اِنڈو افغان معاشی تعلقات اور طالبان

سراج الدین فلاحی

چند روز قبل فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشن  (FIEO)  جو انڈیا میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ایک ادارہ ہے اس نے جانکاری دی ہے کہ افغانستان میں بننے والی نئی سرکار نے انڈیا اور افغانستان کے درمیان ہو رہی اشیاء کے ایکسپورٹ اور امپورٹ کو فی الحال روک دیا ہے۔ FIEO کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان جتنے بھی Transit Rout ہیں سب کو بند کر دیا گیا ہے اور تمام طرح کے سازوسامان کی درآمدات اور برآمدات پر روک لگا دی گئی ہے۔ واضح رہے اسی روٹ سے زیادہ تر سامان پاکستان کے ذریعے واگھہ ہوتے ہوئے افغانستان سے ہمارے ملک انڈیا میں آتے ہیں۔

افغانستان اور انڈیا کے تجارتی تعلقات صدیوں پرانے ہیں۔ حتی کہ موجودہ دور میں بھی انڈیا افغانستان کے ساتھ ایک بڑی تجارت کرتا ہے۔ انڈیا کے لیے مثبت بات یہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ انڈیا کا بیلنس آف ٹریڈ ہمیشہ انڈیا کے حق میں رہا ہے۔ یعنی انڈیا کا ایکسپورٹ اس کے امپورٹ سے زیادہ رہا ہے۔ یہ بات کسی بھی ملک اور اس کی معیشت کے لیے بہتر تصور کی جاتی ہے کہ اس کا ایکسپورٹ اس کے امپورٹ سے زیادہ ہو۔ رواں سال یعنی 2021 کے آنکڑوں پر نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ اس سال انڈیا نے افغانستان کو چائے، کافی، شکر، مصالحے، دوائیں، گارمنٹ، سیمنٹ اور ٹرانسمیشن ٹاور وغیرہ کے ذریعے تقریبا 835 میلن ڈالر کی اشیاء کو ایکسپورٹ کیا ہے جبکہ کاجو، کشمش، اخروٹ، بادام، پستہ اور انجیر یعنی ڈرائی فروٹ پر افغانستان سے اس کا امپورٹ تقریبا 510 میلن ڈالرہے۔ چونکہ انڈیا کا ایکسپورٹ افغانستان میں اس کے امپورٹ سے زیادہ ہے اور انڈیا افغانستان کے بڑے تجارتی پارٹنرز میں ایک ہے اس لیے افغانستان کے ساتھ انڈیا کی تجارت کافی اہم مانی جاتی ہے۔ اب اگر جیسا کہ خبروں میں آ رہا ہے کہ یہ ٹرانزٹ روٹ بند کر دیا گیا ہے تو نہ صرف معاشی طور پر انڈیا کو کئی بلین ڈالر کا بڑا نقصان ہو سکتا ہے بلکہ مستقبل میں جو امکانات تھے ان پر بھی کاری ضرب لگ سکتی ہے نیز بہت سارے پروجیکٹس اور انڈیا کی TAPI  گیس پائپ لائن بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے جسے افغانستان سے ہو کر گذرنا ہے۔

سال 2011 میں انڈیا نے افغانستان کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ سے متعلق ایک سمجھوتہ کیا تھا جس میں انڈیا نے افغانستان میں معاشی اور سماجی دونوں طرح کے بنیادی ڈھانچوں کی ترقی کے لیے ایک بڑی رقم انویسٹ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس وعدے پر عمل کرتے ہوئے انڈیا نے افغانستان میں ایک بڑی پونجی انویسٹ کی، افغان پولیس، ڈپلومیٹ اور سول سروینٹ کو ٹریننگ دی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کام کیا، افغانی طلبہ کو انڈیا میں پڑھنے کے لیے وظیفہ دیا، بجلی، قدرتی گیس، سلمی ڈیم، دایکنڈی ڈیم، پارلیمنٹ بلڈنگ اور سڑکوں جیسی بے شمار ترقیاتی کاموں کی از سر نو تعمیر پر تین بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے علاوہ پاکستان کو بائی پاس کر کے ایران کے ذریعے افغانستان اور سینٹرل ایشیا میں تجارت کے لیے چاہ بہار بندرگاہ پر تقریبا آٹھ بلین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی ہے۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کے افغانستان چھوڑنے اور طالبان کا اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کے باعث  افغانستان پر انڈیا کی پکڑ کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

طالبان کو لے کر اس وقت دنیا دو حصوں میں منقسم ہے۔ مغربی ممالک بطور خاص امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے جس طرح کے شروعاتی اشارے مل رہے ہیں اس سے اس احساس کو تقویت ملتی ہے کہ یہ ممالک نہ صرف طالبان حکومت کی حوصلہ افزائی کرنے میں تذبذب کا شکار ہیں بلکہ اسے اتنی جلد تسلیم کرنے کے موڈ میں بھی نہیں ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے امریکی بینکوں میں رکھی افغان سرکار کی تمام پونجی کو فریج کر دیا ہے۔ IMF کہ رہا ہے کہ اپریل تک افغانستان کے مرکزی بینک میں جو ساڑھے نو ارب ڈالر کی پونجی موجود تھی اس کا ایک بڑا حصہ وہاں سے غائب ہے۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ امریکی بینکوں میں رکھی افغان حکومت کی یہ رقم طالبان سرکار استعمال نہیں کر سکے گی لہذا ملک چلانے کے لیے طالبان کے پاس فنڈز کی زبردست کمی پڑ سکتی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا مزید کہنا ہے کہ افغان سرکار کی زیادہ تر دولت ملک سے باہر رکھی گئی تھی جہاں تک طالبان کا پہنچ پانا آسان نہیں ہے یعنی طالبان کو معاشی مورچے پر ایک زبردست اور کرارا جھٹکا دینے کی تیاری چل رہی ہے۔ وہیں دوسری طرف چین، روس، ایران اور پاکستان آگے بڑھ کر طالبان کو ویلکم کر رہے ہیں. ہمارے یہاں ابھی اس بات پر ماتھا پیچی چل رہی ہے کہ طالبان کو تسلیم کریں نا کریں۔ معاشی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر انڈیا کو افغانستان اور سینٹرل ایشیا میں اپنی تجارت کو فروغ دینا ہے تو طالبان سے بات کرنے اور ان کی حکومت کو ماننے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان آپسی تعلقات بحال ہونے کے ساتھ ساتھ ماضی کی طرح دونوں میں تجارت کا فروغ بھی حاصل ہو گا نیز چین اور پاکستان کو افغانستان میں کچھ حد تک کنٹرول بھی کیا جا سکے گا۔ بہت سارے عالمی ریسرچ اداروں کی تحقیق کے مطابق افغانستان معدنیات کے معاملے میں کافی Rich ہے۔ اس کے اندر کئی ٹریلین ڈالر کی ویلیو کے آئرن، لیتھیم، قدرتی گیس اور بہت سارے پٹرولیم پروڈکٹ موجود ہیں۔ چونکہ افغانستان کے پاس اسے کھود کر نکالنے کی تکنیک نہیں ہے ایسے میں انڈیا اگر افغانستان سے تعلقات بنا کر رکھتا ہے تو انڈین کمپنیوں کے پاس ایک سنہرا موقع ہو سکتا ہے۔ اس کے برخلاف اگر انڈیا دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس نے اب تک اتنی بڑی جو سرمایہ کاری کی ہے وہ سب نہ صرف اچانک ختم ہو جائے گی بلکہ اس کی وہ تجارت بھی ماند پڑ جائے گی جس میں اس کا ایکسپورٹ اس کے امپورٹ سے زیادہ ہے۔ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ افغانستان انڈیا کے لیے اسٹریٹیجکلی بہت اہم ہے، کیونکہ افغانستان کا محل وقوع ایسا ہے کہ اسے نہ صرف سینٹرل ایشیا کا دروازہ کہا جاتا ہے بلکہ یہ دنیا میں چل رہے گریٹ گیم کا سینٹرل پوائنٹ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ، روس، فرانس، چین اور برطانیہ جیسے بڑے اور امیر ممالک افغانستان پر اپنا کنٹرول چاہتے ہیں۔ انڈیا کو جب بھی سینٹرل ایشیا میں اپنی تجارت کو فروغ دینا ہو گا اسے افغانستان کی ضرورت پڑے گی۔ اگر انڈیا جلد بازی میں غلط فیصلہ لیتا ہےاور اس کے تعلقات طالبان سے بگڑتے ہیں تو انڈیا کو سینٹرل ایشیا سے تجارتی رابطے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

طالبان کو انڈیا نے کبھی تسلیم نہیں کیا لیکن اس سال جون میں دونوں کے درمیان بیک چینل بات چیت کی خبریں انڈین میڈیا میں آتی رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں طالبان حکومت سے اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ ان میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اعلان کیا ہے کہ ہماری زمین کسی بھی طرح کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی بلکہ ان کی جانب سے انڈیا کے لیے کوئی مخالف بیان بھی سامنے نہیں آیا ہے۔ نہ ہی انہوں نے افغانستان کی ترقی میں انڈیا کے رول کو نظرانداز کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طالبان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو انڈیا کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ اب انڈیا کے پاس دو راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ طالبان کو تسلیم کر کے افغانستان میں بنا رہے۔ دوسرا یہ کہ طالبان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے اور نوے کی دہائی میں واپس چلا جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو انڈیا نے افغانستان میں گذشتہ دو دہائیوں میں جو کچھ حاصل کیا ہے وہ سب اچانک ختم ہو جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا