مقاصدِ شریعت

 ڈاکٹر غلام قادر لون

 ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب کے انتقال کی خبر سن کر بڑا دکھ ہوا۔ اللہ ان کی مغفرت کرے۔ انا للہ ونا الیہ راجعون۔ وہ 1931ء میں گورکھپور میں پیدا ہوئے تھے۔ رام پور کی درس گاہ اور علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی تھی۔ اسلامی معاشیات کے ماہر تھے۔ انھوں نے اس موضوع پر کئی کتابیں تحریر کی ہیں۔

   ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کی ایک کتاب ’مقاصد شریعت‘ کے عنوان سے 2009ء میں منظر عام پر آئی۔ ہمارے عزیز دوست سہیل بشیر کار نے کتاب بھیجی۔ کتاب کے مندرجات پر برّ صغیر کے علماء نے تنقیدی اور تیکھے تبصرے کیے تھے۔ خاک سار نے کتاب دیکھی تو کتاب کے اصل مقصد کو سمجھنے کی کوشش کی۔ فاضل مصنف نے کتاب میں جن مباحث کو چھیڑا تھا، ان سے اکثر مسلمان نابلد ہیں ۔ فاضل مصنف نے بدلتے سماجی اور سیاسی حالات کے تناظر میں جن خیالات کا اظہار کیا تھا، ان کا مقصد قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو در پیش مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے علما ء اسلام کو دعوت فکر دینا تھا۔

9/11 کے بعد پوری دنیا میں اسلام بے زاری کی لہر کے نتیجے میں اسلام کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ معاشرے میں مسلمانوں کے کردار پر بحث پو رہی تھی، مسلم تہذیب پر تنقید ہو رہی تھی، تہذیبوں کے ٹکراؤ کی باتیں ہو رہی تھیں۔ مقاصد شریعت کے فاضل مصنف نے ان حالات میں کتاب تصنیف کرکے خود مسلمانوں کو غور و فکر کرنے کی دعوت دی تھی۔

  خاک سار نے کتاب کا مطالعہ کیا، اس پر تبصرہ لکھا، جو افکارِ ملی کے ماہِ اپریل 2009ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ غالباً وہ واحد تبصرہ تھا جس میں کتاب کے مباحث کا نچوڑ آیا تھا۔ تبصرہ دیکھ کر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم بہت خوش ہوئے تھے۔ انھوں نے سہیل صاحب اور خاک سار دونوں کا فون کیا اور کہا کہ یہی ایک تبصرہ آیا ہے جو واقعی تبصرہ ہے۔ خاک سار نے کتاب میں چند خامیوں کی طرف اشارہ کیا تھا۔’ حکیم ترمذی‘ کی جگہ ’حاکم ترمذی ‘تھا۔ میں نے لکھا کہ یہ حکیم ترمذی ہیں جو نوادر الاصول اور ختم الولایۃ کے مصنف ہیں ۔ کتاب میں امام ابن تیمیۃؒ کا سنہ وفات غلط چھپ گیا تھا، میں نے اس کی بھی نشان دہی کی تھی۔ کتاب میں چند دوسری خامیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ فاضل مصنف نے اگر شیخ اکبر کی تحریریں بھی دیکھی ہوتیں تو مقاصد شریعت کی توضیح میں مدد ملتی۔ ڈاکٹر صاحب نے فراخ دلی سے کہا کہ یہ خامیاں دوسرے ایڈیشن میں دور کی جائیں گی۔

  اس کے بعد ڈاکٹر صاحب امریکہ چلے گئے۔ امریکہ جانے سے پہلے انھوں نے فون بھی کیاتھا۔ غالباً’ اسلام اور اور امن‘کے موضوع پر یا اسی سے ملتے جلتے موضوع پر کوئی سمینار تھا۔ انھوں نے فون کیا کہ موضوع سے متعلق کوئی واقعہ سنائیں ۔ خاک سار نے شیخ اکبر کا کا تحریر کیا ہوا ایک واقعہ سنایا۔وہ بہت خوش ہوئے اور کہا کہ یہ واقعہ موضوع سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ اللہ ان کی مغفرت کرے، بہت بڑے عالم اور دانش ور تھے۔

ذیل میں تبصرہ ملاحظہ فرمائیں:

مصنف : پروفیسر محمد نجات اللہ صدیقی، صفحات : 344، قیمت :140روپئے، ناشر:مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز دہلی

اردو زبان میں مختلف موضوعات پر آئے دن کتابیں شائع ہوتی رہتی ہیں مگر زیرِ تبصرہ کتاب ’’مقاصدِ شریعت‘‘ کا موضوع خاص اور منفرد اہمیت کا حامل ہے۔ فاضل مصنف نے اس میں شرعی احکام کی حکمتوں پر گفتگو کی ہے جس سے علماء اور محققین کو بحث و تمحیص کا ایک نیا میدان ہاتھ آگیا ہے۔ فاضل مصنف کا خیال ہے کہ شرعی احکام کی حکمتوں کو معلوم کرکے مقاصد شریعت کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کا حل تلاش کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

آج اسلام سیاسی یلغار اور فکری حملوں کی زد میں ہے۔ ایسے نازک حالات میں امت کو اپنے ماضی سے سبق لینا چاہیے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ اسلام کی دعوت کو جدید اسلوب میں مؤثر طریقے سے پیش کیا جائے تاکہ یہ دنیا کے سامنے ایک زندہ اور جامع نظام حیات کی شکل میں آئے جس کے اندر ان مسائل کا بہترین حل موجود ہو جنھوں نے آج کے انسانوں کو سکونِ قلب سے محروم کررکھا ہے۔ ان مسائل پر وہ علماء کرام زیادہ بہتر انداز میں گفتگو کرسکتے ہیں جو ایک طرف ان کا ادراک و احساس رکھتے ہوں اور دوسری طرف مقاصد شریعت سے گہری واقفیت رکھتے ہوں۔ فاضل مصنف کی یہ رائے وزن رکھتی ہے کہ اصل اہمیت مقاصد کی ہے جن کو حاصل کرنے کے طریقے زمان و مکان کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔ ان مقاصد کی پہچان اور ان کے حصول کے طریقوں کی تدریس میں عقل ایک فعال رول ادا کرتی ہے۔

کتاب میں مصنف نے ’’تقدیم‘‘ کے زیرِ عنوان لکھا ہے کہ دعوت و تربیت اور اصلاحِ معاشرہ جیسے اہم کاموں میں بھی مقاصد شریعت سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ انسانیت کو درپیش بعض اہم مشترکہ عالمی مسائل کے حل میں مسلمانوں کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ ان مسائل کا مقصد شریعت سے گہرا ربط ہے۔

کتاب کے ’’پیش لفظ‘‘ میں ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری صاحب نے مقاصد شریعت کے بارے میں علماء اسلام کی کاوشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیسوی صدی میں اہلِ علم کی کوششوں سے وسیع لٹریچر سامنے آیا اور امام شاطبی کی تصانیف پر خاص توجہ دی گئی۔ زیرِ نظر کتاب ’’مقاصدِ شریعت‘‘ اس موضوع پر تحریری کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ڈاکٹر انصاری صاحب نے پیش لفظ میں اہم نکتہ بیان کیا ہے کہ متقدمین نے فقہی استدلالات کے لیے ادلہ اربعہ یعنی قرآن وسنت، قیاس اور اجماع کے علاوہ مصالح اور مقاصد شریعت کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔ انھوں نے بعض معاشر علماء کے اس مشورے کو بھی ذکر کیا ہے کہ مقاصد شریعت کی روایتی فہرست میں اضافہ کی ضرورت ہے۔

کتاب میں آٹھ ابواب ہیں۔ پہلے باب میں فاضل مصنف نے کہا ہے کہ مصالح مرسلہ، اسرارِ شریعت، معانی اورحکم جیسے الفاظ سے مقاصد شریعت کا یہ تصور شروع ہی سے موجود ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل کیے گئے احکام میں بندے ہی کی بھلائی مقصود ہوتی ہے۔ انھوں نے پانچویں صدی ہجری سے لے کر آٹھویں صدی ہجری تک علماء کی کوششوں کا تذکہ کرتے ہوئے تاریخی پس منظر بیان کیا ہے۔ کتاب میں امام غزالی کے بیان کیے ہوئے مقاصد خمسہ دین، جان، عقل، نسل اور مال پر بحث کی گئی ہے۔ مقاصد خمسہ کی اس فہرست سے علماء نے رہنمائی حاصل کرکے اس موضوع پر بحث و تحقیق کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ امام شاطبی، عزالدین بن عبدالسلام، امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم نے شریعت کے مقاصد کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔ ان میں سے بعض نے امام غزالی کی فہرست میں تبدیلی کرکے ترتیب اور الفاظ بدل دئیے اور آٹھویں صدی ہجری تک کے علماء کی فکری کاوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فاضل مصنف نے جو نکات اٹھائے ہیں ان کے مطابق مقاصد شریعت کی فہرست کو صرف جان، مال، عقل، نسل اور دین تک محدود نہیں ہپونا چاہیے نیز ان کے بقول اصل اہمیت مقاصد کی ہے جن کے حصول کے طریقے زمان و مکان کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔ فاضل مصنف نے آخری نکتہ یہ بیان کیا ہے کہ مقاصد شریعت کی پہچان اور ان کے حصول کے طریقوں کی تلاش میں عقل ایک فعال رول ادا کرتی ہے۔ مصنف نے قواعد فقہیہ پر اجمالی روشنی ڈالتے ہوئے شاہ ولی اللہ دہلوی کے اضافے پر بحث کی ہے۔ انھوں نے قاری کی توجہ اس جانب مبذول کی ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی نے مقاصدخمسہ کی فہرست میں دین کی جگہ ملت کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ ان کے سامنے زوال پذیر ملت کے حالات تھے اور لفظ کی تبدیلی حالات کی تبدیلی کی آئینہ دار ہے۔ مقاصد شریعت کے باب میں امام غزالیؒ کی فہرست کوخاص اہمیت حاصل ہے مگر مقاصد شریعت کی طرف بیسوی صدی میں جو توجہ دی گئی اس میں مزید ایسے اضافوں کی بات کہی گئی ہے جن کی اہمیت بیسویں صدی میں زیادہ نمایاں ہوگئی ہے۔ کتاب میں فاضل مصنف روایتی فہرست میں اضافے کی وکالت کرتے ہوئے رفع مضرت کے ساتھ ساتھ جلب منفعت کے پہلو پر دھیان دینے کی سفارش کی ہے۔ انھوں نے آج کے عالمی اور قومی مسائل میں ماحولیاتی تلوث پر کنٹرول، قدرتی وسائل کا تحفظ، عام تباہی کے جوہری، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال پر پابندی جیسے امور سے مناسبت رکھنے والی اسلامی تعلیمات کو اہمیت کے ساتھ پیش کرنے پر زور دیا ہے۔ انھوں نے روایتی فہرست میں (۱) انسانی عزوشرف (۲) بنیادی آزادیاں (۳) عدل و انصاف (۴)ازالہ غربت اور کفالت عامہ (۵) سماجی مساوات اور دولت و آمدنی کی تقسیم میں پائے جانے والی ناہمواری کو بڑھنے سے روکنا (۶) امن و امان اور نظم و نسق (۷) بین الاقوامی سطح پر باہمی تعامل اور تعاون کے اہداف شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔ فاضل مصنف کا اضافہ دعوت دین کی تاریخ میں ایک گراں قدر خدمت ہے۔ انھوں نے قرآنی آیات سے اپنی بات کو باوزن بناکر عصر حاضر کے زرخیز ذہن کے سامنے اسلام کو آفاقی دین کی حیثتی سے پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، جس سے غوروفکر کے لیے ایک نیا گوشہ سامنے آیا ہے۔ کتاب میں تاریخی شواہی اور امکانات کی روشنی میں نئے اجتہاد میں مقاصد شریعت کے رول پر بحث کی گئی ہے اور غیر مسلم انسانیت سے تعامل، اسلامی سماج میں خواتین کے کردار کی بحالی اور گلوبلائزیشن کے پیدا کردہ مواقع سے اسلام کے حق میں کام لینے کی وکالت کی گئی ہے۔ کتاب کے مواد سے غیر مسلم ممالک میں رہنے والی مسلمان اقلیتوں کو ایسا فکری اور علمی سرمایہ فراہم ہوا ہے جس سے کام لے کر وہ اپنے غیر مسلم بھائیوں کے سامنے اسلام کی اچھی تصویر پیش کرسکتے ہیں یا کم از اسلام بیزاری کے ماحول کی حدت کو کم کرسکتے ہیں۔

کتاب کے دوسرے باب ’’مقاصد شریعت اور معاصر اسلامی فکر، وقائع اور امکانات‘‘ کے عنوان کے تحت طریقہ بحث کی تلاش کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔مصنف نے عالم اسلامی میں نئی فکری لہر کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتی مسلم معاشروں میں جو سوالات ابھر کر سامنے آئے ہیں ان سے غیر مسلم ممالک کی اسلامی تحریکوں کو اس امر کا احساس ہوا ہے کہ انھیں برادرانِ وطن کے سامنے حریف نہیں داعی بن کر آنا چاہیے۔ دستور سازی اور اسلامی قوانین کی تدوین جدید اور علمی و فقہی اداروں کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے فاضل مصنف نے لکھا ہے کہ ہر میدان فکر میں اجتہاد پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ کتاب میں معاصر فکر اسلامی اور مقاصد شریعت کی عملی مثالیں دی گئی ہیں۔ کرنسی نوٹ کی شرعی حیثیت دعوت کا بغیر محرم کے سفر کرنے، صدقہ فطر کی نقد کی شکل میں ادائیگی اور قطبین کے علاوں میں نماز اور روزے کے اوقات کے تعین وغیرہ جیسے مسائل پر پچھلے فتاویٰ کے برخلاف نئی آراء کا ذکر کیا گیا ہے جو مقاصد شریعت سے ہم آہنگ ہیں۔ مقاصد شریعت کی روشنی میں حکم شرعی کی دریافت کا طریقہ معلوم کرنے پر بحث کرتے ہوئے فاضل مصنف نے بجا طور پر لکھا ہے کہ ایک دائمی شریعت زمان و مکان کی تبدیلیوں سے اسی طرح عہدہ برآہوسکتی ہے۔ کتاب میں تسعیر یعنی قیمتوں کے تعین کی مثال دی گئی ہے کہ کس طرح فقہاء نے اسلام کے تصور عدل کو ملحوظ رکھتے ہوئے معاشی استحصال کے سدباب کے لیے تسعیر کا فتویٰ دیا کیونکہ اس کے بغیر بازار کے حالات پر قابو پانا ممکن نہ تھا۔

کتاب کے تیسرے باب کا عنوان ’’مقاصد شریعت کی پہچان اور تطبیق میں عقل اور فطرت کا حصہ‘‘ ہے۔ فاضل مصنف کی رائے ہے کہ قرآن و سنت میں ہماری رہنمائی کے لیے عقل اور فطرت کو بنیاد بنایا گیا ہے اور اسوہ نبوی ﷺ اور سیرت خلفائے راشدین میں عقل اور فطرت کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔فطرت کا تصور عقل کے تصور سے زیادہ جامع ہے۔ اگرچہ حسن و قبح کی شناخت میں انسانی فطرت کے ساتھ ساتھ عقل بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ انھوں نے فطرت اور عقل کے رول پر بحث کرتے ہوئے قرآنی آیات سے استشہاد کیا ہے اور دل نشین پرائے میں دونوں کی اہمیت واضح کی ہے۔ قیام عدل پر فاضل مصنف گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدل کا تعلق زیادہ تر اجتماعی زندگی سے ہے اس لیے اس کی پہچان میں عقل نمایاں رول ادا کرتی ہے اس پہچان کی تکمیل ہدایتِ الٰہی سے ہوتی ہے۔ چنانچہ بعثتِ انبیاء کا مقصد عدل سے جوڑا گیا ہے جیساکہ قرآن حکیم (الحدید:۲۵) میں آیا ہے۔ اسلام کا تصورِ عدل پوری عملی زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔ خاندانی تعلقات سے لے کر بین الاقوامی معاملات تک فاضل مصنف نے قرآن کی ان آیات کو پیش کیا ہے جن میں عدل و قسط کے قیام کی تاکید آئی ہے۔ کتاب میں ازالہ ظلم کے عنوان تحت ظلم کی مختلف قسموں اور ظلم کی مذمت میں قرآن کی آیات دی گئی ہیں۔ فاضل مصنف کی نظر میں زمین سے فساد دور کرنے اور امن قائم کرنے اور اصلاح کا اہتمام کرنے کو مقاصد شریعت میں اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ انھوں نے قرآنی آیات سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انسانی زندگی اور زندگی قائم رکھنے کے لیے درکار وسائل کی تباہی فساد ہے۔ حکمرانوں کے ذریعے پھیلائے گئے فساد کے ساتھ ساتھ انھوں نے اس فساد کی طرف بھی اشارے کیا ہے جو عام لوگوں کے غلط طرزِ عمل سے پیدا ہوتا ہے۔ قرآنی آیات کی روشنی میں فساد کی مختلف شکلوں پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ اسلام کا مقصد ایک پُرامن عادلانہ معاشرہ کا قیام ہے۔ جس کے لیے وہ ظلم اور فساد کا خاتمہ چاہتا ہے۔ کارِ نبوت میں عقل اور فطرت کے رول کی مثالوں سے استدلال کرکے فاضل مصنف نے حصول مقصد اور دفع ضرر کی خاطر موزوں تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ کتاب کا یہ حصہ تمام مسلمانوں کے لیے بالعموم اورمسلم دانشوروں کے لیے بالخصوص لائق مطالعہ اور قابلِ غور ہے۔

کتاب کے چوتھے باب میں مقاصد شریعت کے فہم و تطبیق میں اختلاف کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فاضل مصنف کا بیان ہے کہ اختلاف زیادہ تر حالات کا تجزیہ کرنے یا ہدایتِ الٰہی کے سمجھنے اور فیصلے میں ہوتا ہے۔ ان اختلافات کو ہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ لسانی فرق کو بنائِ اختلاف بننے سے روکنے اور مکانی فرق سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی جائے۔ دورانِ بحث کتاب میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ زبان اور مکان کے فرق پر مبنی اختلافات سے نپٹنے میں امت کو جو کامیابی ہوئی ہے۔ وہ زمانی فرق کے اختلافات سے لپٹنے میں اسے نہیں ملی۔ اس کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کے پہلے ہزار سال اور آخری پانچ سو سال کے دوران تبدیلیوں کی رفتار یکساں نہ تھی۔ دوسرے یہ کہ آخری دور میں آئیں نو سے خوفزدہ مسلمان طرزِ کہن پر اڑے رہے اور فکری جمود کا شکار ہوگئے۔ اس افسوسناک صورتِ حال کی تلافی فاضل مصنف نے اسلام کے شورائی طریقِ کار کو اس کا علاج بتایا ہے۔ باب کے آخر میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں مقاصد شریعت کے فہم و تطبیق میں اختلاف کا پیدا ہونا معمول کی بات ہے، جس سے بدلنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسلام نے ہمیں ایسی صورتِ حال سے عہدہ آ بر ہونے کا طریقہ بتایا ہے۔

زیرِ تبصرہ کتاب میں پانچویں باب میں ’’مقاصد شریعت کی روشنی میں اجتہاد کی حالیہ کوشش‘‘ کے عنوان سے آیا ہے جس میں فاضل مصنف نے مسائل حاضرہ میں سے تین کا انتخاب کیا ہے۔ ان کی نظر میں ان تینوں مسائل میں اجتہاد کی ضرورت ہے۔ پہلا مسئلہ کتابی مرد سے نکاح میں مسلمان عورت کا ہے جس میں اگر معروف فقہی مسئلہ سے رجوع کرکے اجتہاد نہ کیا جائے تو ایسی عورتوں کو اسلام قبول کرنے میں بڑی دقت پیش آئے گی جو کتابی مردوں کے نکاح میں ہوں۔ دوسرا مسئلہ غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں اور مسلم ممالک میں غیر مسلموں کی شہریت، حکومت میں شرکت اور فوج میں شمولیت سے تعلق رکھتا ہے۔ فاضل مصنف نے ہجرت حبشہ کی روشنی میں غیر مسلم ممالک میں مسلم اقلیت کو درپیش مسائل پر بحث کرتے ہوئے شیخ راشد غنوشی کا اقتباس نقل کیا ہے۔ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ سیکولر جمہوری جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک ایسے جمہوری نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کریں جس میں انسانی حقوق کا احترام کیا جائے، جن میں وہ ضروری مصالح بھی شامل ہوں جن کے تحفظ کے لیے اسلام آیا ہے۔ شیخ غنوشی کا بیان ہے کہ اصول استطاعت کے مطابق ایسا کرنا واجب ہے کہ جس قدر حاصل کرنا ممکن ہو اسی کے حصول کی کوشش کی جائے۔ شیخ نے اپنی رائے کی تائید میں فلسفہ تاریخ کے امام ابن خلدون کی رائے نقل کی ہے کہ اگر شرع کی حکمرانی ناممکن ہو تو عقل کی حکمرانی قائم کی جائے۔ مسلم ممالک میں غیر مسلم شہریوں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے فاضل مصنف نے آج کے زمینی حقائق کو مدِ نظر رکھنے کی سفارش کی ہے۔ انھوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ یہ بات انسان کی بنیادی اخلاقی حسن کے خلاف ہیں کہ ساری دنیا میں مسلمان ہر طرح کے حقوق چاہیں اور جہاں ان کا اقتدار ہو وہاں غیر مسلم باشندوں کو انہی جیسے حقوق سے محروم کریں۔ اخلاقی معیار اور عدل و انصاف کے پیمانے سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں۔ فاضل مصنف کے مطابق اس سلسلہ میں مزید کئی باتوں کالحاظ ضروری ہے۔ مقاصد شریعت کے حصول کے لیے غیر مسلموں کے مسئلے پر ازسر نو اس لیے بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلم ممالک میں غیر مسلموں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک مسلم دنیا سے باہر دنیا کے سو ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کے مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے جو مسلم آبادی کا چالیس فیصد ہیں۔ تیسرا مسئلہ عورت کی سربراہی کا ہے۔ فاضل مصنف نے اس مسئلہ پر عورت کی سربراہی کے بارے میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کی آراء نقل کی ہیں جس کے مطابق مسلمان عورت کو سیاست میں حصہ لینا چاہیے اوراس کے مناصب حکومت پر فائز ہونے میں کوئی حکم شرعی مانع نہیں۔ ان مناصب میں صدر مملک کا عہدہ بھی شامل ہے۔ شیخ نے اپنی رائے کی تائید میں ڈاکٹر عبداللہ دراز، سید قطب، شیخ محمد الغزالی اور شیخ یوسف قرضاوی وغیرہ کے حوالے بھی دیے ہیں۔ اس سلسلے میں عورت کا سماجی کردار بھی زیر بحث آیا ہے۔ فاضل مصنف نے لکھا ہے کہ جہاں تک عورت کے سماجی کردار کا تعلق ہے وہ زمان و مکان کے اعتبار سے مختلف رہا ہے۔ مثلاً ہندوستان میں مسلم معاشرہ نے ایسے طور طریقے اپنائے ہیں جو اسوہ نبویﷺ کے خلاف تھے۔ عورتوں اور مردوں کا ساتھ بیٹھ کر کھانا نہ کھانا، عورتوں کو سلام نہ کرنا یا ان کے سلام کا جواب نہ دینا وغیرہ مقامی عرف و عادات تھے، جنھیں مسلمانوں نے اختیار کیا نیز انھوں نے بدلتے ہوئے حالات میں بدلتے فتاویٰ پر گفتگو کرتے ہوئے مسلمان مردوں کے عیسائی عورتوں سے نکاح کی ممانعت، فتویٰ کمیٹی نے ملیشیا اور انڈونیشیا کے مخصوص تناظر میں بذریعہ فتویٰ کی تھی کی مثال دی ہے۔ اسی طرح بنک کے سود کے جواز اور عدم جواز میں ملیشیا کی اسلامی امور سے متعلق فتویٰ کمیٹی کی طرف سے ۱۹۷۱ء اور ۱۹۸۰ء میں بدلتے حالات میں دو الگ الگ فتوؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔

کتاب کے چھٹے باب میں ’’مقاصد شریعت کی روشنی میں اسلامی مالیات کا جائزہ‘‘ پیش کیا گیا ہے۔ مالیات مصنف کا خاص موضوع ہے۔ انھوں نے اس موضوع پر وقیع اور گراں قدر کتابیں تحریر کی ہیں، جنھیں علمی حلقوں میں قبولِ عام حاصل ہوا۔ زیرِ نظر کتاب میں فاضل مصنف نے اسلامی تاریخ میں مالیات کے نظام پر وشنی ڈالی ہے اور اسلامی تمویل کے باب میں نئے رجحانات پر بحث کی ہے۔ کتاب میں اسلامی بینکنگ کی ابتدا اور اس کی روز افزوں مقبولیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے نصف اول تک دنیا میں کئی سو اسلامی مالیاتی ادارے تین سو بلین امریکی ڈالر سے زیادہ اثاثہ کے ساتھ کاروبار کرتے نظر آئے اور ان کے گاہکوں کی تعداد ان کا جغرافیائی پھیلاؤ، نیز ان کی جانب سے مالیاتی خدمات میں مستقل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ فاضل مصنف نے اسلامی تاریخ کے نظام پر بحث کرتے ہوئے سلم، استصناع، قرض، شرکت، مضاربت، مزارعت اور مساقات اور اجارہ کی بنیادوں پر کاروبار کرنے کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے کاروبار کے طور طریقوں پر گفتگو کرتے ہوئیء ملتجہ، صیرقہ اور جہابذہ، بیع کی مختلف اقسام، تورق، انسانی معیشت میں قرضوں کے کردار، قرض پر مبنی معیشت میں نظام زر نقد کی سپلائی وغیرہ پر سیر حاصل روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے قرض حسن کے ایرانی تجربے کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ کتاب میں اسلامی بینکنگ کا نظریہ پیش کرنے والے مسلم ماہرینِ معاشیات ڈاکٹر انور اقبال قریشی، ڈاکٹر محمد عزیز، ڈاکٹر محمد عبداللہ العربی، پروفیسر عیسیٰ عہدہ اور ڈاکٹر محمود ابوالسعود کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔ کتاب کا یہ باب مسلم دانشوروں کو ایک اہم موضوع پر غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔

کتاب کا ساتواں باب ’’مقاصد شریعت اور مستقبل انسانیت‘‘ کے عنوان سے ہے، جس میں اسلام کو پوری انسانیت کے لیے دین رحمت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ باب میں تمام انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین، ہمسایوں کے ساتھ نیک برتاؤ، بیواؤں اور مساکین کو کھانا کھلاتے، عام انسانوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آنے، عفو و درگزر، خیر خواہی، انسانی کو اذیت نہ دینے، انسانی جان بچانے، لوگوں کا مال ناحق ہڑپ نہ کرنے، ناپ تول میں کمی نہ کرنے، سارے انسانوں کے ساتھ عدل گستری، عدل و انساف کو عام کرنے، تکبر سے بچنے، زمین کو تمام انسانوں کے لیے ذریعہ رزق ماننے، انسانی اخوت، عزوشرف، رسول اللہ کے رحمۃ اللعالمین ہونے، تعاون اور عدم تعاون کے اصولوں، کسی قوم کی دوسری قوم پر تسلط بندی، مشترکہ انسانی وسائل، معاصر مسلمان کی ذمہ داری کے بارے میں اسلام کی تعلیمات قرآن وحدیث کی روشنی میں خوبصورت انداز میں بیان کی گئی ہیں۔ تمام تباہی والے اسلحوں کی تیاری سے اجتناب برتنے کے حق میں فاضل مصنف نے ہابیل کے طرزِ عمل سے اسلامی موقف واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ علاوہ ازیں انھوں نے سورہ سجدہ کی آیات ۳۲-۳۵ سے بھی استدلال کیا ہے، تاہم انھوں نے اس موقف کے مخالف رائے رکھنے والوں کی دلیل بھی احترام کے ساتھ نقل کی ہے۔ کتاب کا یہ باب دانشوروں، مبلغوں اور دعوتِ دین کا کام کرنے والوں کے لیے بے حد اہم ہے۔ مسلم این جی اوز سے وابستہ رضا کاروں کے لیے بھی اس میں قابلِ قدر مواد موجود ہے۔

کتاب کے آٹھویں باب کا عنوان ’’مقاصدِ شریعت : فہم وتطبیق‘‘ ہے جو اصل میں پوری کتاب کی تلخیص ہے۔ فاضل مصنف نے لکھا ہے کہ دعوت الی اللہ اور شہادت علی الناس یعنی سارے انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچانا اور مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی عمل کو اس پیغام کا عملی مظہر بنانا اہم ترین مقاصد میں سے ہے۔ فاضل مصنف کے بقول اس مقصد کا تقاضا ہے کہ انسانی تعلقات میں ایسا اسلوب اختیار کیا جائے جو جاذب توجہ ہو اور لوگوں کے دل و دماغ کو اسلام کے لیے ساز گار بنائے۔ کتاب میں پیش کیے گئے طریقہ استدلال سے جن خطرات اور اندیشوں کے پیدا ہونے کا احتمال ہوسکتا ہے۔ ان پر بھی فاضل مصنف نے گفتگو کی ہے، انھوں نے روسی تجربہ کی ناکامی کے باوجود اشتراکی تحریک کے زندہ رہنے، چین کی ترقی اور عیسائی مذہب کی عبرتناک داستان پر روشنی ڈالتے ہوئے  بالکل درست لکھا ہے کہ

’’مسلمان کے شایان شان یہ ہے کہ وہ بے بنیاد اندیشوں کے بجائے خود تاریخ اسلامی کے عہد زریں کو رہنما بنائیں۔ ‘‘ فاضل مصنف نے قرآن حکیم کی روشنی میں مسلمانوں کو غوروفکر کی دعوت دیتے ہوئے آزادانہ غوروفکر کا ماحول پیدا کرنے کی وکالت کی ہے۔ جس میں عام مسلمان بھی شریک ہوں۔ مصر اور برصغیر میں چند مخصوص مسائل میں جس طرح مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے علماء نے فتاویو جاری کیے اس سے مسلمان پوری دنیا میں تضحیک کا نشانہ بنے۔ فاضل مصنف نے صحیح ہے کہ ’’آپ مسلمان عوام کی زبان بندی کرسکتے ہیں مگر قو می اور عالمی میڈیا کو خاموش نہیں کرسکتے۔ پھر جب بات میڈیا میں اچھلے تو مفتیان کرام سے کام نہیں چلتا، اسلام کے دفاع کے لیے مسلم دانشوروں اور صحافیوں کی خدمات درکار ہوتی ہیں، ہم انھیں نئے پیش آمدہ مسائل پر اسلامی نقطہ نظر سے غوروفکر کے عمل سے بے دخل رکھ کر وقت آنے پر ان سے شریعت کی وکالت کی توقع کیسے کرسکتے ہیں۔ ‘‘  نیز پیش آمدہ مسائل سے نپٹنے کے لیے عام مفتیانِ کرام سے کام بھی نہیں چلے گا اس لیے ہمیں نئے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے فکری اور علمی ماحول تیار کرنا ہوگا جس میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین شریک ہوسکیں۔ باب میں فاضل مصنف نے ’’ایک نئے مستقبل کے لیے تیاری‘‘ کے زیرِ عنوان پچاس سال بعد کی دنیا پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ اس وقت امریکی چودھراہٹ ختم ہوئی ہوگی  اور اس کے خاتمے کے ساتھ ہی عالم اسلام سے فوجی حکمرانوں، ڈکٹیٹروں اور پشتینی بادشاہوں کا خاتمہ بھی ہوگا۔ فاضل مصنف کا مشورہ ہے کہ مسلمان علماء اور دانشوروں کا پہلا ہدف جدید انسانو ں کے اندیشوں کو دور کرتے ہوئے اسلام کی ایسی فکری ترجمانی کو ہونا چاہیے جو ایک ایسی متوازن زندگی کی بشارت دے سکے، جو حریت اور راست روی دونوں کی ضامن ہو۔ کتاب کے آخر میں ’’قیام عدل و قسط کے تقاضے‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت اسلامی مالیات کی مثال سے مصنف نے حقیقت پسندانہ موقف کی ترجمانی کرتے ہوئے مسلمانوں کو خود احتسابی کے ساتھ روشن مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

کتاب ’’مقاصد شریعت‘‘ میں بعض اہم مباحث تشنہ طلب رہ گئے ہیں اور بعض اہم موضوعات پر کوئی بحث نہیں کی گئی ہے۔ ماحولیاتی تلوث کی طرف صرف اشارہ کیا گیا ہے، فاضل مصنف نے مقاصد شریعت پر لکھنے کے دوران شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی تحریروں سے استفادہ کیا ہوتا تو بحث میں زیادہ جان پیدا ہوتی۔ اسرار شریعت کے باب میں شیخ اکبر کا خاص مقام ہے۔

کتاب میں کہیں کہیں کمپوزنگ کی غلطیاں بھی موجود ہیں۔ آخر میں اشاریہ بھی دیا گیا ہے لیکن اشخاص، اماکن، اداروں اور علمی اصطلاحات کے اشاریے الگ الگ ہوتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

زیر تبصرہ کتاب ’’مقاصد شریعت‘‘ موضوع کے اعتبار سے اردو زبان میں ایک منفرد تحریر ہے جو ہمیں نہ صرف ایک علمی اور فکری موضوع سے روشناس کراتی ہے بلکہ اس امر کا بھی احساس دلاتی ہے کہ ہمیں مسائل پر ٹھنڈے دماغ سے غوروفکر کرنا چاہیے۔ فاضل مصنف نے کتاب میں جن مباحث کو چھیڑا ہے ان سے تعلیم یافتہ مسلمانوں کی اکثریت نابلد ہے۔ پوری کتاب معلومات سے بھری ہوئی ہے اور جس طرح مختلف مسائل کے بارے میں علماء اور فقہی اداروں کے فتاویٰ نقل کیے گئے ہیں اس سے اسلام کی جامعیت اور تابندگی نکھر کر سامنے آتی ہے۔ کتاب کا ایک ایک صفحہ قاری کے علم میں اضافہ کرتا ہے اور اختلاف کو محفوظ رکھتے ہوئے بھی وہ فاضل مصنف کی محنت کی داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ حواشی اور ضروری تشریحات سے کتاب میں چاند چند لگ گئے ہیں جس سے اس موضوع پر کام کرنے والو ں کے لیے کتاب کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ’’مقاصد شریعت‘‘ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ بھول بھلیوں سے نکال کر حقائق کی دنیا میں پہنچاتی ہے۔ کتاب کے بعض مضامین اردو میں پہلی دفعہ زیر بحث آئے ہیں۔ جمال معنوی کے ساتھ ساتھ کتاب حسنِ ظاہری سے بھی آراستہ ہے۔ عمدہ گیٹ اپ کے ساتھ مجلد مع ڈسٹ کور کتاب ’’مقاصد شریعت‘‘ کی قیمت زیادہ نہیں ہے۔ غرض یہ کتاب ہر لحاظ سے اردو زبان میں ایک خوبصورت اضافہ ہے جس کے لیے مصنف مبارکباد کے مستحق ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا