ﷲمیاں کا کارخانہ: مسلم سماج کی غربت و افلاس کی سچی تصویر

سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی

(ہلال ہائوس، علی گڑھ یوپی)

      اردو ادب کے اس جدید دور میں ہر سال متعدد ناول شائع ہوتے رہتے ہیں جن میں دنیا و مافیہا کے سردو گرم کی منظر کشی بہترین انداز میں نظر آتی ہے لیکن ایسے ناول بہت کم ہوتے ہیں جن کی کہانی ذہن میں دیر تک گردش کرتی رہتی ہے۔ اس کی وجہ قاری یا ناقد کا گردو پیش اور اس کی نفسیاتی کیفیتیں ہیں۔ اگر قاری کسی ناول میں اپنے ماحول اور معاشرے کو سانس لیتا ہوا دیکھتا ہے تو وہ فن پارے کی دنیا میں ڈوبتا چلا جاتا ہے اور فن کار کی تعریف کئے بغیر نہیں رہتا کیوں کہ یہی انسان کی فطرت ہے اسے جو چیز کسی بھی صورت میں متاثر کرتی ہے وہ اس سے دیر تک منسلک رہنا پسند کرتا ہے۔

   محسن خان کا ناول ’’اﷲمیاں کا کارخانہ‘‘ بھی اسی نوعیت کا فن پارہ ہے کہ جس کو پڑھنے کے بعد قاری دیر تک متاثر رہتا ہے خصوصاً وہ قاری جو اپنے گردو پیش میں غربت و افلاس اور اس کی دشواریاں دیکھتا ہے۔ محسن خان کا کمال یہ ہے کہ وہ سماج و کائنات کو بڑی گہرائی سے دیکھتے ہیں وہ دل میں ایک ایسا درد رکھتے ہیں جو انھیں مسلمانوں کے یہاں غربت سے مبتلا افراد کی تصویر کشی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔

    محسن خان کے ناول ’’اﷲمیاں کا کارخانہ‘‘ پڑھنے کے بعد جہاں ان کی درد مندی،اسلامی فکر کا احساس ہوتا ہے وہیں ان کے قلم کے جوہر بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں اس سلسلے سے بہت گفتگو کی جا سکتی ہے لیکن مختصر طور پر کہا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی تحریر سادہ و سلیس ہونے کے باوجود اپنے دامن میں معنی و مطالب کا سمندر سمیٹے ہوئے ہے۔ان کی تحریر کے جملے پیچیدہ و گنجلک نہیں ،وہ ایک بات کو گھما پھرا کر کہنے کے عادی نہیں بلکہ وہ سادگی کی سحر نگاری سے خوب واقف ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ ناول میں بیانیہ کی کیا اہمیت ہے اور اس میں کہانی کا کیا رنگ ہوتا ہے۔ان کی تحریر سے ان کے مزاج کی سادگی بھی جھلکتی ہے۔وہ نہیں چاہتے کہ محض جملے بازی یا زبان کو بے جا مرصع کرکے قارئین کو متاثر کیا جا ئے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ کہانی سے متاثر ہونے کے لیے اندازِ تحریر ایسا ہونا چاہیے جو ہر معیار کے قاری کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔یہی بات ہے کہ ناول ’’اﷲمیاں کا کارخانہ‘‘ پڑھ کر پورے وثوق سے کہاجا سکتا ہے کہ اس کتاب کو کسی معیار کا اردو ادب کا قاری مطالعہ کرکے متاثر ضرور ہوسکتا ہے۔اس ناول کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ ایک کمسن بچے’’جبران‘‘کی نفسیاتی کیفیتوں کی پھر پور عکاسی کرتا ہے۔یعنی ایک کمسن بچہ کیا سوچتا ہے؟اپنے والدین اور بہن کے ساتھ کس طرح زندگی گزارتا ہے؟کیا کیا حرکتیں کرتا ہے؟کس طرح کا شوق رکھتا ہے؟کس طرح کھیلتا ہے؟اور کس طرح جھگڑتا ہے؟یہ ناول اس سلسلے سے بہترین منظر کشی کرتا ہے۔

     اس کے علاوہ اس ناول میں اسلامی معاشرے کی مفلسی پر ایک گہرہ طنز بھی ملتا ہے۔عموماً دیکھا جاتا ہے کہ دنیاوی تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے اور اس سلسلے سے جو اساتذہ کرام ہوتے ہیں وہ اپنی محنت کا بھرپور صلہ حاصل کرتے ہیں لیکن اگر کوئی دینی علم دیتا ہے مثلاً قرآن کی تعلیم دینے والاکوئی شخص تو اس کی مالی حالت خستہ ہوتی ہے لوگ اس کو اس کی خدمات کا معقول معاوضہ نہیں دیتے نتیجے میں اس کی زندگی کا وہ انداز بھی نہیں ہوتاجو ایک متوسط طبقے کے خاندان سے وابستہ شخص کا ہوتا ہے۔اس وجہ سے معاشرے میں وہ بہت سی ترقیوں اور زندگی کے اہم مراحل میں پیچھے رہ جاتا ہے۔نتیجے میں وہ اپنا غصہ اپنے ان کمسن طلبہ پر نکالتا ہے جو اس کے زیرِ نگرانی ہوتے ہیں۔

      اسی کے ساتھ ساتھ ناول میں یہ اہم موضوع بھی اٹھایا گیا ہے کہ مذہب صرف دوسروں کی خدمت کا نا م نہیں بلکہ اصل مذہب اپنے خاندان کی دیکھ ریکھ اور کفالت کا نام ہے۔جب تک کسی مذہبی انسان کا خاندان آسودہ نہیں وہ معاشرے میں مذہب کے اصل تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔اور اگر وہ لکیر کا فقیر ہی رہے تو اس کے برے نتیجے ظاہر ہوتے ہیں اور اس کے خاندان کو مصیبتوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے علاج کے لیے تو دور کھانے پینے کا بھی روپیہ ان کے پاس نہیں رہتا۔

    اس ناول میں جہاں مسلمانوں کی غربت و افلاس کی تصویریں ملتی ہیں وہیں سرکار کے ظلم و زیادتی بھی نظر آتے ہیں۔ ایک مسلمان جو دین کی راہ پر نکلنے کو ایمان کی خدمت سمجھتا ہے ٹوپی اور ڈاڑھی کو اپنی زینت سمجھتا ہے اسے تعصب اور شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔یہاں محسن خان اپنے قارئین سے ایک طرح سے سوال کرتے ہیں کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ کسی مذہبی انسان کو آسانی سے آتنکی یا دہشت گرد ثابت کر دیا جاتا ہے اور اس کو جیل میں مدتوں کے لیے ڈال دیا جاتا ہے۔میرے خیال میں وہ مسلمانوں کو اس اہم موضوع پر سوچنے پر آمادہ کرتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ آج مسلمانوں کے لیے عرصۂ حیات تنگ ہوچکا ہے۔اس کی وجہ اگر تلاشی جائے تو ناول ہی میں نظر آتی ہے اور وہ ہے دنیاوی تعلیم سے دور رہنا اور دینی تعلیم پر ہی اکتفا کرناجب کہ ہرنافع علم کی ایک اہمیت ہے اور کوئی بھی معاشرہ دنیاوی اور دینی علم کے ذریعے سے ہی کامیاب و کامران ہو سکتا ہے۔

  غرض کہ ناول ’’اﷲمیاں کا کارخانہ‘‘ ایک شاہکار ناول ہے اس کا مطالعہ کرنے والا اگر ادب کا سچا پارکھ ہے تو محسن خان کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔مختصر یہ کہ یہ وہ ناول ہے جو بظاہر سادہ وسلیس انداز میں تحریر کیاگیا ہے اوربادی النظر میں لگتا ہے کہ اس میں کوئی علامت نہیں لیکن دیکھا جائے تو ناول کا مرکزی کردار ’’جبران‘‘ان بچوں کی علامت ہے جنھیں دنیاوی تعلیم سے روکا جاتا ہے۔اس کی بہن’’نصرت‘‘ بہن ہونے کا پورا حق ادا کرتی ہے۔وہ ایسی چھوٹی بہن کی علامت ہے جو اپنے بڑے بھائی کی قدر کرتی ہے۔اس کی ماں ’’ جمیلہ‘‘ ایک ایسی خاتون کی علامت ہے جو غربت و افلاس کے باوجود اف تک نہیں کرتی اور اپنے شوہر کی تابعدار ہے۔اس کے والد’’ولید‘‘ ایک ایسے شخص کی علامت ہے جو نئے علوم کی روشنی سے آشنا نہیں اور مذہبی ہونے کے باوجود اصل مذہب کی روح سے واقف نہیں۔ اس کے چچا ایک ایسے شخص کی علامت ہیں جو دنیاوی علوم کی اہمیت سمجھتا ہے اور کتب بینی کی عظمت سے واقف ہے۔اس کی چچی ایک ایسی عورت کی علامت ہے جو عزیز و اقارب سے خلوص و محبت کا سلسلہ نہیں رکھتی۔اس کہانی میں ’’حافی جی‘‘کا کردار نہایت متاثر کن ہے وہ ایک ایسے شخص کی علامت ہے جو دین کی حقیقت سے آشنا ہے۔جو دل میں انسانیت کا جذبہ رکھتا ہے غریب ہونے کے باوجود بھی دوسروں کی مدد کرنے سے گریزاں نہیں۔ اس کے علاوہ ناول میں چھوٹے بڑے اور کئی کردار ہیں جو ہندوستانی معاشرے کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔ اگر ایک جملے میں کہا جائے کہ یہ ناول کیسا ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ناول پڑھنے کے لائق ہے یہ ہمارا وقت برباد نہیں کرتا بلکہ یہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اچھا ناول کسے کہتے ہیں اور ادب کا قاری مطالعہ کرکے کس طرح ذہنی آسودگی حاصل کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا