قمرؔ زاہدی کا شعری مجموعہ ’ساز حیات‘

ریاض فردوسی

ساز حیات پر اے قمرؔ چھیڑے غزل

مایوس حسن فردا کوئی اس قدر نہ ہو

انسان کے احساسات و جذبات اور مشاہدات و تجربات کی عکاسی کا نام شاعری ہے۔ شاعری (Poetry) کا مادہ ”شعر” ہے اس کے معانی کسی چیز کے جاننے پہچاننے اور واقفیت کے ہیں۔ ہر انسان اپنے نظریے سے سوچتا ہے لیکن صاحب حساس لوگوں کا مشاہدہ بہت ہی گہرا ہوتا ہے شاعری کا تعلق بھی حساس لوگوں کے ساتھ زیادہ ہے لیکن اِن مشاہدات و خیالات اور تجربات کے اظہار کرنے کا طریقہ سب کا جدا جدا ہوتا ہے۔ ان ہی حساس لوگوں میں ایک نام اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے،قمر ؔزاھدی نے اپنے فکار و نظریات سے نیم بیحوشی کے عالم میں پڑے ہوئے انسانوں کوبیدار کیا۔ آپ کا پورانام قمرالحسن زاہدی ہے۔ آپ قمرؔ تخلص فرماتے۔ آپ کی پیدا ئش ۲۶، اگست ۱۹۳۷ء کو گیاشہر میں ہوئی۔ آپ کی ادبی زندگی کا آغاز۱۹۴۸ ء سے ہوا، لیکن شاعری کی طرف ۱۹۴۹ ء سے رحجان پیدا ہوا۔ روایتی شاعری اور غزلیہ شاعری نے پورے بہار کو اپنے گرفت میں لے رکھا تھا۔ قدامت پسندی، تصنع اورتکلف سے لبریز ماحول میں نئے اثرات قبول کرنے کی گنجائش نہیں تھی۔ یہ دور تھا کہ بسملؔ عظیم آبادی اور حمیدؔ عظیم آبادی کا ہر جگہ، اور ادبی مجلس میں بطور خاص ذکر ہوتا تھا۔ ترقی پسند تحریک نے شعراء کو اپنے گرفت میں لے لیا تھا، جن میں رمز ؔعظیم آبادی، قمرؔ زاہدی وغیرہ شعرا ء الگ ہی نظر آتے تھے۔

واضح رہے کہ ترقی پسند شاعری کا آغاز وارتقاء1936ء یا 1939ء سے ہوا تھا یا ہونے لگا تھا۔ بہار میں مگر حالات ساز گار نہ تھے۔ قمرؔ زاہدی ایک گوشہ نشین شاعررہے۔ باشعور، باصلاحیت اور سب سے بڑھ کر سنجیدہ گفتگو ان کو سب سے ممتاز کرتی ہے۔ اور یہ باتیں ان کے کلام میں نمایاں نظر آتی ہیں !

یہ دنیا ہے غم کی دنیا، لاکھ مصائب روز کے دکھ

آہ وبکا ہے اک اک گھرمیں اپناحال سنائے کون

شاعری، سچی اور فطری محبت کا نام ہے۔ شاعر معاشرے کے شکستہ حالی کو اپنے احساس میں پیرو کر تلاطم خیز جزبات میں اس کو پیش کرتا ہے !

 سفر میں ساتھ دیتا ہے غبار رہ گزرآخر

کوئی تو رہروان شوق کاہو ہم سفر آخر

جدید فکرو روایتی اندازکا امتزاج، مقامی رنگ، منظر کشی کا حسین انداز، خوبصو رت الفاظ کا برمحل استعمال، اپنے تجربات، مشاہدات اور احساسات کو فکر کے رنگ میں رنگ کر اپنے طریقے سے بیان کرنا قمرؔ زاہدی کے کلام کی امتیازی خصوصیت ہے۔

میرؔ، درؔد، غالبؔ، انیسؔ، داغؔ، دبیرؔ، اقبالؔ، ذوقؔ،اصغرؔ، جوشؔ، اکبرؔ، جگرؔ، فیضؔ، فراقؔ، شکیب جلالیؔ، احمد ندیم قاسمیؔ، شادؔ، محسنؔ، فرازؔ، فیضیؔ، جون ایلیاؔ،بسملؔ،رمزؔاور عاجزؔوغیرہ اردو شاعری کسب سے بڑے شعرا میں سے ہیں۔ قمرؔ زاہدی کے اشعار میں غالبؔ،اقبالؔ،اکبر ؔ،جگرؔ،نظیرؔکے نظریات پنہاں نظر آتے ہیں، گویا کے وہ ان شعراء سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ آسان زبان میں قمرؔ زاہدی کو ماضی کے شعراء کے افکار ونظریات کا مجموعہ بھی کہاجاسکتاہے۔

انسان اور کتاب کا رشتہ بہت قدیم ہے،آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق کتاب سے مراد ایک ایسا مطبوعہ مقالہ ہے، جو متعدد صفحات پر مشتمل ہو اور جسے تہہ کرکے ایک طرف سے سجا دیا گیا ہو۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوتا ہے کہ دنیا کے کم و بیش تمام مذاہب کے پاس ان کی اپنی متبرک کتاب موجود ہے، ان کتابوں اور صحیفوں میں اس وقت کی اقوام اور فرقوں کو راہِ راست اور زندگی کے صحیح اصولوں اور ضابطوں پر عمل پیرا ہونے کی جابجا تلقین کی گئی ہے(اگرچہ ان میں تحریف ہو گئی ہے،سوائے قرآن مجید کے)

مظہر زاھدی نے والد کے اشعار کو کتاب کی شکل دے کر آنے والی نسلوں کے لیے بہترین تحفہ پیش کیا ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر مظہر زاھدی میڈیکل کے شعبے سے منسلک ہیں لیکن تمام تر مشغولیت کے باوجود انہوں نے اس دشوار کام کو احسن طریقے سے بہترین انجام تک پہنچایاہے۔ کتاب کی شکل دے کر اشعار کو ضائع ہونے سے بچالیاہے۔ شیخ ابراہیم ذوقؔ کے بہت ساری گراں قدرغزلیں، نظمیں اور بہت سی نایاب تصانیف کتاب کی شکل نہ دینے کی وجہ سے ضائع ہوچکی ہیں۔ آج کی سائینسی ترقی دور میں بھی کتاب نے ہی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ کتابیں اقوام عالم کی تواریخ ہے۔

مجموعہ ساز حیات کی شروعات میں قمرؔزاہدی کا اہم مضمون ’’ہم کیوں لکھتے ہیں ‘‘اس میں قمرؔزاہدی اپنی حق گوئی کی بنا پر مصنفین کی خستہ حالی یوں بیان کرتے ہیں !

 بد قسمتی یہ ہے کہ آج فنکار جس سماج میں سانس لے رہا ہے وہ مہاجنی سماج ہے جو دادو دہش کے رسوم سے بیگا نہ ہے جو دنیا نہیں جانتا صرف لینا جانتا ہے۔ اور یہاں فنکار کی حیثیت قلم کے ایک مزدور کی ہے۔ اسے بھی دو وقت کی روٹیاں چاہیے۔ مگرا خلاقانہ فرائض ادا کر کے بھی راہ قلم کو نہیں ملتیں۔ لہٰذا فن کی تخلیق کرنے والا قلم فنکار کو چند سکے مہیا کر نے کے لیے مہاجنوں کے کھاتے اور دفتروں کی فائیلوں پر سررگڑ تا ہے تب فنکار کو دوروٹیاں ملتی ہیں۔ یوں فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتیں ضائع ہوتی ہیں اور اس کے ساتھ بقول حسرت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ع

ہے مشق سخن جاری

کیا کالی داس کاشاہکار ’’شکنتلا‘‘ خیامؔ کی رباعیاں، حافظؔ کی غزلیں، اقبالؔ کے ترانے اور ٹیگور کی ’’گیتا انجلی‘‘ کی تخلیق اسی قسم سے ہوئی تھی جس کی بہترین صلاحیتیں مہاجنوں کے کھاتے اور دفتروں کی فائیلیں چاٹ جاتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

ہر فنکار کو کم سے کم اتنی اجرت تو ملنی ہی چاہیے کہ وہ فراغت کے ساتھ تخلیقی عمل جاری رکھ سکے۔ لیکن اس مہاجنی سماج میں جنس کی قیمت اس کے اوصاف کے بنا پر نہیں لگائی جاتی بلکہ بازار میں جنس کی مانگ اور اس کی کامیابی یاد ستیابی کے اصول پر طئے کی جاتی ہے(سازِحیات صفحہ۔ 22)

 پھر مظہر زاہدی کا حرف آغاز ہے،جس میں والد کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کے احساسات اور جذبات کوپیش کیا ہے۔ اگرچہ حرف آغاز غیر ادبی زبان میں ہے،مطالعہ کے وقت جگہ جگہ بوریت محسوس ہوتی ہے،مرتب کی کم علمی اورنادانی کا پتہ چلتاہے، مختلف مقامات پر ادبی غلطیاں ہیں، ترتیب کی خامی صاف نظرآتی ہے،ایسا لگتا ہے کہ حرف آغاز لکھتے وقت کسی ذہنی فکر میں مبتلا تھے،ترتیب کی تمام تر خامیوں کے باوجود مجموعی اعتبار سے(حرف آغاز کو نظرانداز کرکے) کتاب لائق تعریف و تحسین ہے،کتاب کے اشعار خواص کے لیے چراغ راہ ہیں جب کہ عوام کے لیے نشان منزل۔ ہر حساس دل اس شعری مجموعے میں سازحیات تلاش کرسکتاہے۔ مرتب ابھی طفل مکتب ہیں، ان کو سیکھنے کی،مسلسل مطالعے کی، اپنے تصانیف پرنظر ثانی کرنے کی اور کسی لائق اور فائق استاد کی اشد ضرورت ہے۔

مضمون  ’’ ترقی پسند شاعری کا ایک معمار قمرؔزاہدی‘‘

ڈاکٹر خورشید سمیع کی بہترین عکاسی ہے جواس مجموعے میں چار چاند لگادیتی ہے۔ اپنے مضمون میں ایک جگہ یوں قمرؔ زاہدی کے شاعرانہ عظمت کا اعتراف کرتے ہیں !

’’قمرؔ زاہدی ایک گوشہ نشیں شاعر رہے اور کسی قسم کی شاعری ہو، بہر حال شاعری تنہائی کی متقاضی ہوتی ہے۔ میں نے اکثر انہیں مشاعروں سے الگ دیکھا مگر جب بھی باتیں ہوئیں بہت ہی سنجیدہ اورجچی تلی رائے ملی۔ میں نے انہیں ایک باشعور اور باصلاحیت شاعر پایا اور جس طرح مشاعرے کے شاعر اور مطالعے کے شاعر میں فرق صرف صاحب نظر ہی کر سکتا ہے، اُسی طرح قمرؔ زاہدی اور مشاعروں میں گانے والے شاعر میں فرق کوئی عام سامع نہیں بلکہ صرف وہ کر سکتا ہے جسے واقعی ادب سے دلچسپی ہو(سازِ حیات صفحہ۔ 30)

ساز حیات کی امتیازی خصوصیت اس کا شاندار مقدمہ ہے جو پورے مجموعے کی جان ہے۔ مقدمے  کی دوسری خاصیت اس کا آسان اور سلیس زبان میں ہونا ہے۔

جس طرح تاریخ ابن خلدون کے مقدمہ کے مطالعہ کے بعد بہت سی باتیں واضح ہو جاتی ہیں اسی طرح مجموعہ ساز حیات کے مقدمہ کے مطالعے کے بعد شاعر کی شاعرانہ عظمت،اشعار کی قدر وقیمت، دیگر شعراء کے افکار ونظریات کی عکاسی،موازنہ شعر اور شاعری نمایاں ہوجاتی ہیں !

قمرؔ زاہدی کی شاعری میں غالب ؔکی فکر، اقبال ؔکی بیداری،اکبرؔ کا طنز، حالی ؔکا درباررسالت مآب ﷺمیں امت کے لیے فریاد اور میرؔکاغم واندوہ پنہاں نظر آتا ہے۔

اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا

ہاتھ آویں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے

(غالبؔ)

 اس سے ملنے کو کیوں رہتا ہے دل اتنا بے قرار

جس سے مل کے بے قراری اور بڑھ جائے ہے

(قمرؔ زاہدی)  

نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے

کبوتر کے تن نازک میں شاہین کا جگر پیدا

(اقبالؔ)

ہیں مآل شب سے واقف ہم اجالوں کے نقیب

ظلمت شب کی ہے کیا ہستی سحر کے سامنے

(قمرؔ زاہدی)      

 دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

(اکبرؔ آلہ آبادی)     

 ملیے کبھی سنائیں گے اشکوں سے حال دل 

 یہ پر اثر ہے طرز بیان مختصر بھی ہے

(قمرؔ زاہدی)      

بارِدنیا میں رہو غم زدہ  یا شاد رہو

ایسا کچھ کر کے چلویاں کی بہت یاد رہو

(میرؔ تقی میر)       

ساز حیات پر اے قمرؔ چھیڑے غزل

مایوس حسن فردا کوئی اس قدر نہ ہو

(قمرؔ زاہدی)      

فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہبان

بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے

(حالیؔ)     

داور محشر ﷺخطائیں بخشنے والا ہے تو

دست گیری کا ہے طالب جس سے بندہ آپ ہیں

(قمرؔ زاہدی)    

(مقدمہ، ساز حیات صفحہ۔ 41.40.39، از۔ مولاناریاض فردوسی)

نعت پاک سے مجموعے کی شروعات ہے،سلام سے مجموعے کااختتام ہے۔ ’’ساز حیات‘‘ کا ہر شعر درخشندہ و تابندہ ہے، اشعار کے مطالعہ کے بعد قارئین کے اندر اچھا بننے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے،سوئی ہوئی انسانیت جاگ اُٹھتی ہے، اصلاح و ترقی کی چاہت انگڑائی لینے لگتی ہے اور ایک نئے عزم و حوصلے کے ساتھ کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجزن ہوجاتا ہے۔ قمرؔ زاھدی اب نہیں رہے، لیکن ان کی افکار و نظریات کو جاننے کے لیے ’’ساز حیات‘‘ ہمارے سامنے ہے۔

ساز حیات سے منتخب چند اشعار!

سورج توڈھل چکا ہے تمازت نہیں گئی

راتوں کو جاگنے کی وہ عادت نہیں گئی

ہمارے شہر میں میخانے کا دستور الٹا ہے

شراب اس کو پلاتے ہیں کہ جو پیاسہ نہیں لگتا

محل کے سائے سے بہتر ہے چھائوں پیڑوں کی

کسی غریب کے کام اہلِ زر نہیں آتا

گلوں کو آتا ہے ہنسنا کلام بھی کرنا

نہ جی کاحال سنا پائے بے زباں کانٹے

ہوتا یہ کاش اہل سیاست کو تجربہ

لوٹیں تھکے ہوئے تو ملے گھر جلا ہوا

میں اپنے شہر ہی میں تھا اک اجنبی  قمرؔ

میرے وطن میں کوئی مراہم سخن نہ تھا

کیوں کر پوچھے ہے، دیوانے کدھر کو جا ئے ہے

جوملے ہے راہ میں پتھروہی برسائے ہے

ظلمت  یاس گھٹے کچھ تو شب ہجراں میں

لو چراغوں کی ذرا اور بڑھا دیتے ہیں

اب یہ آزادی کا عالم ہے کہ اپنے شہر میں

منھ میں رکھتے ہیں زباں سب بولتا کوئی نہیں

 قمرؔ زاہدی تصوف کے رموز و نکات کو یوں پیش کرتے ہیں :

جلوہ گاہے نگاہ کو اتنا وسیع بنائیے

ہوں وہ نظر کے سامنے جب بھی نظر اٹھائیے

مسجدوں میں پند کیوں، سب ہیں وہاں توپارسا

میکدے میں شیخ جی تشریف لایاکیجئے

عنایت سے اپنی نہ محروم کر

نہیں شاد کرتا تو مغموم کر

غم معاشرہ، غم حیات، اخلاقی تباہ کاریا ں، امیر وغریب کا فرق، دنیائے ادب کا گرتا ہوا معیار، ان سب کی بے انتہا فکر نے ان کے جسم کو لاغر اور کمزور کردیا تھا۔ ۱۰،ستمبر ۱۹۹۶ء کا وہ المناک صبح عالم اد ب کے لیے غم و اندوہ کا پیغام لے کر آئی کہ ندائے غربہ ومساکین، اللہ رب العزت کی بارگاہ بے کس پناہ میں بذریعے موت کے حاضر ہوا۔ مرحوم قمرؔ زاہدی اگر کچھ دن اور زندہ رہتے تواردو ادب کے لیے اور بھی کارآمدہوتے۔ بنی نوع انسانی ان سے اور بھی استفادہ کرتی، لیکن موت تو موت ہی ہے۔ ان کا یہ شعر ان کے نظریات کی عکاسی کرتا ہوا زمانہ کے قدامت پسندوں کے دلوں کو جھنجھورتا ہوا نظر آتا ہے۔

ہم اچانک یوں چلے جائیں گے اک روزقمر ؔ

ہاتھ ملتی ہوئی رہ جائیگی دنیاہم کو

قمرؔزاہدی کے پسماندگان میں چھ لڑکے اور دولڑکیاں ہیں۔ ڈاکٹرقیصر اقبال زاہدی، سرور اقبال زاہدی،ظفر اقبال زاہدی،مظفر اقبال زاہدی، منظر اقبال زاہدی،مظہر اقبال زاہدی اورصبیحہ شہناز،طلعت ناہید۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا