فرہنگ آصفیہ کا مآخذ: مخزن فوائد

ڈاکٹر محمد ذاکر حسین

اردو لغت نویسی کی روایت کافی قدیم ہے لیکن ۱۲۰۷ھ/۱۷۹۲ء کے قبل جتنی بھی فرہنگیں مرتب کی گئیں وہ سب عام لغات سے بحث کرتی ہیں۔ محاورات و مصطلحات کے لیے مخصوص نہیں۔ اس سلسلہ کی اردو کی پہلی فرہنگ جو صرف مصطلحات کے لیے مختص ہو اور جس میں شعرا کے کلام سے سند دینے کا بھر پور التزام کیا گیا ہو، مرزا جان طپش دہلوی کی تالیف کردہ فرہنگ’’ شمس البیان فی مصطلحات الھندوستان‘‘ ہے۔ یہ ۱۲۰۷ھ/۱۷۹۲ء  میں زیور تحریر سے آراستہ ہو کر ۱۲۶۵ھ/۱۸۴۷ء میں مرشد آباد سے شائع ہوئی۔ اس کے ۵۴ سال بعد یعنی جولائی ۱۲۶۱ھ/۱۸۴۵ء میں مرزا نیاز علی بیگ نکہت دہلوی کی کتاب’’ مخزن فوائد‘‘ معرض وجود میں آئی۔ شمس البیان کے بعد یہ دوسری فرہنگ ہے جو اردو مصطلحات، محاورات اور امثال سے بحث کرتی ہے۔

شمس البیان کی طرح مخزن فوائد بھی برابر مأخذ میں شمار ہوتا رہاہے اور بعدکے لغت نگاروں نے اس سے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے، جس کے شواہد موجود ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ استفادہ کرنے والوں نے دیدہ و دانستہ اس کا اعتراف نہیں کیا۔ کیوں کہ انھیں اس بات کا خدشہ تھا کہ’’ لڑکپن سے علم زبان اور تدوین لغات کا جو عشق‘‘ ان کے سر پر سوار تھا، کہیں اس کی قلعی نہ کھل جائے۔ ان حضرات کی اس علمی خیانت سے برسوں علمی دنیا ایک اہم مأخذ سے محروم رہی۔

مخزن فوائد کے بعد ویسے تو متعدد اردو لغات لکھے گئے۔ لیکن ان میں جو سب سے زیادہ مشہور ہوئے اور جنھیں بطور مأخذ آج بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں فرہنگ آصفیہ از سید احمد دہلوی(۱۸۹۲ء)، امیر اللغات از امیر مینائی(۱۸۹۱ء)، نور اللغات از نور الحسن نیر کاکوروی(۱۹۱۷ء) اور مہذب اللغات از مہذب لکھنوی(۱۹۶۰ء) ہیں۔ ان میں صاحب مہذب اللغات کے علاوہ کسی نے بھی اپنے مأخذ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امیر اللغات اور نور اللغات پر تو خود صاحب فرہنگ آصفیہ نے سرقہ کا الزام لگایا ہے۔ اب رہا فرہنگ آصفیہ تو اس کا تقابلی مطالعہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ اس کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آجائے۔

فرہنگ آصفیہ کی تالیف مخزن فوائد کے ۴۷ سال بعد یعنی ۱۸۹۲ء میں ہوئی گرچہ اس پر کام ۱۸۷۸ء سے قبل ہی شروع ہو چکا تھا۔ لیکن بزعم مصنف ’’ چند موانعات‘‘ کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوتی چلی گئی۔ الغرض اس فرہنگ کا شمار ابتدا ہی سے اردو کے معتبر و مستند مأخذ میں ہوتا چلا آرہا ہے اور آج بھی اس کی مأخذیت بر قرار ہے۔ لیکن اس کا سب سے تاریک پہلو، جس کی طرف ابھی تک اہل علم کی نگاہیں منعطف نہیں ہوئی ہیں، یہ ہے کہ اس فرہنگ کی تالیف میں نیاز علی بیگ نکہت دہلوی کے مخزن فوائد سے نقل کی حد تک استفادہ کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مصنف اپنی علمی دیانت داری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے دیباچہ میں اس اہم مأخذ کا تذکرہ ضرور کرتے تاکہ علمی دنیا ایک اہم مأخذ سے روشناس ہو جاتی۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس کے بر خلاف ایک نیا ہی راگ الاپا کہ:

’’ ایک کشمیری دشمن دوست نما نے ہمارا انطباع لغات کی غرض سے امانتی رکھا ہوا اکٹھا تین ہزار روپیہ غصب کر لیا۔۔۔ آتش زدگی نے ہمارا دل جلایا۔ تصنیف کے ڈاکووں نے ہماری تصنیف پر ہاتھ مارا اور دن دہاڑے ڈاکہ ڈالا۔۔۔ بعض نامی گرامی شاعروں، عربی فارسی کے ماہروں، فن لغت سے ناآشناؤں نے ارمغان دہلی کا چربہ اتار کر لغت تراشی پر کمر باندھی۔۔۔ جس جامع امیر اللغات نے ارمغان دہلی مطبوعہ ۱۸۷۸ء میں لفظ’’ آنکھ‘‘ لے کر اس کے مشتقات اور معانی کی ہو بہو نقل بطور نمونہ چھاپی تھی۔ اسی طرح مؤلف نور اللغات نے بھی ان کی پیروی کر کے سنہ اشاعت سے پورے تین قرن بعد فرہنگ آصفیہ سے لفظ ’’بات‘‘ اور اس کے مشتقات کی ہو بہو نقل بطور نمونہ شائع فرمائی۔‘‘ (فرہنگ آصفیہ، دیباچہ)

اس قسم کے الزامات کے پس پردہ مصنف کی یہ حکمت عملی کارفرما تھی کہ وہ خود ان الزامات سے بری ہوجائیں جو وہ دوسروں پر لگائے ہیں۔ ڈاکٹر حامد حسن قادری نے مصنف کے ان الزامات کا تجزیہ کرتے وقت دو ٹوک باتیں لکھی ہیں:

’’ یہ بڑا سخت اعتراض ہے۔ حضرت امیر مینائی اور مولوی نیر کاکوروی ایسے آدمی نہ تھے کہ کسی کتاب ہوبہو نقل کرکے اپنے نام سے چھپوادیں۔ ہمارے سامنے فرہنگ آصفیہ، امیر اللغات اور نور اللغات تینوں موجود ہیں۔ اور ہم نے لفظ آنکھ اور لفظ بات کو ان میں پڑھا ہے۔ بات یہ ہے کہ الفاظ اور محاورات کسی خاص مصنف کی ملکیت نہیں ہوتے۔ ہر شخص ان کو تلاش کر سکتا ہے۔ البتہ پہلی مرتبہ جمع کرکے مرتب کردینا مؤلف کا کارنامہ ہوتا ہے۔ لیکن لغات کی تشریح اور سند کے اشعار بلا شبہ جامع و مؤلف کی ملکیت ہوتے ہیں۔ ان کی ہوبہو نقل بے شک سرقہ اور قابل الزام ہے۔‘‘(داستان تاریخ اردو، ص ۶۰۴)

قادری صاحب کے مذکورہ بالا تجزیہ سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں:

۱۔پہلی مرتبہ الفاظ و محاورات کی جمع آوری مؤلف کا کارنامہ کہلاتا ہے۔

۲۔لغات کی تشریح اور سند کے اشعار بلا شبہ جامع اور مؤلف کی ملکیت ہوتے ہیں۔

۳۔ لغات کی تشریح اور سند کے اشعار کی ہوبہو نقل بے شک سرقہ اور الزام کے زمرے میں آتی ہے۔

اس کی روشنی میں اگر مخزن فوائد اور فرہنگ آصفیہ کے تقابلی مطالعہ کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس کو چار اقسام میں منتج کرنا پڑے گا۔ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

اول۔ تشریحات اور اسناد میں مطابقت:

ان دونوں فرہنگوں کے تقابلی مطالعہ کے دوران جو چیز سب سے زیادہ کھٹکتی ہے وہ یہ کہ ان دونوں لغات میں ایسے الفاظ کثیر تعداد میں ہیں، جن کی تشریحات و توضیحات اور ان کے شواہد و نظائر میں اس حد تک مطابقت پائی جاتی ہے کہ اول لمحہ میں معلوم ہوتا ہے دونوں ایک ہی لغت کے دو ایڈیشن ہیں۔ جب کہ ان دونوں کے درمیان ۳۳ برس کا ایک لمبا عرصہ حائل ہے۔ کیوں کہ مخزن فوائد فوائد(۱۸۴۵ء) کی طباعت کے ۳۳ سال بعد یعنی ۱۸۷۸ء میں صاحب فرہنگ آصفیہ نے اس پر کام کرنا شروع کیا، جس کا نتیجہ ۱۸۹۲ء میں فرہنگ آصفیہ کے نام سے سامنے آیا۔ گویا مخزن فوائد کو فرہنگ آصفیہ پر تقدم زمانی حاصل ہے۔ اس زمانی فرق کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو فرہنگ آصفیہ ہی شک و شبہ کے گھیرے میں آتی ہے۔ یہ درست ہے کہ الفاظ اور محاورات کسی خاص مصنف کی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ اسے ہر شخص تلاش کر سکتا ہے البتہ لغات کی تشریح اور سند کے اشعار بلا شبہ جامع و مؤلف کی ملکیت ہوتے ہیں، ان کی ہوبہو نقل بے شک سرقہ اور قابل الزام ہے۔ اور صاحب فرہنگ آصفیہ بلاریب اس کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ صرف قیاسی باتیں نہیں ہیں بلکہ اس کے شواہد و نظائر موجود ہیں۔ مثلا:

مخزن فوائد

فرہنگ آصفیہ

پارے کی دیوار۔ وہ دیوار جو بے گارے اور چونے فقط سنگ و خشت سے چنی جائے۔ معروف اور خود اپبا شعر۔

وہ دیوار جو گارے اور قونے کے بغیر صرف پتھروں سے چنی جائے۔ صرف معروف کا شعر

پتھر تلے کا ہاتھ۔ عالم مجبوری اور بے اختیاری اور ناچاری اور بے بسی۔ درد، جرأت، شاہ نصیر، عظیم اور خود مصنف کے اشعار

مجبوری اور بے اختیاری کا عالم، ناچاری، بے بسی۔ درد اور جرأت کے اشعار

کنویں کی مٹی کنویں کو لگتی ہے۔ جس قدر آمد ہوتی ہے اتنا ہی خرچ ہوتا ہے۔ شاہ نصیر کا شعر

جس قدر آمدنی ہوتی ہے اسی قدر خرچ ہوتا ہے۔شاہ نصیر کا شعر

کانا ٹٹو بدھو نفر۔ عیب میں عیب۔ رنگین کا شعر

عیب میں عیب۔۔۔ رنگین کا شعر

کاکلود۔فرط الفت کا تقاضا  اور بے قراری محبت ناچار ہونا۔ رنگین کا شعر

فرط الفت کا تقاضا۔ رنگین کا شعر

کڑھنا پچنا۔ غمگین و آزردہ دل ہونا اور یاد کرنا اور جدائی میں رونا۔ انشا کا شعر

 غمگین و آزردہ خاطرہونا،یاد کرنا ،جدائی میں رونا۔ انشا کا شعر

کس حساب میں ہے۔ دائرہ حساب سے خارج ہے۔ محو کا شعر

۔۔۔دائرہ حساب سے خارج ہے۔ محو کا شعر

کانٹے بوئے۔ کار زشت و زبوں اور گناہ عظیم کیا۔ معروف کا شعر

۔۔۔کار زشت و زبوں اور گناہ عظیم کیا۔ معروف کا بھی شعر

کھلے بازار۔ سر بازار اور بے خوف و اندیشہ۔ معروف کا شعر

سر بازار، بے خوف و خطر۔ معروف کا شعر

کس کس دکھ کو جھیلا ہے۔ طرح طرح کے درد و غم اٹھائے ہیں۔۔۔ رنگین کا شعر

طرح طرح کے درد و غم اٹھائے ہیں۔  رنگین کا شعر

کنوٹھا۔ بغل، کنار، آغوش اور بر اور پہلو۔ رنگین کا شعر

بغل، کنار، آغوش اور بر اور پہلو۔ رنگین کا شعر

کمر مار کر چلنا۔ کمری ہوجانا گھوڑے کا بار گراں سے۔۔۔ معروف کا شعر

گھوڑے کا بار گراں کے سببکمری ہوجانا ۔۔۔ معروف کا شعر

کمر مارے۔ صف لشکر کے درمیان حملہ اور حربہ کیا۔۔۔ معروف کا شعر

صف لشکر کے درمیان حملہ اور حربہ کیا۔۔۔ معروف کا شعر

کون پرائی آگ میں گرتا ہے۔ کوئی کسی کے عوض جان شیرین کو تلخ نہیں کرتا اور شریک رنج و بلا اور مصیبت نہیں ہوتا۔ معروف کا شعر

۔۔۔کوئی شخص کسی کے عوض جان شیرین کو تلخ نہیں کرتا اور شریک رنج و بلا اور مصیبت نہیں ہوتا۔ معروف کا شعر

کھٹے پیالے کو جی چاہتا ہے۔ مباشرت کی رغبت اور خواہش ہے۔ رنگین کا شعر

مباشرت اور مجامعت کی خواہش کرنا۔۔۔ رنگین کا شعر

کہاں سر پھوڑوں۔ کیا کروں اور کدھر جاؤں، کچھ تدبیر بن نہیں آتی ہے، عالم مجبوری و لاچاری ہے۔ معروف کا شعر

کیا کروں اور کہاں جاؤں، کچھ تدبیر بن نہیں آتی ہے، عالم مجبوری و امر ناچاری ہے۔ معروف کا شعر

کلا توڑ ہیں۔ برابر کے بھائی ہیں کسی بات میں اور ذات میں کم نہیں ہیں اور زبردست بھی ہیں۔ مؤلف کا اپنا شعر

برابر کا بھائی جو کسی بات اور ذات بلکہ زور قوت میں بھی کم نہ ہو۔ صاحب مخزن فوائد کا شعر

کس قطار میں ہے۔ کچھ قدر و منزلت اور توقیر و عزت نہیں رکھتا۔ مصحفی کا شعر

۔۔۔کچھ قدر و منزلت اور توقیر و عزت نہیں رکھتا۔ مصحفی کا شعر

کیا چلے۔ کچھ قابو اور ذرا اختیار نہیں ہے۔ عالم مجبوری اور باعث لاچاری ہے۔ مصحفی کا شعر

کچھ قابو اور ذرا اختیار نہیں ہے۔ عالم مجبوری اور باعث ناچاری ہے۔ مصحفی کا شعر

کوئی تقدیر کے لکھے کو نہیں مٹا سکتا۔ کسی کی تدبیر سے سر نوشت تقدیر دگر گوں نہیں ہوتی۔ انشا اور مؤلف کے شعر

 کسی کی تدبیر سے سر نوشت تقدیر دگر گوں نہیں ہوتی۔ انشا اور صاحب مخزن فوائد کے شعر

کھوٹی راہ کرنی۔ عداوت سے بر وقت روک رکھنا اور بے محل رخصت کرنا اور باز رہنا صلح سے اور بگاڑنا بنی بات کو۔ جرأت کا شعر

عداوت کے باعث بر وقت روک رکھنا یا بے محل رخصت کرنا، صلح یا کام سے باز رکھنا، بنی بات کو بگاڑنا۔ جرأت کا شعر

گیہوں کی بال نہیں دیکھی۔ نادان اور ناواقف کار ہے کہ گھر سے باہر قدم نہیں نکالا۔ مؤلف کا اپنا شعر

۔۔۔ نہایت نادان اور ناواقف کار ہے کہ اس نے گھر سے باہر قدم نہیں نکالا۔ صاحب مخزن فوائد کا شعر

گونگے کا خواب۔ جس چیز کو آدمی دیکھے اور زبان سے کہہ نہ سکے۔ مؤلف کا اپنا اور جرأت کا شعر

وہ بات جسے آدمی دیکھے زبان سے کچھ نہ کہہ سکے۔ جرأت اور صاحب مخزن کے شعر

گہری سانس بھرنی۔ دم سرد کھینچنا اور دیر دیر میں سانس لینی۔ انشا کا شعر

۔۔۔ دم سرد کھینچنا ، دیر دیر میں سانس لینا۔ انشا کا شعر

گھر بیٹھے بیر دوڑانا۔ از روئے سحر و جادو کسی کو اپنے گھر طلب کرنا۔ رنگین کا شعر

 سحر و جادو کے زور سے کسی کو اپنے گھر بلوانا۔ رنگین کا شعر

لال پردہ۔ وہ پردہ کہ در دولت خاص شاہی پرآویختہ رہتا ہے۔ مؤلف اور آتش کے اشعار

وہ سرخ پردہ جو خاص شاہی در دولت پر آویزاں رہتا ہے۔ نکہت اور آتش کے اشعار

لاکھ سر کا کیوں نہ ہو۔ زبردست، قوی ہیکل، فولاد بازو، پر زور، دلیر، شجاع اور زردار کیوں نہ ہو۔ آتش کا شعر

 بہت بڑازبردست، قوی ہیکل، فولاد بازو، پر زور، دلیر، شجاع اور زردار ۔۔۔ آتش کا شعر

لگا بندھا۔ ملازم قدیم، محکوم، مطیع و فرمانبردار۔ مؤلف اور میر کے شعر

 ملازم قدیم، محکوم، مطیع ، فرمانبردار۔۔۔ نکہت اور میر کے شعر

لہو لگا کر شہیدوں میں ملے۔ بے سبب اور بے وجہ اپنے کو خرابی میں ڈالا۔ رنگین، مؤلف، شاہ نصیر اور ذوق کے شعر

۔۔ے سبب اور بلا وجہ اپنے کو خرابی میں ڈالنا۔ رنگین، نکہت، شاہ نصیر اور ذوق کے شعر

موت گھر دیکھ گئی ہے۔ جو آفت آئے گی وہ مجھ پر آئے گی۔ مؤلف کا شعر

۔۔۔جو آفت آئے گی ہمیں پر آئے گی۔ ۔۔نکہت کا شعر

منہ کہاں۔ کیا مجال اور کیا تاب و طاقت۔ میر حسن اور معروف کے شعر

 کیا مجال اور کیا تاب و طاقت ہے۔ میر حسن اور معروف کے شعر

منہ سے سنا چاہتے ہیں۔ برا سننے اور گالیاں کھانے کو جی چاہتا ہے۔ شاہ نصیر کا شعر

کیا گالیاں کھانے اور برا بھلاسننے  کو جی چاہتا ہے۔ شاہ نصیر کا شعر

وہ کملی نہیں جس میں تل بندھتے تھے۔ وہ شیٔ نہیں کہ جس کے باعث خلق اللہ کی رجوع تھی اور نہ وہ حسن رہا کہ جو کوئی عاشق ہو۔ مؤلف اور رنگین کے اشعار

اب وہ چیز نہیں رہیکہ جس کے باعث خلق اللہ کی رجوع تھییا وہ حسن نہیں رہا کہ جس پر کوئی عاشق ہو۔ نکہت اور رنگین کے اشعار

وہ دن گئے۔ ایام جوانی و روز کامرانی سپری ہو گئے اور زمانہ ناموافق ہو گیا۔ جرأت اور سودا کے شعر

ایام جوانی و روز کامرانی سپری ہو گئے اور زمانہ ناموافق ہو گیا۔ جرأت، مصحفی اور سودا کے شعر

وہ دن بھی غنیمت تھے۔ ایام گذشتہ و سابق  غنیمت و مغتنم تھے۔ جرأت کا شعر

ایام گذشتہ و سابق نہایت  غنیمت و مغتنم تھے۔ جرأت کا شعر

وہ نہیں تو اس کا بھائی اور سہی۔ کچھ ایک ہی پر مقرر اور موقوف نہیں اور سینکڑوں ہیں۔ میر کا شعر

کچھ ایک ہی پر مقرر اور موقوف نہیں اور سینکڑوں ہیں۔ میر کا شعر

وہ دل نہیں رہا۔ عشق سابق اور خواہش و محبت دیرینہ نہیں رہی۔ جرأت کا شعر

 عشق سابق اور خواہش و محبت دیرینہ نہیں رہی۔ جرأت کا شعر

ہت تری کی۔ خدا تیرا خانہ خراب کرے اور دونوں جہاں میں ذلیل و رسوا ہو۔ شاہ نصیر، جرأت، رنگین، غازی، انشا اور طالب کے اشعار

خدا تیرا خانہ خراب کرے ، تو دونوں جہاں میں ذلیل و رسوا ہو۔ شاہ نصیر، جرأت، رنگین، غازی، انشا اور طالب کے اشعار

ہاتھ پٹھے پر نہیں رکھنے دیتا۔ نہایت چست و چالاک اور شوخ و شنگ ہے۔ مؤلف کا شعر

۔۔۔ نہایت چست و چالاک اور شوخ و شنگ ہونا۔۔۔ نکہت کا شعر

ہتھیلی پر سرسوں جمائی۔ کار سخت و دشوار تر کو بہت شتاب اور نہایت جلد بہ کمال چابک دستی انصرام کو پہنچایا اور طلسم سازی اور شعبدہ بازی کی کہ جس کے دیکھے سے خرد دور بین آئینہ سا حیران و ششدر ہوئی۔ میر ، نصیر، مومن اور میر حسن کے اشعار

۔۔۔کار سخت و دشوار تر کو بہت شتاب اور نہایت جلد بہ کمال چابک دستی انصرام کو پہنچایا اور طلسم سازی اور شعبدہ بازی سے کوئی کام جھٹ پٹ کرکے  دکھا دینا۔ جس سے عقل حیران او رششدر رہ جائے۔ میر ، نصیراور مومن کے اشعار

کہاں تک ان الفاظ کو گنایا جائے۔ چونکہ یہ مختصر مقالہ اس سے زیادہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اتنے پر بس کیا جاتا ہے۔ تاہم بطور ریکارڈ ان الفاظ کی ایک فہرست ذیل میں درج کی جا رہی ہے، جن کی تشریحات و توضیحات اور اس کے اسناد میں ہوبہو یکسانیت پائی جاتی ہے۔ گرچہ پورے الفاظ ریکارڈ ہونے سے رہ گئے ہیں:

کھوٹی کی، کہاں لاکر پھنسایا، کیا شاخ نکلی ہے، کمینہ سے خدا کام نہ ڈالے، کس شمار و قطار میں ہے، کھٹ پٹ کرنی، کس پورے پر، کہا سنا، گور میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں، گہہ بیٹھا، گنگا پار کیا، گٹکا، گہرے یار ہیں، گیا جان سے، گل بوٹا، گھمسان، گور کا منہ جھانکتا ہے، کنڈلی مارنا، گلیاں جھنکارنا، گولی بچائی، لگی بری ہوتی ہے،  لگ لگنے نہ دیا، لوں چلنا، لبڑو، لالوں لال، لگانا بجھانا، لڑائی تلی، لاکھ چوہے کھاکر بلی حج کو چلی، لادنا پھاندنا، لال پری، لیمو کے چور کا ہاتھ کٹتا ہے، لگانے والے، مرغی کو تکلے کا گھاؤ یا داغ  بہت ہے، منہ سے بولے نہ سر سے کھیلے، مزے کے مارے، ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں، ہوتے نہ موا جو کفن تھوڑا لگتا، ہاتھ پاؤں ٹوٹتے ہیں، ہتھیلی کا پھپھولا، ہنسی میں اڑادینا، ہم سے اڑتے ہو، ہوا میں آگیا ہے، ہری بھری، ہولے ہولے، ہونٹ ملنا، ہوک اٹھنا، ہلکان ہونا، ہاتھ چڑھنا، ہوائیاں منہ پر اڑتی ہیں، ہوا بنانا، ہلکا پھلکا، ہوائی دیدہ، ہرسٹے، ہرتے پھرتے، ہونٹوں میں کہا، ہنس مکھ، ہاتھ میں دل رکھنا، ہوا مٹھی میں بند کی، ہم پر پھسل پڑے، ہمیں پیٹے، ہاتھ پسارنا وغیرہ وغیرہ۔

دوم۔ اسناد کی ہوبہو یکسانیت:

سطور بالا میں ان الفاظ پر روشنی ڈالی گئی، جن کی تشریحات و توضیحات اور اس کے اسناد میں ہو بہو مطابقت پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے الفاظ بھی بکثرت تعداد میں ہیں، جن کے معانی و مطالب میں تو بالکل یکسانیت نہیں ملتی کیوں کہ صاحب فرہنگ آصفیہ نے اس میں ردوبدل کر دیا ہے۔ البتہ سند میں جو اشعار نقل کیے گیے ہیں وہ بعینہ مخزن فوائد ہیں۔ چنانچہ جس طرح تشریحات و توضیحات کی ہو بہو نقل سرقہ اور قابل الزام ہے، اسی طرح سند کے اشعار کی ہو بہو نقل بھی قابل گرفت ہے۔ذیل میں ان الفاظ کی ایک فہرست دی جارہی ہے، جن کے اسناد مثل مخزن فوائد ہیں تاکہ ان کی روشنی میں کسی نتیجہ پر پہنچنے میں آسانی ہو:

پالا، پالا پڑنا، پانچ، پانی بہانا، پاؤں پڑنا، پاؤں کھینچنا، پاؤں نکالے، پاؤں نکلا، پاؤں نہ دھلوائے، پتھر ڈھونا، پرچک، پرسا، پسینہ چھوٹا، پل بندھ گیا، پھپھولے پھوڑے، تاروں بھری رات، تور، تیر کر گیا، تیل میں ہاتھ ڈالا، تیکھا کھایا، ٹٹول دیکھا، ٹکٹکی پر کھڑا کیا، جاگتی جوت، جیتی مکھی کھایا، جیوٹ، چپ ناندھنا، چٹکیلی دھوپ، چٹکیوں میں اڑایا، چکتا مارا، چورنگ لگایا، چوکی بھرنا، چھاتی سراہنا، چھری کٹاری بتاتے ہیں، سر ہاتھ پھیرا، سر ہلانا، سو جتن کیے، شیر کی بولی بولتے ہیں، شیطان کی آنت، صاحبی کرتے ہیں، صبر سمیٹنا، ظالم کی رسی دراز ہوتی ہے، قابو سے نکل گیا،قدم کو ہاتھ لگایا، قصائی کے کھونٹے بندھا ہے، کاٹا اور الٹ گئی، کاٹو تو لہو نہیں، کالک منہ کو ملے، کالی زبان ہے، کالے کوس، کام سے کام ہے، کان میٹھنا، کان دھرنا، کان دھرے، کانا باتی کرنا، کانپ اٹھنا، کانٹا سا نکل گیا، کب تھوکتے ہیں، کب کب آتا ہے، کبھی تو ہمارے بھی کوئی تھے، کتنا ماند ہے، کٹ رہنا، کچکچانا، کچے گھڑے پانی کے بھرے، کچھ بات ہے، کچھ دلائیے، کچھ کان میں پھونکا،  کچھ نہ اکھاڑا، کچھ نہیں چلتا، کرکری ہڈی، کریل ڈالنا، کڑ کھائی، کس پر پھولے ہو، کس قدر، کس کا سر لائیں، کس گنتی میں ہے، کسالا کھینچا، کسی سے حرف نہیں اٹھ سکتا، کسی سے سائی کسی سے بدھائی، کسی کا ہاتھ چلے کسی کی زبان چلے، کسی کو اپنا کر رکھو یا کسی کے ہو رہو، کشتی، کعبہ ہو تو منہ نہ کروں،  کلپایا، کمان نکلی، کمر بندھوائی،  کمیلا،  کن پھول اور کرن پھول، کنڈی، کنویں بھانگ پڑی ہے، کنے ڈھیلے ہو گیے ہیں، کنیانا، کوتہ گردن، کوٹھے چڑھے، کور، کوڑھ مغز، کوکھ اور مانگ سے ٹھنڈی رہے، کولادنگیاں، کولی میں بھر لیا، کون دن تھے، کیا اکھاڑ سکتا ہے،  کیا تھا کیا ہوا، کیا خدائی ہے، کیا خو نکالی ہے، کیا کیا کچھ کہا، کیا یاد کروگے، کیری آنکھ، کیڑے پڑیں، کیڑے مغز کے اڑ گئے، کیسریابانے والے، کہاں سے کہاں ٹپک پڑے، کہاں کی بلا پیچھے پڑی، کہلاتا ہے، کہنے سے بات پرائی ہوتی ہے، کہنے کو بات رہ گئی، کہنے کی باتیں ہیں، کھاگ سی، کھایا پیا انگ نہیں لگتا، کھج، کھجانا، کھجوری چوٹی، کھچا کھچ، کھڑا دونا، کھڑ گنجی، کھسوٹنا، کھل بیٹھو، کھل پڑے، کھلے بالوں،  کھلیان ہوجانا، کھندل مارا، کھنڈ، کھوج کھویا، کھوجڑا جائے، کھیرا ککڑی کرنا، کھیل اڑ کر منہ میں نہ آنا، گاڑھے ہیں، گال پھلانا، گالیوں کی بوچھاڑ کرنا، گانٹھ میں زر، گپ شپ، گپھ دار، گت بھرنی، گٹھ جانا، گٹھری کر دیا، گجھے اشارے،  گدا کا، گدی پر ناگن ہے، گدھے پر کتابیں لادی ہیں، گرجتے ہیں سو برستے نہیں، گرد کو نہیں لگتا، گردن اینٹھی رہتی ہے، گرد نامہ، گرماہٹ، گرہ کا کھویا، گرہ کا بل، گل بوٹا، گلیاں چھانی، گم صم، گند کاٹنا، گندی روح، گوبر گنیش، گود بھری جاتی ہے، گودنا، گور گڑھا، گوری چمڑی، گولی کان پر سے گئی، گولیاں کھیلتے ہیں، گونگے کی مٹھائی، گئے وہ دن، گیا جان سے، گیا وقت، گیدربھبکیاں، گیڑیاں کھیلنی، گہرا پردہ، گہرا ہاتھ لگا، گھٹا جھومنا، گھر اف ہو جانا، گھرانا، گھر آئے کی شرم، گھر تجنا، گھر کی پونجی، گھر کے گھر صاف ہو گئے، گھر گھاٹ، گھر گھاٹ معلوم ہے، گھر والی، گھس پیٹھ کے، گھس لگانے کو بھی نہیں، گھمڑیاں، گھنگھرو سا لدا ہے، گھوڑے جوڑے کی خیر، لاکھ پر بھاری ہے،  لاگو، لانگنا، لٹک چال، لچی، لچھن سے جھڑ جانا، لڑائی میں مٹھائی نہیں بٹتی، لڑنا بھڑنا، لڑنت، لکھے موسی پڑھے خدا،  لگانے والے، لگتا تار، لگن لگی، لگواڑ، لنگوٹیا یار، لوٹنے کی جائے ہے، لونڈوں گھیری یا لونڈوں کھدیری، لوہا لاٹھ، لوہا لوٹا، لیے مرتے ہیں، لہولہان، ماتھا کوٹا، ماچاتوڑ، مار ذبح کیا، مار مار کے بچھا دیا، مال پچا، مال مست، ماموں، مجرا کیا، مجنوں کا ٹیلا، مچھی بھون، محرمات، مرت بیایی، مردے کا مال ہے، مرغ مصلی، مرگ مارا، مرنا جینا لگ رہا ہے،مزاج والے، مزہ پڑا ہے، مسوسنا، مشکیں کسیں، معمول کے دن، مفلسا بیگ، مکھی چوس، مکھی ناک پر نہیں بیٹھنے دیتے، مکھیاں بھنکتی ہیں، مکھیوں کا چھتا،  ملکٹ، ملنسار، ملے پنچ، ممولے چنا، منڈ، منڈلاتے پھرتے ہیں، منکا ڈھلکا، منہ پر برستی ہے،  منہ پر شفق پھولی ہے، منہ پر کچھ پیٹھ پیچھے کچھ،  منہ پر کی ساری باتیں ہیں، منہ پر کہنا خوش آتا ہے، منہ پر ناک نہیں، منہ پڑی، منہ در منہ، دیکھی کی چاہ، منہ زور، منہ سنبھالو، منھ اٹھ جانا، موت کا طمانچہ،  موت کو پکڑا تو زحمت قبول کی، موت کے دن پورے کرتے ہیں، موتی ٹھنڈے ہیں، موتیا بند، موٹھ چلائی یا موٹھ ماری، موذی کا جنگل، مول سے بیاج پیارا ہوتا ہے، موم کی مریم، میری جان گئی، میاں صاحب، میٹھا برس، میٹھی نظریں، میٹھے کھٹے کو جی چاہتا ہے، میٹھے ہیں، میری ہی آگ لائی نام رکھا بھسندر، میرے بڑھاپے پر کرم کیجئے، مہاراجوں کے راجا، مہم سر کی، مہندی تو پاؤں میں نہیں لگی ہے، ناس ہو گیا، ناک چنے چبوائے، ناک کا بال، ناک گھسنا، نچوڑنا، نذر پکڑی، نرا، نروٹھا، نصیب پھرنا، نصیب کی شامت، نصیبا، نصیبوں کو دعا دو، نظر گزر، نظروں میں بھانپا، نکلا ہی پڑتا ہے، نگاہ بھر کے نہ دیکھا، ننانوے کا پھیر، ننگی شمشیر ہے،  ننگی کیا نہائے کیا نچوڑے، نیل جلانا، نیل کا ٹپکا، نیلا ڈورا، نیلی پیلی آنکھیں، نہ پنیا، وار خالی دیا، وضع کہے دیتی ہے، وقت کے بادشاہ ہیں، وہ بال کھینچوں گا جس کی جڑ دور ہو، وہاں گردن مارئیے جہاں پانی نہ ہو، ہاتھ کٹواؤں، ہٹیلا، ہڑک چڑھنا، ہزاری روزہ، ہزار ہاتھ کا بن کر آوے، ہمیں ہے ہے کرے، ہوا دینا، ہوتے رہوگے، ہولنا وغیرہ۔

سوم۔ مثل مخزن فوائد بعض الفاظ کا بلا سند اندراج:

نیاز علی بیگ نکہت نے گرچہ اپنی فرہنگ میں شعرا کے کلام سے شواہد و نظائر پیش کرنے کا بھر پور التزام کیا ہے، لیکن بعض الفاظ ایسے بھی ہیں جن کی سندیں فراہم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ مناسب مآخذ و مراجع کی عدم دستیابی کے باعث ان کی یہ کوشش مکمل طور پر بار آور نہ ہو پائی ہو۔ لیکن یہ فہم سے بالا تر ہے کہ صاحب فرہنگ آصفیہ نے بھی ان کو بلا سند ہی ذکر کیا ہے۔ خالانکہ وہ تھوڑی سی بھی محنت کرتے تو چند الفاظ کے شواہد آسانی سے حاصل کر سکتے تھے۔ بطور نمونہ ان الفاظ کی ایک فہرست ذیل میں دی جارہی ہے جو دونوں لغات میں بلا سند مذکور ہیں:

تلا گودن کرنا، کاٹھ کا الو ہے، کالے کوے کھائے ہیں، کام چور نوالے حاضر، کام دولہا دلہن سے پڑتا ہے، کلا چلے اور ستر بلا ٹلے،کماویں میاں خانخاناں اڑاویں میاں فہیم، کولہو کے بیل کو گھر میں منزل ہے، کیا درزی کا کوچ کیا درزی کا مقام، کیا قاضی گلہ کرے گا، کھاگ، کھٹا پٹ رہتی ہے، کھرپی، گدھے کا  کھایا کھیت نہ پاپ نہ پن، گڑ ہوگا تو مکھیاں بہت آئیں گی، گنگا نہانا، گور گڑھنا، گہرا سہاگ، گھٹنے پیٹ کو نہرتے ہیں، گھر کر ستر بلا سر دھر، گھر کی مرغی دال برابر، گھر گھوڑا نخاس مول، گٹھری حلال بقچہ مردار، لادنا پھاندنا، مرغے کی آواز؍ بانگ کون سند کرتا ہے، مفلسی میں آٹا گیلا، ملا کی دوڑ مسجد، ملماں، منہ سے مہابا ہے، منھ کا میٹھا پیٹ کا کھوٹا، مورکھ کی ساری رین قتر کی ایک گھڑی،  موئی بچھیا بامن کے نام، ہاتھ گھسائی ہے، ہاتھی سے گنا کھانا، ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور ہیں اور کھانے کے اور، ہتھیلی میں چور پڑا، ہری چگ، ہڑک چڑھنا۔

چہارم۔ مثل مخزن فوائد بعض اشعار کا شعرا سے غلط انتساب:

فرہنگیں شعرا کا تذکرہ نہیں ہوا کرتیں کہ اشعار کا غلط انتساب حصول مقصد میں چنداں حائل ہو۔ذوق کا کلام غالب سے یا دوسرے ممتاز شاعر سے منسوب ہوجائے تو سند کے اعتبار میں کوئی فرق نہیں آئے گا، لیکن مناسب یہی ہے کہ اشعار اصل شاعر سے منسوب کیے جائیں۔  اس سے سند کا اعتبار قائم رہتا ہے۔ اس قسم کی غلطیاں مخزن فوائد میں پائی جاتی ہیں اور یہی فرہنگ آصفیہ میں در آئی ہیں۔ مثلا’’ ٹوپی والے‘‘ کی سند میں نکہت نے میر کا  یہ شعر نقل کیا ہے:

 دلی کے کج کلاہ لڑکوں نے

 کام عشاق کا تمام کیا

کوئی عاشق نظر نہیں آتا 

ٹوپی والوں نے قتل عام کیا

حالانکہ ’’ نکات الشعرا‘‘ طبع اول ص ۲۸ میں بنام پیام موجود ہے۔ صاحب فرہنگ آصفیہ نے بھی اسے میر کا تسلیم کیا ہے۔

’’ کلپایا‘‘ کی سند میں غافل کاشعر درج کیا گیا ہے:

                جو کوئی کسی یار کو کلپاوے گا

                یہ یاد رہے وہ بھی نہ کل پاوے گا

                اس دیر مکافات میں سن اے غافل

                جو آج کرے گا سو وہ کل پاوے گا

جب کہ یہی شعر ’’ تذکرہ میر حسن‘‘، ص ۶۷ میں بنام محمد علی خاں مشہور بہ مرزائی مذکور ہے۔  اس کو سید احمد دہلوی نے بھی غافل کا ہی قرار دیا ہے۔

اور’’ جی کی جی میں رہی‘‘ کی سند میں انشا کا یہ شعر شامل کتاب ہے:

                جی کی جی میں  رہی بات نہ ہونے پائی

                ایک بھی ان سے ملاقات نہ ہونے پائی

یہ انشا کا طبع زاد نہیں بلکہ درد کا ہے اور اس کے دیوان ص ۳۶ میں موجود ہے۔ فرہنگ آصفیہ کے مؤلف نے بھی اسے انشا کا مانا ہے۔

اسی طرح ’’ ہمیں ہیں جو یہ مگدر بھانتے ہیں‘‘ کی سند سودا کے اس شعر سے پیش کی گئی ہے:

 نہ سنبھلا آسماں سے عشق کا بوجھ

ہمیں ہیں یہ جو مگدر بھانتے ہیں

                جب کہ ’’ دیوان قائم‘‘ کے ص ۱۱۹ پر یہ شعر موجود ہے۔ فرہنگ آصفیہ میں بھی یہ بنام  سودا مذکور ہے۔ ان چند مثالوں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ صاحب فرہنگ آصفیہ نقل نویسی نیں اتنے منہمک تھے کہ ان کو یہ بھی نہ اندازہ ہو سکا کہ وہ انھیں غلطیوں کو دہرا رہے ہیں جو صاحب مخزن فوائد سے سرزد ہوئی تھیں حالانکہ اگر وہ چاہتے تو ان غلطیوں کا ازالہ کر سکتے تھے۔

مذکورہ بالا سطور میں جن نکات کو بنیاد بنا کر تفصیل سے گفتگو کی گئی، اس کی روشنی میں مجھ جیسا ایک ادنی طالب علم بھی بہ آسانی یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ فرہنگ آصفیہ کے مؤلف نے مخزن فوائد سے نقل کی حد تک استفادہ کیا ہے۔ چونکہ خود انھوں نے امیر اللغات اور نور اللغات کے مؤلفوں پر الزام لگاتے ہوئے علمی و ادبی سرقہ کے بارے میں اپنا نقطہ نظر واضح کر دیا ہے۔ اس لیے یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ سرقہ کا جو الزام انھوں نے ان لغت نگاروں پر لگایا تھا وہی الزام ان پر بھی صادق آتا ہے۔ ان دونوں لغت نویسوں نے تو بزعم مؤلف فرہنگ آصفیہ صرف ’’ آنکھ‘‘ اور ’’ بات‘‘ اور اس کے مشتقات کی ہو بہو نقل بطور نمونہ چھاپی تھی۔ لیکن انھوں نے تو مخزن فوائد کے بیشتر حصہ کو اپنی فرہنگ میں بعینہ نقل کیا ہے۔ اس حد تک استفادہ کرنے کے باوجود انھوں نے ایک مرتبہ بھی نکہت اور اس کی فرہنگ ’’ مخزن فوائد‘‘ کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ایسا کرکے نہ صرف انھوں نے اپنی ناسپاسی کا ثبوت دیا ہے بلکہ علمی و ادبی دنیا کو بھی برسوں ایک اہم لغت سے محروم رکھا۔ شاید انھیں اس کا احساس تھا کہ اگر ’’ مخزن فوائد‘‘ کے بارے میں لوگوں کو علم ہو جائے تو ان کا یہ ’’ عظیم کارنامہ‘‘ جو برسوں کی محنت اور جانفشانی کے بعد منظر عام پر آیا ہے، کہیں اس کی قلعی نہ کھل جائے۔ اسی اندیشہ کے پیش نظر انھوں نے ایک نئی ترکیب وضع کی اور ببانگ دہل امیر مینائی اور نور الحسن نیر کاکوروی پر الزام لگایا تا کہ اہل علم حضرات اس حقیقت سے واقف نہ ہوسکیں۔ لیکن حقیقت کبھی چھپتی نہیں ایک نہ ایک دن کھل کر سامنے آجاتی ہے اور بالآخر حق دار کو اس حق مل ہی جاتا ہے۔

جہاں تک امیر اللغات اور نور اللغات کا تعلق ہے تو قرائن بتلاتے ہیں کہ ان دونوں مؤلفوں کے پیش نظر مخزن فوائد یا فرہنگ آصفیہ میں کوئی لغت ضرور رہا ہے۔ دونوں صورتوں میں مأخذ تو ’’ مخزن فوائد‘‘ ہی قرار پائے گا۔ کیوں کہ ان میں آپس میں عجیب و غریب یکسانیت پائی جاتی ہے۔

تبصرے بند ہیں۔