معروف مترجم سید محمود احمد کریمی: ’زاویۂ نظر کی آگہی‘ کے حوالے سے

ڈاکٹر مظفر نازنین

          سید محمود احمد کریمی۔ یہ نام ہے ایسی ایک اہم شخصیت کی جن کا تعلق متھلا(بہار)سے ہے اور عمر تقریباً 89سال ہے۔ لیکن ان کا قلم ماشاء اللہ اس عالم ضعیفی میں بھی پورے شباب پر ہے اور اس طرح رواں دواں ہے کہ ان کے قلم کی روانی کو دیکھ کر مجھے رشک ہوتا ہے۔ ان کی بے پناہ خلوص اور محبتوں کی قرض دار ہوں کہ انہوں نے اپنی کتاب ’’زاویۂ نظر کی آگہی‘‘ بذریعہ ڈاک مجھے ارسال کیا۔ بہت خاص اور اہم بات ہے کہ شاید میری ملاقات ہندوستان میں کسی ایسی شخصیت سے نہیں ہوئی جنہیں اردو اور انگریزی پر یکساں عبور حاصل ہو۔ ان کا قلم انگریزی، اردو اور فارسی میں یکساں کمال دکھاتا ہے۔ بارگاہِ رب العزت میں سجدہ ریز ہوکر دعا کرتی ہوں کہ خدا سر (سید محمود احمد کریمی) کو صحت کے ساتھ طویل عمر عطا کرے اور تادیر ان کا سایہ ہم پر قائم رکھے۔

          سید محمود احمد کریمی صاحب کی کتاب ’’زاویۂ نظر کی آگہی‘‘ بہار اردو سکریٹریٹ محکمہ کابینہ راج بھاشا اردو کے جزوی مالی تعاون سے شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب رواں سال 2021میں شائع ہوئی۔ 144صفحات پر مشتمل اس کتاب کی کمپوزنگ ڈاکٹر احسان عالم، گلیکسی کمپیوٹرس، رحم خاں، دربھنگہ نے کی جبکہ مطبع روشان پرنٹرس، دہلی ہے۔ موصوف اس کتاب ’’زاویۂ نظر کی آگہی‘‘ کو پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کے نام سے منسوب کیا ہے۔

          کتاب کو تین حصوں میں ترتیب دی گئی ہے۔ پہلا حصہ کوائف جس میں صاحب کتاب (سید محمود احمد کریمی) کے حوالے سے ضروری باتیں، سوانحی خاکہ اور شجرئہ نسب کی مکمل اور مدلل وضاحت کی گئی ہے۔ دوسرے حصے میں گرانقدر مشاہیر اہل قلم کے نگارشات ہیں جنہوں نے سید محمود احمد کریمی صاحب کے حوالے سے اپنے تاثرات پیش کئے ہیں اور آخری حصہ مقالے پر مشتمل ہے جو صاحب کتاب کی اپنی تخلیق ہے۔

          عبدالمنان طرزی صاحب کی توشیحی نظم مع انگریزی ترجمہ، شاہد حسن قاسمی تابشؔ صاحب کی نظم ’’نذر محمود احمد کریمی‘‘، عبدالاحد ساز (ممبئی) کے منظوم تاثرات (رباعیات) بہت خوب ہیں۔

          ڈاکٹر احسان عالم، پرنسپل الحراء پبلک اسکول دربھنگہ کا مضمون ’’سید محمود احمد کریمی :شخصیت، مضامین اور فن ترجمہ نگاری‘‘، ڈاکٹر منصور خوشتر، ایڈیٹر ’’دربھنگہ ٹائمز‘‘ دربھنگہ کا مضمون سید محمود احمد کریمی، ایڈوکیٹ صفی الرحمن راعین میلان چوک، دربھنگہ کا مضمون ’’محمود احمدکریمی کی ادبی خدمات‘‘، ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی کا مضمون ’’ترجمہ کی مشین :سید محمود احمد کریمی‘‘ بہت خوب ہیں۔ اور یہ صاحب کتاب (سید محمود احمد کریمی) کے تناظر سے اہم پہلو اور رموز کو آشکار کرتے ہیں اور ان مشاہیر اہل قلم نے مختلف زاویہ سے ان کی نگارشات کا جائزہ لیا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کا نام ’’زاویۂ نظر کی آگہی‘‘ ہے۔

          پروفیسر عبدالمنان طرزی کی توشیحی نظم  (Acrostic Verses)جو سید محمود احمد کریمی صاحب کے تعلق سے ہیں اور جس کا عنوان ہے ’’محمود احمد کریمی :مرحبا‘‘

          اس کا ترجمہ کریمی صاحب نے کیا ہے۔ وہ حرف بہ حرف قارئین کے فن شناس نظروں کی نذر ہے:

سید

س

سید محمود احمد ہی کریمی جو ہوئے

اعلیٰ علمی خانوادے کا ہی ان کو جانئے

It is syed Mahmood Ahmad Karimi

He comes of illustrious literary family

ی

یہ بھی حق رکھتے ہیں ان پہ نظم توشیحی لکھوں

تذکرہ کچھ دانش و دانائی کا ان کی کروں

He is also entitled to be privilaged with acrostic verses

It seems incumbet to depict his learning & sagacity

دی

دعوئہ اقبال فہمی ان کا ہے بیشک بجا

یاد یوں اشعار کو اقبال کے ہے کر لیا

Doubtedlessly his claim for understanding Iqbal is correct

He has memorized poem of Iqbal in such manner

محمود

م

معتبر ہیں فارسی اشعار سے اقبالؔ کے

حافظ اشعار اقبال آپ ان کو مانئے

He is reliable at Iqbal’s persian poems

Reckon him as poem- conner of Iqbal

ح

حسن خوب انگریزی دانی کا یہ ہیں دکھلا گئے

آٹھ انگریزی میں ہیں اردو کتابیں آپ سے

He has shown utmost eloquence in English

He has rendered into English eight books in Urdu

م

مرتبہ جو ترجمہ سازی میں حاصل بھی ہوا

اس میں علمی قد یقینا آپ کا ہے بڑھ گیا

Distinct status you could get in realm of translation

That has obviously heighlened your knowledgeableness

و

وہ شعور ترجمہ سے ہیں بخوبی باخبر

راہ پر ہوتے قدم، منزل پہ رہتی ہے نظر

He is fully aware of translational skill

He does his duty in pursuance of the goal

د

داد اپنے ترجموں کی اہل فن ہے پائی ہے

خواب گاہِ یار تک ہی یہ تمنا لائی ہے

Scholars applaud him for his translation

This desire brought him to the bed room of sweatheart

احمد

ا

آپ کی انگریزی دانی نے تماشا کر دیا

گھر کے باہر Queueمیں فنکاروں کو ہے دیکھا گیا

Your knowledgeableness in English put on a show

Artists were seen in queue outside his home

ح

حضرتِ محمود پر ہے یہ کریمیؔ فیض ہی

اعلیٰ فنکاروں کو بھی ہے جستجو محمود کی

Hazrat-e-Mahmood receives bounties from "Karimi”

Eminent scholars remain in quest of Mahmood

م

معترف طرزیؔ بھی اُن کے علم و فن کا ہے بڑا

آپ کی دانشوری بے شہ ہے فضلِ خدا

Tarzi is also great confessor of your scholarliness

Undoubtedly God blessed you intellectualness

د

دردِ دل سے بھی نوازا ہے خدائے پاک نے

علم و دانش، مشغلے محبوب ٹھہرے آپ کے

God has bestowed compassionateness on you

Learning and its acquistion is your choicest engagement

کریمی

ک

کامیاب و کامراں گذری ہے ان کی زندگی

وضع داری و شرافت ان کو ورثے میں ملی

He has had a successful life

He inherits eminence and nobleness

ر

رشتہ ہے تخلیقی کاموں سے بھی گہرا آپ کا

سنچری دو چار گیندوں میں ہی لیتے ہیں بنا

You have deep interest in creative works

You could score century within two to four balls

ی

یہ عبادت آپ کی علمی ہوئی ہے مستجاب

ملنے جو آتے بغل میں دابے رہتے ہیں کتاب

Your soulful devotion to learning has been accepted

Visitors who come to meet they hold books under arm

م

مقصد آنے والے کا ہوتا بھی ہے بس اک یہی

یہ کتاب اردو سے انگریزی میں کر دیجے مری

Purpose of visitors centres round this sole motive

Get my Urdu book rendered into English

ی

یوں ہی گر ہوتی رہی اردو سے انگریزی کتاب

اردو کے جوبن پہ چھا جائے گا انگریزی شباب

If rendering of Urdu books in English continues

Urdu could be beautified by English eloquence

          حکیم شاہد حسن قاسمی تابشؔ نے شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ جس کا عنوان ’’نذر محمود احمد کریمی‘‘ ہے:

’’ہر سانس محمدؐ پڑھتی ہے‘‘ ارواح میں تابش ہوتی ہے

انوار کے بادل اٹھتے ہیں، عرفان کی بارش ہوتی ہے

’’محمود کریمی‘‘ کے دم سے مغرب میں اجالا پھیل گیا

صدیوں کا اندھیرا چاک ہوا، مردوں میں بھی جنبش ہوتی ہے

یہ ان کے قلم کی صنعت ہے، کہ اہل قلم ہیں حیرت میں

افلاک سے آتی ہے یہ صدا شاباش یوں کاوش ہوتی ہے

ہاں نعت نبیؐ کا پرچم یوں، باطل کی زمیں پر لہرائے

کفار کے سر بھی جھک جائیں، ایماں کی یہ خواہش ہوتی ہے

اے نکہت گل تھم تھم کے چلو، یہ نعت نبیؐ کی محفل ہے

خوشبوئے جناں کی موجوں میں، طوفان سی خیزش ہوتی ہے

اس شمع رسالت کے ضو کو، سینوں میں تم اپنے جذب کرو

انوار حرم کے لشکر پر ظلمت کی بھی یورش ہوتی ہے

ترسیل خیالی اے تابش! کچھ سہل نہیں بس یوں سمجھو

جب مغزل پگھلتا ہے پیہم، تب فکر کی بندش ہوتی ہے

          ڈاکٹر احسان عالم پرنسپل الحراء پبلک اسکول، دربھنگہ نے سید محمود احمد کریمی صاحب کو بہترین خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان کے مضمون کا عنوان ہے ’’سید محمود احمد کریمی: شخصیت، مضامین اور فن ترجمہ نگاری‘‘ اس مضمون میں ڈاکٹر احسان عالم صاحب نے سید محمود احمد کریمی صاحب کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیا ہے۔ صفحہ 25پر مضمون ہے جس میں تاریخ پیدائش، ابتدائی تعلیم، خانوادے، عہدے، نگارشات، تخلیقات اور ترجمہ نگاری پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ صفحہ 29پر یوں رقم طراز ہیں ’’تمثیل نو‘‘ جس کے مدیر ڈاکٹر امام اعظم ہیں اور ’’دربھنگہ ٹائمز‘‘ جس کے مدیر منصور خوشتر ہیں کوئی سالوں سے میرے مطالعے میں ہے۔ اس میں سید محمود احمد کریمی کے ترجمے اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ بتاتی چلوں کہ موصوف نے راقم الحروف (مظفر نازنین) کا مضمون بعنوان ’’کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں ‘‘ جو قومی تنظیم پٹنہ ’’الحیات‘‘ رانچی اور ’’صدائے بسمل‘‘ پٹنہ اور لکھنؤ میں شائع ہوا۔ اس کا انگریزی ترجمہ کیا جس کے لیے میں سر (سید محمود احمد کریمی صاحب) کی بے حد ممنون و مشکور ہوں۔

          مضمون کے آخری حصے میں ان کی ترجمہ نگاری کا ذکر کیا گیا ہے جن میں بطور خاص مناظر عاشق ہرگانوی صاحب کی کتاب ’’عضویاتی غزلیں ‘‘، ’’ہر سانس محمدؐ پڑھتی ہے‘‘ جو پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کا نعتیہ مجموعہ ہے۔ ’’بکھری اکائیاں ‘‘ جو افسانوں کا مجموعہ ہے قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر امام اعظم صاحب کی کتاب ’’قربتوں کی دھوپ‘‘ جو شعری مجموعہ ہے "Proximal Warmth”کے نام سے سید محمود احمد کریمی نے ترجمہ انگریزی میں کیا ہے۔ اور میں بے حد شکر گذار ہوں کہ انہوں نے ان تمام کتابوں کے ترجمے مجھے بذریعہ ڈاک ارسال کئے۔ میں نے ان کتابوں کا اور ترجمے کا بغور مطالعہ کیا اور پھر اسے پڑھنے کے بعد جو میرے ذہن پر آیا اس پر تبصرہ بھی کیا۔ جن کے عنوانات درج ذیل ہیں :

          (۱) ’’سید محمود احمد کریمی۔ گرانقدر علمی وادبی شخصیت‘‘۔ مطبوعہ 14دسمبر 2020، قومی تنظیم، پٹنہ، 15دسمبر 2020کو ’’الحیات‘‘ رانچی، قومی تنظیم، پٹنہ اور ’’اخبار مشرق‘‘کلکتہ 22مئی 2021

          (۲) ’’سید محمود احمدکریمی کی ترجمہ نگاری "Proximal warmth”کے حوالے سے، مطبوعہ ’’الحیات‘‘ 24اکتوبر 2020، 20اکتوبر 2020کو ’’اودھ نامہ‘‘ لکھنؤ 14دسمبر 2020کو ’’صدائے بسمل‘‘

          (۳)  "Encomium to Holy Prophet”کے حوالے سے مترجم سید محمود احمد کریمی صاحب

                   زیر اشاعت ہے۔

          (۴) سید محمو د احمد کریمی کی شاہکار تخلیق "Iqbal and His Mission”مطبوعہ ’’ادبی میراث‘‘ بتاریخ 12اگست 2021، 14مئی 2021’’صدائے بسمل ‘‘ پٹنہ اور لکھنؤ 17جولائی 2021کو ’’قومی صحافت‘‘ لکھنؤ میں شائع ہوا۔

          ایڈوکیٹ صفی الرحمن راعین، میلان چوک دربھنگہ کامضمون بعنوان ’’محمود احمدکریمی کی ادبی خدمات‘‘ بہت خوب ہے۔ صفحہ38پر یوں رقمطراز ہیں ’’عالمی شہرت یافتہ شاعر گوئٹے اور ادیب فاربس کا یہ ادبی تجزیہ ہے کہ ادب کی عظمت کا انحصار ادب کی معیاری تخلیق پر ہے۔ اس کسوٹی پر محمود احمد کریمی کے نمایاں ادبی خدمات صدفی صد معیاری ہیں اور فکر وفن کے زاوئیے سے امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ ‘‘

          ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی کا مضمون ’’ترجمہ کی مشین : سید محمود احمد کریمی‘‘ نظر نواز ہوا۔ صفحہ 43پر یوں رقمطراز ہیں ’’اگر ذرا مبالغہ سے کام لینے کی اجازت دی جائے تو انہیں گوشت پوشت کا ترجمہ نگار کے بجائے ترجمہ کی مشین کہنا زیادہ قرین قیاس رہے گا۔ بس اردوکا منظوم و منشور خام مواد ان کی ترجمہ جاتی مشین میں ڈال دیجئے اور پھر مشین کی دوسری جانب سے ترجمہ شدہ پختہ مواد نکال لیجئے۔‘‘

          بلاشبہ مندرجہ بالا جملے صد فیصد درست ہیں اور سید محمود احمد کریمی صاحب کے حوالے سے باوثوق کہا جاسکتا ہے کہ ترجمہ نگاری میں ان کوئی ثانی یا نعم البدل نہیں۔ میں وثوق کے ساتھ کہنا چاہوں گی کہ سید محمود احمد کریمی کا کوئی ثانی سرزمین بہار تو کیا پورے ہندوستان میں نہیں۔ زیر نظر کتاب ’’زاویۂ نظر کی آگہی‘‘ میں صفحہ 53پر Vocabularyہے۔ جس میں اردو اور فارسی کے مشکل ترین الفاظ کا ترجمہ Simple Englishمیں کیا گیا ہے۔ ان Vocabularyکو دیکھ کر موصوف کی علمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ مخصوص فارسی اور اردوکے مشکل ترین الفاظ کا انگریزی میں ترجمہ وہی کر سکتا ہے جسے اردو، فارسی، انگریزی پر مکمل عبور حاصل ہو۔

          کتاب ’’زاویۂ نظر کی آگہی‘‘ میں بہت اہم مقالے ہیں۔ جن میں بطور خاص اقبال کا تصور خودی، اقبال کی تخلیقی قوت اور سب سے آخر میں صفحہ 135پر علامہ اقبال کا پیغام عمل کے عنوان سے مقالے لکھے گئے ہیں۔ ان مضامین کو پڑھ کرمحمود احمد کریمی صاحب کے حوالے سے نئے پہلو آشکار ہوتے ہیں اور اس سے موصوف کی اقبال شناسی یا اقبال فہمی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

          صفحہ 100پر سید صاحب کاایک بہت اہم مضمون بعنوان تعلیم کی افادیت ہے۔ جن میں صفحہ 101پر یوں رقمطراز ہیں ’’ تعلیم کی حیثیت بقعۂ نور کی ہے جو انسان کو جہالت کی تاریکی سے دور رکھتی ہے اور مشعل راہ کا کام انجام دیتی ہے۔ تعلیم تمام اوصاف حمیدہ اور کار حسنہ کا سرچشمہ ہے۔ ان کے یہ خوبصورت جملے دل کو چھو دینے والے ہیں۔

          صفحہ 92پر ایک مضمون بعنوان ’’ظفر کی شاعری زندان میں ‘‘ بہت پسند آیا۔ جہاں موصوف نے ستم زدہ، آخری مغل تاجدار بہار شاہ ظفر کی شاعری کے اس دور کو بہت ہی حسین انداز میں اور لطیف اندا زمیں قلمبند کیا ہے۔ اس درد و کرب، مصائب و آلام اور نالۂ وشیون کو لفظوں کا جامہ پہنا دیا ہے جیسے وہ بالکل دلخراش منظر سامنے آتا ہے جب بہادر شاہ ظفر اسیر زنداں، ہاتھ لرزاں، دل شکستہ، چشم پرنم، قلم کو جنبش دیتے ہوئے اشعار رقم کرتے ہیں :

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

جو کسی کے کام نہ آسکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

مرا رنگ روپ بگڑ گیا، مرا یار مجھ سے بچھڑ گیا

جو چمن خزاں سے اجڑا گیا، میں اسی کی فصل بہار ہوں

          آخر میں یہ شعر رقم کرتے ہیں ـ

کتنا ہے بدنصیب ظفرؔ دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

          صفحہ 15پر ’’پیغبرپور اسٹیٹ کی ادبی اور ثقافتی خدمات‘‘ کے عنوان سے مضمون نظر نواز ہوا۔ جس میں موصوف لکھتے ہیں۔ ’’متھلا کی سرزمین ادبی، ثقافتی اور تہذیبی نقطۂ نگاہ سے بہت اہم ہے۔ یہاں بڑے بڑے فنکار، ادیب، صحافتی، شاعر، محقق، متبحر عالم اور صاحب کشف و کرامات بزرگ گذرے ہیں۔ جن پر متھلاباسیوں کو فخر ہے۔ ‘‘ آخر میں مضمون بعنوان ’’اقبال کا طرز عمل‘‘ ہے۔ اور کتاب کے آخری صفحے پر ان تمام کتابوں کی فہرست ہے جنہیں موصوف نے ترجمہ کیا ہے۔ اور بلاشبہ محمود احمد کریمی صاحب سرزمین متھلاکے نیر اعظم ہیں۔ جن پر متھلاکو نازہے۔

          میں نے اس کتاب ’’زاویۂ نظر کی آگہی‘‘ کا بغور مطالعہ کیا اور مزیدلکھنے کی خواہش ہوئی ہے۔ جو شاید تاثر پیش کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ جائیں۔

          میں سر (سید محمود احمد کریمی صاحب) کی بے حد شکر گذار ہوں کہ انہوں نے اس طرح کی نایاب کتاب مجھے بطور تحفہ پیش کیا اور اسے پڑھ کر میرے نالج میں شاعر مشرق ڈاکٹر سر علامہ اقبال کے تعلق سے کچھ اضافہ ہوا۔ جس کے لیے میں ان کی بے حد شکر گذار ہوں۔ بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں اظہار تشکر کے کے لیے الفاظ نہیں۔ عمرکے اس دور میں ان کا قلم رواں دواں ہے۔ ماشاء اللہ بارگاہ ایزدی میں سر بہ سجود ہوکر دعاکرتی ہوں کہ خدا انہیں صحت کے ساتھ طویل عمر عطا کرے اور ان کا سایہ تادیر ہم پر قائم رکھے۔

          مجھ جیسے طفل مکتب کے لیے متھلاکے اس نیر اعظم پر کچھ لکھنا تو سورج کو چراغ دکھانا ہے۔ اور وہ مجھ سے ممکن بھی نہیں۔ بس اس کتاب ’’زاویۂ نظر کی آگہی‘‘ کا میں نے بغور مطالعہ کیا۔ مجھ پر تو جیسے چودہ طبق روشن ہوا۔ اسی کا ذکر اس مضمون میں کردیا ہے۔

٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا