غزل کی کہانی: حکیم حامد تحسین کی زبانی 

محمد علم اللہ 

غزل ایک ایسی صنف سخن ہے جس نے ہر طبقہ کو اپنا سیر بنایا ہے، ان لوگوں کو بھی جو اس کے افہام کی بھی اہلیت نہیں رکھتے اور انھیں بھی جو اس سے خاص نسبت رکھتے ہیں، ادب شناس ہوتے اور علم و ادب کی جوت جگاکر معاشرہ کو امن و سکون، محبت و الفت اور علم و حکمت کا مسکن بنانے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ حکیم حامد تحسین کا تعلق بھی اسی دوسرے قبیلے سے ہے جو پیشے سے تو طبیب اور حکیم ہیں لیکن غزل نہ صرف ان کی محبوبہ ہے، بلکہ وہ اس کے اس حد تک پرستار ہیں کہ 77سال کی عمر میں انھوں نے اس پر کتاب لکھ ڈالی ہے جو مختصر مگر جامع ہے۔

’’غزل کی کہانی‘‘ نامی یہ کتابچہ حکیم حامد تحسین کی تصنیف کردہ ایک غزل کے تعریف کی ایک چھوٹی سی پوٹلی ہے، جس میں حکیم صاحب نے غزل کی زبانی غزل کی کہانی بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ تقریبا 37صفحے کی یہ کتاب غزل کی تعریف، اس کی نزاکت، اس کی دلربائی اور دلپذیری کو بیان کرتی ہے۔

یوں تو غزل اور اس کے فن پر بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں غزل اپنی کہانی خود ہی بیان کرتی ہے جس میں اسکی پیدائش سے لیکر مختلف ادوار اور اشکال کا ذکر ملتا ہے۔ حکیم حامد تحسین نے اس خوبصورت کتابچہ کا انتساب اپنے افسانہ نگار بھائی محمد مبین کے نام کیا ہے جو فن افسانہ نویسی میں ایک معتبر نام ہے۔ اسی طرح انھوں نے انتساب میں اپنی والدہ محترمہ اور ان تمام غزل گو شعراء کو یاد کیا ہے جنھوں نے غزل کی زلف محبوب کی چھاوں سے اٹھا کر زندگی کے تپتے ریگزار میں کھڑا کر دیا ہے۔

کتاب میں غزل، میزان غزل، غزل کی تعریف میرانام غزل ہے، خواب غزل، غزل کی کہانی کے عنوان سے الگ الگ انداز میں غزل کی کہانی غزل کی زبانی بیان کی گئی ہے۔ جس سے غزل کی کئی جہتیں روشن ہوتی ہیں۔ غزل کی تعریف کے تحت تقریبا 91چھوٹے چھوٹے اقوال قاری کو صرف متاثر ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے مختلف رنگ اور آہنگ سے متعارف بھی کراتے ہیں۔

یہ کتاب حکیم حامد تحسین کی محبتوں کا نذرانہ ہے، اس لیے اگر کوئی اس کی فن کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کرے گا تو اس کی ناکامی ہاتھ آئے گی۔ غزل کا دیباچہ دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ اور معروف صاحب قلم نسیم اختر شاہ قیصر نے لکھا ہے۔ کتاب اور صاحب کتاب کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :

’’حکیم حامد تحسین ایک جانا پہچانا نام ہے، جن کے زیر قلم آنے والے عنوانات ابدیت کا اعتبار حاصل کر لیتے اور آب حیات پی کر ہمیشہ زندہ رہنے کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں، وہ زندہ عنوانات کے ساتھ متحرک تحریریں لکھنے کے عادی ہیں، اور اب کی بار ان کے گوہر بار قلم نے غزل کو نئے نئے زاویوں سے مالا مال کر دیا۔ ‘‘

یہ کتاب غزل سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔ ہم حکیم صاحب کی صحت اور ان کے قلم میں مزید توانائی کے لیے دعاگو ہیں۔ کتاب کو فیصل انٹرنیشنل دہلی نے شائع کیا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔