہسن لگائیں۔ لہسن لگانے کا وقت ماہ نومبر ہے، قطار سے قطار کا فاصلہ 5سنٹی میٹر اور پودے سے پودے کا فاصلہ 10 سینٹی میٹر رکھیں۔ گوڈائی 2 سے 3 بار کریں سنچائی ضرورت پڑنے پر ہی کریں۔

رابطہ : 9906653927

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔