متعصب چینلوں کی وجہ سے ملک میں نفرت کا ماحول

ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی

متعصب قومی الیکٹرانک میڈیاہر روز صحافت کے تمام اقدار کو بالائے طاق رکھ کر ایک مخصوص سیاسی پارٹی کے حق میں انتخابی مہم چلارہی ہے اور ہندوستان کی عوام کو درپیش مسائل و مشکلات پر مباحث منعقد کروانے کے بجائے ہر دن نفرت پر مبنی عنوانات اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف مباحث منعقد ہورہے ہیں۔ حج سبسیڈی پر متعصب قومی الیکٹرانک میڈیا نے زبردست مباحث منعقد کروائے اور تمام ہندوستانیوں کو یہ باورکروانے کی حددرجہ کوشش کی کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ملک کی ترقی کے بجائے غلط جگہ استعمال ہورہا ہے۔

ہندوستان کی حکومت سیکولر ہے اس لیے ایک خاص مذہب کے لیے حکومت کو ٹیکس دہندگان کی دی ہوئی رقومات سے سبسیڈی نہیں دی جانی چاہیے بلکہ اسے ملک اور قوم کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ جنوری 2019ء میں منعقد ہونے والے کمبھ میلے کے لیے اترپردیش کی سرکار نے اعلان کیا کہ اس کی تیاری میں 2,500 کروڑ روپیہ خرچ کرے گی۔ متعصب قومی الیکٹرانک میڈیا بالکل خاموش ہے کسی چینل پر کوئی بحث نہیں جس ملک میں غریب اور کسان بھوک اورقرضہ کی وجہ سے خودکشی کررہے ہیں وہاں پر ریاستی حکومت کی ایسی شاہ خرچی کیا ملک کے مفاد میں ہے؟ کیا یہ رقم ٹیکس دہندگان کی گاڑی کمائی کی نہیں ہے۔ عدالت عظمی کو اس کا از خود نوٹ لینا چاہیے اور ایسے متعصب میڈیا گھرانوں اور حکومتوں کے خلاف سخت ہدایاتیں جاری کرنی چاہیے جو ملک کو توڑنے کی ہر ممکنہ کوشش کررہے ہیں۔

کسی سیاسی پارٹی کے قائد نے ہندو طالبان اور ہندو دہشت گرد کا لفظ استعمال کیا تو متعصب قومی الیکٹرانک میڈیا کی اکثریت آگ بگولہ ہوگئی لیکن یہ میڈیا گھرانے جب سالہاسال سے دہشت گردی کا لفظ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جارہا تھا تو اس وقت یہی میڈیا خاموش تماشائی بنی ہوئی کیوں تھا؟ جب افغانستان میں طالبان نے قدیم اور تاریخی مجسموں کو منہدم کردیا تو ان کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی اور یقینا ہونی بھی چاہیے۔ لیکن جب 6 ڈسمبر 1992ء کو ہندو دہشت گردوں نے بابری مسجد کو منہدم کیا تو اس پر متعصب قومی الیکٹرانک میڈیا کوئی مباحث نہیں کرواتی اور اس واقعہ کی مذمت کیوں نہیں کرتی؟ یہی متعصب قومی الیکٹرانک میڈیا کے اینکر مباحث میں حصہ لینے والے مسلمانوں سے اکثر یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ آپ کے لیے مذہب پہلے یا ملک؟ لیکن کسی اینکر میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ یہی سوال اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی فرد سے پوچھے۔

 اگر اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے بعض متعصب سیاسی پارٹیوں اور افراد کو مذہب سے زیادہ ملک عزیز ہوتا تو ہندوستان میں بابری مسجد اور رام مندر کا مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب ایک نشست میں طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا جس کے بعد مسلم خواتین نے پرامن احتجاج کیا تو اسی متعصب میڈیا نے یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ مسلمان عدالت عظمی کا احترام نہیں کرتے لیکن بی۔ جے۔ پی کے لیڈر ونئے کٹیارنے جب یہ بیان دیا کہ ہمیں رام مندر تعمیر کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی اجازت کی ضرورت نہیں تو کسی میڈیا چینل نے اس شخص کو ملک کا غدار قرار نہیں دیا اور نہ ہی سپریم کورٹ کی توہین کرنے والا قرار دیا۔ کیرانہ میں منعقد ہونے والے انتخابات کے پیش نظر بعض شرپسند عناصر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آویزاں محمد علی جناح کی تصویر کا معاملہ اٹھایا تو متعصب قومی الیکٹرانک میڈیا نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور کئی مباحث منعقد کروائے اور مسلمانوں کو پاکستان پرست ثا بت کرنے کی بھرپور کی کوشش کی لیکن جب اٹل بھاری واجپائی کی حکومت کے زمانے میں پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں تقسیم ہند کا نظریہ پیش کرنے والے، انگریزوں سے معافی مانگنے والے اور آر ایس ایس و ہندو سبھا جیسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے والے ساورکر کی تصویر لگائی گئی تو اس پر کسی ٹی وی چینل کو توفیق نہیں ہوئی اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے۔ حتی کہ ایل۔ کے۔ اڈوانی نے جناح کی تعریف میں قصیدے پڑے، یشونت سنہا نے جناح پر کتاب لکھی لیکن اس کے باوجود انہیں کسی ٹی۔ وی چینل نے پاکستان پرست نہیں کہا۔ وطن عزیز ہندوستان فی الوقت بے شمار سنگین مسائل جیسے غربت، ناخواندگی، بے روزگاری، صحت، رشوت وغیرہ کا شکار ہے لیکن ان موضوعات پر قومی الیکٹرانک میڈیا کی اکثریت کوئی مباحث نہیں کرواتی بلکہ ہر رات ایسے مباحث کروائے جاتے ہیں جس سے ہندو مسلمان میں نفرت کی دیوار کھڑی ہو، ہندوستان کی سا  لمیت کو خطرہ لاحق ہو، امن کا ماحول مکدر ہو۔ قومی الیکٹرانک میڈیا کی بنیادی ذمہ داری تو یہ تھی کہ وہ عوامی مسائل اور حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرے لیکن موجودہ متعصب قومی الیکٹرانک میڈیا کی اکثریت ایسے مباحث کروارہی ہے جس سے ملک کا تانا بانا ٹوٹ رہا ہے اور گنگا جمنی تہذیب کو شدید خطرہ لاحق ہورہا ہے۔

 تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اور متعصبانہ مباحث دیکھ کر دنیا میں ہندوستان کی وقار کس قدر مجروح ہورہا ہے چونکہ اکثر ٹی۔ وی چینلز پر مباحث کے نام پر ایک دوسرے کی کردار کشی کی جارہی ہے۔ ایسے ماحول میں اکابرین و قائدین ملت کی ذمہ داری ہے کہ ٹی۔ وی مباحث کے لیے چنندہ لوگوں کا انتخاب کرے جو میڈیا کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کا مسکت جواب دے سکے اور ان لوگوں کا سماجی بائیکاٹ کریں جو نیشنل ٹی۔ وی پر آنے کے شوق میں دانستہ یا نادانستہ طور پر اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچارہے ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔