دنیا کے بدترین لوگ اور ان کا انجام

نام کتاب : ‘دنیا کے بدترین لوگ اور ان کا انجام’

مصنف : خاکی محمد فاروق

صفحات 392

قیمت :390 روپے

ناشر : مکتبہ علم و ادب سرینگر

(کتاب گھر بیٹھے حاصل کرنے کا نمبر: 7006018203۔ 95964333938)

مبصر : سہیل بشیر کار

داعی دین کے لیے جس طرح دین سمجھنا ضروری ہے ویسے ہی جہالت کا ادراک بھی ہونا لازم ہے۔ علاوہ ازیں  ان افراد کا علم ہونا بھی ضروری ہے  جو شر کے علمبردار؛ بدترین  لوگ تاریخ میں گزرے ہیں۔ اگرچہ خراب لوگوں کے کردار ہر زمانے میں بدلے ہیں لیکن ان کی نفسیات، ان کے طریقہ کار، ان کی سوچ اور ان کی فکر ہمیشہ مشترک رہی ہے، بدترین لوگ الگ الگ روپ میں آتے ہیں، قرآن کریم نے ان بدترین لوگوں کا نقشہ نہایت ہی خوبصورتی سے کھینچا ہے تاکہ اچھے لوگ؛ ان برے لوگوں کی نفسیات اور طور طریقوں سے واقف ہوں۔ ساتھ ہی نیک لوگوں کو برے لوگوں کے بدترین انجام سے واقف کرایا گیا ہے تاکہ برے لوگوں کے انجام سے ان کے اندر حق پر قائم رہنے کے لیے ہمیشہ حوصلہ ملتا رہے۔ "دنیا کے بدترین لوگ اور ان کا انجام” محترم خاکی محمد فاروق صاحب کی 392 صفحات پر مشتمل کتاب ہے؛ جس میں 12 بدترین کرداروں کے مختلف پہلوؤں پر قرآن کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں بات کی گئی ہے جن میں دو کردار (نمرود، آزر) دور ابراہیمی میں تھے۔ چار کردار (ھامان، قارون، فرعون اور سامری) کا تعلق دور موسوی سے ہے۔ 4 کردار (ابوجہل، ابولہب، عبداللہ بن ابی اور مسیلمہ کذاب) دور نبوی صلعم سے ہیں۔ ایک کردار رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے چند سال پہلے کا ہے (ابرھتہ الا شرم) اور ایک کردا جو ابھی تک نہیں آیا ہے (مسیح الدجال) پر مبنی ہے۔ مشہور و معروف عالم دین مولانا رضی الاسلام ندوی اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:  "زیر نظر کتاب ایک قابل قدر علمی کاوش ہے، جس میں راہ حق کی مخالفت کرنے والوں کے احوال بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے انجام پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ہے۔” موصوف کتاب اور کتاب کے مصنف کے بارے میں لکھتے ہیں:  "اس کتاب کے مصنف تصنیف و تالیف کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں،۔۔۔۔۔ یہ کتاب بھی ان کے ذوق تحقیق کی آئینہ دار ہے۔ "(صفحہ 14) جامعۃ الفلاح اعظم گڑھ کے استاد اور کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر ذکی الرحمن غازی مدنی کتاب کی تقریظ میں لکھتے ہیں:” انبیاء و صحابہ کی زندگیوں پر کافی کچھ لکھا جا چکا ہے، تاہم اس دنیا کے بدترین لوگوں کا  انجام کیا ہوا؟ یہ ایک مومن کے لیے درس عبرت اور خاصے کی چیز ہے، قران و سنت میں جب بدترین لوگوں کے انجام سے امت مسلمہ کو ہوشیار و خبردار کیا گیا ہے، فاضل مصنف نے چھانٹ کر ان معلومات و حقائق کو اس کتاب میں یکجا کیا ہے۔ "(صفحہ 19)

اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ باطل پر قائم رہنے والے افراد کے کردار سے شناسائی حاصل کرنا۔ اس سلسلے میں مصنف کی کوشش رہی ہے کہ وہ بدترین لوگوں کے ہر پہلو کا احاطہ کریں تاکہ ان لوگوں کی خصلت سے داعیان حق واقف رہے اور ان کے انجام سے با خبر ہوں۔ کتاب کے مصنف کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:” کتاب الہی اور کتب حدیث و سیرت میں واضح طور پر ان لوگوں کے کفر و شرک، کذب و الحاد اور فسق و نفاق کا تذکرہ ہے، ساتھ ہی ان کی اسلام دشمنی، حق کی مخالفت اور اہل حق پر ان کے ظلم و تشدد کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب ھذا میں اسی تفصیل کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ جمع کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد قارئین کے سامنے ان کے باطل نظریات اور ناپاک سیرت و کردار اپنی اصل شکل میں آجائے۔ "(صفحہ 22)

پہلے دو بدترین کرداروں کا واسطہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پڑتا ہے۔ نمرود جو کہ ایک بادشاہ ہی نہیں بلکہ اس بات کا دعویٰ بھی کرتا تھا کہ وہی اس شہر ‘اُر’ کے لوگوں کا حاکمِ مطلق ہے۔ اس کے بعد اس قوم کی تہذیب و تمدن، ابراہیم علیہ السلام کا ان کے ساتھ مقابلہ، پھر حاکم وقت کا دلیل کے میدان میں ناکامی کے بعد جہالت کے غلبے کی وجہ سے انسان سوز حرکات پر اتر آنا جیسے کہ جیل کی سلاخوں کا اہل حق کے لیے وا کرنا اور جسمانی اذیت دینا۔ لیکن طاقت کے نشے میں چُور اس بادشاہ کا آخر میں بدترین انجام کو پہنچنا؛ وہ بھی ایک مچھر کی وجہ سے؛ عبرت آموز ہے۔

اس کے بعد آزر کا کردار جو ابراہیم علیہ السلام کا والد تھا؛ کے بارے میں تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ کتاب میں وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ایک لائق بیٹا اپنے باپ کو دعوت دیتا ہے اور کس طرح باپ بیٹے کی مخالفت کرتا ہے۔ اس کردار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دین اسلام میں نسبی رشتہ سے اہم اسلامی رشتہ ہے۔ بخاری کی روایت میں ہے کہ "ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آزر کو روز قیامت گرد آلود کالا کلوٹا دیکھیں گے۔ ” حافط ابن حجر اس کی حکمت بتاتے ہیں کہ "تاکہ ابراہیم علیہ السلام اس سے نفرت کرنے لگیں اور دوزخ میں وہ اپنی اصل صورت میں باقی نہ رہیں اور ابراہیم علیہ السلام کے لیے عار کا باعث نہ بنے۔ "(صفحہ 59) آزر کے تذکرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک جلیل القدر پیغمبر بھی کسی کافر کو روز قیامت نہیں بچا سکتا۔

اس کے بعد مصنف ان چار کرداروں کا تذکرہ کرتا ہے جن سے  حضرت موسیٰ علیہ السلام کو واسطہ پڑا۔ پہلے فرعون جو کہ ظالم حکمران تھا، اس کردار کو مصنف نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ واقعہ فرعون کی زبردست عصری معنویت ہے۔ مصنف نے اس کا جس طرح سے تذکرہ کیا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قاری اُس دور کا آنکھوں دیکھا مشاہدہ کررہا ہو۔ اس دور کی معاشرت، سیاست، ظلم اور ظلم کا انجام وغیرہ۔ دوسرا کردار جس کا واسطہ حضرت موسی علیہ السلام سے پڑتا ہے؛ وہ ہامان ہے۔ یہ کردار چاپلوسی کی علامت ہے یہ بھی ہمیشہ ہر ظالم کے ساتھ رہتا ہے، ہامان کون تھا، وہ فرعون کو کیسے مشورے دیتا تھا اور آخر میں اس کے انجام پر تفصیل سے مصنف نے روشنی ڈالی ہے۔ تیسرا کردار قارون کے روپ میں ہے جوکہ موسیٰ علیہ السلام کے قوم کا ہی فرد ہے۔ کس طرح اس نے مالی مفادات کے لیے اپنے ہی قوم سے غداری کی۔ قارون کا فتنہ مادیت میں مبتلا ہونا؛ آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ لہذا اس پر تفصیلی روشنی کی ضرورت تھی۔ مصنف نے اپنی کتاب میں اس کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ چوتھا کردار سامری کا ہے جس کا واسطہ موسی علیہ السلام سے پڑا۔ سامری کا کردار  دنیا کی سحر انگیزی سے پردہ اٹھاتا ہے اور مومن کو دکھاتا ہے کہ وہ کیسے اس دنیا کے سحر میں پھنس سکتا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ سحر کا انجام بھی عبرتناک ہوتا ہے۔

اس کے بعد ابرھتہ الاشرم کے کردار کا تعارف مصنف سورہ الفیل کی روشنی میں کراتا ہے کہ کیسے اللہ نے ایک بڑے بادشاہ اور اس کے لشکر کو چھوٹی مخلوق سے تباہ و برباد کیا۔

اس کے بعد مصنف نے چند ایسے کرداروں پر لکھا ہے جن کا واسطہ ذات پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑا، جو کہ تھا تو عقلمند لیکن حق ماننے کے لیے تیار نہ تھا، جہل کی وجہ سے اس کا نام رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ‘ابو جہل’ رکھا۔ یہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا دشمن تھا، مذاق اڑاتا؛ مکر و فریب کرتا، ظلم کرواتا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عبادت سے روکتا، نہ صرف رسول رحمت پر بلکہ آپ کے اصحاب پر بھی ظلم کرتا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی ظلم و تشدد پر ابھارتا۔ مصنف لکھتے ہیں "ابو جہل ایک ظالم و جابر تھا کہ جو اپنے ہاتھوں سے ہی مسلمانوں پر ظلم و جبر نہیں کرتا تھا، بلکہ اس کام کے لیے یہ مکہ کے گنڈوں، اوباش جوانوں، اور بدمعاش لوگوں کو ابھارتا تھا اور ان کے ذریعہ مسلمانوں پر ظلم و تشدد کرواتا تھا۔ ‘(صفحہ 221)اس کی موت دردناک تھی۔ جب اس کا قتل ہوا تو رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا "یہ میرا اور میری امت کا فرعون تھا؛ جس کا شر اور فتنہ موسیٰ علیہ السلام کے فرعون کے شر اور فتنہ سے کہیں بڑھ کر تھا، موسیٰ علیہ السلام کے فرعون نے مرتے وقت کلمہ پڑھا، مگر اس امت کے فرعون نے مرتے وقت بھی کفر اور تکبر کے کلمات کہے۔ ” (صفحہ 253) اس کے بعد مصنف ابولہب کی روداد سناتے ہیں کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا لیکن جب رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کا آغاز کیا تو بلکل ابتدا سے ہی اس نے مخالفت  شروع کی۔ جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچتی یہ خوش ہو جاتا۔ اس کی بیوی ام جمیل بھی رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں اس کا ساتھ دیتی، اس کے بعد مصنف عبداللہ بن ابی جو کہ رئیس المنافق تھا کا تذکرہ کرتے ہیں، اس کی ساری زندگی مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں گزری، اس نے حضور کے خلاف زبردست پروپگنڈہ کیا، حتی کہ امی عائشہ کے متعلق بھی، لیکن راقم کا ماننا ہے کہ یہ باب مزید وضاحت کا تقاضا کرتاہے تاکہ دور جدید کے نفاق کا بھی احاطہ ہوتا۔ منافقت کی شر انگیزیوں نے ہمیشہ امت مسلمہ کو واضح دشمنوں سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے لہذا تقاضہ تھا کہ عبداللہ بن ابی کے متنوع روپ سامنے لائے جاتے۔ اس کے بعد مصنف نے جھوٹے نبی مسلیمہ کذاب کے بارے میں تفصیل سے ذکرِ کیا ہے، مسلیمہ کذاب کی خرافات، مسیلمی عقائد و احکام، اس کے مظالم پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ آخر میں مسلیمہ کذاب کا انجام بھی بتایا ہے کہ کس طرح وہ مارا گیا، مسلیمہ کذاب کے بارے میں پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ یہ فتنہ کس قدر خطرناک فتنہ ہو سکتا تھا۔

کتاب کا آخری باب مسیح دجال کے بارے میں ہے۔ حسب معمول مصنف نام کی وجہ سے مضامین کی شروعات کرتے ہیں۔ دجال کے بارے میں لکھتے ہیں: "دجال کا لفظ ‘دجل’ سے نکلا ہے جس کے معنی خلط، مکر و تلبیس کے ہیں۔ "اگے لکھتے ہیں :”دجال کا لفظ فعال کا وزن ہے اور دجل مبالغہ ہے اور” دجل "کا معنی ہے کسی چیز کو ڈھانپ لینا اور دجال کو دجال اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ وہ حق کو باطل کے ساتھ ڈھانپ لے گا۔۔۔” (صفحہ 353)اس کے بعد دجال کی حقیقت، یہ فتنہ کس قدر بڑا ہوگا اور اس فتنہ سے بچنے کے لیے دعا اور دیگر پہلوؤں پر قریب 60 صفحات پر مفصل بحث کی گئی ہے۔

کتاب کی خاص بات اس کی آسان اور عام فہم زبان ہے، مصنف نے واقعات کو خوبصورتی سے اس طرح پیش کیا ہے؛ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس زمانے کی منظر کشی کی گئی ہو۔

اتنی ضخیم کتاب کی قیمت 390 روپے مناسب ہے،کتاب عمدہ کاغذ اور اچھی طباعت سے شائع کی گئی ہے، کتاب کے واقعات والدین اپنے بچوں کو سنا سکتے ہیں تاکہ وہ ان تمام شرور سے دور رہیں۔ امید ہے مصنف کی دیگر کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی۔

رابطہ : 9906653927

تبصرے بند ہیں۔