بندۂ مومن

کہتے ہیں فرشتے کہ دل آویز ہے مومن

ایس ایم حسینی

نام کتاب:بندۂ مومن

مرتب: محمد اویس سنبھلی

ناشر:نعمانی کیئر فاؤنڈیشن 

قیمت: تین سو روپئے 300

صفحات:دو سو اڑتالیس 248 

سن اشاعت:2022ء

مطبع: نعمانی پرنٹنگ پریس

ملنے کا پتہ: الفرقان بکڈپو، امین آباد، لکھنؤ۔

          علمی وابستگی اور ادب نوازی اویس سنبھلی صاحب کا خاندانی ورثہ ہے، جس کو ان کے ذوق وشوق نے جلا بخشی اور ایک نیا رنگ، ڈھنگ عطا کیا، آپ کا تعلق سنبھل کے ایسے علمی اور عملی خانوادہ سے ہے جس نے بڑے بڑے علماء، بزرگان دین بھی امت کو دئیے اور ادباء بھی عطا کئے، جن کے کارہائے نمایاں روز روشن کی طرح عیاں ہیں، جس میں حضرت مولانا منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ، عظیم دانشور، سپاہ صحافت حفیظ نعمانی رحمہ اللہ کا نام جلی حروف میں کنندہ ہے، حفیظ نعمانی (مرحوم) کے زیر تربیت آپ نے برسوں گزارے اور ان کے علمی ورثے کے امین قرار پائے، بلکہ لکھنؤ میں مسلسل قیام کے باوجود آپ نے اپنی تحریروں اور مضامین سے سنبھل کو بھی زندہ رکھا، وقتا فوقتا وہاں کی اہم شخصیات پر علمی کام انجام دیتے رہے اور حضرت داغ دہلوی کے شاگرد "باغ سنبھلی کی شعری کائنات” کے نام سے کتاب ترتیب دے کر مشہور ادیب وناقد شمس الرحمن فاروقی سے بھی داد وصول کی، زیر نظر کتاب "بندۂ مومن” بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، اویس سنبھلی صاحب اب تک سات سے زائد کتابیں ترتیب دے چکے ہیں جس میں "اعتراف سعادت، بجھے دیوں کے قطار، ذکر وفا، پوپ کہانیاں، باغ سنبھلی کی شعری کائنات، نذر شارب، قلم کا سپاہی، افسانوی ادب اور حیات اللہ انصاری اور حفیظ نعمانی ایک عہد ایک تاریخ” شامل ہیں، اس کے علاوہ آپ نے بہتیرے ادبی، تنقیدی، تجزیاتی، سیاسی وسماجی مضامین تحریر کئے ہیں، جو آپ کے انتہائی متحرک اور سرگرم عمل ہونے کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔

         زیر نظر کتاب "بندہء مومن” خانوادہ نعمانی اور شہر سنبھل کی ہردلعزیز شخصیت، داعی ومصلح حضرت مولانا عبدالمومن ندوی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات وخدمات اور ان کی اصلاحی ودعوتی زندگی کے تذکرے کے ساتھ متعلقین کے تاثرات پر مشتمل مضامین کا مجموعہ ہے، جسے اویس سنبھلی صاحب نے تین ابواب میں منقسم کیا ہے، اس سے پہلے استاذ گرامی قدر حضرت مولانا محمد زکریا سنبھلی دامت برکاتہم کا پیش لفظ شامل ہے جس میں مولانا عبدالمومن ندوی سے اپنے تعلق وربط کا ذکر کرتے ہوئے ان کی عادت واطوار کا ہلکا سا نقشہ بھی کھینچا ہے، رقم طرزا ہیں:

"مرحوم کم عمری سے ہی گہرا دینی ذوق رکھتے تھے، پھر وہ حضرت مولانا پیر ذوالفقار صاحب سے بیعت ہوئے، اور کچھ عرصہ بعد خلافت سے شیخ نے نواز دیا تھا، یہ بیعت کا واقعہ میرے علم میں عرصہ بعد میں آیا، ان کے بیعت ہونے کے دنوں میں ہی میں نے خواب دیکھا تھا کہ ان کے والد اور میرے بے حد مشفق چچا صاحب حرم مکی میں ایک جگہ پھولوں کی کیاری بناکر اس میں پھولوں کے پودے لگارہے ہیں، میں نے کسی وقت برادر عزیز عبدالمومن رحمۃ اللہ علیہ سے یہ خواب ذکر کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے شیخ مدظلہ نے انہیں اسی جگہ بیعت فرمایا تھا…………….آگے لکھتے ہیں: شیخ سے بیعت ہونے کے بعد ان کے بتلائے ہوئے اوراد ووظائف کی پابندی بہت اہتمام سے کرتے، رات کو تہجد کے لیے اول وقت اٹھ جاتے، طویل سے طویل نماز پڑھتے، بہت لمبی دعا مانگتے، کسی مشکل پڑنے پر بڑے اعتماد سے کہتے "ہم اپنے اللہ سے مانگ لیں گے، اپنے رب سے کروالیں گے۔”

          حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی حفظہ اللہ کے کلمات تبریک کے بعد عرض مرتب میں اویس سنبھلی مولانا رحمۃ اللہ کے بارے میں لکھتے ہیں:

  "مولانا کو جن لوگوں نے نہیں دیکھا ان کے لیے بس اتنا بتادیں کہ کھلا ہوا رنگ، نورانی چہرہ، شگفتہ پیشانی، بڑی بڑی روشن آنکھیں، جواں عزم، بیدار دماغ، روشن خیال، عالی فکر، بحیثیت انسان متواضع، خلیق، منکسر المزاج، خورد نواز، نہ نحیف نہ نزار اور نہ لحیم شحیم بلکہ متوسط قد وقامت، سفید لباس میں ملبوس، المختصر اس دور ریا کاری میں بے ریا انسان، اس سراپا کو اگر ایک ساتھ جمع کرنے میں آپ کامیاب ہوگئے تو یقین جانئے آپ کی ملاقات خود بخود خانواده نعمانی کے قابل فخر چشم وچراغ، باشعور عالم دین، شہشناہ خطابت، حضرت مولانا عبدالمومن ندوی نقشبندی رحمہ اللہ سے ہوجائے گی۔”

          کتاب کی ابتداء میں تین تعزیتی مراسلات بھی درج ہیں اور پہلا باب "مولانا عبدالمومن ندوی: اپنے گھر والوں کی نظر میں” کے عنوان سے ہے، جس میں گیارہ مضامین شامل ہیں، جو ان کے بھائیوں، بیٹی، بھتیجوں اور بھانجوں کی ان سے عقیدت واحترام کے غماز ہیں، جس میں مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی، مفتی اسعد قاسمی سنبھلی، مولانا یحیی نعمانی، استاذ محترم مولانا الیاس نعمانی، محمد اویس سنبھلی، مرضیہ رحمن نعمانی اور ثمامہ حسیب کی تحریر قابل ذکر ہے، مولانا عبدالمومن ندوی رحمہ اللہ کے خاندانی پس منظر سے متعلق مولانا یحیی نعمانی کی تحریر سے یہ اقتباس ملاحظہ کریں:

 "مولانا نے جس گھر میں آنکھیں کھولیں وہ علم وعبادت سے آباد تھا، ان کے دادا صوفی احمد حسین مرحوم ایک بلند مقام ولی، زاہد، کثیر العبادت اور بڑی بابرکت شخصیت تھے، قادری سلسلے کے بعض مشائخ سے متعلق تھے، زہد وعبادت میں ان کا حال بہت بلند تھااحوال ومواجید سے حصہ پایا تھا، اللہ نے تجارت اور زمین داری سے نوازا تھا، لیکن زہد وتقشف کا حال یہ تھا کہ نہایت سادہ صوفیوں کا لباس اور طرز معاش تھا، جس نے صوفی ان کے نام کا جز بنادیا تھا۔”

          خاندان کے دینی حال سے متعلق ان کی بے چینی اور اگلی نسل کے دین وایمان کی فکر کے بارے میں مولانا الیاس نعمانی کی تحریر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں، آپ لکھتے ہیں:

 "مولانا مرحوم کو شدت سے احساس تھا کہ پچھلی نسلوں میں جو دینی بہار تھی وہ اب قائم نہیں رہی، بارہا ان کی زبان سے یہ الفاظ سنے گئے خاندان کدھر جارہا ہے؟ سوچو تو سہی کدھر جارہا ہے؟………………اسی فکر کا اثر تھا کہ اپنے قریبی اعزہ کے حال پر تو وہ بہت گہری نگاہ رکھتے، بچے اور بچیاں کیسے کپڑے پہن رہے ہیں، ان کے بال کیسے ہیں، ان کا طرز فکر کیا قرار پارہا ہے، دینی مزاج بن رہا ہے یا نہیں، ان امور پر ان کی نگاہ رہتی اور بہت گہری رہتی، کچھ نا مناسب بات محسوس کرتے تو محبت سے سمجھاتے اور ضرورت ہوتی تو اپنے مخصوص انداز میں کبھی ہلکی اور کبھی شدید تنبیہ فرماتے۔”

         مولانا عبدالمومن ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات طیبہ کے اکثر پہلو مجموعہ میں شامل مضامین میں ایک حد تک سمو دئیے گئے ہیں، کتاب کے مطالعہ سے آپ کی علمی اور عملی زندگی سے بڑی حد تک واقفیت ہوجاتی ہے، بدعات اور سماج میں پھیلی ہوئی مشرکانہ رسوم کے خلاف شہر سنبھل اور اطراف میں مولانا نے اپنی حکمت عملی اور بیانات وخطابات سے جو کام انجام دیا وہ قابل رشک بھی ہے اور قابل تقلید بھی ہے۔

         دوسرا باب "نقش ہائے رنگ رنگ” ہے، جس میں مضامین کی تعداد سولہ ہے، جس میں مولانا سلمان منصور پوری، مفتی محمد توحید قاسمی، ڈاکٹر راحت مظاہری، مفتی خالد ابراہیم برطانیہ، سید احمد انیس ندوی، مولانا محمد تنظیم قاسمی اور عبدالمالک بلند شہری کا نام قابل ذکر ہے، ان تحریروں میں مولانا کے خاندان، ابتدائی حالات، ادارہ کی ذمہ داری، اخلاق وعادات، علم، دعوت وسلوک کا تفصیلی ذکر آگیا ہے، برادر مکرم سید احمد انیس حسینی کے مضمون "ایک عالم ربانی کی وفات” سے یہ اقتباس پیش خدمت ہے:

"مولانا عبدالمومن نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ دعوت وتبلیغ کی محنت کے ایک پرجوش داعی ومبلغ، تصوف وسلوک کے طریق میں ایک صاحب نسبت پیر ومرشد اور ساتھ ہی ایک مقبول خطیب ومقرر سب کچھ تھے، مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے سنبھل واطراف کے ماحول پر ایسا غیر معمولی اثر ڈالا جس کے گواہ ان کے تمام متعلقین، یہاں تک کہ ان کے اساتذہ بھی ہیں، اور باشندگان سنبھل تو سب سے زیادہ ہیں، مولانا مرحوم نے وہاں کے چھوٹوں اور بڑوں میں بالخصوص نوجوانوں کے دلوں میں عشق الہی کی ایسی چنگاری جلائی کہ اس کا محض تذکرہ بھی طبیعت میں ایک روحانی نشاط پیدا کردیتا ہے۔”

         تیسرا باب "شاگردوں کا نذرانہ” میں چودہ مضامین ہیں، جو زیادہ تر تاثراتی قسم کے ہیں، جن میں مولانا کا انداز درس وتدریس، طلباء سے تعلق، ان کی ضروریات کا خیال، شاگردوں کی تربیت کا خیال اور طریق کار کا تفصیلی بیان ہے، اس سلسلہ میں مولانا کفیل احمد ندوی کا مضمون جامع ہے اور معلوماتی بھی ہے، جس میں مولانا مرحوم کی زندگی کے کئی رنگ دیکھنے اور پڑھنے کو ملتے ہیں، مولانا عبدالمومن ندوی رحمہ اللہ کے اوصاف وکمالات پر مشتمل یہ مجموعہ ایک خوبصورت گلدستہ ہے جس میں رنگہا رنگ کے پھول بکھرے ہوئے ہیں اور خوشبو ہی خوشبو ہے، اویس سنبھلی صاحب نے اپنی کوشش ومحنت سے تمام مضامین کو جمع کرکے مولانا مرحوم کو بندہ مومن کی صورت میں ایک قابل قدر خراج عقیدت پیش کیا ہے جو ان کی بے ریا زندگی کا حسن اعتراف بھی ہے، علاوہ ازیں عقیدت مندوں اور چاہنے والوں کے لیے ایک بیش بہا تحفہ ہے، جس کے لیے اویس سنبھلی صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں اور دعا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ بندہء مومن کو قبولیت سے نوازے اور مقبول عام وخاص فرمائے، آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا