جہاد اور روح جہاد

مبصر:امتیازعبدالقادر

(ریسرچ اسکالر، شعبہ اردوکشمیر یونیورسٹی۔ سرینگر)

مصنف: مولانا محمد عنایت اللہ اسد سبحانی

صفحات: ۳۸۴

قیمت: ۳۰۰؍روپے

 اشاعت: ۲۰۱۷ء

ناشر: ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس، نئی دہلی۔ ۲۵۔

موبائیل نمبر: 09891051676

 ای میل: [email protected]

’’جہاداورروحِ جہاد‘‘ ہندوستان کے کہنہ مشق، زُودنویس اسلامی مفکرمولانامحمد عنایت اللہ اسدسبحانی کی تازہ تصنیف ہے، جوکہ مصنف نے پیرانہ سالی کے باوجودضبطِ تحریرمیں لائی ہے۔ یہ کتاب معاصردنیامیں اسلام، جہاد، دہشت گردی، بنیادپرستی کے حوالے سے داخلی وخارجی سازشوں کاپیرہن چاک کرنے اورحقیقی روحِ جہادکومبرہن کرنے کی سعیِ جمیلہ کی ہے۔ موصوف کا نام علمی دنیاکاجاناپہچانانام ہے۔ مصنف علمی وادبی ذوق، عمیق نظراورنکتہ سنجی کے مالک ہیں۔ موصوف نے چالیس سے زائدتحقیقی وتنقیدی کتابیں لکھی ہیں، جن میں آٹھ کتابیں عربی زبان میں ہیں۔

انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے، دنیا کے سارے مذاہب میں احترامِ نفس کا یہ اصول موجود ہے اورجس مذہب اورقانون میں اس دفعہ کو تسلیم نہیں کیاگیاہے، اس مذہب اور قانون کے تحت رہ کر کوئی انسان پْرامن زندگی نہیں گزارسکتا ہے اور اگر خالص انسانیت کی نظر سے دیکھا جائے، تو اس لحاظ سے بھی کسی ذاتی مفاد کی خاطر اپنے بھائی کو قتل کرنا، بدترین جرم ہے، جس کا ارتکاب کرکے انسان میں کوئی اخلاقی بلندی پیدا ہونا تو در کنار، اس کا درجہ انسانیت پر قائم رہنا بھی ناممکن ہے۔

دنیا کے سیاسی قوانین، تو انسانی احترام کو صرف سزا کے خوف سے قوت کے بل بوتے پر قائم کرتے ہیں، مگر ایک سچے دین ومذہب کا کام انسانی دلوں میں اس کی صحیح قدر وقیمت پیدا کردیتا ہے تاکہ جہاں انسانی تعزیر کا خوف نہ ہو، وہاں بھی ایک انسان دوسرے انسان کا خون کرنے سے پرہیز کرے۔ اس نقطئہ نظر سے احترامِ نفس کی جیسی صحیح اور موثر تعلیم اسلام میں دی گئی ہے، وہ دوسرے ادیان ومذاہب میں ناپید ہے۔ قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر مختلف انداز وپیرایہ سے اس تعلیم کو انسانی دلوں میں جاگزیں کیاگیا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’اور جس ذات کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل نہیں کرتے ہیں، ہاں مگر حق پر اور وہ زنا نہیں کرتے اور جو شخص ایسے کام کرے گا تو سزا سے اس کو سابقہ پڑے گا۔ ‘‘(الفرقان:۸۶)

اس تعلیم کے اولین مخاطب وہ لوگ تھے، جن کے نزدیک انسانی جان ومال کی کوئی قدر وقیمت نہ تھی اور جو اپنے ذاتی مفاد کے لیے اولاد جیسی عظیم نعمت کو بھی موت کے گھاٹ اتارنے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طبیعتوں کی اصلاح کے لیے خود بھی ہمیشہ احترامِ نفس کی تلقین کیاکرتے تھے۔ احادیثِ مبارکہ کا مطالعہ کرنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ اس قسم کے ارشادات وبیانات سے پُر ہے، جس کے اندر ناحق خون بہانے کو گناہِ عظیم اور بدترین جرم بتایا گیا ہے، جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’بڑے گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جان مارنا، والدین کی نا فرمانی کرنا اور جھوٹی قسمیں کھانا ہے۔ ‘‘  (مشکوٰۃ:۷۱، باب الکبائر وعلامات النفاق)

حرمت نفس کی یہ تقسیم کسی فلسفی یا معلم اخلاق کی نہ تھی کہ اس کا دائرئہ کار صرف کتابوں کی حد تک محدود رہتابلکہ وہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم تھی، جن کا ہر ہر لفظ مسلمانوں کے لیے ایمان ویقین کا درجہ رکھتا ہے، جن کی پیروی ہر اس شخص پر واجب اور ضروری ہوجاتی ہے، جو کلمہ توحید کا اقرار کرتا ہو۔ چنانچہ ایک چوتھائی صدی کے قلیل عرصہ میں ہی اس تعلیم کی بدولت عرب جیسی خونخوار قوم کے اندراحترامِ نفس اور امن پسندی کا ایسا مادہ پیداہوا کہ ایک عورت رات کی تاریکی میں تنِ تنہا قادسیہ سے صنعا تک سفر کرتی تھی اور کوئی اس کی جان ومال پر حملہ نہ کرتا تھا اور بہ حفاظت وہ اپنی منزل تک پہونچ جایا کرتی تھی حالانکہ یہ انھیں درندوں اور لٹیروں کا شہر اور ملک تھا، جہاں بڑے بڑے دل گردے والے بھی گزرتے ہوئے لرزجایا کرتے تھے، گویا کہ حیوانیت اور قساوتِ قلبی ان کے لیے عام بات تھی۔ ایسے سنگین حالات میں اسلام نے ببانگِ دہل یہ آواز بلند کی’’انسانی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے، اس کو ناحق قتل مت کرو مگر اس وقت جب کہ حق اس کے قتل کا مطالبہ کرے‘‘ (بنی اسرائیل)اس آواز میں ایک قوت وطاقت تھی۔ اس لیے دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہونچی اور اس نے انسانوں کو اپنی جان کی صحیح قدر وقیمت سے آگاہ کیا، خواہ کسی قوم وملت نے یا کسی ملک وشہر نے اسلام کو اختیار کیا ہو یا نہ کیاہو، اجتماعی تاریخ کا کوئی بھی انصاف پسند انسان اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا کے اخلاق وقوانین میں انسانی جان کی حرمت وکرامت قائم کرنے کا جو فخر ِ اسلام کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے ادیان ومذاہب کو حاصل نہیں۔

زمانہ ہذامیں مغرب کی بعض قومیں یہ عَلم لے کر اٹھیں ہیں کی وہ دنیامیں تہذیب وانسانیت کی ترقی، درماندہ قوموں کی اصلاح اورامن وامان کے قیام کی خاطرجنگ لڑرہی ہیں۔ مگرصورتِحال بالکل برعکس ہے۔ کمزورقوموں کی آزادی پرشب خون مارنا، انسانیت اورانسانی شرافت کی تمام خصوصیات کوتہہ وبالاکرنا، ان کااصل مقصدہے۔ شومیِٔ قسمت کہ عالمِ اسلام میں بھی اس وقت ایسے’مصلحین‘ میدان میں آگئے ہیں جن کی زبان پراصلاح کاوظیفہ ہے اورہاتھ میں فتنہ وفسادکی تلوار۔ بزعمِ خویش وہ اسلام کے غلبہ کے لیے سربکف ہیں لیکن ان کے حرکات سے اسلام بہت بدنام ہورہاہے۔ جودین امن وسلامتی کااوراخوت وہمدری کوقائم کرنے آیاہے اورخیروالقرون میں اس کی مثال قائم کرچکاہے۔ جس میں اتنی وسعت(Accomodation (ہے کہ رسالت مآبﷺ رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی کوبھی مسجدنبوی کی صفِ اول میں جگہ دیتے ہیں۔ امیرالمومنین حضرت علیؓ نے ایک باغی گروہ ’خوارج‘ کے بارے میں فرمایاتھا:’’اِخوانُنا بغواعلینا‘‘(بیہقی)۔ ’وہ ہمارے بھائی ہیں، جوہمارے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ‘جنھوں نے ناگزیرحالات میں، قیامِ حق کے لیے تلواراٹھائی اورپھربھی بے جاخون خرابے سے مجتنب رہے۔ جنھوں نے سروں کونہیں، دلوں کومسخرکیاہواتھا۔ ان کے نام پرجہادجیسی پاک اصطلاح کواس وقت نفس کے یہ غلام ذاتی ومادی مفادات کی خاطرعرب وعجم میں مسموم کررہے ہیں۔ اسلام کے احکامِ ِجنگ کے حوالے سے متعصب مصنفوں اوران کے جاہل مقلدین سیاسی لیڈروں نے دنیاکو جس قدردھوکے میں رکھاہے اورغلط فہمیوں میں مبتلارکھاہے، اسلامی جہادکے نام پرمسلمان اس وقت جس طرح سے سروں کے ڈھیرلگارہے ہیں، اس سے ان غلط فہمیوں کوہَوا مل رہی ہے۔ ہرکہہ ومہہ جہاد کاعلم بلندکرکے اسلام کے پیامِ حیات وروح پرورکو، پیغامِ موت بناکرپیش کررہاہے۔ ایسے میں علماء کرام اوردینی اسکالرزکافرض بنتاہے کہ اسلام میں جہادکی صحیح حیثیت اور اس کی حقیقت کوواضح کرے۔ نوجوان قوم کااثاثہ ہیں، جان دے کریاکسی کی جان لے کراسلام کی تشہیرنہیں ہوگی بلکہ پیغامِ آفریں، مہروفا کوعام کرکے ہی کردارکے غازی پیداہوں گے۔ بیسویں صدی کے تیسرے دہے میں مولاناسیدابوالاعلی مودودی مرحوم نے’الجہادفی الاسلام‘لکھ کر ایک بہترین کارنامہ انجام دیا ہے۔ عصرحاضر میں اس موضوع کو مزید آگے بڑھانے اور جہاد کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کو ایڈریس کرنے کی اشدضرورت ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظرمولانا محمد عنایت اللہ سبحانی صاحب نے قلم کوجنبش دی اورجہادکی اصل حقیقت کوواضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ تشدداورعدم برداشت کی موجودہ موہوم فضاکوسلامتی، آشتی اورسکون کی تلاش ہے، جوکہ صرف اسلام کی سچی اورصحیح ترجمانی سے ہی ممکن ہے۔

زیرتبصرہ کتاب تیرہ ابواب پرمشتمل ہے۔ مولانائے محترم نے دنیابھرمیں جہادکے بارے میں غلط فہمیوں کاازالہ کرنے اور جہاد کے صحیح تصور کو اجاگر کرنے کے لیے یہ کتاب تحریرکی ہے، لکھتے ہیں :

’’موجودہ عالمی صورت حال بتاتی ہے کہ اس دین کے بارے میں، خاص طورسے جہادکے بارے میں غیرمسلم قومیں، چاہے وہ مشرق کی ہوں یامغرب کی، بری طرح غلط فہمیوں کاشکارہیں۔ بہت سی وہ قومیں بھی غلط فہمیوں کاشکارہیں، جوکہنے کوتومسلمان ہیں، مگران کی وفاداریاں اللہ اوررسول کے لیے نہیں بلکہ دشمنانِ اسلام کے لیے ہیں۔ ان کے دل ودماغ کتاب وسنت کے سانچوں میں نہیں بلکہ تہذیب حاضرکی فیکٹریوں میں ڈھلے ہیں۔ ضروری ہے کہ ان سارے لوگوں کی غلط فہمیاں دورکی جائیں تاکہ عالمی فساد وخوں ریزی کایہ سلسلہ ختم ہو۔ ‘‘(ص ۲۵)

دوررسالت میں اسلام کی تبلیغ وتشہیرکیونکرکامیاب ہوئی، اس حوالے سے مصنف رقمطرازہیں :

’’لوگوں کااسلام میں فوج درفوج داخل ہوناجہادی کاروائیوں کاثمرہ نہیں بلکہ اس وجہ سے تھاکہ اب ظلم واستبدادکادیوپاش پاش ہوچکاتھا۔ ۔ ۔ وہ اللہ کے دین میں فوج درفوج اس وجہ سے داخل ہوئے کہ وہ مکے میں بھی رحمت عالمﷺاورآپ کے جاں نثاروں کابلندکیریکٹردیکھ چکے تھے، جبکہ آپ اورآپ کے ساتھی کمزوری اورمظلومی کی حالت میں تھے۔ ‘‘(ص۶۲)

واقعتََامظلومی کی حالت میں اوصاف حمیدہ، صبرجمیل اورعفوودرگزرکامعاملہ کرنامکارمِ اخلاق میں سے ہے۔ موجودہ دورمیں غیرمسلموں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں بھی یہ اوصاف عنقا ہیں۔ ہمارے افعال وکردارکودیکھ میڈیاکے ذریعے اسلام پربے جابحث ومباحثے کالامتناہی سلسلہ شروع ہوچکاہے۔ اغیارکی سازشوں کاموجود ہونابجالیکن کہیں پرہمارے اپنے بھی اس خرمن کوآگ لگانے میں مصروف ہیں۔ یہ جذبات کی رومیں بہہ کرعلمی ترقی اورفکری بلندی سے ناآشناہیں۔ موصوف لکھتے ہیں ـ:

’’کسی صالح اوربابرکت انقلاب کے لیے جہاں جذباتی طورپرعوامی بیداری ضروری ہوتی ہے، وہیں علمی ترقی اورفکری بلندی بھی ضروری ہوتی ہے۔ ‘‘

کتاب میں مختلف عنوانات کے تحت مسئلے کی اہمیت کوواضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے جیسے جہادفی سبیل اللہ کامطلب، جہاد کے ضروری عناصر، داعش کااصل چہرہ، خلافت کیاہے، لفظِ خلافت کااستحصال، خلافت کے لیے خوں ریزی جائزنہیں، جہاداورامن عالم، نظریہ صلح وجنگ، جہادعصرحاضرمیں وغیرہ۔ ’داعش کااصل چہرہ‘عنوان کے تحت لکھتے ہیں :

’’اس نے قیام خلافت اورتاسیس دولہ اسلامیہ کے نام پرمسلم نوجوانوں کوجس طرح ورغلایااورگمراہ کیاہے اوراپنے ظلم وبربریت سے اسلام اوراسلامی نظام کی جیسی گھنائونی تصویردنیاکے سامنے پیش کی ہے، پوری اسلامی تاریخ میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ ‘‘(ص۱۵۳)

اسلام پسندوں پراس تنظیم کے منفی اثرات کاتذکرہ کرتے ہوئے موصوف رقمطرازہیں :

’’اس کے خلاف عالمی طاقتوں کاساراہنگامہ، ساری بیان بازیاں اورساری جنگی کارروائیاں محض مسلم دنیاکودھوکہ دینے، داعش کی تباہ کاریوں کے لیے راستہ صاف کرنے اوراس کی آڑمیں اسلام پسندوں کی طاقت توڑنے کی ایک ذلیل کوشش ہے۔ ‘‘(ص۱۵۴)

مولاناکے نقطہ نظرمیں مذکورہ تنظیم ایک عظیم فتنہ ہے، جس سے مسلمانوں کوباخبراورہوشیاررہناچاہیے، ان کا دعویٔ قیامِ خلافت محض ایک ڈھونگ ہے اورکچھ نہیں۔ خلافت ناحق اسلامی حدودوتعزیرات نافذکردینے سے قائم نہیں ہوتی بلکہ ’’خلافت کے لیے حضرت ابوبکرصدیقؓ کی راست بازی ودل سوزی چاہیے۔ ان کاعشق رسول اوران کی آہ نیم شبی چاہیے! بھٹکے ہوئے انسانوں کے لیے ان کادردوکرب اورپریشاں حال لوگوں کے لیے ان کی صلہ رحمی چاہیے۔ خلافت کے لیے حضرت عمرؓکی بے نفسی اورحق پرستی چاہیے۔ ان کی رقتِ قلبی اورسوزوگدازچاہیے۔ ان کاخوف خدااوران کاایمانی دبدبہ وجلال چاہیے۔‘‘(ص۵۵۔ ۱۵۴)

تمام ترخوبیوں کے ساتھ ساتھ کتاب میں مختلف خامیاں بھی راہ پاگئی ہیں۔ اکثرمقامات پر علماء وبزرگانِ دین کے اقوال اورنقطہ ہائے نظرکوپیش توکیاگیاہے لیکن حوالہ جات کوقلم اندازکیاگیاہے، مثال کے طورپر:’’وقت کے ایک بڑے عالم دین فرماتے ہیں :’جس قوم میں رسول کی بعثت ہوتی ہے۔ اس پراللہ کی حجت تمام ہوجاتی ہے۔ اس وجہ سے وہ قوم اگراپنے کفرپراڑی رہتی ہے، تواللہ اس کولازماً ہلاک کردیتاہے۔ خواہ وہ قہرِالٰہی سے ہلاک ہویااہلِ ایمان کی تلواروں سے۔‘‘ ایسے ہی کچھ اقوال ہیں جن کاحوالہ نہیں دیاگیاہے۔ ظاہرہے بلاحوالہ بات کوئی گہرا اور واضح اثرنہیں چھوڑتی اورتحقیق کے میدان میں یہ ایک نقص تصور کیاجاتاہے۔ کہیں کہیں پرغیرضروری کومہ(، )بھی ہیں، جن کی وجہ سے روانی باقی نہیں رہتی۔

کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ مصنف موصوف نے مختلف روایات پر روایت اوردرایت دونوں پہلووں سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ جوروایات اکثرجہادکے حوالے سے یادورِنبویﷺ کے واقعات کے ضمن میں واعظین اورمقررین بیان کرکے اپنی استعدادکے مطابق کچھ اورہی نتائج بیان کرتے ہیں، ان روایات کی سندکی کمزوریوں کوبھی واضح کیاگیا ہے اور ان کے مضمون  کی بھی تفہیم کی گئی ہے۔ مجموعی طورپرمذکورہ کتاب موجودہ پُرفتن دنیامیں ہرخاص وعام کے مطالعہ کے لائق ہے۔ مولاناقابل صدمبارکبادہیں کہ انھوں نے برمحل ایک اہم موضوع پرخامہ فرسائی کرکے غلط فہمیوں کے ازالہ کی بساط بھرکوشش کی۔ ناشرہدایت پبلشرزنئی دہلی بھی، دیدہ زیب طباعت اورکتاب کے موزون وزن کے لیے قابل مبارکبادہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کتاب کوہندی اورانگریزی کا پیرہن بھی پہنایاجائے تاکہ ہندوستان اوردیگرممالک کے اکثریتی مشکوک ذہنوں کواس موضوع کے حوالے سے صحیح رہنمائی کی جاسکے۔

تبصرے بند ہیں۔