مسلوب الکرامہ: ہندوستان کے سیاسی و سماجی مسائل کی سچی تصویر

مبصر: محمّد ریحان ندوی

ڈاکٹر محسن عتیق خان کی عربی کہانیوں کا پہلا مجموعہ "مسلوب الکرامہ” کے نام سے مصر سے شائع ہوکر منظر عام پر آچکا ہے. اس مجموعہ کی خاص بات یہ ہے کی یہ ان ٤١ کتابوں میں سے ایک ہے جنہیں قاہرہ کے المکتبہ العربیہ نامی پبلیشر نے ٢٠٢٠ میں شائع کرنے کے لیے ٥٠٠ سو کتابوں میں سے منتخب کیا تھا۔  ہندوستان میں عربی میں لکھنے پڑھنے کی بڑی پرانی روایت رہی ہے اور علماء نے اس زبان میں بہت سے تحقیقی و تخلیقی کارنامے انجام دیے ہیں لیکن افسانوی ادب پر بالکل بھی توجّہ نہ دی گی، اس ناحیہ سے یہ مجموعہ اپنے آپ میں ایک الگ طرح کی کوشش ہے۔

ڈاکٹر محسن عتیق خان ایک ماہر افسانہ نگار ہیں اور ان کی کہانیاں روزمرہ کی زندگی سے تعلّق رکھتی ہیں جن میں وہ خاندانی تعلقات سے لے کر ملک اور معاشرے کے بارے میں بہت موثر انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ ان کہانیوں میں انہونے نے ہندوستانی تمدّن، یہاں کی تہذیب و ثقافت، اور رسم و رواج   کو بہت ہی آسان عربی زبان میں پیش کیا ہے  اور اس طرح  کہ ہندوستانی سماج اور بطور خاص ہندوستانی مسلم سماج اور اسکو درپیش مسائل کی واضح تصویر عربوں کے سامنے آجائے۔

 پروفیسر مخلص الرحمن اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں "کتاب کی امتیازی خصوصیت موجودہ ہندوستانی ماحول کی روشنی میں سلگتے ہوئے سماجی مسائل کے ساتھ اس کا اسلوب ہے۔ مصنف نے تمام کہانیوں کے موضوعات ہندوستانی زندگی سے لیے ہیں، اور اپنی تخیل آفرینی اور تخلیقی صلاحیتوں کا استمعال کرکے  انھیں حیرت انگیز اور دلچسپ کہانیوں کی شکل میں قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ یہ کہانیاں صرف کسی خاص ملک میں نجی معاشرے کی آئینہ نہیں ہیں، بلکہ جغرافیائی سرحدوں کو پار کرکے ایک وسیع تر معاشرے کی شبیہہ دیتی ہیں۔ مصنف نے ان کہانیوں کے ذریعے جو مسائل اٹھاۓ ہیں وہ   بہت سارے عالمی معاشروں اور دنیا کے متعدد ممالک کے مسائل ہیں. ایک مراکشی ناقد احمد الناموسی ایک عربی اخبار میں اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں "ڈاکٹر محسن عتیق نے ان کہانیوں میں زندگی کے تجربات اس طرح بیان کے ہیں کہ پڑھنے والے کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے گویا وہ خود ان سے گزر رہا ہو۔”

ڈاکٹر محسن عتیق خان امیٹھی ضلع  سے تعلّق رکھتے ہیں اور معروف سہ ماہی عربی میگزیں اقلام الہند کے مدیر ہیں اور اس سے پہلے انکی دو کتابیں اردو اور انگریزی میں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ انہوں نے دار العلوم ندوہ العلما، لکنو سے عالمیت کی تعلیم  حاصل کرنے کے بعد جے ان یو سے بی اے اور ایم اے کی تعلیم حاصل کی اور اسکے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ سے عربی ادب میں پی ایچ ڈی کی۔ امید ہے کہ اس مجموعہ کے ذریعے انہوں  نے ہندوستان میں عربی زبان میں افسانہ نگاری کی جو بنیاد ڈالی ہے اسے مزید ترقی دینگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا