ہندتو انتہا پسندی (نظریاتی کشمکش اور مسلمان)

سہیل بشیر کار

قائد کا رول مشکل دور میں کیسا ہونا چاہیے؟ رسول رحمت ﷺ کی اس حدیث سے واضح ہوتا ہے، جس کی روایت حضرت خباب ابن ارت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت جب کہ آپؐ کعبے کے سائے میں، سر کے نیچے کملی رکھے ہوئے لیٹے تھے، (کفار کی سخت ترین مخالفت اور دشمنی کی ) شکایت کی کہ ان سے ہم لوگوں کو بہت اذیت اور تکلیف پہنچتی ہے اور عرض کیا کہ (جب وہ لوگ ایذا رسانی سے باز نہیں آتے تو) آپؐ ان کے حق میں بد دعا کیوں نہیں فرماتے؟ (ہماری یہ بات سنتے ہی) آپؐ اٹھ بیٹھے اور چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، فرمایا : ‘‘تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں ان میں ایک وہ شخص تھا جس کے لیے زمین میں ایک گڑھا کھودا جاتا تھا، پھر اس شخص کو اس گڑھے میں بٹھایا یا کھڑا کیا جاتا تھا اور پھر آرہ لا کر اس کے سر پر رکھا جاتا تھا اور اس سے اس کو چیر کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے تھے، لیکن یہ سخت عذاب بھی اس کو دین سے پھرنے نہیں دیتا تھا۔ اور ایک وہ شخص تھا جس کے جسم پر لوہے کی (تیز) کنگھی چلائی جاتی تھی جو گوشت کے نیچے ہڈیوں اور پٹھوں تک کو چیرتی چلی جاتی تھی۔ لیکن یہ سخت ترین عذاب بھی اس کو دین سے پھرنے نہیں دیتا تھا۔ اللہ کی قسم! یہ دین یقیناً درجۂ کمال کو پہنچے گا اور تم مصیبتوں اور پریشانیوں کے ختم ہو جانے والے اس دور کے بعد آسانیوں اور اطمینان کا وہ زمانہ بھی دیکھو گے کہ ایک شخص صنعاء سے حضرموت تک تنہا سفر کرے گا اور اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرے گا، یا یہ کہ کسی شخص کو اپنی بکریوں کے بارے میں بھیڑیوں سے بھی کوئی خوف وخطرہ نہیں ہوگا، لیکن تم جلدی کرتے ہو۔’’(صحیح بخاری)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قائد کو چاہیے کہ وہ اپنے پیروکاروں کو جہاں مشکل منازل سے واقف کرائے، وہیں انھیں مستقبل کے خواب بھی دکھائے۔ قائد مشکلات سے نکلنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ قائد چاہتا ہے کہ امت مسلمہ جہاں اپنے زمان و مکاں سے واقف ہو وہیں وہ ہر قسم کے حالات میں پوری استقامت کے ساتھ اسلام کی دعوت پیش کرے۔

اس وقت جبکہ ملک ہندوستان میں ہندتو کی تحریک نہ صرف مقبول ہے، بلکہ پیش قدمی بھی کر رہی ہے، ہر طرف مایوسی کی کیفیت ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ امت کے قائدین کم زور طبقوں کو فسطائیت سے واقف کرائیں اور نجات کا عملی راستہ بھی دکھائیں۔ زیر تبصرہ کتاب اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے جو امت مسلمہ کے دانشور قائد سید سعادت اللہ حیسنی نے لکھی ہے۔ 476 صفحات پر مشتمل کتاب کو فاضل مصنف نے چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں: ‘‘ ملک کے موجودہ تشویش ناک احوال میں، اس خیر کا بھی امکان موجود ہے کہ اہل ملک دیر سویر، اس ملک کی زمینی حقیقتوں کو سامنے رکھ کر، شہریوں کے درمیان مساوات اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے بہتر پالیسیوں کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ ماضی میں دنیا کے کئی ملکوں میں انتہا پسندانہ تحریکوں کے عروج اور اس کے نتیجے میں ہونے والے خون خرابے نے نظاموں میں ٹھوس اصلاحات کی راہیں ہموار کی ہیں۔ اٹلی اور جرمنی میں فسطائیت کی تباہ کاریاں بہت سے عالمی معاہدوں کے لیے محرک بنیں، اس کے نتیجے میں خود ان ملکوں میں جمہوری اصلاحات کو فروغ حاصل ہوا اور اقوام متحدہ اور اس کے متعدد ذیلی ادارے قائم ہوئے ۔ بلقان اور مشرقی و وسطی یورپ کے علاقوں میں کمیونسٹ استبداد اور نسل پرست تحریکوں کے مظالم کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں مختلف تہذیبی اکائیوں کے حقوق سے متعلق بہت سی انقلابی اور انوکھی و اختراعی تجاویز روبہ عمل لائی گئیں۔” (ص 7)

کتاب کے پہلے حصے ‘نظریات و نظام فکر’ کو مصنف نے چھ ذیلی ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے باب ‘فکر کی بنیادیں’ میں مصنف نے ہندتو کی فکریں بنیادیں پیش کی ہیں۔ انھوں نے بتایا ہے کہ اس سر زمین پر تین ہزار قبل ایک برہمن بالادستی تھی، پھر اس تحریک کا جدید روپ 1915 میں بطور ہندو مہاسبھا اور 1925 میں بطور آر ایس ایس کے قیام سے ہوا۔ اس باب میں انھوں نے آر ایس ایس کے اہم نظریہ ساز کے طور پر دامودر ساورکر، مادھور گوالکر عرف گرو جی اور دیان دیال اپادھایائے کا تعارف اور ان کی فکر کو پیش کیا ہے۔ اس باب کو سمیٹتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں: ‘‘ یہ تحریک دراصل برہمن بالادستی کے قدیم نظام کو جدید روپ میں زندہ کرنے کی کوشش ہے، ہندوستانی تہذیب سے متصادم ہے اور اس کی وجہ سے کوئی گروہ ہندوستانیت کے دائرے سے خارج ہے تو ایسے بہت سے ہندوستانی مذاہب جو اس کیٹیگری میں آتے ہیں، ان کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا سکھ ازم بھی ہندوستانیت کے دائرے سے خارج ہو گا؟ اس سوال کا جواب ان مفکرین کے پاس نہیں ملتا۔ یا یہ کہ اگر ہندتو کا تعلق سیاست و مذہب سے نہیں بلکہ محض تہذیب سے ہے اور دونوں سمندروں اور پربت ولنکا کے درمیان کی زمین اور یہاں کے عوام مقدس ہیں تو اس تحریک کو سب سے زیادہ اپنے پڑوسی ممالک سے برادرانہ تعلقات کا علم بردار ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے کہ اس تعریف کی رو سے وہاں کے عوام بھی ہماری قوم کا حصہ ہیں۔ ان سے جدائی محض ریاست کی جدائی ہے یا مذہب کی ہے، جوسنگھ کے نظر یہ سازوں کے نزدیک ہند تو کی دلچسپی کا موضوع نہیں ہے۔لیکن تاریخی ریکارڈ اس کے خلاف شہادت دیتے ہیں۔  اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس تحریک کے عملی اقدامات ان کے اس نظام فکر کی تصدیق کرتے ہیں؟ اگر یہ تحر یک کسی خاص مذہب کی حمایت میں نہیں ہے تو کیوں ان کے قائدین اور قلم کاروں کے یہاں ہند وازم خطرے میں ہے کی تکرار ملتی ہے؟ کیوں مسجد مندر کے تنازعے کھڑے کیے جاتے ہیں؟ رام مندر کی تحریک کے سلسلے میں یہ کہا جاتا رہا کہ یہ مذہبی تحریک نہیں بلکہ بیرونی حملہ آروں کے مقابلے میں اس ملک کے عوام کی امنگوں اور قومی جذبات کا اظہار ہے۔ اگر یہ بات ہے تو کیا اس تحریک کے لوگوں کی دل چسپی اس ایک مسئلے تک محدود ہے؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ ملک کے دسیوں شہروں اور دیہاتوں میں مندر مسجد ہی نہیں بلکہ پوجا کے منڈل اور مذہبی جلوسوں کو لے کر بھی تنازعات پیدا کیے جاتے رہے ہیں اور اس تحریک کے لوگ ان تنازعات میں سر گرم کردار ادا کرتے رہے ہیں؟”(ص 30)

دوسرے باب ‘مذاہب اور ان کا باہمی تعلق’ میں مصنف نے موجودہ دور میں مذاہب کے درمیان تعلق کی مختلف شکلیں بیان کی ہیں، اس باب میں اس کا تاریخی پس منظر، نو ویدانت اور ہندو اتحاد، دھرم کا تصور اور ہندوستانی مذاہب کا اتحاد پر خوبصورت بحث کی ہے۔

تیسرے باب ‘تاریخ ہند اور تاریخ نگاری’ میں مصنف نے دکھایا ہے کہ ہندتو کے فکری نظام میں تاریخ کو کس قدر اہمیت حاصل ہے۔ اس باب میں انھوں نے ان کوششوں کا بھی ذکر کیا ہے جو منصوبہ بند طریقہ سے ملک میں جاری ہیں، اس کے لیے منصوبہ بند طریقے سے تاریخ کو تبدیل بھی کیا جاتا ہے۔ مصنف نے یہ بھی دکھایا ہے ہندتو کو تاریخ سمجھنے کے کیازاویے ہیں۔

کتاب کے چوتھے باب ‘تعلیمی نظریات و نظام تعلیم’ میں مصنف نے ہندتو کے حامیوں کی کوششوں کا جائزہ لیا ہے، اس سلسلے میں انھوں نے بی ایس مونجے، دیانند سرسوتی، لالہ لاجپت رائے، پنڈت موہن مالویہ  وببدوگھوش اور نانا جی دیشمکھ کے تعلیمی تحریکوں کا تعارف کرایا ہے۔ اس باب میں مختلف تعلیمی اداروں کا بھی تعارف کرایا گیا ہے جن کو ہندتو کے علم برداروں نے شروع کیا۔ اس باب میں مصنف نے قومی تعلیمی پالیسی کے مضمرات کا بھی جائزہ پیش کیا ہے۔

کتاب کے پانچویں باب میں مصنف نے ہندو راشٹر کا جائزہ لیا ہے اور ساتھ ہی آر ایس ایس کی معاشی وترقیاتی سوچ کا جائزہ پیش کیا ہے۔ فاضل مصنف بی جے پی کی موجودہ پالسی کے حوالے سے لکھتے ہیں: ‘‘مودی حکومت آرایس ایس کی سودیشی پالیسی سے اب بالکل مخالف سمت میں بہت دورپہنچ چکی ہے۔ وہی اصول اب اس پالیسی کے رہنما اصول ہیں جن پر آر ایس ایس شدید تنقید کرتی رہی ہے۔ انت یودیا کا نام وزیر اعظم مودی بھی باربار لیتے ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ حکومت کے تمام معاشی اقدامات سب سے زیادہ اسی فلسفے کی ضد ہیں۔ آر ایس ایس اگر چہ کبھی اپنی قدیم پالیسی کا اعادہ کر دیتی ہے لیکن عملاً حکومت کی مکمل تائید بھی کرتی نظر آتی ہے۔ ’’ (ص 99)

چھٹے باب میں مصنف نے اصل دھارے سے مختلف ہندتو کے کچھ اہم فکری و عملی دھاروں کا تعارف کرایا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے وائس آف انڈیا کی علمی تحریک، سناتن سنستھا، ہندو جاگرن سمیتی وغیرہ جیسے سخت نوہندتو قوتوں کا تعارف بھی کرایا ہے، ساتھ ہی کچھ نرم ہندتو اداروں کا بھی تعارف کرایا ہے، وہ لکھتے ہیں: ‘‘ہندتو کے حاملین سب کے سب ایک ہی طرح کے نہیں ہیں، یہ مختلف خیالات کا ایک وسیع سلسلہ ہے جس کا نقطۂ اشتراک قدیم ہندو روایات کی بالا تری کا احساس اور مقابل کی مذہبی و تہذیبی قوتوں سے بالخصوص عیسائیت اور اسلام سے رقابت کا جذبہ ہے، لیکن اس وسیع سلسلے میں رقابت کی شدت کے اعتبار سے مختلف عناصر کے مختلف درجات ہیں۔ ’’(ص 121)

کتاب کے دوسرے حصے ہندتو کی مقابل قوتیں اور ان کی ناکامیوں کے تحت چار ابواب میں ہندتو کے مقابل کا ذکر کیا ہے۔ اس حصہ کے پہلے باب میں مصنف نے ‘کانگرس تحریکات اور مفکرین’ کا تذکرہ کیا ہے۔ مصنف نے اس باب میں ان وجوہات کو بیان کیا ہے جن کی وجہ سے یہ تحریکیں ناکام ہوئیں۔ مشہور صحافی پریم شنکر جھا کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں: ‘‘سیکولر سیاست کا اصل مسئلہ یہ رہا کہ اس نے اپنی سیاست کو ٹھوس نظریے کی بنیاد پر استوار نہیں کیا بلکہ وہ سیاسی مفادات کے تحت سافٹ سیکولرزم (یعنی اقلیتوں کی نمائشی ہمدردی) اور سافٹ ہند تو کے درمیان پینڈولم کی طرح گردش کرتی رہی۔ اس صورت حال نے ہند تو کے فروغ کے لیےنہایت سازگار ماحول فراہم کیا۔’’(ص 153) مختلف امورات پر بحث کرنے کے بعد فاضل مصنف لکھتے ہیں: ‘‘ان مباحث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیکولر مفکرین اپنی اس غلطی کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ انھوں نے آر ایس ایس کے مذہبی بیانیے کو نظر انداز کرکے بڑی غلطی کی ہے۔ ہندوستان جیسے مذہبی ملک میں صرف مغربی اصطلاحات اور مغرب زدہ سیکولر بیانیے کے سہارے یہاں کے عوام کے ذہنوں کو جیتنا ممکن نہیں ہے۔ ’’(ص 156)

 کتاب کے آٹھویں باب میں مصنف نے سیکولر رجحانات کا جائزہ لیا ہے۔ مصنف کا ماننا ہے کہ یہ تین تحریکات کمیونسٹ، سماج وادی اور دلت تحریکات ہندتو کے مقابلے کے لیے نظریات موجود تھے۔ ساتھ ہی جوش و جذبہ والا کیڈر بھی تھا۔ کانگریس کے مقابلے میں یہ تحریکیں اعلی ذات پر مبنی تحریکیں بھی نہ تھیں۔ مصنف نے اس باب میں ان کی نظریاتی کشمکش کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس باب میں کمیونسٹ، سماج وادی تحریکیں اور دلت تحریکوں کا بہترین طریقہ سے جائزہ لے کر ان کی ناکامیوں کے وجوہات بیان کیے ہیں۔ اس باب میں مصنف نے مختصر مگر جامع انداز میں تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔ کتاب کے نویں باب میں مصنف نے دراوڈین تحریک کا تعارف کرایا ہے۔ اس کے بعد ان تحریکوں کی کامیابیاں اور ناکامیوں کو بیان کیا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں: ‘‘سابقہ مضامین کے تجزیوں میں بھی ہم یہ بات لکھ چکے ہیں کہ نظریاتی اساس کا کم زور ہوجانا اور سیاسی مفادات کا نظریات پر غالب آجانا، اسی نے اکثر سماجی تحریکوں کو زوال کا شکار بنا دیا۔ کمیونسٹ تحر یک، دلت تحر یک اور لوہیا اور جے پی کی سماج وادی تحر یک، سب کے زوال کا بنیادی سبب یہی ہے کہ پہلے نظر یاتی تحریک ایک سیاسی جماعت میں بدل گئی اور سیاسی مفادات غالب آتے چلے گئے، پھر اکثر معاملات میں سیاسی جماعت بھی ایک خاندانی جماعت میں بدل گئی اور خاندانی جماعت کر پشن کا شکار ہو کر مکمل طور پر بے اثر ہوگئی۔ ان تجزیوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر نظریاتی تحریک سیاسی جماعت میں بدل جائے اور اس کے سر کردہ قائدین انتخابی عمل کا حصہ بن جائیں تو یہ خطرہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔” (ص 195)

دسویں باب میں مصنف نے مسلمانوں کی سیاسی تحریکات کا جائزہ لیا ہے، مصنف نے اس باب میں مسلم مجلس مشاورت، جمیعت العلماء کا جائزہ لیا ہے، اس باب میں مصنف نے مسلمانوں کی حیثیت پر بھی بہترین گفتگو کی ہے۔  یہاں یہ محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کے نزدیک سب سے اہم چیز نظریہ ہے، لیکن راقم کا ماننا ہے کہ اگر آج کی دنیا کو دیکھا جائے تو نظریہ کی اہمیت گھٹ گئی ہے، آج صارفیت کا دور ہے اسی پر پروگرام اور پالسی بنتی ہے۔

کتاب کا سب سے اہم ترین حصہ سوم ہے، جس میں امت مسلمہ کو متبادل راستہ بھی بتایا گیا ہے، مصنف کا ماننا ہے کہ عدل پر مرکوز متبادل بیانیہ ہی تمام مسائل کا حل ہے اس حصے کو مصنف نے 10 ابواب میں تقسیم کیا ہے۔

فاضل مصنف اس حصہ کے مقاصد کے بارے میں لکھتے ہیں: ‘‘اسلام کی تعلیمات اور شریعت مطہرہ کے مقاصد کو سامنے رکھ کر ہندتو کے بیانیے پر اصولی تنقید بھی کی گئی ہے۔ ان کے دعووں کا جواب اور ان کے غلط نظریات کا ابطال بھی کیا گیا ہے اور اسلامی نقطہ نظر سے بہتر متبادلات کی نشان دہی کی بھی کوشش کی گئی ہے۔’’ (ص 233) حصہ سوم کے پہلے باب میں مصنف لکھتے ہیں کہ امت مسلمہ کسی نسلی، قومی اور لسانی گروہ کا نام نہیں بلکہ وہ امت وسط ہے، لہذا ان کو شناخت کی سیاست سے نقصان ہوگا، مسلمان وہ پروگرام لے کر اٹھیں جو عدل پر مبنی ہو اور سب کے لیے ہو۔

کتاب کے بارہویں باب ‘پیغام توحید’ میں مصنف نے امت مسلمہ میں رائج بہت سے نظریات مثلا وحدت الوجود پر تنقید کی ہے۔ مصنف کا ماننا ہے کہ توحید ہی کی دعوت سے عدل کا قیام ممکن ہے اور توحید نہایت ہی سادہ عام فہم اور عقل کو اپیل کرتا ہے۔ یہاں توحید سے مراد توحید الوہیت ہے توحید وجودیت نہیں۔ اس باب میں مصنف نے مولانا امین احسن اصلاحی کے ایک طویل پیراگراف کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: ‘‘دیوی دیوتاؤں کو یا مذہبی معتقدات کو مذاق اور کامیڈی کا موضوع بنانے یا لب و لہجے میں اہانت اور تمسخر کا انداز اختیار کرنے سے سنجیدہ گفتگو اور افہام و تفہیم کی فضا متاثر ہوتی ہے اور مخاطبین اپنے افکار پر اور زیادہ ہٹ دھرمی کے ساتھ جمنے لگتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جو ہٹ دھرمی اور حمیت پر مبنی ضد پیدا ہوتی ہے وہ اسلام کے لیے ایک بڑا حجاب بن جاتی ہے۔’’ (ص 275) ہندو طاقتوں نے سب سے زیادہ جس چیز پر زیادہ زور دیا ہے وہ قوم پرستی کا بیانیہ ہے، لیکن مصنف کہتے ہیں کہ ایسا وطنیت کا تصور اسلام کی تعلیمات سے متصادم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ معاشرہ میں اسلام کے علم بردار اور سفیر بن کر رہیں اور ساتھ ہی ملک کے وفادار بھی۔

کتاب کے تیرہویں باب میں مصنف نے قومیت کے حوالے سے سیر حاصل بحث کی ہے، اس میں جہاں مسلم مفکرین کی آرا کو پیش کیا گیا ہے وہیں غیر مسلم دانشوروں کی آرا بھی سامنے لائی گئیں ہے۔ پروفیسر ٹائن بی، جان ہچنس، ورہانس کون، وغیرہ کی آرا رقم کرکے تحریر میں توازن پیدا ہوا ہے۔ البرٹ آئنسٹائن قوم پرستی کے حوالے سے لکھتے ہیں: ‘‘البرٹ آئنسٹائن نے قوم پرستی کو بچپن کی بیماری اور ‘انسانیت کا خسرہ(measles of mankind) ’ قرار دیا۔ یعنی ایسی بیماری جو بچپن کی بے شعوری کے دور میں لاحق ہوتی ہے اور اس کے اثرات زندگی بھر ستاتے رہتے ہیں۔’’ دین اسلام کا قومیت کے حوالے سے موقف بھی بیان کیا گیا ہے، لکھتے ہیں:‘‘ اسلام نے وطن سے محبت کے فطری جذبہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ قرآن مجید نے اسے ظلم کی بدترین شکل قرار دیا ہے کہ لوگوں کو ان کے وطن سے بے دخل کیاگیا: ‘‘اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، کیوں کہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے۔’’ (سورہ الحج آ 39-40) البتہ اسلام انٹیگرل نیشنلزم کا سخت مخالف ہے۔ فاضل مصنف لکھتے ہیں: ‘‘اسلام ایسے تمام تصورات کی نفی کرتا ہے جو انسانوں کے درمیان رنگ، نسل، ذات، قوم وغیرہ کی بنیاد پر تفریق کرتے ہیں۔ اسلام کا پیغام وحدت انسانی کا پیغام ہے۔ وہ اس حقیقت کو ماننے کی دعوت دیتا ہے کہ سارے انسان ایک خدا کی مخلوق اور بندے ہیں اورایک مرد اور عورت کی اولاد اور آپس میں بھائی بھائی ہیں۔’’ فاضل دانشور کا خیال ہے کہ انٹیگرل نیشنلزم کو اب ہندوستان میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ پوری دنیا اس کو رد کر رہی ہے۔ انٹیگرل نیشنلزم کی جگہ اب ساری دنیا میں سوک نیشنلزم کا تصور عام ہے۔ انٹیگرل نیشنلزم کے تصورات اسلام کی تعلیمات سے متصادم ہیں۔ مشترکہ سماجوں میں شہری قومیت کا راستہ ایک قابل عمل راستہ ہے۔ ایسے معاشروں میں اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اسلام کے علم بردار اور اس کے سفیر بن کر معاشرے میں رہیں گے اور معاشرے میں اسلام کی نمائندگی کا حق ادا کریں گے۔

چودھویں باب ‘کثیر تہذیبی ملک کے تقاضے’ میں مصنف نے ہندوستان جیسے کثیر تہذیبی ملک کے بارے میں بحث کی ہے کہ کس طرح اقلیتی طبقہ کے حقوق برقرار رکھے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے اقوام متحدہ کے اعلامیہ 1992 کا حوالہ دیا ہے۔ ساتھ ہی کئی کثیر تہذیبی ممالک جیسے ہنگری وغیرہ کے لیے فاضل مصنف نے اسلامی تعلیمات بھی پیش کی ہیں۔

پندرھویں باب میں مذاہب کے درمیان مختلف شکلیں بیان کی ہے۔ کتاب کے سولہویں باب میں مصنف نے ہندوستان میں سماجی نابرابری کے اسباب بیان کیے ہیں۔ دلت آبادی کا جائزہ لیا ہے اور اسلام کا موقف بھی خوبصورتی سے پیش کیا ہے، ساتھ ہی سماجی نابرابری کے مطابق خاتمے کے لیے حل بھی پیش کیا ہے۔ فاضل مصنف کا خیال ہے کہ ملت اسلامیہ ہند سماجی نابرابری کے خلاف مہم چلائے اور ابتدا خود اپنے مسلم معاشرہ میں پائی جانے والی کمزوریوں سے کریں۔ وہ لکھتے ہیں: ‘‘ہندوتو طاقتوں کی غلط پالیسیوں اور تخریبی اقدامات کا چھپا ہوا ایجنڈا بے نقاب کیا جائے۔ یہ واضح کیا جائے کہ ان تخریب کاریوں کا واحد مقصد مسلمانوں کی ہراسانی نہیں ہے بلکہ سماجی نابرابری کے نظام کا استحکام ہے۔ کارپوریٹ سرمایہ داری کا اصل مقصد یہ ہے کہ دولت  اور سرمایہ کی طاقت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کیا جائے اور پس ماندہ طبقات کو اٹھنے نہ دیا جائے۔ تبدیلی مذہب سے متعلق قوانین کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پس ماندہ طبقات اپنا مذہب تبدیل کر کے ذات پات کے نظام کو بے اثر نہ کر دیں۔ اس تجزیے کے مطابق گؤ کشی پر امتناع کا بھی ایک اہم مقصد کمزور طبقات کی معیشت کو کمزور کرنا ہے۔” (ص 352)

عدل کے قیام کے لیے انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ فاضل مصنف نے کتاب کے سترھویں باب میں بیوروکریسی، عدلیہ، پولیس وغیرہ میں موجود نقائص کو بیان کرنے کے بعد ان میں مطلوبہ اصلاحات پر بحث کی ہے۔ ہماری معاشی پالیسیوں میں جہاں گروتھ کو یقینی بنانے کے اقدامات ہوں وہیں عادلانہ تقسیم کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اس وقت ہندوستان میں ایک فی صد امیر ملک کی چالیس فی صد سے زیادہ دولت پر قابض ہے۔ اس کی وضاحت مصنف نے کتاب کے اٹھارہویں باب ‘معاشی عدل کے تقاضے’ میں کیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ اسلام کا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ‘‘اسلامی تعلیمات میں اقتصادی نمو اور معاشی ترقی کی صرف اجازت نہیں، بلکہ زبردست ہمت افزائی بھی ہے۔ مال کو اللہ تعالی نے اپنا فضل قرار دیا ہے اور اس کے لیے جستجو کی طرف بھی اشارہ کیا ہے  پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ (الجمعہ :10) دنیا سے اپناحصہ فراموش نہ کر نے کی اور اس حصے کو آخرت کی کامیابی کے لیے استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے۔( القصص:77) انفاق وصدقات کی فضیلت اور زکاۃ کی فرضیت سے بھی یہ اشارہ ملتا ہے کہ ان عظیم نیکیوں کا اجر حاصل کرنے کے لیے مال بھی کمایا جائے۔ (ص 381) جن دس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی گئی تھی ان میں چار صحابہ انتہائی دولت مند تھے۔ یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، زندگی بھر صدقہ و خیرات کرنے کے باوجود، ان کے ترکہ تقریباً آٹھ ہزار کروڑ تھا۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک سو کروڑ سے زیادہ ترکہ چھوڑا۔ مصنف لکھتے ہیں کہ دین چاہتا ہے کہ لوگوں معاشی نشوونما بھی کریں لیکن اس جذبہ کے ساتھ کہ مال امانت ہے، اس باب میں مصنف نے ملک میں مطلوب اصلاحات کے حوالے سے سیر حاصل بحث کی ہے۔ مصنف کی یہ بات اہم ہے کہ انکم ٹیکس کے بجائے اثاثوں پر ٹیکس ہونا چاہیے۔

انیسواں باب بہتر تعلیمی پالیسی اور بیسواں باب تاریخ کا متوازن بیانیے سے متعلق ہے۔ ان ابواب میں مصنف نے بتایا ہے کہ کس طرح ان اصلاحات کی وجہ سے ملک میں تعمیر و ترقی ہو سکتی ہے۔

کتاب کے آخری حصہ کی حیثیت محاکمہ و اختتامیہ کی ہے۔ اس میں چیلنج کو سمجھنے کے لیے آگے کی راہ دکھائی گئی ہے۔ فاضل محقق کا خیال ہے کہ ہندتو کے حامی لوگوں کے پاس ایسا کوئی ایجنڈا نہیں جو نظریاتی بنیاد پر ہو، اس کے بعد ثابت کیا ہے کہ ہندوؤں کی اکثریت ہندتو کے فسطائی ایجنڈا کے ساتھ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے کئی تحقیقی کاموں کا ذکر کیا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے رول کا ذکر کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں: ‘‘اس بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ ہندوتو کی انتہاپسندانہ تحریک کسی ٹھوس ایجابی ایجنڈے کی بنیاد پر نہیں کھڑی ہے بلکہ اجتماعی نرگسیت، اجتماعی حسد اور تاریخی انتقام کی انتہائی منفی اور سلبی بنیادوں پر استوار ہے۔ ایسی منفی تحریکیں تاریخ کے کسی مرحلے میں بعض مددگار تاریخی عوامل  سے طاقت پا کر اچانک بھڑک اٹھتی ہیں اور سماج میں ہسٹریا یا جنون کی کیفیت پیدا کر نے میں کامیاب بھی ہو جاتی ہیں۔ لیکن ایسے جنون کی عمر ہمیشہ مختصر ہوتی ہے۔اس کی عمر بڑھانے والا سب سے اہم عامل اس جنون کے مقابلے میں جوابی جنون ہوتا ہے۔’’ (ص 443)

کتاب کے آخری باب میں مصنف کہتے ہیں کہ اس منفی تحریک کا اگر کوئی مقابلہ کر سکتا ہے وہ صرف اور صرف امت مسلمہ ہے۔ مصنف کا ماننا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے بہت سے مسائل پیدا ہوں گے، لیکن عدل کے پیغام کو لے کر جو تحریک اٹھے گی وہی کامیاب ہوگی، وہ لکھتے ہیں:‘‘اس امت کے دشمنوں کی فہرست تیار کی جائے تو اس وقت جو سب سے بڑا دشمن ہے وہ ڈر خوف اور مایوسی کی نفسیات ہے۔ کسی قوم کے لیے سب سے بڑی تباہی مایوس و ناامیدی ہے۔ سخت حالات کی عمر مختصر ہوتی ہے لیکن اگر پست ہمتی اور خوف کی نفسیات عام ہو جائے تو اس کے اثرات دیر پا ہوتے ہیں۔ یہ نفسیات زندگی کی امنگ چھین لیتی ہے۔ خود اعتمادی کو مجروح کر دیتی ہے۔ آگے بڑھنے  اور ترقی کرنے کے حوصلوں کو ختم کر دیتی ہے۔ اگر امید کی لو روشن رہے تو بڑی سے بڑی ناکامی اور بھیا نک سے بھیانک سانحہ بھی قوموں کی کمر نہیں توڑ سکتا۔ وہ اپنی خاکستر میں امید کی چنگاریوں کو چھپائے رکھتی ہیں اور مناسب وقت پر مثبت  تبدیلی کا ایک ہلکا سا جھونکا بھی ان چنگاریوں کو بھڑ کا کر شعلہ بنادیتا ہے۔ اس کے بر خلاف اگر امید و یقین کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے تو سائے اور واہمے بھی دہشت طاری کرنے لگتے ہیں۔ ہوا کے جھونکے سے بھی تباہ کن آندھی کا احساس ہوتا ہے۔ ایسی بزدل قوموں کو مارنے کے لیے کسی دشمن کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اندیشوں اور واہموں کی شکار ہو کر وہ اپنی موت آپ مر جاتی ہیں۔”(ص 443)

فاضل محقق سید سعادت اللہ حسینی نے اپنی اس شاہ کار تصنیف کے ذریعے خوف اور مایوسی سے نکلنے کی راہ کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو ہمت اور حوصلہ بھی دیا ہے۔ کتاب کا ہر باب مستند اور بنیادی مآخذ سے مملو ہے۔ کتاب حواشی اور حوالہ جات سے پُر ہے۔ کتاب کے آخر میں انڈکس بھی دیا گیا ہے، جس سے ریسرچ کرنے والے افراد کو کافی فائدہ ملے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب ہندتو طاقتوں اور ان کی سرگرمیوں کے پیدا کردہ شور و غوغا اور خوف و مایوسی کے درمیان مواقع کی ایک نئی دنیا دکھاتی ہے اور امید کی نئ شمعیں روشن کرتی ہے۔ یہ نہ صرف نئے راستے دکھاتی ہے بلکہ ان راستوں پر آگے بڑھنے کے لیے خود اعتمادی بھی پروان چڑھاتی ہے۔ یہ کتاب واضح کرتی ہے کہ ہندتو کی نظریاتی بنیادیں کس قدر کم زور ہیں اور ملک کی تعمیر و ترقی کے سلسلے میں ان کا پروگرام کس قدر غیر واضح، نامکمل اور کم زور بنیادوں پر کھڑا ہوا ہے۔ ہندتو طاقتیں خود کو نظریاتی تحریک باور کراتی ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے پاس ملک کی فلاح و بہبود کا ایک متبادل تصور ہے۔ یہ کتاب ان دعوؤں کی حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ کے سنگین ترین مسئلے پر یہ اب تک کی سب سے اہم کتاب ہے۔

راقم کا خیال ہے کہ ہندو فسطائی طاقتوں کے نفوذ میں نظریاتی پہلو مگر عروج میں نظریات سے زیادہ عملی اسٹریٹجی کا پہلو غالب رہا ہے۔ آج جو ہندو طاقتوں کی کامیابی نظر آتی ہے، اس میں بظاہر ہندتو کی فکری بنیاد نہیں دکھائی دیتی۔ ہندتو کے عملی پہلو پر الگ سے اسی طرح کی ایک مفصل گفتگو کی ضرورت ہے۔ مزید یہ رہنمائی بھی ضروری ہے کہ ہندتو کی اسٹریٹجی کے مقابلے میں مسلمانوں کی اسٹریٹجی کیا ہونی چاہیے۔ اس کتاب کو مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نے معیاری طباعت کے ساتھ طبع کیا ہے۔ یہ کتاب فون نمبر 7290092401 سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

مبصر سے رابطہ : 9906653927

15 تبصرے
  1. عمر فاروق کہتے ہیں

    حسبِ معمول سہیل صاحب نے ایک بہت ہی اہم کتاب پہ بہترین تبصرہ رقم فرمایا ہے۔ایک طرف یہ مضمون کتاب کا لب لباب سمجھنے میں معاون ہے تو دوسری طرف یہ مجھ جیسے عام طالب علم کو اصل کتاب کا مطالعہ کرنے پر ابھارتا ہے۔اور یہی مبصر کی کامیابی ہے۔خداوندِ قدوس اس کوشش کو اپنی بارگاہِ صمدیّت میں قبول فرمائے اور مزید علمی اور اصلاحی خدمات کی توفیقات سے بھی بہرہ مند فرمائے۔آمین

  2. شوکت شاہین کہتے ہیں

    ماشاءاللہ ۔ سوشل میڈیا کے اس دورمیں کتابوں سےایسا والہانہ لگاؤ یقیناً ہم سب کے لیے قابل تقلید ہے ۔ سعادت صاحب کی یہ کاوش یقینی طور پر قابل تحسین ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مصنف اور مبصر دونوں کو رحمتوں سے نوازے آمین

  3. عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری کہتے ہیں

    مبصر اور ناقد کتاب کا عرق پیش کردیتےہیں۔بشیر کار صاحب اس میدان کے شہہ سوار ہیں۔اور کامیاب مبصر

  4. سہیل بشیر کار* کہتے ہیں

    بہت شکریہ سب کا

  5. سعادت اللہ حسینی کہتے ہیں

    بہت شکریہ۔۔بھرپور تبصرہ۔۔۔مکمل تعارف، نہایت جامع خلاصہ ۔۔جزاکم اللہ خیرا۔۔۔اللہ تعالیٰ آپ کے قلم کی فیض رسانی کو اور بڑھائے۔۔۔آمین ۔۔۔۔

    1. سہیل بشیر کار* کہتے ہیں

      بہت شکریہ محترم

  6. محمد افضل لون کہتے ہیں

    محترم سہیل بشیر کار صاحب کے جاندار اور شاندار تبصرے پر کون کیا کہہ سکتا ہے ۔ کار صاحب پہلے ساری کتاب کا صرف مطالعہ ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ اس کی روح تک پہنچ جاتے ہیں اور یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ ذہہ نصیب ۔ میری ایک گزارش ہے کہ ایسے تبصرے جس کو زیادہ مناسب ہوگا کہنا مضامین شائع ہونے چاہئیں کیونکہ یہ بہت طویل ہیں اور ان کی اپنی اہمیت ہے ۔ سہیل صاحب اصل کتاب کو تبصرے میں بالکل پیش کرتے ہیں اور قاری تبصرہ پڑھ کر کتاب کی روح تک پہنچ جاتا ہے ۔ مگر میری محترم کار صاحب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ آپ تبصرے میں اصل کتاب کی بڑی بڑی عبارتیں پیش کرتے ہیں جس سے قاری اکتاہٹ محسوس کرتا ہے اور وہ غیر ضروری بھی ہے ۔ کار صاحب نے جس طرح آخر پر کتاب کے بارے میں تسلسل سے اپنا نکتہ نظر اور کتاب پر رائے پیش کی ہے وہ زبردست شاندار اور بے مثال ہے ۔تبصرے میں کتاب کے مندرجات مختصر پیش کیے جانے چاہئیں نہ کہ طویل ۔ مصنف نے جہاں نظریہ کی پختگی اور مضبوطی پر زور دیا ہے ( جو کہ ایک حقیقت بھی ہے) پر تبصرہ نگار کا اختلاف زیادہ وزنی نہیں ہے ۔ میرے نزدیک اس وقت پوری دنیا میں نظریات کی ہی اصلی جنگ ہے باقی سب کچھ سطحی ہے جن کو کوئی دوام حاصل نہیں ہے ۔ ایسے تبصرے پڑھ کر ایک زندہ دل 💓 انسان تبصرہ شدہ کتاب کا مطالعہ نہ کرے تو یہ ہو نہیں سکتا ۔ میری محترم کار صاحب سے یہ گزارش ہے کہ آپ محترم باقی عام مصروفیات کو ثانوی حیثیت دیں اور کتابوں پر تبصرے کرنا اپنا اولین فرض منصبی انجام دینا تسلسل سے جاری رکھیں ۔ میں ذاتی حیثیت میں کافی شرمندہ ہوں کہ میں نے ملت پبلی کیشنز کی انمول مطبوعات پر کیوں نہیں آپ محترم کی رائے لی ۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا کثیرا ۔ اللّٰہ تعالیٰ آپ محترم کو سلامت رکھے اور آپ محترم کی صلاحیتیں ملت مرحومہ کے کام آئیں آمین ثم آمین یا رب العالمین

    1. سہیل بشیر کار* کہتے ہیں

      بہت شکریہ محترم

  7. عرشیہ شکیل کہتے ہیں

    محترم‌ سعادت اللہ حسینی صاحب نے اپنی کتاب”ہندتو انتہا پسندی”میں مایوسی ،خوف،نفرت کے فضا میں بڑی ہی حوصلہ دینے والی نیز حقیقت سے پردہ اٹھانے والے موضوعات قلمبند کیے ہیں۔ اللہ بہترین اجر عطا فرمائے۔آمین
    محترم مبصر نگار نے بہت ہی جامع انداز میں اجمالی تبصرہ پیش کیا ہے جو قارئین کو کتاب پڑھنے کی طرف راغب کرتا ہے۔تبصرہ نگار کا اپنے فن میں مہارت کا بین ثبوت ہے۔
    جزاک اللہ خیر

    1. سہیل بشیر کار* کہتے ہیں

      بہت شکریہ محترم

    2. سہیل بشیر کار* کہتے ہیں

      بہت شکریہ محترمہ

  8. عمارہ فردوس کہتے ہیں

    اس اہم کتاب پر ہم نے بھی تبصرہ لکھنے کا سوچ رکھا تھا خیر سبقک بھا عکاشہ کے مصداق سہیل بشیر صاحب سبقت لے گیے ۔اور بہت عمدگی کے ساتھ اپنا تبصرہ پیش کیا ۔جزاکم اللہ خیرا کثیرا ۔
    انشاء اللہ ہم بھی اپنا طالبعلمانہ تبصرہ ضرور درج کریں گے چاہے ٹوٹے پھوٹے انداز میں ہی کیوں نہ ہو ۔

    1. سہیل بشیر کار کہتے ہیں

      ہمیں انتظار رہے گا

  9. Swalehwakeel کہتے ہیں

    ماشاء اللہ بہترین بھر پور تبصرھ کیا ہے آپنے بہت خوب………………..عمدہ

  10. خان مبشرہ فردوس کہتے ہیں

    ماشاءاللہ بہترین تبصرہ سہیل بشیر کار صاحب آپ کا تبصرہ پڑھتے ہوئے ہوا کہ آپ کتاب کی دوبارہ سیر کروادی ہے ۔۔جزاک اللہ خیرا کثیرا

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا