اللہ محبت ہے: ایک تحقیقی جائزہ

تجزیہ نگار : علیزے نجف

کہا جاتا ہے کتابیں لکھنا بہت آسان ہے لیکن مشکل ہے ایسی کتاب لکھنا جو قارئیں کے دل کے تاروں میں ایک سریلا ساز چھیڑ دے جس کے الفاظ نہیں احساس پڑھے جائیں جس کی تاثیر دلوں کو مسخر کر لے۔

اس اکیسویں صدی کو علم کی صدی کہا جارہا ہے فی زمانہ تعلیم و تعلم کے بےشمار ذرائع منظر عام پر آ چکے ہیں استفادہء علم کی بےشمار راہیں ہموار ہو چکی ہیں  اس کی موزونیت سے مختلف موضوع پہ کتابیں منظر عام پر آرہی ہیں جس میں خاص طور سے قابل ذکر موضوع ادب، فنون لطیفہ، سائنس، اور روحانیت ہے۔

روحانیت کے سیاق و سباق پر مشتمل  بہت سی کتابیں اشاعت کے مراحل سے گذر کر منظر عام پر آ چکی ہیں  اس میں سے ایک قابل زکر و قابل احترام کتاب "اللہ محبت ہے” جس کی مصنفہ ‘حیا ایشم’ ہیں جو کہ ایک لکھاری ہیں  پروفیشن کے اعتبار سے وہ ایک کلینکل سائیکلوجسٹ  ہیں وہ لوگوں کے زخمی احساس پہ بتوفیق خدا مرہم ظاہری عوامل کے تعاون اور اللہ کی محبت بیدار کرتے ہوئے کچھ یوں رکھتی ہیں کہ متاثرہ انسان خود کو ایک سچ کی چاشنی کے ذائقے سے آشنا ہوتا محسوس کرتا ہے  حیا ایشم کی شخصیت ان کی تحریروں کی عکاس ہے ایسا شاید اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے زندگی کے ہر فیز کو اس قدر گہرائی اور سنجیدگی کے ساتھ سمجھا و محسوس کیا ہے کہ جو کچھ انھوں نے سیکھا وہ ان کی ذات کا اٹوٹ حصہ بن کے رہ گیا جب الفاظ میں احساس کی آمیزش ہو تو اس کی تاثیر سوا ہو جاتی ہے۔ نفسیات ان کا موضوع ہونے کی وجہ سے انھیں انسانی نفسیات کے زیرو بم پر گہری گرفت حاصل ہے نفسیاتی علم کو روحانی علوم سے قریب تر سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب علم نفسیات کو باقاعدہ ایک علم  قرار دیا گیا تو اس کو سب سے پہلے soul of science کا نام دیا گیا تھا چوں کہ روح کے بارے وضع کردہ علوم اب بھی اس کی اصل ماہیت بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں تو بعد میں psychology کے نام سے جہانِ علم میں اسے متعارف کروایا گیا  جب ایک لکھاری انسانی نفسیات اور روح کی اصل اور اس کے تقاضوں کی روشنی میں قلم اٹھاتا ہے تو اس کے لفظوں کے احساسات کے ترجمان بننے پر شک کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا انسان کی اندرونی شخصیت نفس اور روح کا مرکب ہے اس کو نظر انداز کرنے کی صورت میں انسانی ذات پیچیدگی کی آماجگاہ بن کے رہ جاتی ہے اور ایسی صورت میں ایک انسان کس طرح کے کرب سے گذرتا ہے اس کی بہترین تصویر کشی اس کتاب میں کی گئی ہے اور اس کے سد باب کے لیے بہترین لائحہ عمل بھی بیان کیا گیا ہے جیسا کہ وہ ایک جگہ لکھتی ہیں
‘ ارے نادان! انسان کی اصل  سکت تو اللہ ہے یہ تو نفس ہے جو بےبسی سے گذرتا ہے جب انسان اللہ کو فراموش کئے اپنی خواہش کو خدا بنا لیتا ہے تو اللہ کی اپنے بندے کے لیے محبت کو یہ کیسے برداشت ہو سکتا ہے کہ بندہ اپنی فلاح کا ایسے دشمن ہو جائے بس یہیں سے ہماری آنکھیں کھلنے کا لمحہ ان اترتا ہے خواہش تو محبت میں ضم کرتی ہے یہ اللہ کی محبت میں سانس لیتی ہے۔ پھر اللہ ہمیں بتاتا ہے کہ کیسے تمھاری چاہت تمھاری ہی تکلیف اور تمھاری ہی تھکن کا سبب  بن گئ پھر اللہ دکھاتا ہے کہ وہ کتنی محبت سے ہمیشہ سے تمھارا اور تمھاری چاہت کا منتظر ہے۔

اس اقتباس میں انھوں نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ بندے اور رب کے درمیان اصل تعلق کو بیان کیا ہے اور یہ بھی کہ بندہ اپنی نفس کی خواہشوں میں کتنا ہی کیوں نہ بہک جائے لیکن اس کا رب اس سے متنفر ہونے کے بجائے ہمیشہ اس کی واپسی کا منتظر ہوتا ہے۔

ان کی کتاب میں احساسات کو اس قدر تسلسل کے ساتھ  بیان کیا گیا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ سب ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا سکتا قاری کو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ درحقیقت اس کے احساسات کی عکاسی کی جا رہی بےشک ایسا ہی کچھ میرے بھی ساتھ ہوا تھا یقینا اللہ نے  اس کتاب کو میرے لیے آسانی کا ذریعہ بنایا ہے یوں وہ ہمہ تن متوجہ ہو کر اسے پڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔

حیا ایشم کی تحریروں میں ایک منفرد طرز و اسلوب نظر آتا ہے جس میں  سادگی اور بےتکلفی کا رنگ  نظر آتا ہے عام خیال و ایقان  سے ہٹ کے انھوں نے اس میں اللہ کی ذات کے ایک ایسے پہلو کی منظر کشی کی ہے جو لوگوں کی نظروں میں تو تھا لیکن شعوری یافت سے پرے تھا اس سے انھوں نے بڑے خلوص کے ساتھ اپنے قاری کو روشناس کروایا ہے ، اللہ محبت ہے، اللہ حقیقت ہے، اور حقیقت ایک تلاش ہے جو ازل سے ہم میں رکھ دی گئی ہے اس تلاش کا راستہ سرابوں سے گذر کر محبتوں سے طئے ہوتا ہے ہم جب اپنی ہی نفس و انا کی خواہش کی گرد میں اٹ جاتے ہیں تو اللہ سے کیا ہم خود سے بھی غافل ہو جاتے ہیں اور حقیقت تو یہی ہے کہ جس نے ان حجابات سے پرے اپنے نفس کو پہچانا اس نے گویا خالق نفس کو پہچان لیا۔

اس اقتباس میں انھوں نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اللہ سے بس ہمہ وقت ڈرتے ہی رہو کیوں کہ وہ ایک قاہر و جابر کی طرح ہم پہ نظریں جمائے ہوئے ہے جیسا کہ ہمارے یہاں ٹین ایجر بچوں کو ڈرانے کے لیے ان کے سامنے ایسی ہی کچھ منظر کشی کی جاتی ہے اس کے برعکس انھوں نے یہ کہا کہ اللہ تو سراپا محبت ہے اور وہ ہم سے بدرجہا محبت کرتا ہے اور جب محبت میں دل  خودسپردگی سے گذرتا ہے تو پھر اس پر بےجا خوف کا غلبہ نہیں رہتا کیوں کہ محبت ہمہ وقت اپنے محبوب کی خوشی کا خواہاں ہوتی ہے اور اس کی ناراضگی کے احساس سے ہی لرزاں ہوتا ہے۔

آج کی اس بھاگتی دوڑتی اور سسکتی دنیا میں جب لوگ اپنے مسائل کے حل کیلیے ظاہری دنیا میں زور آزمائی کررہے ہیں انھوں نے انھیں باطن کی دنیا سے متعارف کروایا اور یہ سمجھایا کہ کہ ان کا طبیب کہیں اور نہیں ان کے اپنے اندر ہے درد ان کا باہر کی مشکلوں سے نہیں بلکہ اندرونی خلفشار سے پنپ رہا ہے اس لیے سکون قلب کے لیے ضروری ہے کہ خود کے ساتھ اپنے تعلق کو بہتر بنایا جائے جیسا کہ اوپر کے اقتباس میں حیا ایشم نے لکھا ہے کہ جب ہم خود سے غافل ہوتے ہیں تو اپنی اصل یعنی اللہ سے بھی غافل ہو جاتے ہیں اس لیے اللہ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے خود کی نظروں میں خود کی پہچان ہونا ضروری ہے۔

ہماری زندگی کا المیہ یہ ہے کہ ہم ساری زندگی لوگوں کی بےجا خوشنودی میں گزار دیتے ہیں اس کوشش و ریاضت کے باوجود لوگ ان سے خوش ہوتے دکھائی نہیں دیتے کبھی سوچا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ لوگ کبھی بھی آپ کی ذات اور اللہ سے قائم کئے جانے والے تعلق کا بدل نہیں بن سکتے جب ہم لوگوں کو الہ بنا لیتے ہیں تو اللہ کی نظر رحمت اور سکینت سے ہم محروم کردئے جاتے ہیں شرک شرک ہی ہوتا ہے خواہ لفظوں کی صورت میں عیاں ہو یا احساس میں جا بسے ہم کس طرح اس گمراہی کا شکار ہو جاتے ہیں اس کتاب میں حیا ایشم نے اس کو بیان کرنے کی حتی المقدور کوشش کی ہے شاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں اس کی بہترین عکاسی کی ہے

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

ان کی تحریروں میں اکثر جگہوں پہ  زود اثریت کا گمان ہوتا ہے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ایک جذب کے عالم میں لکھا گیا ہےجسمیں اس کا لکھنے والا اس کا وجدان اور پڑھنے والی خود اس کی اپنی ذات ہوتی ہےجیسے لکھنے والے نے لکھا نہیں بلکہ اپنے اندرکی آوازوں کو سر دے کے اسے خود سن رہا ہے جیسا کہ صوفی ازم میں بھی نظر آتا ہے جسے کہ سیر باطن بھی کہا جاتا ہے اس میں لکھاری اپنے وجدان کے سامنے سربکف ہو کر اپنے احساس پر حقائق کو الہام ہوتے محسوس کرتا ہے۔

انسان کی حقیقی دنیا انسان کے اپنے اندر رکھ دی گئی ہے لیکن اس دنیا کی دریافت کیلیے بعض اوقات ہمیں رہنما اور رہبر کی ضرورت ہوتی ہے اللہ نے قرآن کی صورت اس کمی کی تکمیل کی مکمل کوشش کر دی ہے اس کے ساتھ ساتھ اللہ اپنے بعض بندوں کو جن کر  اس کے ذریعے انسانیت کی فلاح کے لیے مزید راہ ہموار کرتا رہتا ہے   یہ کتاب ایک ایسی ہی کتاب ہے جو آپ کو نشان منزل فراہم کرتی ہے راستے کی دشواریوں میں اور مشکلات سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ و استقامت عطا کرتی ہے۔

اللہ محبت ہے یہ لفظ پڑھ کے اللہ سے جڑا انسان تو مسکرا کے اس کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے ایمان کی تجدید کرتا ہے لیکن ایک ایسا انسان جو خدائی تعلق کو رسموں تک رکھتا ہے جب پڑھتا ہےتو سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہے آیا کہیں یہ وہی آواز تو نہیں جس کی طلب میں میں یہاں وہاں محو سفر ہوں وہ رکتا ہے کیونکہ خدا کی محبت بیج کی شکل میں ہر انسان کے اندر موجود ہوتی ہے پھراس بیج میں گداز کی سی کیفیفیت پیدا ہونے لگتی ہے جیسا کہ حیا ایشم اسی کتاب میں ایک جگہ لکھتی ہیں؟:

’’اللہ محبت ہے ہماری ارواح نے اللہ کی محبت کا ذائقہ چکھ رکھا ہے اب ہماری ارواح محبت کی سکون کی اسی شیرینی کی خواہاں ہیں جو اس باقی کی فانی دنیا میں ہمیں اپنی تلاش میں کبھی کسی پردے تو کبھی پردے میں بھٹکائے پھرتی ہے اللہ پاک تو ہم سے ہمارے نفس کے پردے میں ہیں اور ہم انا کے حجابات کی  وجہ سے اپنی اور اپنے نفس کی حقیقت اللہ کی حقیقت اور اس کی محبت سے دور نتیجتاً اذیت و بےسکونی کا شکار ہیں۔ ‘‘

ایک قاری جب انکے الفاظ ان کے جیسے لکھنے والوں کے الفاظ سے اپنے زخموں کو دھوتا ہے اللہ توفیق بخشتا ہے تو صحتمند ہو کے اسی کا ہوکے رہ جاتا ہے کیونکہ سچی مسیحائی اس کائنات کے اعظم و اصدق مسیحا یعنی خدا کے ہی پاس ہےبعض اوقات اللہ آزمائش کے طور پہ اس کی رضا چاہتا ہے تو انسان جو سدا سے تزئین کا شیدا ہے دنیا کی رعنائیوں کی طرف پلٹ جاتا ہے اور کچھ ان دونوں راستوں کے درمیان اپنا سفر جاری رکھتے ہیں انھیں ضرورت ہیکہ وہ خود سے سچے ہوجائیں خود سے سچا کیسے ہوا جائے اسے جاننے میں یہ کتاب اپ کی بہترین معاون ثابت ہوگی بس آپ کی سچی نیت شرط اول ہے
میرا خیال واثق ہے کہ یہ کتاب وقت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ انھوں نے بس ایک جملے پہ اپنے ہر الفاظ کا انتخاب کیا ہے وہ یہ کہ ” اللہ محبت ہے "بےشک اللہ محبت ہے محبت کا وہ چراغ ہے جس کے گرد ہمیں پروانہ بن کے نثار ہونا ہے ہم نے تاریکیوں سے نکل کے اس شمع کو دریافت کرنا ہے۔ تو پھر آئیے اس کوشش کے ساتھ ایک نئے سفرکا آغاز کرتے ہیں اللہ ہی بہترین ہادی و رہنما ہے۔

اس پیکر ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جائے جو آواز تو دیکھو

اس کتاب کے نفس مضمون کو پڑھ کر ذہن میں احساسات و الفاظ کا ایک سیلاب امنڈ آیا جسے میں نے ایک نظم کی صورت مرتب کیا جو کچھ اس طرح ہے

یقیں ہے اور گماں کہ اللہ محبت ہے
ہے سچ یہ دل میں نہاں کہ اللہ محبت ہے
۔
وہ تھام لیتا ہے گرنے سے پہلے ہی ہم کو
ہے ہر ادا سے عیاں کہ اللہ محبت ہے
۔
جبال و شمس و قمر سب اسی کے ہیں پابند
ہے ان کا قول و بیاں کہ اللہ محبت ہے
۔
زمیں مدار محبت میں محو گردش ہے
گواہ نظمِ جہاں کہ اللہ محبت ہے
۔
وہ جن کے دل میں احساس اس کا رقصاں ہے
وہ لب ہیں نغمہ کناں کہ اللہ محبت ہے 
۔
قرار ملتا ہے اس سے ہی قلب مضطر کو
ہے یہ ہی اسم اماں کہ اللہ محبت ہے
۔
ہماری مدح و ثنا سے بلند تر ہے وہ
ہے شش جہت میں اذاں کہ اللہ محبت ہے

علیزےنجف!

آخر میں سچے دل سے یہی دعا ہے اللہ اس کتاب کو لوگوں کے لیے اس طرح آسانی کا ذریعہ بنائے کہ وہ اللہ اور اس کی کتاب قرآن کی حقیقت کو سمجھنے کی شعوری کوشش کریں اور حیات اور مابعد حیات کی سچائی کی تلاش اپنے اندر ہمیشہ جاری رکھیں، اللہم امین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا