رسول کریمﷺ کی تعلیمی تحریک : ایک مطالعہ

سہیل بشیر کار

اسلام کے نظریے تعلیم کی خصوصیت بتاتے ہوئے مشہور محقق ظفر اسحاق انصاری لکھتے ہیں: "یہ بات اسلام کے مفاخر میں سے ہے کہ اس دین کامل کا غلغلہ بلند ہوتے ہی تعلیم وتعلم سے نا آشنا خطے میں ایک انقلاب آ گیا، جومسلم قلم رو کے پھیلاؤ کے ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا، دیکھتے ہی دیکھتے قرآن پاک کے معانی و مطالب سے آگاہی حاصل کرنے اور نبی امی صلی اللّٰہ علیہ وسلم  کے ارشادات و اعمال سے واقف ہونے کی خاطر لوگ جوق در جوق ان حلقہ ہائے دروس سے وابستہ ہونے لگے جو مساجد میں اور ممتاز اہل علم کے گرد تیزی سے قائم ہوتے جارہے تھے۔ درس و تدریس کی مضبوط بنیاد خود نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں دارارقم اور مدینہ منورہ میں اپنی مسجد کے چبوترے (صفہ ) کی شکل میں رکھ دی تھی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ دنیائے اسلام ہر طرح کی علمی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی ۔ ایک طرف قرآن پاک اور سنت رسول ملے سے مسلمان اہل علم کے شغف نے متعد دعلوم کو جنم دیا جن میں سے بعض اتنے عظیم الشان ہیں کہ ان کی کوئی نظیر دنیا کی دوسری تہذیبوں میں نہیں ملتی ۔ دوسری طرف بنی نوع انسان نے اپنے تہذیبی ارتقا کے سفر میں جو ذخیرہ علم و دانش جمع کیا تھا، مسلمانوں نے نہ صرف اس سے آگاہی حاصل کی، بلکہ اس میں قابل ذکر اضافے بھی کیے۔

اسلام کی ابتدائی صدیوں میں جب مسلمان طب ریاضی ،طبیعیات، کیمیا اور دوسرے علوم میں انسانی ورثے سے آگاہی حاصل کر رہے تھے ، تو وہ دوسروں کے اندھے مقلد نہ تھے،بھی انہوں نے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور زشت و خوب کے رد و قبول میں بے مثال تنقیدی صلاحیت کا ثبوت دیا۔ جو چیزیں اسلام کے مزاج سے ہم آہنگ نہ تھیں ، ان کی طرف انہوں نے کم ہی التفات کیا، اور جو علوم اخذ کیے، ان میں بھی جابجا قطع و برید کر کے انہیں اپنے بنیادی تہذیبی رویے سے ہم آہنگ بنانے کی پوری کوشش کی۔ اس طرح جلد ہی علم و دانش کی دنیا میں اُمت مسلمہ نے ایک برتر امتیازی مقام حاصل کر لیا. "

علم؛ عمل کا امام ہے، اسی قوم کو ترقی حاصل ہوتی ہے جو علم کے میدان میں آگے ہو دین اسلام اور علم لازم ملزوم ہے، علم کی اہمیت کے پیش نظر امت مسلمہ کے محققین نے امت مسلمہ میں تعلیم کی اہمیت پیدا کرنے کے لیے کوشش کی، اور یہ سلسلہ جاری ہے، زیر تبصرہ کتاب” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمی تحریک” اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے. کتاب کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر محمد سعود عالم قاسمی علم کے میدان میں عملی کام کر رہے ہیں. علی گڑھ مسلم یونیورسٹی؛ علی گڑھ کے سابقہ چانسلر سید حامد صاحب لکھتے ہیں:”ڈاکٹر سعود عالم قاسمی جب سے تعلیم کی اشاعت اور فروغ سے وابستہ ہوئے انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ مطالعہ، تحقیق اور تعلیمی اداروں کے ساتھ ایک زندہ اور تابندہ رابطہ؛ مواعظ و تقاریر کے لامتناہی سلسلہ نے ان کے ذہن اور زبان دونوں پر جلا کردی ہے تا آنکہ ان کا شمار مجالس تعلیم کے مؤثر ترین مقررین میں ہونے لگا ہے۔” (صفحہ 8)

پروفیسر سعود عالم قاسمی صاحب بہترین خطیب بھی ہے، زیر تبصرہ کتاب بنیادی طور پر تعلیم کے سلسلے میں ان کے خطبات کا مجموعہ ہے جس کو نظر ثانی کے بعد شائع کیا گیا۔ مصنف نے زیر تبصرہ کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے کتاب کے پہلے باب "فروغ تعلیم کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقدامات” علم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علم پر ہی انسان کی زندگی اور ترقی موقوف ہے مصنف کا ماننا ہے کہ صرف اہل علم زندہ ہوتے ہے، مزید لکھتے ہیں جاہلوں کے جسم قبر سے پہلے ہی قبر بن جاتے ہیں. حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا "قائد بننے سے پہلے علم حاصل کرو.” (بخاری) امام بخاری اس پر اضافہ کرتے ہیں کہ” قائد بننے کے بعد بھی علم حاصل کرو. "مصنف اضافہ کرتے ہیں:” قیادت کو باقی رکھنے کے لیے بھی علمی قوت کی ضرورت پڑتی ہے.” (صفحہ 19)

علم کی اہمیت کے ساتھ ساتھ وہ علم کے فوائد کا بھی ذکر کرتے ہیں. اس باب میں مصنف سورہ النساء آیت 163 اور سورہ النحل آیت 78 کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ علم کے دو مآخذ ہے ایک صاف، شفاف، معتبر، یقینی اور دائمی سرچشمہ ہے وہ ہے وحی دوسرا علم کا ذریعہ ہے انسان کا مشاہدہ، تجربہ اور حاصل کردہ نتیجہ؛ اس کو علم بالسعی کہتے ہیں. یعنی کان، آنکھ، دل، دماغ اور اعضاء جوارح اس لیے عطا کیے گیے کہ انسان کائنات کی کھلی اور چھپی نعمتوں کو دیکھے ان کی تلاش و جستجو کرے ان کا تجربہ کرے اور نتیجہ اخذ کرکے تعمیر و ترقی کا کام کرے. مرتضی مطہری شہید کے حوالے سے علم اور ایمان کا باہمی رشتہ یوں بیان کرتے ہیں: "ایمان علم کی روشنی میں خرافات سے محفوظ رہتا ہے، علم ایمان سے جدا ہو جائے تو ایمان جمود اور اندھے تعصب کا شکار ہو جائے گا اور اپنی ہی گرد چکر لگاتا رہے گا، اور انسان کو کسی منزل پر نہیں پہنچائے گا جہاں علم و آگہی نہ ہو وہاں نادان مومنوں کا ایمان چالاک منافقوں کے ہاتھوں میں ایمان کے بغیر علم بھی مست زنگی کے ہاتھوں میں چاقو اور آدھی رات میں چور کے ہاتھ میں چراغ کے مانند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا بے ایمان دانشور کل کے بے ایمان جاہل سے طبیعت و ماہیت اور رفتار و کردار کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں رکھتا۔ آج کے چرچلوں، جانسنوں، اسٹالنوں اور کل کے فرعونوں، چنگیزوں اور ایتلاؤں کے درمیان کیا فرق ہے. ” (صفحہ 22) مصنف لکھتے ہیں کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیمی تحریک چلائی جہاں بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت قریش میں گنتی کے چند لوگ پڑھنا جانتے تھے ان کی تعداد 17 سے زیادہ نہیں تھی مگر 23 سال کی تعلیمی تحریک کے نتیجے میں یہ تعداد لاکھوں انسانوں کو تعلیم یافتہ بناچکی تھی، اقوام متحدہ نے اپنے منشور میں تعلیم کو ہر انسان کا حق بتایا ہے. وہی 1400 سال پہلے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کے حصول کو فرض قرار دیا. (ابن ماجہ) مصنف نے اس باب میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تعلیمی بیداری کے لیے جو عملی کوشش کی ان کو تفصیل سے بیان کیا ہے. مصنف علم دین اور علم دنیا کی تفریق کا قائل نہیں البتہ ان کا ماننا ہے کہ ہم سے جو علم مطلوب ہے وہ علم نافع ہے. علم نافع سے ہر وہ علم مراد ہے جس سے عالم انسانیت کو فائدہ ہو، البتہ پروفیسر سعود صاحب لکھتے ہیں کہ تربیت کے بغیر تعلیم ناقص ہے پھر وہ تربیت کے لوازمات بھی بیان کرتے ہیں. مصنف کہتے ہیں کہ تعلیم اور تہذیب کا بڑا گہرا رشتہ ہے مصنف اس باب کا اختتام اس خوبصورت پیراگراف سے کرتے ہیں: "تعلیم نفاست، پاکیزگی، حسن خیال اور حسن عمل کا ساتھ دیتی ہے جہالت بدنمائی ، بھونڈا پن اور گندگی سے سمجھوتہ کر لیتی ہے۔ اس لیے جاہل اور تعلیم یافتہ انسان کے طور طریقہ اور عمل میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ جاہل انسان جس کام کو بے ڈھنگے طریقہ سے کر کے بگاڑ دیتا ہے تعلیم یافتہ انسان اس کام کوسلیقہ اور حسن عمل کے ذریعہ سنوار دیتا ہے۔ چنانچہ رسول پاک ﷺ نے یہ تعلیم دی ہے: اللہ تم میں سے اس شخص کو پسند کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرے تو عمدہ طریقہ سے کرے اور اسے انجام تک پہونچائے۔ لفظ ”اتقان“ میں جمال اور کمال دونوں شامل ہیں۔ اس تعلیم کا ماحصل یہ ہے کہ جو کام بھی کیا جائے اسے اچھے ڈھنگ سے، جی لگا کر کیا جائے ۔ اس کام کو مکمل بھی کیا جائے ، ادھورا نہ چھوڑا جائے۔” (صفحہ 56)

خواتین نصف انسانیت ہیں، کوئی بھی تحریک آدھی آبادی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ رسول رحمت کی برپا کی گئی تعلیمی تحریک میں خواتین کے لیے کوئی رہنمائی نہ ہو. کتاب کے دوسرے باب میں مصنف نے عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں خواتین کی تعلیم پر مفصل روشنی ڈالی ہے، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے. (ابن ماجہ) یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کہی جب خواتین انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے، اس باب میں مصنف نے دور نبوی میں خواتین کے ابلاغ و ترسیل کو بیان کیا ہے، ساتھ ہی مصنف نے دکھایا ہے کہ کس طرح دور نبوی میں خواتین ہر طرح کے سوالات آپ سے کرتے بلکہ امی عائشہ انصار کی عورتوں کے حوالے سے بتاتی ہے کہ "بہترین عورتیں انصار کی عورتیں ہیں ان کو دین کا علم حاصل کرنے میں حیا رکاوٹ نہیں بنتی.” (بخاری) دور نبوی میں خواتین جہاں مساجد میں حاضر ہوتی آپ کا وعظ سنتی اس کے باوجود خواتین کی فرمائش پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک دن مخصوص رکھا تھا، رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں عام خواتین کی تعلیم دی وہی اس مرد کے لیے دوہرے اجر کا وعدہ کیا گیا جو اپنی زیر کفالت لونڈی کو تعلیم دے. خواتین میں تعلیمی تحریک کا ہی نتیجہ تھا کہ دور نبوی میں اچھی خاصی تعداد ان خواتین کی تھی جو کتابت کرتی. مصنف لکھتے ہیں کہ علامہ جلال الدین سیوطی نے ان واقعات کو جمع کیا ہے جہاں صحابہ کرام کو پہنچنے میں دشواری ہوئی وہاں امی عائشہ کی رہنمائی کام آئی اور انہوں نے پیچیدہ مسائل کو سجایا. (صفحہ 69) یہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمی تحریک ہی تھی جس سے امی عائشہ کو یہ مقام حاصل ہوا، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسے صاحب بصیرت انسان کے بارے میں آتا ہے کہ آپ ازواج نبی کے علاوہ ام شفا بنت عبداللہ سے مشورہ کرتے، عمرہ بنت فاطمہ جن کے گھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت ہوئی کے وقت خلیفہ کے انتخاب کے لیے مجلس شوریٰ منعقد ہوئی، (صفحہ 70)حافظ ابن حجر نے اپنی کتاب میں 1543 اور امام نووی نے اپنی کتاب ‘تھذیب الاسماء’ میں؛ علامہ خطیب بغدادی نے ‘تاریخ بغداد’ میں اور علامہ سخاوی نے ‘الضو اللامع’ میں بڑا حصہ علم و فضل کی حامل خواتین کے لیے وقف کیا ہے. (صفحہ 70) اس ساری بحث کے بعد مصنف لکھتے ہیں: "غرضیکہ عہد نبوی میں خواتین کی تعلیم و تربیت کا انتظام مردوں سے کچھ کم نہ تھا۔ نہ مواقع کم تھے اور نہ تعلیم کے معیار و مقدار میں کوئی کمی برتی گئی۔ اس زمانہ میں الگ سے مدرسہ کا رواج نہ تھا۔ اگر مردوں کے لیے کوئی الگ سے باقاعدہ مدرسہ قائم کیا جاتا تو نبی سے لازماً عورتوں کے لیے بھی الگ سے مدرسہ قائم کرتے۔ عہد نبوی کا یہ اسوہ بتاتا ہے کہ ہمیں خواتین کی تعلیم و تربیت پر یکساں توجہ محنت اور سرمایہ صرف کرنا چاہئے. ” (صفحہ 70)

کتاب کے تیسرے باب” معلمی کار پیغمبری” میں مصنف نے اساتذہ کو ان کی اہمیت سے آگاہ کروایا ہے، یہ تحریر دل سے لکھی گئی ہے، راقم کا ماننا ہے کہ اس تحریر کو ہر معلم کو پڑھنا چاہیے، ساتھ ہی مصنف نے اساتذہ کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا ہے، ساتھ ہی اس باب میں اساتذہ کو چند رہنما اصول بھی بتائے گیے ہیں۔ اگر ان اصولوں کو ذہن میں رکھا جائے تو بہترین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

کتاب کے چوتھے باب "تعلیم میں مشاہدہ اور تجربہ کی اہمیت” میں مصنف نے علم کے اس ذریعہ پر بات کی ہے جو کہ تجربہ یا مشاہدہ سے حاصل ہوتا ہے، حفظ کا تعلق بقا سے ہے جبکہ مشاہدہ اور تجربہ کا تعلق ارتقاء سے ہے،یہی وجہ ہے کہ علم کے ذرائع میں مشاہدہ کی کافی اہمیت ہے. قران کریم میں بھی بار بار مشاہدہ کرنے پر زور دیا گیا ہے مصنف لکھتے ہیں مشاہدہ اور غورو فکر سے ہی علم کا کارواں آگے بڑھتا ہے اور ایجاد و اکتشاف کی راہیں کھولتا ہے، اسی لیے قرآن میں تحفیظ کے ساتھ تفکیر پر زور دیا گیا ہے. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات و دن کے بدلنے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ وہ کھڑے، بیٹھے اور لیٹے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور کرتے ہیں اور کہتے ہیں) اے ہمارے رب تو نے یہ سب کچھ بے کار پیدا نہیں کیا ہے تو ہمیں عذاب جہنم سے بچالے”۔(سورہ آل عمران؛ آیت 190-191) صفحہ (85) امی عائشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلعم نے فرمایا "اس شخص کے لئے تباہی ہے جس نے ان آیات کو پڑھا مگر ان میں غور نہیں کیا. ” (ابن کثیر) قرآن کریم میں اس جیسی سینکڑوں آیات ہے. ساتھ ہی مصنف نے قاری کا رخ چند واقعات کی طرف مبذول کرایا ہے جن سے بندہ کو مشاہدہ اور تجربہ کی دعوت ملتی ہے، مصنف ابراہیم علیہ السلام کے مشاہدہ جو کہ سورہ البقرہ (آیت 260) میں بیان ہوا ہے کے بعد لکھتے ہیں:”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے علم کو مشاہدہ اور تجربہ سے جوڑا اور اللہ کی کبریائی اور حکمت پر جان و دل نثار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی حضرت ابراہیم کے مطالبہ کو نا پسند نہیں کیا بلکہ ان کو مشاہدہ و تجربہ کے ذریعہ اپنی عظمت کا عرفان عطا فرمایا۔ علم کی اس منزل کو حق الیقین کہا گیا ہے جب کہ معلومات کی منزل کو علم الیقین اور مشاہدہ کی منزل کو عین الیقین کہا گیا ہے۔ حق الیقین علم کی آخری منزل ہے۔ قرآن پاک میں بیان کردہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ تجربہ ہماری حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے جو خزانے پیدا کیے ہیں ہم ان کی تلاش و تحقیق کریں اور دنیا کی تعمیر و ترقی میں اپنا فرض ادا کریں۔ قرآن پاک میں بہت سی تخلیق کا تذکرہ مجمل انداز میں کیا گیا ہے، اگر ہم اپنی تحقیقی کاوشوں سے اس اجمال کی تفصیل حاصل کر سکیں تو ہمارے لیے یہ شرف وسعادت کی بات ہوگی اور ہماری علمی ترقی کو روحانی سرور ملے گا۔” (صفحہ 87) اسی طرح مصنف قرآن کریم میں بیان کیے گئے دوسرے مشاہدات مثلاً پانی کی تخلیق، شہد کی مکھی، دودھ کا چشمہ وغیرہ کی طرف قارئین کو توجہ دلاتے ہیں.

کتاب کے پانچویں اور آخری باب "ہماری تعلیمی ترجیحات” میں مصنف نے بتایا کہ ہندوستان کے مسلمان اگرچہ اقلیت میں ہے لیکن پوری دنیا میں بہت سے اقوام اقلیت میں ہے لیکن انہوں نے اکثریت کے سامنے اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے لوہا منوایا. وہ امریکہ میں مقیم پانچ فیصد یہودیوں، ملیشیا میں 35 فیصد چینی افراد کا ذکر کرتے ہیں. مصنف سب سے پہلے باصلاحیت بننے پر زور دیتے ہیں، مصنف کہتے ہیں کہ تعلیم کے پھیلاؤ نے رسمی تعلیم اور صرف ڈگری حاصل کرنے کی اہمیت کو کم کر دیا ہے جبکہ پیشہ ورانہ تعلیم اور مقابلہ جاتی امتحانات کی اہمیت بڑھا دی ہے اور یہ زمانہ کی ضرورت ہے اور مسلمانان ہند کو اس سلسلے میں آگے آنا چاہیے؛ مصنف چاہتے ہیں کہ اہل ثروت مسلمان نادار مگر ذہین بچوں کی کفالت کریں جیسا کہ امام ابو یوسف کی کفالت امام ابو حنیفہ نے کی. اس سلسلے میں وہ ابن سینا کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "مشہور فلسفی ابن سینا ایک دن بازار سے گزر رہے تھے، انہوں نے دیکھا کہ ایک بچہ نانبائی کی دوکان پر آگ مانگ رہا ہے تا کہ اس کی ماں چولہا سلگائے۔ نان بائی نے کہا تیرا ہاتھ جل جائے گا، بچے نے فورا راکھ اٹھا کر ہاتھ پر رکھ لیا اور کہا اب ہاتھ نہیں جلے گا۔ ابن سینا بچہ کی ذہانت سے متاثر ہوئے ، اس کے پیچھے اس کے گھر تک گئے اور اس کے باپ سے جو مجوسی تھا بچہ کو مانگا تا کہ پڑھا لکھا کرواپس کر دیں، باپ راضی ہوگیا، ابن سینا نے اس کی تعلیم وتربیت کی ، فلسفہ کی تاریخ میں بہمن یار نامی جس فلسفی کا ذکر ملتا ہے وہ یہی بچہ تھا۔” (صفحہ 100)

انہوں نے ماضی میں اس طرح کی کوششوں کے نتائج بیان کیے ہیں، ایک اور ترجیح مصنف کے نزدیک لڑکیوں کے لئے تعلیم گاہیں کھولنا ہے. اسی طرح مصنف متوازن نظام کی ضرورت پر قاری کی توجہ مبزول کراتے ہوئے کیرالا کے مسلمانوں کا طریقہ بتاتے ہیں کہ وہ صبح کے وقت اپنے بچوں کو دینی درسگاہوں میں بھیجتے ہیں اور ناشتہ کے بعد عصری اسکولوں میں. اس باب میں مصنف نے تعلیم اور مغربی کلچر اور تعلیم پر مشرکانہ اثرات پر مختصر مگر جامع روشنی ڈالی ہے۔

کتاب کی زبان خوبصورت ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے کتاب لکھتے وقت عقل کے ساتھ ساتھ دل سے بھی کام لیا ہے. 112 صفحات کی زیر تبصرہ کتاب کی نظر ثانی 2014 میں ہوئی ہے اس کے بعد بہت سے مسائل پیدا ہوئے؛ خاص کر نئی تعلیمی پالیسی کا اطلاق. ضرورت اس بات کی ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں مصنف ان باتوں پر بھی روشنی ڈالیں جو 2014 کے بعد تیزی سے پیدا ہوئی. کتاب فیکلٹی آف دینیات؛ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی نے شائع کی ہے۔ ضرورت ہے کہ اساتذہ اور طلباء اس کتاب سے خوب استفادہ کرے۔

مبصر سے رابطہ 9906653927

1 تبصرہ
  1. ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری کہتے ہیں

    عمدہ تبصرہ۔۔۔ مبارک باد

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا