ہندوتو انتہا پسندی،  نظریاتی کشمکش اور مسلمان 

مصنف : سید سعادت اللہ حسینی

تبصرہ نگار : ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس

موجودہ ھندوستان میں تیزی سے تبدیل ہوتے نظام کا ہم آئے دن مشاہدہ کررہے ہیں۔ کوئی تبدیلی حتمی اور آخری نہیں ہوتی۔ "ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔” تبدیلی کے امکانات روزاول سے ہیں اور ابد تک رہیں گے۔ کبھی تخریب کا غلبہ ہوتا ہے تو تعمیر کے غلبے کی نئی راہیں بھی ساتھ ہی سر اٹھاتی ہیں۔”ماضی میں دنیا کے کئی ملکوں میں انتہا پسندانہ تحریکوں کے عروج اور اس کے نتیجے میں ہونے والے خون خرابے نے نظاموں میں ٹھوس اصلاحات کی راہیں ہم وار کی ہیں۔ اٹلی اور جرمنی میں فسطائیت کی تباہ کاریاں بہت سے عالمی معاہدوں کے لیے محرک بنیں، اس کے نتیجے میں خود ان ملکوں میں جمہوری اصلاحات کو فروغ حاصل ہوا اور اقوام متحدہ اور اس کے متعدد ذیلی ادارے قائم ہوئے۔ بلقان اور مشرقی و وسطی یورپ کے علاقوں میں کمیونسٹ استبداد اور نسل پرست تحریکوں کے مظالم کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں مختلف تہذیبی اکائیوں کے حقوق سے متعلق بہت سی انقلابی اور انوکھی و اختراعی تجاویز رو بہ عمل لائی گئیں۔” تخریب، ناانصافی، ظلم و زیادتی کا جواب ردعمل نہیں ہے بلکہ دنیا کہ توجہ حقیقی انسانی مسائل کی طرف مبذول کروانا ہی اصل کام ہے۔ موجودہ حالات میں نئی سماجی ڈسکورس ( مباحث) زیر بحث لانا اور Narrative بیانیے میں تبدیل کرنا وقت کی سب سے اھم ضرورت ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی زیر نظر کتاب "ہندوتو انتہا پسندی نظریاتی کشمکش اور مسلمان” ہے، جو معروف محقق جناب سید سعادت اللہ حسینی صاحب کی  شاہ کار تصنیف ہے۔ یہ کتاب جملہ چار حصوں پر مشتمل ہے۔  پہلے حصے میں چھ  اور دوسرے حصے میں چار ابواب ہیں۔ تیسرا حصہ دس ابواب پر مشتمل ہے اور چوتھے اور آخری حصے میں دو ابواب ہیں۔

کتاب کا پہلا باب ” فکری بنیاد” ہے۔ ہندوتو کی ابتدا کیسے ہوئی کیسے؟ ان کے نظریات ان کے مفکرین کے ذریعہ تبدیل ہوتے رہے۔ ہندوتوکے نظریہ سازوں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ان کے نظریے و عقیدے کی بنیاد کو موصوف نے واضح کیا ہے۔ وحدت وجود کا عقیدہ اور اس عقیدے کے جلو میں ان کے نظریات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے اور واضح کیا کہ کبھی کبھی داعی توحید اور وحدت الوجود سے دھوکہ کھا لیتا ہے۔ ان نظریات کو بے ضرر سمجھ کر  مداہنت کا شکار ہوجاتا ہے۔ کس طرح یہ نظریہ بظاہر بے ضرر نظر آتا ہے، لیکن یہ رفتہ رفتہ اپنی فکر کے اعتبار سے غیر منصفانہ تقسیم پر مبنی ہے۔

پہلے حصے کے دوسرے باب میں مختلف مذاہب کے درمیان تعلق سے متعلق ہندوتو کے فکر کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ ہندتو کے عقیدے ادیان کی وحدت پر تفصیلی گفتگو موجود ہ۔ے کیسے ھندوازم میں دھرم کا تصور دے کر ہندوستانی مذاہب کا اتحاد ہوا؟ ” وحدت ادیان ” اور دنیا کے تمام مذاہب دوحصہ میں تقسیم ہوئے۔ نوویدانت اور ھندوازم میں ھندوستان کی تاریخی کے سبھی مذاہب ضم ہوگئے۔ تاریخی حوالے سے تفصیل لکھی ہے اور دوسرا عالمی مذہب ہندوتو کے مفکرین کے نزدیک ابراہیمی مذہب قرار دیا گیا، جس میں یہود، عیسائی، اور مسلم آتے ہیں۔ پہلےحصے کا تیسرا باب ’’تاریخ ھند اور تاریخ نگاری سے متعلق تصورات‘‘ کے تجزیے پر مشتمل ہے۔ چوتھا باب ہندوتو کے تعلیمی نظریات اور تعلیم سے متعلق افکار پر منتہج ہے۔ پانچویں باب میں ہندوراشٹر کا تصور اور معاشی نظریات پر گفتگو ہے۔ چھٹے باب میں ہندو کے عنوان سے ایسے فکری رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے جو ہندوتو کے ساتھ متعدد اہم امور میں فکری اشتراک رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود ہندوتو کے اصل دھارے سے مختلف ہیں سنگھ کے راست کنٹرول میں نہیں ہیں۔

 حصہ دوم ہندوتو کے مقابلے قوتیں اور ان کی ناکامیوں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ کسی نظریہ کے ہاتھ میں اقتدار اور قوت کا آجانا بظاہر بڑی کامیابی ہے تاہم ایک مومن کا ایمان ہو کہ اس کامیابی اور غلبے سے بڑی طاقت اللہ رب العالمین ہے کی ہے اور باطل کے مقابلے حق پرست حق کے غلبے کے کس قدر چوکنہ ہے اور کس درجے کی تیاری کرتے ہیں۔ ہندوتو کی موجودہ صورتحال سے زیادہ دیکھنے والی آنکھ کے لیے ان کے ماضی میں کی گئی کوششوں میں نشانی ہے کس طرح ہندوتوا کے سرسنگ چالکوں نے کانگریس میں پریشر گروپ بنائے رکھا۔ اپنے نظریات پر کس طرح دوسری پارٹی میں رہتے ہوئے اپنے کام پر فوکس بنائے رکھنے کی حکمت عملی کو اپنایا۔ کانگریسی تحریکات اور مفکرین، کیمونسٹ سماجی وادی اور دلت کی پوری تاریخ اور ہندوتو پالیسی کا ذکر ہے۔ ھنوتو اور ڈراوڑین تحریک اور مسلم سیاست کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے موصوف محترم نے اقلیتوں کے ساتھ ہندوتو حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ یہ بات واضح ہوئی کہ حقوق کا دستاویزات میں رکھتے ہوئے نفاذ میں کس طرح دل کی کجی کو حکومتیں بروئے کار لاتی ہیں اور اس ناانصافی کو ان کا نظریہ ناانصافی بھی قرار نہیں دیتا۔ یہ پڑھتے ہوئے اس غالب نظریہ کی سفاکی، بے دردی انسانیت سے بے نیازی کھل کر واضح ہوتی ہے۔ پڑھ کر دل کا درد حد سے سوا ہوتا ہے۔ مصنف نے برساہا برس سے چلے آرہے مفروضوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ اس کتاب کا حصہ سوم سب سے اھم اور وقت کی ضرورت پر مبنی ہے۔ مسلم امت کی حیثیت کو موصوف نے واضح کرتے ہوئے خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کی ہے۔ ساتھ ہی اعلائے کلمتہ اللہ کو بلند کرنے کے لیے مومنانہ کردار کو مخاطب کیا ہے۔ ایک مومن کو کس طرح توحید کے نفاذ کی راہ ہموار کرنے کے لیے کس نہج کی کوششوں کو شعار بنانا چاہیے موصوف نے واضح کیا ہے۔

 حصہ سوم کے تیسرے باب میں موجودہ ھندوستان میں قوم پرستی کا بیانیہ پڑھنے سے تعلق رکھتا پے۔ انٹریگرل نیشلزم کی وضاحت کرتے ہوئے موصوف نے ذکر کیا کہ "انٹیگرل نیشنلزم (integral nationalism) یہ قوم پرستی کا نہایت انتہا پسندانہ تصور ہے۔ یہ تصور یوں تو یورپی نشاۃ ثانیہ ہی کے زمانے سے ظہور پذیر ہونے لگا تھا، لیکن سیاسی بساط پر اس کا پر زور اظہار گذشتہ صدی کے اوائل میں شروع ہوا اور گذشتہ صدی کے نصف تک تصور یورپ کے منظر نامے پر چھایا رہا۔ یورپ میں بھی خاص طور پر جرمنی اس قوم پرستی کا نمائندہ بنا۔ اسی تصور نے پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کو جنم دیا اور لمبے عرصے تک قوموں کے در میان کشمکش کا ذریعہ بنارہا۔ اسلام اور قومیت کا تصور پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ وحدت اسلامی کی تصور کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:” اسلام فرد کی آزادی کا قائل ہے اور ریاست کا فرد کی آزادی پر استبدادی کنٹرول اسلام کے مزاج کے خلاف ہے اس لیے فسطائیت اور انٹیگرلنیشلزم کے تصورات کی بلاشبہ اسلام مذمت کرتا ہے۔”

یہ کتاب پڑھتے ہوئے ذہن سے گرد صاف ہوتی ہے، تصویر صاف نظر آتی ہے، باطل کے نظریات کھل کر واضح ہوتے ہیں۔ ان حالات میں ایک داعی کو مقصد طے کرنے میں دعوتی حکمت عملی طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ جوں جوں کتاب کا مطالعہ آگے بڑھ رہا تھا حوصلہ بڑھاتا جاتا ہے اور متعصب حالات میں ایک فرد طے کرتا ہے۔ باطل نظریات سے مشتعل یا مرعوب ہونے کے بجائے عزم کے ساتھ کھڑے ہوں۔ نیشنلزم کے تذبذب سے نکالنے والے ان جملوں کو دیکھیے، موصوف لکھتے ہیں:” انٹیگرل نیشنلزم کے تصورات اسلام کی تعلیمات سے متصادم ہیں۔ مشترکہ ساجوں میں شہری قومیت کا راستہ ایک قابل عمل راستہ ہے۔ ایسے معاشروں میں اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اسلام کے علم بردار اور اس کے سفیر بن کر معاشرے میں رہیں اور معاشرے میں اسلام کی نمائندگی کا حق ادا کریں۔”

کثیر تہذیبی ملکوں کے تقاضوں کو واضح کرتے ہوئے محترم مصنف نے حالیہ تاریخ اور سوچ میں تبدیلی مثالیں پیش کی ہیں۔ اسلام کی موقف کی اس حوالے سے وضاحت کی ہے دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کے تجربات کا خاکہ ہمارے سامنے رکھا ہے۔ مذاہب کے درمیان ایک صحت مند ربط بنانے کی کوشش سے متعلق اسلام کا موقف واضح کیا اور ہندوستان میں سماجی نابرابری کا تجزیہ کیا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں  کہ مسلمان اپنے ساتھ ہونے والے ظلم پر آواز بلند کرتا ہے لیکن ملک عزیز میں دلت طبقے کے ساتھ ہونے والی نابرابری ویسی توجہ نہیں دیتے جیسا کہ توجہ دینے کا حق ہے۔ اسلام کا عملی ماڈل پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:” اسلام صرف اصولی تعلیمات دینے ہی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ محمد صلی علیہ وسلم نے نبوی دور میں مثالی ماڈل بھی پیش کیا ہے قبیلوں میں بٹے ہوئے معاشرے میں جہاں قبائیلی تفاخر ایک اہم سماجی قدر تھی آپ صلعم نے ایسی صورتحال پیداکردی کہ بلال حبشی’ صہیب رومی،زید بن حارثہ جیسے غلامی کا پس منظر رکھنے والے صحابہ انتہائی بلند قامتی پر فائز ہوئے ہیں۔ "

اس کتاب کا اھم  حصہ ’’عدل پر مرکوز متبادل بیانیہ‘‘ ہے۔ اس حصے کے پہلے باب میں مصنف موصوف نے مسلم امت کی حیثیت کو تفصیل سے سمجھایا ہے۔ توحید کا پیغام کو عام کرنے کے لیے ایک مسلمان کو کائنات میں اپنی حیثیت یاد رہنی چاہیے۔ مسلمان کسی نسل کا نام نہیں ہے۔ یہ کسی لسانی گروہ کا نام نہیں ہے۔ کوئی جنس بھی نہیں ہے۔ کسی خاص رنگ، شکل و شباہت یا ذات کا نام بھی نہیں ہے۔ مسلمان کوئی طبقہ یا کلاس بھی نہیں ہیں۔ ان کی دل چسپی کبھی اپنی شناخت اور اس سے متعلق مسائل تک محدود نہیں ہوسکتی۔ وہ عقیدہ، اصول اور نظریات کی بنیاد پر بننے والا گروہ ہیں۔ اس گروہ سے وابستگی عقائد و نظریات کی بنیاد پر ہے اور ہر رنگ، نسل، ذات، قوم، طبقه، جنس، اور لسانی گروہ کے لیے عام ہے۔ وہ خیرامۃ ہیں، یعنی ان کی ذمے داری خود تک محدود نہیں ہوسکتی۔ وه أخرجت للناس ہیں، سارے انسانوں کے لیے ذمے دار ہیں۔ شہداء على الناس ہیں۔ ان سب انسانوں پر انھیں حق کی گواہی دینی ہے۔ وہ أمة وسط ہیں، لوگوں کو ہر طرح کی بے اعتدالی سے بچانے کا کام ان کے سپرد ہے۔ ان کی بنائے اجتماع ملة أبيكم إبراهيم ہے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرح ایک آفاقی اور ہمہ گیر توحیدی وژن کے حامل ہیں۔ وہ قوامین بالقسط ہیں اور اللہ کے ہر بندے کو عدل و انصاف فراہم کرنا ان کا مشن ہے۔”مسلم سیاسی ڈسکورس کی ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ ایجابی و اقدامی ایجنڈے کا فقدان ہے۔ اقدامی ڈسکورس کے لیے اس باب میں تفصیلی پس منظر کے ساتھ پانچ چیزوں کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔(1) معاشی عدل (2) انصاف رسانی کا انتظام(3) ذات پات،صنف اور طبقات کی بنیاد پر مظالم کی روک تھام(4) تہذیبی نظریاتی اور نسلی گروہوں کے وجود کو تسلیم کرنا اور ان کے اجتماعی حقوق فراہم کرنا تاکہ انھیں اپنے معاملات میں زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل ہوں اور ملک کے مجموعی نظام میں متناسب طاقت ملے۔ (5) استحصال سے پاک سیاست

ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:” ہمارے ملک کی تاریخ میں فرقہ پرست اور نسل پرست عناصر نے ہر دور میں اپنے مفادات کے لیے اور دیگر طبقات پر فلم کے لیے ان شعبوں کا استحصال کیا ہے اور آج بھی کر رہے ہیں۔ مسلم دور حکومت میں بھی خصوصا بیورو کریسی پر مخصوص اعلیٰ ہند و ذاتوں کا غلبہ رہا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں جو اصلاحات پسند مسلم و غیر مسلم حکم راں اٹھے ان کی کوششیں بھی اسی طاقتور بیوروکریسی نے بالآخر ناکام بنا دیں۔ اس صورت حال کا اندازہ ہماری تاریخ کے بعض نام ور ترین مصلحین و مجهد دین مثلا شیخ احمد سر ہندی  اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تحریروں سے ہوتا ہے۔ یہ بزرگ بھی اس تسلط سے شدید تشویش اور پریشانی محسوس کرتے تھے۔ افسوس کہ مسلم حکم رانوں نے عام طور پر اس ملک کے مختلف طبقات کو اونچا اٹھانے اور انھیں انتظام میں اپنا شریک کار بنانے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کہیں، جس سے یہ مسلہ حل ہو سکتا تھا۔”

عدالتی نظام پر موصوف نے لکھا کہ انگریزوں کے زمانے سے جو سسٹم عدالتوں میں تعطیلات کا قائم ہے آج تک قائم ہے 360 ایام میں سے صرف 180 دن ہی عدالتوں میں ججیز کام کرتے ہیں باقی ایام چھٹیاں رہتی ہیں۔ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ عدالتوں میں کئی کئی سال عدالتوں کی دہلیز پر انصاف کے لیے لوگوں کی زندگیاں فنا ہوجاتی ہیں۔ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ہینگری فن لینڈ، وغیرہ ممالک نے اپنے عدالتی نظام کو smooth بنانے کے لیے تبدیل جبکہ ہم ہندوستان نے تبدیل نہ کرنے کی گویا قسم کھائی ہے دیگر ملکوں میں مجرم کو فیصلہ ہونے کے بعد سزا سنا کر جیلوں میں رکھا جاتا ہے ٹرائل کیس صرف 20 پرسنٹ ہوتے ہیں جبکہ اس کے برعکس ھندوستان میں آج بھی 80 پرسنٹ ٹرائل کیس۔ ہیں جن پر فرد جرم تک ثابت نہیں ہوتا اور وہ ان مقدمات کے انتظار میں عمر عزیز کے بیس بائیس سال گزار چکے ہوتے ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ کہ عدالت نظام کی سست کاری ایک منصف ادارے کو ناانصافی کی معراج عطا کرتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ” بےقصورافراد کابرسوں جیلوں میں بند رہنا ظام انصاف کی بدترینصورت حال کا مظہر ہےیہ نہصرف دستورِہندکی دفعہ21 کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ تمام معروف بنیادی حقوق اور عالمی معاہدوں سے بھی صریح انحراف ہے ” حالیہ دنوں میں انصاف کے ادارے تصور سے بھی زیادہ بدترین صورت حال سے گزر رہے ہیں۔ موصوف نے عدالتی نظام پر احتساب کے لیے حسبہ نکے نظام پر گفتگو کی ہے امبودسمان کے ذریعہ یعنی عدالتوں پر بھی جوابدہی کے احساس کو بڑھانے کے لیے اس نظام پر متوجہ کرنےکی حکمت کا ذکر کیا ہے۔ اسلامی مملکتوں کی مثال بھی پیش کی ہیں۔ راقم نے لکھا کہ” آج تقریبا 30 ملکوں میں امبودسمان (عدالتوں کی کاروانی اور انصاف تاخیر سے ملنے پر روک لگانےکےعدالت کے بھی احتساب کا بھی نظام ہونا چاہیے) اس محمکے کو اسلامی نظام میں "حسبہ” اسلامی عدالت میں اگرچہ کہ قاضی کے فیصلے پر کوئی پریشر بناہبہ کہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی عدالتی احتساب کا آزاد دستوری ادارہ ہونا چاہیے۔ اس باب میں مطلوب اصلاحات کی تجویز دراصل۔نسل نو کے لیے ڈسکورس کے لیے بہترین تجاویز ہیں۔

فاشسٹ طاقتوں نے اسلام کو ھدف بناکر اسلامو فوبیہ کے تئیں اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اس دور کو ہم Narrative era بھی کہہ سکتے ہیں۔ نظریات کی ترویج کے لیے ڈسکسکورس کھڑنا اھل فہم و دانش اب بھی ہندوستان میں موجود ہیں جو انصاف کی بات کرتے ہیں ان کی توجہ اس جانب مبذول کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے  ہمیں مسلسل ہونے والے بیانیے کے حملے کا جواب دینے کے بجائے صحت مند گفتگو کو سوشل میڈیا اور دیگر سائٹس پر آغاز کرنا چاہیے۔ تاکہ ہم ردعمل سے نکل کر انسانیت کی بھلائی کے بیانیہ کو موضوع بنا سکیں۔ جیسے احتساب کا آزاد دستوری ادارہ، ججوں اور دیگر سرکاری تقررات میں جوابدہی کا آزادانہ طریقہ کار، پولس کی اصلاحات نیز بیورکریسی سے رشوت کا خاتمے اور چست و چابک بنانے پر غور۔ عدل و مساوات کو یقینی بنانے کی مکمل کوششمعاشی عدل کے تقاضے بھی آنکھیں کھولنے اور دماغ کو روشن کرنا والا باب ہے جب سوشل میڈیا پر اور کھانے کے ٹیبل کر فخر سے ہمارے بچے انڈیا کے۔ بڑھتے گروتھ ریٹ پر بات کرتے تھے تو بظاہر گفتگو سے یہی لگتا کہ انڈیا واقعی عالمی سطح پر ترقی کررہا ہے موصوف کی کتاب پڑھ کر یہاں بھی آنکھوں سے پردہ ہٹتا ہے جو بات سمجھ میں آتی ہے   کیپٹلسٹ کے GDP گروتھ ریٹ کے تصور نے کس طرح مساوات کو دہلیز پر کھڑا کردیا ہے اور امیر امیر تر اور غریب غریب تر کو فروغ دے رہا ہے۔ موصوف لکھتے ہیں:’’دنیا کے متعدد ممالک کی طرح اس وقت ہمارے ملک میں معیشت کا وہی ماڈل نافذ ہے جس میں سارازور، ملک کی معاشی ترقی (growth) پر ہوتا ہے۔ اس بات پر بہت کم توجہ ہوتی ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والی دولت کی تقسیم کس طرح ہورہی ہے۔‘‘ آگے لکھے گئے اس پیرا سے مزید سمجھنے میں آسانی ہوگی: ” ایڈم اسمتھ اور متعدد کلاسیکی مغربی معاشی مفکرین نے تو عدم مساوات کو ملک کی معاشی ترقی کے لیے مفید قرار دیا تھا۔اس سے آگے بڑھ کر مشہور برطانوی معاشیات داں، جان کینس (1946۔ J۔M۔ Keynes d) کے نزدیک مساوات پیدا کرنے کی کوششیں، معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ ان تصورات کے اثرات آج بھی موجود ہیں اور ہمارے ملک کے پالیسی سازوں اور پالیسی مشیروں پر عام طور پر یہی سوچ غالب ہے۔ چناں چہ ہر بجٹ کے موقعے پر ریفارم کے نام پر جو نٹیں چڑ تی ہیں ان میں زیادہ زور اسی پر ہوتا ہے کہ خسارہ کم کیا جاۓ، سبسڈیاں کم کی جائیں، ٹیکس کم کیے جائیں اور انفرااسٹر کچر پرخرچ بڑھایا جائے، بڑے بزنس اور انڈسٹری کو رعایتیں دی جائیں وغیرہ۔ آج دنیا کے کئی ملکوں میں اور خاص طور پر ہمارے ملک میں ناانصافیوں کا ایک بڑاسر چشمہ عدل توزیعی (distributive justice) کے تقاضوں کا مجروح ہوناہے۔مڈل کلاس اور خوش حال تعلیم یافتہ طبقے کا ذہن اب کچھ اس طرح بن گیا ہے کہ معاشی عدل کی کوششوں کو وہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پورے ملک کی دولت تو تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن اس دولت کا فائد ہ عام آدمی کو بہت کم پانچ پارہا ہے۔” محترم موصوف نے ٹیکس دو طرح کے ہیں ایک ڈائریکٹ ٹیکسٹ ایک ان ڈائریکٹ ٹیکس۔ ایک آدمی میں ان ڈائریکٹ ٹیکسٹ GST کیسے کمزور بنانے کا فارمولہ ہے واضح کیا ہے۔

آخری  دو ابواب میں موصوف نے حالات کی پیشن گوئی کرتے ہوئے ہمارے طرز،عمل اور لائحہ عمل پر گفتگو کی ہے بالفاظ دیگر کہ کتاب موجود حالات میں ذہنی خلجان کو دور کرکے نئی جہت سے سوچنا سکھاتی ہے۔

یہ کتاب  وقت کی اھم ضرورت ہے۔ ہر فرد کو اسے پڑھنا چاہیے۔ موجودہ حالات میں یہ کتاب نئی راہ سجھاتی ہے اور تاریکی میں حوصلہ بڑھاتی ہے۔ قاری کو سوچ کے نئے زاویے اور کام کی نئی جہتیں فراہم کرتی ہے، نیز باطل انتہا پسند کے غلبے کی مرعوبیت سے ذہن کو ہٹا کر امکانات کی نئی دنیا دکھانے والی کتاب ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا