رسول کریم ﷺ اور صحابہؓ کے مصائب

سہیل بشیر کار

امت مسلمہ پر تو مختلف ادوار گزرے ہیں، ایسے بھی دور آئے کہ لگا کہ امت کی ہمت اب جواب دے گی لیکن ہر دور میں علماء حق کی ایک جماعت نے عزیمت کی راہ پر ثابت قدم رہ کر امت مسلمہ کو اسوہ نبوی سے روشناس کرایا کیونکہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس امت مسلمہ کے لیے ہمیشہ source of inspiration رہی ہے. محبت رسول صلعم سے ہر مسلمان کا دل سرشار  ہے. آج جب کہ امت پر  مختلف قسم کی مشکلات کا سایہ عفریت چھایا ہے؛ ایسے میں ضرورت ہے کہ امت مسلمہ کو اسوہ محمدی صلعم سے واقف کیا جائے. پروفیسر سعود عالم قاسمی کی کتاب ” رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مصائب ” اس سلسلے کی اہم کڑی ہے، پروفیسر سعود عالم قاسمی؛ ڈین فیکلٹی آف تھیولیوجی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہیں ، اور ساتھ ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے رسالہ ‘تہذیب الاخلاق’ کے مدیر بھی. آپ کی درجنوں کتابوں نے ہمیشہ امت مسلمہ کے دل و دماغ کو متاثر کیا ہے، آپ کی تحریر میں روانی اور جدت ہے اور ساتھ ہی وہ صاحب دل بھی ہے. مصنف کو رسالتمآبصلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی محبت ہے. موصوف اس ملت کے نبض شناس ہیں. آپ جانتے ہیں کہ کس وقت کیا تحریر میں لانا چاہیے. جب یہ محسوس ہوا کہ امت مسلمہ تعلیمی میدان میں کمزور ہے؛ تو اسوہ نبوی کی روشنی میں امت مسلمہ میں تعلیمی بیداری کے لیے کئیں کتابیں لکھیں. جب دیکھا کہ عالمی سطح پر اسلامیا فوبیا ہے تو "مطالعہ مذاہب کی اسلامی روایت ” سپرد قلم کیا، اب جب ملت اسلامیہ ہند مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے تو ملت اسلامیہ ہند کو اسوہ نبوی اور اسوہ صحابہ کی روشنی میں ان مشکلات سے نکلنے کا ہی نہیں بلکہ ایسے حالات میں جیینے کا طریقہ سکھانے کے لیے "رسول کریم صلعم اور صحابہ رض کے مصائب .” نامی کتاب پر خامہ فرسائی کی. پروفیسر صاحب کی ہر تحریر کی علمی حلقوں میں پریزائی ہوئی، پروفیسر سعود عالم قاسمی  زیر تبصرہ کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں: ” یہ کتاب اسی تناظر میں لکھی گئی ہے، مشکل حالات سے گزرنے والے انسانوں اور ظلم و ستم کی چکی میں پسنے والے مومنوں کی نگاہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا اسوہ روشنی کا مینار بن کر قائم رہے، جب وہ مشکلات سے دوچار ہوں تو ان مشکلوں کو دھیان میں رکھیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب نے اٹھائے، جب وہ ستائے جائیں تو مکہ کے مسلمانوں کی اذیت سے سبق لیں، جب وہ قید وبند کی مشقت جھیلیں تو شعیب ابی طالب کے قیدیوں کو یاد کریں، جب ان کو لہولہان کیا جائے؛ تو طائف کے مظلوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھیں، جب ان کے نوجوانوں کو ٹارچر کیا جائے تو وہ بلال حبشی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور آل یاسر کا خیال کریں، یعنی مسائل کے طوفان میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عزم و حوصلہ کا اتباع کریں. کسی بھی حالت میں ایمان کا دامن نہ چھوڑیں اور کسی قیمت پر حوصلہ نہ ہاریں. "(صفحہ 11) مزید لکھتے ہیں: "یہ اسوہ اگر ہمارے سامنے رہے تو ہر مشکل آسان لگے ہر مصیبت کو جھیلنا ممکن ہو جائے اور ہر اذیت کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا ہو جائے اور اگر یہ اسوہ نظروں سے اوجھل ہو جائے تو چھوٹی چھوٹی مصیبت بھی بڑی بن جائے اور معمولی ٹھیس بھی منزل کی طرف بڑھتے ہوئے قدم کو روک لے. "(صفحہ 10)

ان اقتباسات سے محسوس ہوتا ہے کہ جہاں وہ امت مسلمہ کو اسوہ نبوی اور اسوہ صحابہ کی روشنی میں مشکل دور میں جینے کا طریقہ سکھاتے ہے؛ وہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ امت کے مسائل کے تئیں کس قدر سنجیدہ ہے. مصنف نے کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا ہے. 1،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مصائب 2. زبانی اذیتیں 3. جسمانی اذیتیں اور 4. صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مصائب.

پہلے باب میں انہوں نے آزمائش، مخالفت کے اسباب پر روشنی ڈالی  ہے, ہمارے معاشرہ میں یہ غلط تصور پایا جاتا ہے کہ جو مومن ہوگا اس پر مصائب و ابتلا نہیں آسکتے حالانکہ ہر رسول کو آزمائش کے دور سے گزرنا پڑا . آزمائش سنت الٰہی ہے. رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کا آغاز کیا تو مخالفت شروع ہوئی، آہستہ آہستہ اس شدت میں اضافہ ہوتا گیا، دوسرے باب میں مصنف نے رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر زبانی زیادتیوں کو بیان کیا ہے، اس سلسلے میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان تراشی، طعن و تشنغ، الزامات، مذاق اڑانا، کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے. مصنف کی خوبی ہے کہ انہوں نے ہر جگہ قرآن کریم، اور صحیح احادیث سے استدلال کیا ہے. رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن و تشنیع کے بارے میں لکھتے ہیں: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد کا انتقال ہوگیا، صرف صاحبزادیاں زندہ رہیں تو کفار مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو طعنہ دیتے تھے اور کہتے تھے اس کا تو ذکر مت کرو، یہ بے جڑ کا آدمی ہے. مر جائے گا تو نام و نشان مٹ جائے گا، انہی حالات میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی. ‘(صفحہ 33)

اسی طرح رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر مختلف طرح سے الزامات لگاتے کبھی جادوگری کا، کبھی دیوانہ پن کا، تو کبھی سحر زدہ کہا گیا، آپ کا مذاق اڑایا گیا، گالیاں دی گئیں. ابو جہل کا رول سب سے زیادہ تھا. ابوجہل کے کردار کی  مصنف نے وضاحت سے پردہ کشائی کی ہے. (صفحہ 50)، لیکن سلسلہ صرف زبانی مخالفت اور اذیتوں پر نہیں رکا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کو جسمانی اذیتوں میں مبتلا کیا گیا. کبھی چہرہ انور ہر خاک ڈالی گئی، کبھی تھوکا گیا، کبھی جان لیوا حملہ کیا گیا، کبھی گندگی ڈالی گئی، کبھی قید کیے گئے، کبھی طائف میں لہو لہان کیے گئے، ان سب مظالم کو مصنف نے کتاب کے تیسرے باب میں بعنوان "جسمانی اذیتیں” کے تحت تفصیل سے بیان کیا ہے. تکالیف کا سلسلہ جاری تھا کہ اسی دوران اللہ نے ایک اور عظیم آزمائش میں اپنے حبیب کو گرفتار کیا. جب ابوطالب اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اس دنیا سے رخصت ہوئے؛ وہ سال تو پورا غموں کا سال تھا،یہاں تک کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ ہجرت کرنی پڑی، لیکن مشرکین کی اذیتوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی سازشیں اور کوششیں کی گئیں. مدینہ کے لوگوں پر دباؤ ڈالا گیا، اس بیچ مدینہ میں رہنے والے یہودیوں نے بھی سازشوں میں حصہ لیا اور مسلمانوں کے اندر منافقین کے گروہ نے بھی رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو تنگ کرنا جاری رکھا،ایک انسان کے لیے سب سے بڑی مشکل تب ہوتی ہے جب اس کے اہل خانہ کو تنگ کیا جائے، رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے بڑی آزمائش یہ ڈالی گئی کہ ان کی زوجہ محترمہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزامات لگائے گئے، لیکن جب مسلمانوں کو فتح ہوئی تو رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے انتقام نہیں لیا، بدلہ تو دور کی بات بلکہ انہیں مناسب وقت پر انعامات سے بھی نوازا، جنگ احد میں جب رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے؛ اس کا نقشہ مصنف ایسے کھنچتے ہیں کہ قاری خود کو اسی میدان میں تصور کرتا  ہے؛ لکھتے ہیں: "حملہ آور مشرکوں میں ابوقریہ قریش کا پہلوان تھا۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کونشانہ بنانے کے لیے یہ کہتا ہوا ‘کادونی علی محمد فلا نجوت ان نجا'” مجھے محمد کی جگہ دکھاؤ ، اگر وہ بچ گئے تو میں نہیں بچوں گا ۔ ‘وہ محمد صلعم  تک پہنچا اور اس زور کا وار کیا کہ آپ کا رخسار مبارک زخمی ہوگیا۔ خودکی دوکڑیاں رخسار میں گھس گئیں ۔ دوسرے دشمن عتبہ بن ابی وقاص نے پھر مارا اور آپ کے نیچے کا دانت شہید کر دیا اور لب مبارک کو زخمی کر دیا ، دوسرے دشمن عبداللہ ابن شہاب زہری نے بھی نشانہ لگا کر پتھر مارا، پتھر آپ کی پیشانی پر لگا اور خون بہنے لگا۔ ابوسعید خدری کے والد حضرت مالک بن سنان نے بہتے لہو کو چوس کر چہرہ انور کو صاف کیا۔۔۔میدان جنگ میں ابوعامر فاسق نے گڑھا کھود رکھا تھا تا کہ مسلمان اس میں گر جائیں۔محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر دو زرہوں کا بوجھ تھا۔ آپ اسی گڑھے میں گر پڑے۔ حضرت علی نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور حضرت طلحہ نے کمر پکڑ کر سہارا دیا۔ آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا جو شخص زمین پر چلتے پھرتے شہید کو دیکھنا چاہتا ہے، وہ طلحہ کو دیکھ لے  راوی کا بیان ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں حضرت طلحہ کا جسم چھلنی ہوگیا تھا۔ انھوں نے ستر زخم کھائے تھے۔ دوسرے صحابہ نے بھی آپ کی حفاظت میں تلوار اور تیر کے زخم کھاۓ ۔ ان میں ایک خاتون ام عمارہ بھی شامل تھیں ۔ حضرت عبیدہ بن الجراح نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار مبارک سے خود کی ٹوٹی ہوئی کڑی کو اپنے دانت سے کھینچ کر نکالا ۔ اس سے ان کے نیچے کا دانٹ ٹوٹ گیا۔ پھر دوسری کڑی کو دانت سے پکڑ کے نکالا ، دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا. "(صفحہ 85)

مظالم کا یہ سلسلہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی نہیں رکا، بلکہ صحابہ، حتیٰ کہ صحابیات پر بھی مظالم ڈھائے گئے، وہ صحابہ جو معاشرہ کے پس ماندہ تھے؛ ان پر بہت سختی کی گئی البتہ ابوبکر، عثمان جیسے صحابہ پر بھی ظلم کیا گیا. ایک بار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس قدر پیٹا گیا کہ بے ہوش ہوگئے اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے ساتھی کی حالت دیکھی تو آپ رو پڑے اور ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بوسہ دیا. کتاب کے چوتھے اور آخری باب میں مصنف نے 37 صحابہ اور صاحبات کا ذکر کیا ہے، مظالم اس قدر سخت تھے کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، وہ مصعب رضی اللہ تعالٰی عنہ جو لاڈ و پیار میں پلا، جو مکہ میں سب سے زیادہ خوبصورت لباس اور مہنگی خوشبو استعمال کرتا تھا؛ جب ان کو شہید کیا گیا توناز و نعمت میں پلے ہوئے اسلام کے اس بہادر کے جسم پر صرف ایک چادر تھی، سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتا اور پاؤں ڈھانکا جاتا تو سر کھل جاتا. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سر ڈھانک دو اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دو، رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ منظر دیکھا تو آبدیدہ ہوگیے تو سورہ احزاب کی آیت 23 تلاوت فرمایا. اس کے بعد کہا "اے مصعب، میں نے تم کو مکہ میں دیکھا تھا جہاں تمہارے جیسا حسین اور خوش پوشاک کوئی نہ تھا. آج کیا دیکھتا ہوں کہ تمہارے بال الجھے ہوئے اور جسم پر صرف ایک چادر….” (صفحہ 129) مشہور صحابی خباب بن ارت کہتے ہیں ” ایک دن مشرکوں نے آگ جلائی، مجھے اس پر لٹا دیا اور ایک مشرک نے میرے سینہ پر اپنا پاؤں رکھا، آگ اس وقت تک نہیں بجھی جب تک میری پیٹھ کی چربی پگھل کر آگ پر پانی بن کر نہ گری، پھر انہوں نے اپنی پیٹھ کھول کر دکھائی تو وہ سفید ہو چکی تھی. ‘(صفحہ 124) بلال حبشی پر کیے گئے مظالم سے سب واقف ہیں لیکن مصنف نے ان مظالم کو بہترین طریقہ سے پیش کیا ہے. لکھتے ہیں "امیہ نے حضرت بلال کو ایسی سزائیں دی کہ انسان سوچ کر ہی کانپ اٹھتا ہے، کبھی ان کی گردن میں رسی باندھی جاتی اور رسی اوباش لڑکوں کو تھمائی جاتی. وہ حضرت بلال کو رسی میں باندھ کر مکہ کی وادیوں میں دوڑاتے اور رسی کا نشان ان کی گردن پر پڑھ جاتا، کبھی مکہ کی تپتی ہوئی چٹانوں پر لٹا دیا جاتا اور گرم بھاری پتھر ان کی چھاتی پر رکھ دیا جاتا اور ڈنڈوں سے پیٹا جاتا اور کہا جاتا کہ اسلام ترک کر دو ورنہ اسی حال میں مرجاؤ گے، لیکن بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زبان پر صرف احد احد ہوتا. "(صفحہ 113)

مرد تو مرد خواتین پر بھی ظلم کیا گیا، مصنف نے ان مظالم کا نقشہ خوبصورتی سے کھینچا ہے. حضرت سمیہ کے بارے میں لکھتے ہیں:

"حضرت یاسر کی ماں سمیہ کو اسلام لانے کے باعث ابوجہل نے گالی دی اور ناف کے نیچے ایسا نیزہ مارا کہ ان کی موت واقع ہوئی. "(صفحہ 118) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب چچا  کی جنگ احد میں شہادت ہوئی اور لاش رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لائ گئی تو ان کے کان، ناک اور دیگر اعضاء کٹے ہوئے تھے یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ضبط غم کا یارا نہیں رہا، شیر خدا کی لاش کا مثلہ دیکھ کر تڑپ اٹھے اور زور و قطار روئے. "(صفحہ 152)

کتاب کے آخر میں مصنف لکھتے ہیں”دنیا بھر میں مسلمان آج جن مصائب میں مبتلا ہیں، ان سے زیادہ مصائب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے برداشت کیے، جس طرح وہ حضرات ظلم و ستم کے طوفان کے آگے چٹان بن کر کھڑے رہے اور اپنے دین و ایمان سے نہ ہٹے، اسی طرح کا صبر و استقامت کا مظاہرہ آج کے مسلمانوں کو کرنا چاہیے، کوشش کرنی چاہیے کہ وہ بھی اسلام پر اسی طرح ثابت قدم رہیں. اسلام کی اشاعت کے لیے تن من دھن لگائیں. اس راہ میں جو مشکلات و مصائب آئے ان کو برداشت کریں اور اللہ تعالیٰ سے راحت اور اجر آخرت کی امید رکھیں. "(صفحہ 157)

یہ کتاب ان غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کرتی ہے جو ہمارے معاشرہ میں پائی جاتی ہے کہ دین دار انسان کو کوئی مصیبت نہیں آتی اور جب کبھی کسی دین پسند انسان کو کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو ایسا کہا جاتا ہے کہ اس نے فلاں غلطی کی جس کی اس کو یہ سزا ملی.

160 صفحات کی یہ ہارڈ باونڈ کتاب ‘پبلیکیشن ڈویژن’ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی؛ علی گڑھ نے عمدہ طباعت اور گیٹ اپ پر شائع کی ہے. امید ہے کتاب امت مسلمہ کے لیے زاد راہ ثابت ہوگی.

مبصر سے رابطہ : 9906653927

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا