بوتل کا جن (الکیمسٹ)

ایس ایم حسینی

 (ندوہ کیمپس، ڈالی گنج، لکھنؤ)

       الکیمسٹ! ایک ایسی کتاب جس نے کتب بازار میں انسان کو بھونچکا کردینے والے نئے ریکارڈ قائم کئے، جسے زندگیاں بدلنے والی اور امید و خواب کی کتاب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، سان فرانسسکو کورونیکل نے جسے "ایک چھوٹی مگر جادوئی کتاب” کہا ہے، اور میرے نزدیک اسے "بوتل کا جن” کہنا بیجا نہ ہوگا، یہ جن اس وقت حرکت میں آتا ہے جب مقصد کی ڈور ہاتھ سے چھوٹنے والی ہو، اور تھکے ہوئے بکھرے بوجھل لمحے انسان کو دس مالے کی اونچی عمارت کے آخری چُھور پر کھڑا کردیں۔ اس وقت کتاب کا جن کیمیا گر کی صورت میں باہر نکل سامنے کھڑا ہوجاتا ہے، وقت کا بے رحم داؤ خالی جاتا ہے، اور پل بھر میں ایک بار پھر سے انسان کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں کہ "کبھی کبھی موت کا خوف انسان کو زندگی سے زیادہ قریب کردیتا ہے” کیونکہ ہر ایک چیز کی اپنی منزل ہوتی ہے اور ایک معمولی درجہ کے شخص کا وجود بھی اس دنیا میں بے مقصد نہیں۔

      پاؤلو کوئیلہو کے نوک قلم سے نکل کر آسمان کی بلندی چھونے والا برازیلی ادب کا یہ شاہکار ناول پہلی مرتبہ 1988 میں شائع ہوا جسے مصنف نے محض دو ہفتوں میں مکمل کیا تھا، اور 72 دیگر زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوکر پوری دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہوئے۔ ساتھ ہی اسے گینیز ورلڈ بک ریکارڈ میں پرتگیزی زبان کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ناول بھی تسلیم کیا گیا۔

       کتابوں کا شوق اور مطالعے سے دلچسپی بچپن سے ہی رہی ہے، کتاب مانگ کر بھی پڑھیں اور خرید کر بھی، کرائے پر لاکر بھی اور لائبریری سے نکال کر بھی، غرض جیسے جہاں سے کتاب ہاتھ لگی سمیٹتے رہے۔ کہتے ہیں "جسے مطالعہ کی عادت نہ ہو وہ صرف ایک زندگی گزارتا ہے اور جسے مطالعہ کی عادت ہو وہ ہزاروں زندگیاں جیتا ہے” بچپن سے اب تک بہت سی کتابیں پڑھیں اور بہت سی کتابوں نے زندگی کے تاروں کو چھیڑا۔ کتابیں کئی قسم کی ہوتی ہیں کچھ ایسی ہوتی ہیں جو محض ذہنی تفریح کا باعث ہوتی ہیں اور آپ کے ساتھ ایک رات بھی نہیں ٹِک پاتیں، لیکن کچھ کتابیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو آپ کے اندر آگہی اور شعور کی شمع روشن کردیتی ہیں، جن سے خوابوں اور خیالوں کا بوجھ لیے ایک ہی ڈھرّے پر چلنے والی بے مقصد زندگی کو ایک راہ مل جاتی ہے، جو آپ کی زندگی پر اہم اثرات مرتب کرنے کے ساتھ گُھپ اندھیرے میں شمعِ امید کا کام کرتی ہیں اور زندگی کے نئے مطلب سے روشناس کرا کر صبح و شام کو با معنی بنا دیتی ہیں۔ انہیں کتابوں میں سے ایک کتاب الکیمسٹ میرے لیے خاص اہمیت کی حامل ہے، جس کا اردو ترجمہ 2009 میں عمر الغزالی نے کیمیا گری کے نام سے کیا، یہ کتاب تقریبا تین سال قبل ایک ادب دوست کے توسط سے میرے ہاتھ لگی، اور جب اس کتاب کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو چشم زدن میں مسحور ہوئے بنا نہ رہ سکے، اور ایک افسوس کا سایہ گزرا کہ اب تک اس بے مثال کتاب سے محروم کیوں رہے؟ 145 صفحات کی یہ مختصر سی ناول دلچسپیوں سے پُر اپنے اندر بے پناہ گوہر لیے ہوئے ہے، جو قاری کو اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے اور بھٹکنے نہیں دیتی۔

 اس ناول کی خوبی اور مقبولیت کی وجہ اس کا مختصر، سادہ، شگفتہ، رواں اسلوب ہونا اور پر تصنع گنجلک عبارت، طویل خشک مکالمے اور ضخامت سے عاری ہونا ہے۔ یہ اسپین کے "سن تیاگو” نامی ایسے چرواہے کی کہانی ہے جو خواب دیکھتا ہے کہ اہرام مصر میں ایک مدفون خزانہ اس کا منتظر ہے، اور پھر خواب کی تعبیر کی تلاش میں سب کچھ تیاگ کر نکل کھڑا ہوتا ہے، جس کا زاد راہ مقصد کا تعین اور اس کے حصول کی لگن ہے، خود ناول نگار کہتا ہے کہ "بھیڑوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں، کہ چراگاہ نئی ہے یا بہار نے خزاں کی جگہ لے لی ہے، ان کے زندگی کا مقصد صرف اور صرف چارے پانی کا حصول ہے” یہی وہ صفت ہے جو انسانوں کو جانوروں سے ممتاز کرتی ہے، وہ اٹھارہ سالہ چرواہا بھیڑوں کو بیچ کر شمالی افریقہ پہنچتا ہے اور پھر صحراء سے گزر کر اہرام مصر جا پہنچتا ہے، راستے میں اسے تاجر کی ایک لڑکی ایک خانہ بدوش عورت، ایک بوڑھا جو خود کو بادشاہ کہتا ہے، ایک انگریز اور ایک کیمیا گر کے علاوہ فاطمہ نامی خوبصورت عورت ملتی ہے، خزانے کی تلاش کے ساتھ کیمیا گر کی دانشمندانہ باتیں انسان کو سوچنے اور سمجھنے پر مجبور کردیتی ہیں، کرداروں کے ذریعہ ادا کئے جانے والا پاؤلو کوئیلہو کا نقطہ نظر اہمیت کا حامل ہے، اس کے نزدیک خاموشی ایک آفاقی زبان ہے اور انسان کو ہمیشہ اپنے دل کی آواز پر کان لگائے رکھنا چاہیے، اور مشکلات سے پرے جدو جہد کا دامن چھوڑے بغیر ہر لمحہ اپنی منزل پر نظر ٹکائے رکھنی چاہیے، کیونکہ لگن ہی کامیابی کی یقینی شرط ہے، محنت سے جی چرانے والا دراصل خوابوں کی دنیا میں زندہ رہتا ہے اور تعبیر دور کھڑی مسکراتی رہتی ہے، وہ لڑکا خزانہ کی تلاش میں صحراء عبور کرتا ہے اور راستے میں آنے والی بہت سی مشکلات کا سامنا کرکے اہرام مصر پہنچتا ہے حالانکہ خزانہ وہیں اس انجیر کے درخت کے نیچے تھا جہاں سے اس چرواہے نے اپنا سفر شروع کیا تھا، کتاب کا اختتام وہم وگمان سے ہٹ کر ہوتا ہے، اور مصنف دبی زبان میں یہ سیکھ دیتا ہے کہ خزانہ بسا اوقات وہیں ہوتا ہے جہاں سے ہم نے منزل کا سفر شروع کیا لیکن قدرت کو یہی منظور ہوتا ہے کہ سفر طویل ہو اور ہم مصائب و آلام اور نت نئے تجربات سے گزر کر زندگی سے بہت کچھ سیکھ سکیں، کیونکہ نصیب کا لکھا انہیں کو ملتا ہے جو کوشش کے ساتھ منزل کے حصول میں اپنی جان کھپاتے ہیں اور یہ کہ "انسان اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اس کام کو سر انجام دے جس کا وہ خواب دیکھتا ہے” اور اگر بائی چانس ہم اپنے مقصد میں ناکام بھی ہوتے ہیں پھر بھی یہ ایک سرمایہ ہوتا ہے کیونکہ اس دوران ہم بہت کچھ سیکھ چکے ہوتے ہیں جو ہماری بقیہ زندگی کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

 ناول نگار لکھتا ہے کہ "اس کو احساس تھا کہ اپنی منزل کی تلاش کے دوران اس نے وہ سب کچھ سیکھا جس جو سیکھنے کی اسے تمنا تھی، اور ہر اس تجربے سے گزرا تھا جس کا کہ وہ خواب دیکھ سکتا تھا” القصہ یہ کتاب انسان کو مقصد کے تعین اور اس کے حصول کی لگن کے لیے ابھارنے کے ساتھ آگہی اور خود شناسی کے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے اور کیمیا گر کی زبان میں گویا ہوتی ہے کہ "جہاں تمہارا دل ہوگا، وہیں تمہارا خزانہ ہوگا” یہ حکمت اور دانائی میں بُجھی ہوئی ایک کتاب ہے جو خزاں رسیدہ موسم میں بہار کی سی حیثیت رکھتی ہے، اور تیز چمکتی ہوئی غرّاتی دھوپ میں ٹھنڈی ٹھنڈی سرسراتی ہوئی ہوا کا جھونکا، جو ہمیں سخت اور مشکل ترین حالات میں مایوسی سے دور رکھنے کا کام کرتی ہے، اور اداس شاموں میں چلنے والی اس ہوا کی مانند ہے جو طبیعت میں نشاط اور تازگی بھر دیتی ہے، جب میں چلتے چلتے تھک جاتا ہوں اور اعصاب ڈھیلے پڑنے لگتے ہیں تو میں اس کتاب کو اپنے سینہ پر رکھ کر ہوا، سورج، کیمیاگر اور چرواہے کے ساتھ خزانہ کی جستجو لیے اندلس کی گنجان آبادی سے نکل کر افریقہ کے صحراؤں میں ایک امید لیے چلتا رہتا ہوں، اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ منزل میرے قریب ہوتی جارہی ہے، زخموں سے رسنے والا لہو سوکھنے لگتا ہے، فرسودہ اور بوجھل لمحات میں یہ کتاب اکسیر کی صورت دھار لیتی ہے، سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے، ہر چیز بہتر ہوجاتی ہے، میں ایک چرواہا ہوتا ہوں جسے منزل کی جستجو ہے، جو خزانہ کی تلاش میں سرگرداں ہے اور یہ کتاب مقصد کے حصول کے لیے کیمیاگر ثابت ہوتی ہے، ساری گرہیں ایک ایک کرکے کھلنے لگتی ہیں اور تھکے ہوئے لمحوں میں زندگی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔