گرو نانک: حیات و خدمات

چند منتخب تحریریں اور نظمیں

سہیل بشیرکار

        شری گرو نانک (1469ء۔ 1539ء) سکھ مت کے بانی اور دس سکھ گروؤں میں سے پہلے گرو تھے۔ ان کا یوم پیدائش ’گروپورب‘ کے طور پر دنیا بھر میں ماہ کاتک (اکتوبر–نومبر) میں پورے چاند کے دن، یعنی ’کارتک پورن ماشی‘ کو منایا جاتا ہے۔ گرونانک کے متعلق مفتی مشتاق تجاوری لکھتے ہیں :

’’شری گرونانک دیو جی مہاراج ہندوستان کے وہ نامور ہستی ہیں جن کے نام پر ایک مستقل مذہب ہے، گرونانک سے عقیدت کا یہ عالم ہے کہ سکھوں کی اپنی مذہبی پہچان صرف نام کی نہیں ہے۔ بلکہ سکھ اپنے پورے وجود کے ساتھ اس مذہب کی اتباع کرتے ہیں۔ا ن کی اپنی کتاب ہے۔ اپنا رسم الخط ہے۔ اپنا مقدس مذہبی مقام ہے۔ اپنا لباس اور اپنی وضع قطع ہے۔ اس اعتبار سے سکھ مذہب بڑا منفرد ہے۔ اس مذہب کی ایک اور انفرادیت یہ ہے کہ اس میں خدمت خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ اس وقت سکھ مذہب کے علاوہ دنیا میں کہیں بھی اتنے بڑے پیمانے پر لنگر نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ مذہب میں رواداری اور دوسروں کو مقام دینے کی اپنی روایت بھی بہت مضبوط ہے۔ سکھ اپنے مذہب پر سختی سے عمل کرتے ہیں لیکن دوسروں کے ادب واحترام میں وہ اتنے ہی نرم ہیں اور مسلمانوں سے تو سکھ مذہب کا ،سکھ مذہب کے گروئوںکا بلکہ خود بابا نانک کا بہت گہرا تعلق رہا ہے۔‘‘ (صفحہ 152)

          اگرچہ اردو زبان میں گرونانک  کی زندگی اور تعلیمات پر بہت کچھ لکھا گیا تھا، لیکن دور جدید میں اس طرف خصوصیت سے توجہ نہیں دی گئی تھی۔ اس وجہ سے ایک ایسی کتاب کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی جو مختصر اور جامع ہو، تاکہ گرونانک کی تعلیمات سے اردو داں طبقہ واقف ہو جائے۔ ’قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان‘ نئی دہلی نے اس سلسلے میں ایک کتاب خوبصورت گیٹ اپ میں شائع کی ہے۔ اس کتاب کے مرتبین پروفیسر اخترا لواسع، محمد حبیب اور پروفیسر مفتی مشتاق تجاوری جیسے محققین ہیں۔ انہوں نے بہترین مواد کوجمع کرکے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کرکے یہ کتاب مرتب کی ہے۔ 190 صفحات کی اس کتاب کو مرتبین نے دو الگ الگ حصوں میں تقسیم کیا ہے: حصہ نثر اور حصہ نظم۔ نثر والے حصے میں 13 ابواب ہیں اور حصہ نظم میں 14 نظمیں ہیں۔

 کتاب کی تقدیم میں پروفیسر اختر الواسع صاحب لکھتے ہیں :

          ’’جس وقت گرونانک جی کی پیدائش ہوئی اس وقت ظلم و زیادتی کا ماحول تھا، اور یہ سب کچھ مذہب اور عقائد کے نام پر ہوتا تھا۔ ایسے میں گرونانک کا پیغام پورے ملک میں ایک انقلاب کی

 

 نوید بن کر پھیلا، علامہ اقبال اس کا بہترین احوال’ بانگ درا ‘میں پیش کرتے ہیں  ؎

 قوم نے پیغام گوتم کی ذرا پروا نہ کی

 قدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کی

آہ بد قسمت رہے آواز حق سے بے خبر

غافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر

۔

 آشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھا

  ہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھا

۔

شمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھی

  بارش رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھی

۔

 آہ شودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہے

 درد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے

۔

 برہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میں

شمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میں

۔

  بتکدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا

  نور ابراہیم سے آزر کا گھر روشن ہوا

۔

  پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے

 ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے  (اقبال)

    پروفیسر اختر الواسع  اپنے مضمون ’گرونانک کا روحانی مشن‘ میں لکھتے ہیں: "گروجی نے خاندان کے آبائی ہنر تو نہیں سیکھے مگر سنسکرت، عربی اور فارسی زبانیں ضرور سیکھیں کہ ان ظاہری وسائل سے انہیں اپنی باطنی روشنی کو لفظوں کا روپ دینا تھا۔ اب ان کا زیادہ تر وقت جنگلوں میں گھومتے پھرتے قدرت کے اسرار سے ہم آہنگ ہونے میں گزرتا تھا کہ زمین وآسمان، پیڑ پودے، مٹی اور پانی اور ہوا اور چرند پرند اور ان کی آوازیں اور خاموشیاں ہی وہ لفظ تھے جو ان کی روح میں اتر کر ان کے اندر کی روحانی کتاب کو یکجا کر رہے تھے۔ اس طرح قدرت انہیں اس عظیم مشن کے لیے تیار کر رہی تھی جس کے لیے انہیں انسانی وجود دیا گیا تھا۔ یہ مشن تھا خدا کی روشنی کو اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی ظاہر داریوں کی تاریکی سے رہائی دلانا۔ اب انھوں نے ایک ایک کرکے ہر اس زنجیر کو کاٹنا شروع کر دیا جو خدا اور انسان کے سیدھے رشتے کو محدود کررہی تھی۔” (صفحہ 4)

          کتاب میں مشہور علمی شخصیت اور کئی کتابوں کے مصنف مفتی عتیق الرحمن عثمانی کا مضمون ’بابا گرونانک دیو ایک نظر میں‘ بہت قیمتی ہے، جس سے تاریخی احوال پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ گرونانک کے  بارے میں وہ لکھتے ہیں:

          ’’ حضرت بابا نانک نے لودھی افغانوں کے کا عہد بھی دیکھا ہے اور مغل بادشاہ بابر کا زمانہ بھی۔ سلطان محمد ابراہیم لودھی افغان (شہید پانی پت) بابا نانک جی کا بے حد احترام کرتے تھے۔ لیکن بابر نے کچھ عرصہ تک بابا نانک جی کو چکی کی مشقت بھی دی تھی۔ اس کے باوجود اس روحانی پیشوا نے نہ صرف یہ کہ اپنے پیغام میں محبت و اخوت کی تبلیغ جاری رکھی بلکہ اس کو اور زیادہ اثر انگیز بنانے کی کوشش کی۔”(صفحہ ۱۳)

          وہ بابا نانک کی خصوصیت کی طرف اس طرح توجہ دلاتے ہیں:”  بابا گرونانک جی یہی پیغام ہندوستان سے باہر دوسرے ممالک میں بھی لے کر گئے تھے۔ افغانستان، ایران اور عرب میں ان کی یادگاریں معجزانہ طور پر اب تک موجود ہیں۔ اسی طرح بابا جی وسط ایشیا کے مسلم ممالک کے علاوہ مشرق بعید کے بھی کئی ملکوں میں یہ پیغام لے کر گئے۔ محبت اور اخوت کے متبرک سفروں میں بابا مردانہ اور بھائی بالا ان کے رفیق تھے۔ آج کے ترقی یافتہ زمانے میں زبانوں کے ترجمے کے شعبہ قائم ہیں جن میں بے شمارمترجم کام کرتے ہیں لیکن بابا گرونانک جی کا یہ اعجاز تھا کہ سینکڑوں سال پہلے جس ملک میں گئے وہاں کے باشندوں کو محبت اور اخوت کا پیغام کچھ اس انداز سے دیا کہ سب کے دلوں میں اس کی روح سرائیت کرگئی۔ کسی زبان کے مترجم کی ضرورت گرو جی نے محسوس نہیں کی۔‘‘(صفحہ 14)

           خواجہ حسن نظامی اردو کے بہت بڑے ادیب،صاحب طرز انشا پرداز اور ساتھ ہی ہندوستانی روایات کے امین وپا سدار تھے، ان کا ایک مضمون بھی کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔وہ گرونانک جی کے تعلیمات کا نچوڑ اس طرح پیش کرتے ہیں:

          ” ست گروبابا نانک صاحب کی تعلیم خالص توحید کی تھی۔ اس کا ثبوت ان لوگوں کے لیے جو سکھ مذہب سے واقف نہیں ہیں، آسان ہے۔ وہ سکھوں کے لباس، سکھوں کے چہرے اور سکھوں کے نام میں رنگ وحدت معمولی غور کے بعد معلوم کرسکتے ہیں۔ ہر سکھ کیس (سر کے بال)، کنگھا، کرو(چھوٹی چھری)، کڑا(ہاتھ کا آ ہنی حلقہ) کچھ (جانگیا) پانچ کاف اپنے جسم کے ساتھ رکھتا ہے؛ جن سے سکھ قوم کی یکتائی ثابت ہوتی ہے۔ کوئی سکھ داڑھی نہیں منڈواتا نہ کترواتا ہے، یہ بھی علامت وحدت کی ہے کیونکہ قوم ایک شکل کی معلوم ہوتی ہے۔ کوئی سکھ تمبا کو کے پاس نہیں جاتا۔ یہ نشان بھی وحدت کا ہے۔ ہر سکھ پگڑی باندھنے پر مجبور ہے۔ اس کے اندر بھی وحدت کا اثر اس لیے کہ یہ دونوں چیزیں سکھ قوم کی خصوصیات معلوم ہوتی ہیں۔ ہر سکھ مرد کے نام میں’ سنگھ‘ کا لفظ ضرور ہوتا ہے اور سکھ عورت کے نام’ کور ‘کا لفظ ہونا ضروری ہے اور یہ دونوں باتیں سکھ قوم کی یکجہتی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان کی کتاب ایک ہی ہے۔ ان کے عقائد اصولی میں بھی زیادہ کثرت نہیں ہے۔ اس لیے سکھ قوم کے بانی سب گرونانک صاحب توحید کے سچے داعی اس ملک ہندوستان میں تھے۔”(صفحہ 16)

          کتاب میں ڈاکٹر ایس ایس کشن پوری نے ڈاکٹر صاحب سنگھ جی کی مایہ ناز کتاب ’سری گرو گرنتھ صاحب درپن‘ کی مدد سے گرو گرنتھ صاحب کا بہترین طریقہ سے تعارف کرایا ہے، ڈاکٹر جے ایس جوہر گرو گرنتھ کے مندرجات کے تحت لکھتے ہیں:

          "یوں تو گرنتھ کی بیڑ کی تکمیل لگ بھگ تین سال میں ہوئی۔ لیکن دیکھا جائے تو گرو گرنتھ کی تکمیل میں پانچ سو برس لگے۔ شیخ بابا فرید جن کی بانی بیڑ میں شامل ہے بارہویں صدی میں ہوئے جبکہ اس بیڑ کی تکمیل سترہویں صدی میں ہوئی۔ اس طرح اس میں پانچ صدیوں کے دوران تخلیق کردہ مختلف سنتوں، صوفیوں ،بھگتوں اور گروئوں کی بانی شامل ہے۔ اس میں درج کل شبدوں کی تعداد 5763 ہے۔ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

گروئوں کی بانی۴۸۳۹ شبد

  بھگتوں کی بانی ۷۸۴شبد

 گورسکھوں کی بانی۱۷ شبد

 بھاٹوں کی بانی۱۲۳شبد

          بیڑ کی تکمیل پندرہ اگست 1604ء کو ہوئی (بل گرامی سمت کے مطابق بھادوں ودی ایکم سمت 1661) پانچویں گرو ارجن دیو جی نے ہر مندر صاحب امرتسرسے ہی اس کے پرکاش کے موقع سے قبل چاروں سمت پیغام بھجوادئیے تھے۔”

          جپ جی گرو گرنتھ صاحب کی پہلی بانی جپ جی صاحب ہے۔ اقبال انصاری صاحب نے کتاب میں وضاحت سے جپ جی کی تعلیمات کا خلاصہ پیش کیا ہے، ڈاکٹر رحمان اختر کا اردو اور سکھ مذہب کا باہمی رشتہ اپنے مضمون میں دکھایا ہے لکھتے ہیں:

          ” گرو گرنتھ صاحب میں درج بانی گورمکھی رسم الخط میں تحریر کی گئی ہے۔ جس میں ایک تحقیق کے مطابق 65 فیصدی الفاظ اردوزبان میں ملتے ہیں گویا کہ یہ الفاظ ہندی، سنسکرت، فارسی ، عربی اور ترکی زبانوں کے ہیں لیکن ان زبانوں کے مستعمل الفاظ اردو کی شناخت ہیں۔ جمیل جالبی کے مطابق گرو گرنتھ صاحب میں عربی اور فارسی الفاظ کی تعداد جو اردو لغت کا جز ہیں تقریباً 1343 ہیں۔ مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سکھ مذہب کی کتابوں میں اردو زبان و ادب کی آمیزش نمایاں طور پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ تحقیق نگار گیانی عبادنے اپنی تصنیف ’گرو گرتنھ صاحب اور اردو‘ میں لکھا ہے کہ سکھوں کا مذہبی لڑیچر بھلے ہی پنجابی زبان میں محفوظ ہو لیکن مذہب کے پیشوائوں نے اردو کو اپنے پیغامات کی ترسیل و تبلیغ کا وسیلہ بنایا ہے۔ "(صفحہ 105)

           ڈاکٹر ندیم احمد ندیم،ڈاکٹر نریش کے حوالے سے اپنے مضمون” اردو کے ابتدائی نقوش اور سری گرو گرنتھ صاحب‘‘ میں لکھتے ہیں:’’اردو اور پنجابی زبانوں کا تعلق بہت ہی دلچسپ تعلق ہے۔ جہاں ایک طرف اردو کی پیدائش میں پنجابی ایک ماں کی طرح معاونت کرتی ہے وہیں دوسری طرف اردو کی مدد سے یہ زبان بولی سے زبان کا درجہ حاصل کرنے کی منزل کی طرف گامزن ہوتی ہے۔ میں اگرمحمود شیرانی کے اس قول سے کہ ’’ اردو دہلی کی قدیم زبان نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دہلی میں جاتی ہے کیونکہ مسلمان پنجاب سے ہجرت کرکے جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ وہ پنجاب سے کوئی زبان اپنے ساتھ لے گئے ہونگے۔ ‘‘ سے اتفاق کر سکتا تو پنجابی کو اردوکی ماں ہی تسلیم کرلیتا لیکن تب بھی میں اسے ’’ ماں سی‘‘ یعنی موسی قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا۔”(صفحہ 116)

  ڈاکٹر سید حسن عباس نے گرونانک کے فلسفہ حیات کے تحت لکھتے ہیں:

 "با با نانک ہندوستان کے روایتی بھگتوں کی طرح نہیں تھے۔ انھوں نے بھر پور گھریلو زندگی گزاری ، با با نانک نے اپنے لیے کوئی آشرم نہیں بنا یا بلکہ وہ کرتار پور میں عام لو گوں کے درمیان آباد ہوئے اور اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ دنیا تیاگ دینے کا نام نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے برائیوں سے دور رہنے کا نام نیکی ہے۔ با با نا نک نے کبھی با دشاہ بننے کا دعویٰ نہیں کیا کہ وہ بادشاہ بن کر لوگوں کو بچائیں گئے۔ با با نانک کی بانی جپ جی صاحب کی پوڑی نمبر3 کا اردو ترجمہ یہ ہے:

 صرف ایک خدا کے حضور مددکے لیے رجو ع کر نا چاہیے

 سبھی اس کی نوازشوں کے مستحق ہیں

پوری دنیا اس کی محتاج ہے

 کوئی بھی اس کے برابر نہیں ( بابانانک، صفحہ۔267)

          حکیم محمد خان شفا کا بھی ایک مضمون کتاب میں شامل ہے جس میں انہوں نے گرونانک اور ان کے مت کا تذکرہ جو فارسی میں ہوا ہے کا تعارف کرایا ہے۔

          اردو زبان کی اہمیت یہ رہی کہ اس میں وسعت ہے۔یہاں تعصب نہیںپایا جاتا۔ مفتی مشتاق تجاوری، پروفیسر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنے مضمون "گرونانک ارود میں :منتخب کتابیات” میں دس ایسی کتابوں کا تعارف کرایا ہے، جن میں سکھ مذہب کا اجمالی تعارف کرایا گیا ہے، جن میں سرفہرست آدھی گرنتھ، دیوان نانک شاہ، جپ جی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ساتھ ہی اس مقالے میں انہوں نے گرونانک جی کی سوانح حیات سے متعلق 12 کتابوں کا تعارف کروایا ہے جو اردو میں لکھی گئی ہیں۔  (صفحہ 150)

 نظم کے حصہ میں گرونانک پر 14 نظمیں شامل کی گئی ہیں۔ نظیر اکبر آبادیؔ، علامہ اقبالؔ، ساغر نظامیؔ وغیرہ کی نظمیں قابل ذکر ہے۔

          یہ کتاب اردو داں طبقہ کو سکھ مذہب اور خاص کر گرونانک کی تعلیمات جاننے کا اہم ذریعہ ہے.ncpul کی جو کتابیں شائع ہوتی ہیں، ان کی قیمت عمومََاکم رکھی جاتی ہے۔ اس قدر اہم اور بہترین گیٹ اپ میں کتاب ہونے کے باوجود اس کی قیمت صرف 110 روپے ہے۔

                                                                   ٭٭٭

مبصر کا واٹس اپ نمبر 9906653927

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا