نشان راہ : کتاب یا منشور ملت

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھتا ہے، لیکن یادوں کا قافلہ خراماں خراماں اس کے پیچھے چلتا ہے۔ کہنے کو چند دنوں قبل کی بات ہے جب میرے عزیز من کلیم الحفیظ  بین السطور  سے نکل کر اخبار کی سرخی بنے پھر صحافت کے افق پر صورت مہر نیم روز بن کر جگمگائے۔ ان کے مضامین نے اخباروں کی زینت بن کر بیدار مغز افراد کو غور و فکر کی دعوت دی۔ ان کے جزبہ کی تابناکی نے کشمیر سے حیدر آباد تک آنکھوں کو خیرہ کر دیا۔ جب ان منتشر خیالوں، بولتی تحریروں کو اخباری صفحات سے چن کر جمع کیا گیا۔ تو اس نے کتاب کی شکل اختیار کر لی۔ یہی کتاب "نشان راہ” کے نام سے شائع ہو کر مقبول عام ہوئی ہے۔

مذکورہ کتاب ڈیڑھ سال کے دوران لکھے گئے فکری مضامین کا مجموعہ ہے۔ جو روزنامہ راشٹریہ سہارا میں شائع چکے ہیں۔ ان میں سماجی، سیاسی، معاشی، اساسی مسائل اور ان کے حل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ یہ تحریریں کلیم الحفیظ کی ارتقائی فکر کی دلیل ہیں۔ انہیں میر تقی میر کے شعر کی تفسیر بھی کہا جا سکتا ہے۔

شعر میرے ہیں گو خواص پسند

پر مجھے گفتگو عاوام سے ہے

کتاب کے مضامین خواص کے لیے چراغ راہ ہیں جب کہ عوام کے لیے نشان  منزل۔ عام لوگوں کی دلچسپی کو دھیان میں رکھ کر کتاب کو چار ابواب تعلیم وتربیت، ملت و معاشرت، فراست و حکمت اور متفرقات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں 49 مضامین 216 صفحات پر محیط ہیں۔ کتاب کی اشاعت حفیظ ایجوکیشنل اینڈ چیری ٹیبل ٹرسٹ نے کی اور قیمت 300 روپے رکھی ہے۔

میرا خیال ہے کہ کلیم صاحب کی زندگی کے بارے میں جانے بغیر ان کی فکر کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ مگر کلیم صاحب نے دوران تعلیم ہی ایسا تکنکی خاکہ بنانے کا بیڑا اٹھایا جس سے سماجی تبدیلی کی راہیں استوار ہوں۔ انھوں نے کاروباری مصروفیت کے باوجود سماجی  کاموں میں دلچسپی لی اور فساد زدہ ماحول میں امن کے نام سے سوسائٹی قائم کی۔ ان کی تعلیمی ولولہ انگیزی  نے ڈاکٹر ممتاز احمد خان جیسے ماہر تعلیم  کو متوجہ کیا۔ ڈاکٹر ممتاز صاحب نے کلیم صاحب کے تعلیمی جزبہ کو دیکھتے ہوئے شمالی ہند کے مسلمانوں کو تعلیم سے جوڑنے کی ذمہ داری ان کے سپرد کی۔ ڈاکٹر صاحب کی تحریک پر کلیم الحفیظ نے اپنے آبائی وطن سہسوان ضلع بدایوں میں الحفیظ اکیڈمی کے نام سے ایک معیاری اسکول قائم کیا۔ جس میں بارہویں جماعت تک کی تعلیم ہو رہی ہے۔ کلیم صاحب کے تعلیمی خیالات کا ان کی پہلی کتاب ” تعلیم سے تصویر بدلے گی ” میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ تعلیمی بیداری کی مہم کے ساتھ ساتھ کلیم صاحب کا سیاست کی طرف رجحان ہوا جس کا سبب سیاسی گلیاروں کا اخلاقی زوال تھا۔

نئی سیاست کے نام پر وجود میں آئی عام آدمی پارٹی سے منسلک ہو گئے۔ انہوں نے مسلمانوں کے مسائل سے متعلق ایک تحقیقی دستاویز عام آدمی پارٹی کے صدر اروند کیجریوال کو سونپا۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے کیجریوال کو مسلم بچوں کی تعلیم کے لیے مسلم علاقوں میں تلنگانہ کی طرز پر کرایہ کی عمارتوں میں اسکول چلانے کے لیے آمادہ کیا تھا۔ مگر انتخاب کا بہانہ بنا کر کیجریوال حکومت نے اس منصوبہ کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔ دہلی فساد اور اس کے بعد راحت کے کام میں دہلی حکومت کے رویہ نے کلیم الحفیظ کو مایوس کیا۔ وہ ملک کی سیاست اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں از سر نو غور کرنے کیلیے مجبور ہوئے۔ مسلمانوں، دلتوں اور کمزور طبقات کے تعلق سے سیاست و سیاستدانوں (سیکولر جماعتوں کے) کی بدلتی سوچ اور بہوسبکھیک واد کو تھوپنے کا درد ان کے اخباری مضامین میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ وہ ایک طرف سیکولر پارٹیوں کے اتحاد و احتساب کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف قیادت کے خلا کو پر کرنے اور سیاسی لائحہ عمل تیار کرنے پر بھی زور دیتے ہیں۔ انہیں اردو زبان کو نظر انداز کئے جانے اور گنگا جمنی تہذیب کو نقصان پہنچنے کا بھی احساس ہے۔ وہ کون رہبر ہے اور کون رہزن اس بھی پہچان کرانا چاہتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کتاب ان کی فکری آگہی کا نتیجہ ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ اس کتاب کو ڈیجیٹل فارم میں گوگل کے سپرد کیا جائے تاکہ یہ قومی سرمایہ کے طور پر عوام کو مستفیض کر سکے۔

کتاب کے پہلے باب میں تعلیم وتربیت پر فوکس کیا گیا ہے۔ اس کا پہلا مضمون ہادی اعظم، نور مجسم، رحمت دوعالم، رہبر و معلم انسانیت، رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر ہے۔ آپ کی ذات ہماری زندگی اور فکری بالیدگی کی اساس ہے۔ اس مضمون کو کتاب کا ابتدائیہ (پرائمبل) کہا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد تعلیم سے تصویر بدلے گی، اپنے وقت کی عبقری شخصیت سر سید احمد خان اور ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کا خصوصیت سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ یقینا ” مسلم یونیورسٹی کا قیام سر سید کا ملت پر بڑا احسان ہے۔ وہیں ہمیں ایجوکیشنل کانفرنس کے قیام کی بھی تعریف کرنی ہوگی جس نے پورے ملک میں جدید تعلیم کے متعلق بیداری پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ محمڈن کالج سے ۱۱ سال قبل سر سید کی سائنٹفک سوسائٹی کے قیام کا تذکرہ بھی کرنا ہوگا۔ جس نے نوجوانوں میں سائنسی فکر پیدا کی۔

مدارس کے باب میں مولانا قاسم نانوتوی رحم اللہ کے جملے کو عنوان بنایا گیا ہے کہ مدارس اسلامیہ دین کے قلعے ہیں جن پر تعلیم کی چادر ڈال دی گئی ہے۔ کلیم صاحب گلی گلی میں مدارس قائم کرنے کے خلاف ہیں البتہ ان کی خدمات کے معترف ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مدارس دینیہ ملت کو تعلیم سے جوڑنے کا اہم فریضہ ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اہل مدارس کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے۔ ماں کی گود پہلا مکتب ہوتا ہے کلیم الحفیظ نے اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ "نیک ماں کی گود سے ہی انقلابی قوم پیدا ہوتی ہے”۔ اس کے علاوہ کتاب میں قیادت کا دامن ہمیشہ تعلیم سے وابستہ رہا ہے، اردو کو مسلمان سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے، پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے، کمپٹیشن کے لیے کو چنگ اور قومی تعلیمی پالیسی پر زعفرانی سایہ وغیرہ مضامین شامل ہیں۔

زیر نظر کتاب کے عنوانات زیادہ تر ضرب المثل مصرعوں پر مشتمل ہیں جیسے۔۔۔۔

  1. حق بات کہو جرات اظہار نہ بیچو
  2. ابن مریم ہوا کرے کوئی
  3. ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
  4. کوئی کارواں سے چھوٹا کوئی بدگماں حرم سے
  5. جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
  6. پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں
  7. ابھی کیا ہے کل اک اک بوند کو ترسے گا میخانہ

ایک مضمون کا عنوان ہے اپنی آزادی کو ہم ہرگز گنوا سکتے نہیں۔ جہاں اس مضمون میں کئی اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔ وہیں وہ موجودہ حالات کے مضمرات اور خدشات کا بے لاگ اظہار کرتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ اس وقت ملک کو ایک خاص طبقے کی طرف سے بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔ مسلمان اور دلت تو نشانے پر ہیں مگر فائدہ برہمنوں کا بھی نہیں ہونے والا۔ یہی نہیں مصنف بین الاقوامی خطرات سے بھی آگاہ کر رہا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اپنی ناقص خارجہ پالیسی کے سبب تشویشناک صورت حال سے دوچار ہے۔ چین کی مسلسل ریشہ دوانیوں  کے سبب LAC پر لدّاخ اور ہماچل میں پانی خطرے کے نشان سے اوپر جاچکا ہے۔ LOC پر گوادر بندرگاہ کا کوریڈور ہماری سرحد سے محض سات کلو میٹر دور رہ گیا ہے۔

اس کتاب کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ "نشان راہ” محض ایک کتاب نہیں بلکہ ملت کو خود انحصار بنانے کا منشور ہے۔ کلیم صاحب کی آرزو اس شعر کی عکاس ہے:

خواہش سے نہیں کرتے پھل جھولی میں 

وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہوگا 

کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے 

اپنے حصہ کا دیا خود ہی جلانا ہوگا 

تبصرے بند ہیں۔