ماہ نامہ زندگی نو، جولائی 2021

سہیل بشیر کار

مولانا مودودی کے مضامین جب شائع ہونے لگے تو سبھی اہل علم ان کی طرف متوجہ ہوئے، حالانکہ اس دور میں علمی لحاظ سے ایسے سینکڑوں افراد موجود تھے جن کا طوطی بول رہا تھا، لیکن مولانا مودودی کے استدلال اور اسلوب نے اپنی الگ ہی چھاپ ڈالی، ان کے بعد تحریک اسلامی کے لٹریچر میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ لیکن کئی برسوں سے محسوس ہو رہا تھا کہ تحریک اسلامی اپنا زور دار لٹریچر تیار کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ وہ آج کے چیلنجز کا سامنا کرنے کی تاب نہیں لا پاتی۔ کچھ مہینوں سے تاہم روشنی کی ایک کرن نظر آنے لگی ہے۔ جب سے ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب نے ماہنامہ زندگی نو کی ذمہ داری سنبھالی ہے تو انہوں نے دور حاضر کے اہم ترین اور زندہ مضامین سامنے لانے کی کوشش شروع کی ہے۔  اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو کچھ ہی عرصہ میں تحریک اسلامی کے پاس ایسا لٹریچر تیار ہوگا، جس کے لیے وہ کبھی مشہور ہوا کرتی تھی۔

 جولائی 2021 کے شمارے میں امیر جماعت اسلامی ہند نے ہندوتوا کے بارے میں اپنے منفرد انداز سے اشارات کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس سے پہلے ان کی کچھ اہم سیریز مکمل ہوئی ہیں۔ سعادت بھائی نے زیر نظر شمارے میں ہندوتوا  کا موقف سمجھانے کی کوشش کی ہے، جس میں  ہندوتوا کے اوریجنل لٹریچر سے خوب استفادہ کیا ہے۔ سعادت بھائی کا مطالعہ اور فہم قابل رشک ہے۔ اللہ رب العزت ان کا سایہ تادیر قائم رکھے اور امت مسلمہ کو سعادت صاحب سے استفادہ حاصل کرنے کی توفیق دے۔

 مولانا ابو سلیم عبدالحی صاحب کے ایک پرانے مضمون میں ایک حدیث کی روشنی میں دلنشیں طریقہ سے دل کی حفاظت کا نسخہ بتایا ہے۔ کووڈ کی وجہ سے معاشی حالت انتہائی خراب ہوئی ہے۔ دین اسلام میں ازالہ غربت کے حوالے سے تلقین ملتی ہے۔ برادر ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب نے اس بار ازالہ غربت کی اسلامی تحریک کے عنوان سے علمی اور عملی رہنمائی کی ہے۔ رسالے میں معدوم ہو چکے فقہی مسالک پر مختار خواجہ کا ایک مضمون بھی شامل ہے، جس میں انہوں نے دکھایا ہے کہ آج جو چار فقہی مسالک ہیں ایسا ہمیشہ نہ تھا ان چار مسالک کے علاوہ بھی مسلمانوں میں کئی مسالک تھے ان میں چند مسالک کا بہترین تعارف مصنف نے پیش کیا ہے، جیسے امام اوزاعی ، امام سفیان ثوری، امام لیث، امام ابوثور، ظاہری مسلک، امام طبری کا مسلک۔ یہ اس سلسلے کی پہلی قسط ہے امید ہے باقی ائمہ کا بھی اسی طرح تعارف آنے والے قسطوں میں ملے گا۔ جو لوگ اسلام قبول کرتے ہیں ان کے عملی مسائل پر محمد انس مدنی صاحب نے روشنی ڈالی ہے، اخلاق کی تعلیم (حکومت کی پالیسیوں کا جائزہ) پر سید تنویر احمد کے مضمون کی دوسری قسط اور ناز آفریں کا مضمون مسلم عورت کے داعیانہ کردار کی بازیافت بھی رسالہ میں شامل ہے، بنیادی اقدار کے حوالے سے پاکیزہ تہذیب کے عنوان پر برادر ڈاکٹر محمد سلمان مکرم کا مختصر مگر جامع مضمون بھی شامل ہے۔ مضمون میں موصوف دکھاتے ہیں کہ پاکیزہ تہذیب بنی نوع انسان کی کیسے ضرورت ہے، زندگی نو کے اکثر شماروں میں شیخ محمد طنطاوی صاحب کی کتاب کے مضامین شائع ہوتے ہیں اس کتاب میں ہماری تاریخ کے درخشاں پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔

اس ماہ حضرت سید بن مسیب کے زندگی کے چند پہلو کو دلنشیں طریقہ سے دکھایا گیا ہے،، ایک امریکی نو مسلم جیفری لینگ کے مضمون اجالوں کا سفر کی چوتھی قسط بھی رسالہ میں شامل ہے،برادر محترم ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی زندگی نو میں دور جدید کے فقہی مسائل کے بارے میں عوام کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اس شمارے میں انہوں نے آن لائن نکاح اور خلع کے حوالے سے دلائل کے ساتھ فقہی رہنمائی کی ہے۔

امید ہے کہ برادر محی الدین غازی صاحب مستقبل میں بھی غیر روایتی مضامین لائیں گے اور ایسے لٹریچر کی اشاعت کا سامان کرینگے جس کی اس وقت بے حد ضرورت ہے۔

تبصرے بند ہیں۔