بصیرت تنقید: ایک جائزہ  

شاداب اظہر

(ریسرچ اسکالر دہلی یونیورسٹی دہلی)

          ذبیح اللہ ذبیح ان نوجوان قلم کاروں میں سے ہیں، جنہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز’’ بصیرت تنقید‘‘ (مضامین کا مجموعہ) لکھ کر کیا۔ ذبیح اللہ ذبیح کے لکھنے کا سفر ابھی کوئی بہت طویل نہیں ہے لیکن مسلسل لکھتے چلے آر ہیں ہیں۔ ان کی تحریر یں مختلف اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہیں ہیں۔ علاوہ ازیں وہ افسانے بھی خوب لکھتے ہیں انکے کئی افسانے منظر عام پر آچکے ہیں۔

          جس طریقے سے ایک مصور کئی رنگوں کی مدد سے خالی کینوس پر ایک خوبصورت تصویر بنادیتا ہے ٹھیک اسی طرح ذبیح اللہ ذبیح نے مختلف موضوعات پر قلم بند کئے اور مضامین کی شکل میں ’’ بصیرت تنقید‘‘ سنہ اشاعت 2021 ء میں منظر عام پر آئی اور ادبی حلقوں میں قبول عام کی سند پائی۔ ذبیح اللہ ذبیح کا مطالعہ وسیع ہے۔ ان کی نظر نظم و نثر کے علاوہ ہندوستان میں پیدا ہونے والے مسائل پر بھی رہتی ہے۔ ان کے اندر ایک اور گوشہ چھپا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ وہ ترجمہ نگاری کے فن سے بھی واقف ہیں۔

          سر ورق پر کتاب کا نام اور مصنف کا نام اگلے پچھلے دونوں فلیپ پر دائیں جانب ڈاکٹر تصنیف عزیز اور بائیں جانب تنویر عالم کے تاثرات مرتب ہیں۔ کتاب کے بیک سائڈ پر مصنف کی تصویر اور حالات زندگی کے اشارات مرتب ہیں۔

          زیر تبصرہ ’’بصیرت تنقید‘‘ میں کل چودہ مضامین، رضا لائبریری کی علمی وادبی خدمات، مباحث نظریاتی ترجمہ، سرسید بحیثیت وطن پرست، انتظار حسین کے افسانوں میں مختلف اساطیر، حفیظ نعمانی بجھے دیوں کی قطار کے آئینے میں، مشرف عالم ذوقی ایک بے باک افسانہ نگار، ناول چمراسر کا تجزیاتی مطالعہ، فقط بیان تک کا تجزیاتی وتنقیدی مطالعہ، ڈاکٹر نعیم انیس اور یادوں کے جگنو، صادقہ نواب سحر اور باوجود کی غزلیں، سیمنتنی اپدیش کا تفصیلی جائزہ، علیم اسماعیل رنجش کے آئینے میں، صفورازرگر ایک انقلابی خاتون، دنیا کی بے ثباتی اور عرفان خان وغیرہ مضامین شامل ہیں۔ جو مختلف موضوعات پر لکھے ہوئے ہیں۔ جس کا پیش لفظ خود مصنف نے تحریر کیا ہے۔ ’ رضا لائبریری کے علمی و ادبی خدمات‘ کے حوالے سے  ایک محققانہ  مضمون شامل کتاب ہے۔ جس میں لائبریری کی تاریخی احوال کا بیان ملتا ہے۔ جس کی بنیاد نواب فیض اللہ خان نے 1774ء میں رکھی۔ اس لائبریری میں مختلف زبانوں پر کتابیں موجود ہیں۔ اس لائبریری کی عظمت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جس کی برتری کا اعتراف علامہ شبلی جیسا تاریخ نویس ان الفاظ میں کرتا ہے۔

  ’’میں نے روم مصر کے کتب خانے بھی دیکھیں ہیں۔ لیکن کسی کتب خانہ کو مجموعی حیثیت سے میں نے اس سے افضل ترین نہیں دیکھا‘‘

           رام پور کی رضا لائبریری اس وجہ سے بھی اپنا امتیاز رکھتی ہے جس کے صحن میں آئے دن ادبی پروگرام یا انعامی نششت قائم کی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کا دائرہ وسیع تر وسیع ہوتا جارہا ہے۔

           ’’بصیرت تنقید‘‘ اس لیے بھی منفرد ہے کہ اس میں ادیبوں پر چاہے وہ نثر کے میدان کے روح رواں ہوں یا اساطیری افسانوں کے بے تاج بادشاہ یا شاعری کی دنیا میں نام پیدا کرنے والی خواتین، یا پھر صحافت کے میدان میں اپنی چھاپ چھوڑنے والا انسان، یا پھر تحریوں سے اپنی منفرد راہ نکالنے والا بیباک افسانہ نگار یا انقلاب کی رو سے پہچانی جانے والی خاتون، یا پھر معبود حقیقی کے طرف لوٹنے والا انسان سبھی  پر مضامین شامل ہیں۔

          سر سید کی شخصیت سے کون ناواقف ہے شامل کتاب مضمون’ سرسید بحیثیت وطن پرست‘ کے اہم نکات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے نیز سرسید کو وطن پرست کے طور پردکھایا گیا ہے۔ سر سید نے’ تہذیب الاخلاق‘ کا اجراء اسی مناسبت سے کیا کہ عزیزان وطن کی ذہنی نشو ونما اور اصلاح کی جاسکے تاکہ وہ مغربی تہذیب کواور اس کی تعلیم کو سمجھ سکے اور پڑھ سکیں۔ سرسیدکے خوابوں کی تعبیر آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے روپ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جس میں کیا غیر، کون اپنا کی تفریق بھلا کر ایک ساتھ حصول علم میں مشغول رہتے ہیں۔

          کتاب میں شامل سبھی مضمون سے میں نے کسب فیض کیا مگر جس مضمون نے میری آنکھوں کو خیرہ کردیا وہ ’انتظار حسین کے افسانوں میں مختلف اساطیر‘ ہے۔ یہ مضمون اپنے آپ میں ایک پوری کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ذبیح اللہ ذبیح کا یہ بڑا کارنامہ ہے کہ انہوں نے انتظار حسین کے افسانوں کو دلچسپی سے نہ  صرف پڑھا بلکہ انہیں سمجھا بھی۔ جہاں انتظار حسین کے افسانوں میں ہجرت کا ذکر ہے تو وہیں اسلامی اساطیر، ہندو دیومالائی عناصر، روم ویونان کے متھ، رسم و رواج اور توہمات وغیرہ کا بھی نقش ان کی تحریر میں دیکھنے پڑھنے کو ملتا ہے۔ بلاشبہ ذبیح اللہ ذبیح کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے  ان ادیبوں پر قلم اٹھایا ہے جو ادبی حلقوں میں  افسانہ نگار ی یاناول نگاری سے، یا کسی غیر افسانوی نثر، یا شاعری کے میدان سے تعلق رکھتے ہیں۔ نئے لکھنے پڑھنے والوں کویہ کتاب بہت فائدہ پہنچائے گی اور ان کے ذہن کے دریچوں کو وسیع کرے گی۔ سبھی مضمون کو پڑھ کر قاری کے ذہن اور روح پر ایک طرح کی نشاط کا احساس ہوتا ہے۔ مصنف کے انداز تحریر میں جو سجل پن، شفافیت اور کھرا پن ہے وہ داد حاصل کئے بغیر نہیں رہتا۔

                   ’’بصیرت تنقید‘‘ بہت خوبصورت اندازسے چھاپی اور بنائی گئی ہے۔ ’’  بصیرت تنقید‘‘ ہمارے عہد کے اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ ذبیح اللہ ذبیح کا ادبی سفر ابھی گزرا نہیں۔ اب آنے والا ہے۔ ذبیح اللہ ذبیح اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ اپنے علم کو عمل سے بدل رہے ہیں۔

٭…………٭

تبصرے بند ہیں۔