عورت قرآن کریم میں: ایک مطالعہ

ڈاکٹر مولانامحمد عالم قاسمی

(جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار)

زیر مطالعہ کتاب ‘عورت قرآن کریم میں’ اپنے موضوع کی ایک اہم جامع تحقیقی کتاب ہے، جو اس سے متعلق تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ عورت سے متعلق قدیم مذاہب کے نظریات، عصر حاضر کاپروپیگنڈہ اوراسلام میں دیے ہوئے حقوق اوراس کے عظمت ووقار کو جس رفعت شان سے بیان کیاگیا ہے ان کو مدلل اورمفصل انداز میں بڑی شرح وبسط سے اس کتاب میں یکجا کردیاگیا ہے۔

مصنف کتاب ڈاکٹر مولانا عتیق الرحمن قاسمی ایک نامور عالم دین، عظیم قلمکار اورنہایت وسیع المطالعہ شخص ہیں۔ایک درجن سے زائد کتابیں ان کے قلم گہر بار سے منصہ شہود پرآچکی ہیں۔ ہندوستان کی مشہور ومعروف خدابخش لائبریری پٹنہ کے اسسٹنٹ لائبریرین کے عہدہ سے 2006 میں سبکدوش ہوئے ہیں۔ تصنیف وتالیف کابڑا اعلیٰ ذوق ہے۔ ان کے علمی خدمات کے صلہ میں 2012 میں صدر جمہوریہ ہند کے ذریعہ اعزاز سے بھی نوازاگیا ہے۔ ان سب کے ساتھ بہت ساری تنظیموں سے گہری وابستگی ہے، آل انڈیا ملی کونسل بہار کا یہ حقیرراقم الحروف جنرل سکریٹری ہے اورآپ صدر ہیں۔ ان کی سرپرستی میں کام کرنے کا اورآپ کے تجربات ومشاہدات سے فائدہ اٹھانے کا اورقریب سے استفادہ کاموقع ملا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کاسایہ دراز کرے اوران سے ملت کو علمی فائدہ ملتا رہے۔

دیگر کتابوں کی طرح آپ کی یہ کتاب ایک اہم موضوع پر اس کے تمام گوشوں کا احاطہ کرتی ہے اورخواتین سے متعلق تمام موضوعات کو مدلل انداز میں تحریر کیا ہے اورپوری تحقیق کرکے خواتین کے حوالے سے موضوع کے تعین کے ساتھ تمام آیات قرآنی کو جمع کردیا ہے اوراس کا بھی التزام کیا ہے کہ عورتوں کے بارے میں تمام بڑے قدیم مذاہب ہندوازم، یہودی، عیسائی کے نظریات کے ساتھ جدید نظریات مغربی افکار اورقرآنی احکامات کاتقابلی جائزہ پیش کیا ہے اوراسلامی احکام کی حکمت ومصلحت اوراس کی عظمت واہمیت کونمایاں کیا ہے اوربڑی عرق ریزی سے اعداد وشمار کی روشنی میں بتایاکہ پورے قرآن پاک میں 179 موضوعات، 62 سورتوں میں 421 آیات کے تحت اللہ رب العزت نے عورتوں کا ذکر کیا ہے۔ اتنے تفصیلی انداز میں اس کاذکر دوسری جگہ بہت کم ہے، اس موضوع پر تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے یہ بہت معین ومددگار کتاب ثابت ہوسکتی ہے۔

اس کتاب کے متعلق عظیم اسلامی شخصیت حضرت مولانا رابع حسنی ندوی ناظم ندوۃالعلماء لکھنؤ مقدمہ کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’’عورتوں سے متعلق تمام حقائق کا پورے انصاف اوردقت نظر کے ساتھ قرآنی مطالعہ کی روشنی میں جائزہ پیش کیا ہے۔ وقت کی ضرورت کے طورپر سامنے آئی ہے اس پر انہیںتہنیت پیش کرتا ہوں۔‘‘ (ص:25)

عرض مصنف اورمقدمہ کے بعدسات ابواب میں اس کے عناوین بیان کیے گئے ہیں۔ باب اول میں۔ عورت مذاہب عالم میں ایک تقابلی مطالعہ۔ اس میں ہندومت، یہودیت اورعیسائیت کے تحت ان مذاہب میں عورتوں کی کیا حیثیت ہے اس کو بیان کیا ہے۔ باب دوم میں یونانی تہذیب، رومن تہذیب، ایرانی تہذیب انگلستانی تہذیب اورعرب کی جاہلانہ تہذیب پرمفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔

تیسرے باب میں عصرحاضر کے تحت عورت جدید مغربی تہذیب میں جس کے تحت مساوات مردوزن ، تحریک نسواں، حقوق نسواں کامنشور اوراس کے تباہ کن حالات وعواقب کو چشم کشا تحریر کے ذریعہ حقیقت کو آشکارا کیا گیا ہے۔چوتھے باب میں مذاہب عالم جدید مغربی تہذیب اوردورحاضر کے مسائل اورمضراثرات پرروشنی ڈالی گئی ہے۔ پانچویں باب میں عورتوںسے متعلق قرآن کریم کے پیغامات کوبڑی تفصیل سے بیان کیاگیا ہے۔چھٹے باب میں نسوانی احکامات کے تعلق سے جو سورتوں کے نام ہیں ان سب کو یکجا کردیاگیا ہے اورساتویں باب میں 179 ذیلی عنوانات کے تحت جو عورتوں سے متعلق ہیں ان احکامات کو صفحہ 63 سے 346 تک یعنی 283 صفحات میں پوری تفصیل سے بیان کیاگیا ہے۔جس سے ہرزاویہ منقح ہوجاتا ہے اورقرآن کریم میں کس عنوان کے تحت کن آیتوں میں ذکر آیا ہے ، یہ ایک نظر میں سامنے آجاتا ہے۔ عصرحاضر میں جو موضوع گاہے گاہے میڈیا میں موضوع بحث بنتا ہے اورمسلم عورتوں کے سلسلے میں جوبدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کی آزادی پراسلام پابندی لگاکر قدغن لگاتا ہے اس کا مدلل جواب اوراس کے حقیقی مقام ومرتبت کو صرف قرآن پاک کی روشنی میں واضح کیاگیا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی مصنفانہ ضابطہ ہوہی نہیں سکتا۔حالانکہ اسلام کا دوسرا اہم حصہ حدیث پاک ہے۔ جس میں عورتوں سے متعلق وافر مقدار میں واضح احکامات ہیں مگر کتاب کے موضوع کے لحاظ سے اس سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف قرآن پاک کی روشنی میں عورتوں سے متعلق احکامات کو پیش کیا ہے۔

 موصوف رقمطراز ہیں کہ ’’عورتوں کے حقوق کے لیے پوری دنیا میں جوآوازیں بلند ہوئی ہیں ان تحریکات کے صرف دو مقاصد ہیں ایک عورتوں کی آزادی دوسرے مردوں کے برابر حقوق…اس اعتبار سے دیکھا جائے کہ ان کی تحریکیں کامیاب ہوئیں یا ناکام تو اس کا جواب یہ ہے کہ پورے طور پرناکام ہوئی۔ ابھی تک وہ ہر محکمہ میں برابری حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ دوسرے آزادی کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں تعلیم اورترقی کے نام پر استحصال میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اورنسوانی اقدار بھی ختم ہورہا ہے۔ (عورت قرآن کریم میں، ص :48) اس طرح کے اہم گوشے پرسیرحاصل بحث کی گئی ہے یہ اپنے موضوع کی ایک مفید جامع تحقیقی کتاب ہے۔

352 صفحات پرمشتمل دیدہ زیب نفیس طباعت سے مزین یہ اہم کتاب مرکز تحقیقات اسلامی نیوعظیم آباد کالونی پٹنہ نے 2021میں شائع کیا ہے۔ اس کی قیمت 450 روپے ہے۔ جس کو مصنف کے علاوہ کتب خانہ انجمن ترقی اردو، اردوبازار جامع مسجد دہلی اورپرویز بکڈپو سبزی باغ پٹنہ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

٭٭٭

تبصرے بند ہیں۔