اسکولوں کو مثالی بنائیے

محمد عبد اللہ جاوید

 پہلے زمانہ میں تعلیم حاصل کرنا بڑا دشوار تھا۔ صرف بڑے شہروں میں اسکول اور جزوقتی تعلیمی ادارہ قائم تھے۔ جوبچے شہروں سے دورکسی گاؤں میں رہتے‘ ان کے لیے اسکولی تعلیم حاصل کرنا بڑا مشکل تھا۔ اب حالات بدل گئے ہیں، تعلیمی میدان میں بتدریج ترقی ہوتی جارہی ہے۔ ہر کوئی جس درجہ تک چاہے کہیں سے بھی تعلیم حاصل کرسکتا ہے۔ ہر مقام پراسکولوں اور کالجوں کی کثرت ہے۔ فاصلاتی تعلیم اور مختصر المیعاد کورسس سے استفادہ کے بھرپور مواقع۔ دستیاب ہیں۔

تعلیمی ترقی اور اداروں کی کثرت سے ہمارے سلسلہ میں اایک خاص تاثر قائم ہواہے۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کی جانب سے چلائے جانے والے اسکولوں کی بہ نسبت دیگر اقوام کے اسکولوں کی کارکردگی بڑی نمایاں ہے۔ معاشرہ میں انہیں کے اداروں کی ایک خاص پہچان ہے۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان لوگوں کیلیے سہولتیں اورسیاسی و سماجی قائدئین کی سرپرستی حاصل ہے اور مسلمان ان سے محروم ہیں۔ لیکن اسکولوں کی کامیابی اور ان کی شاندار کارکردگی کے لیے ان وجوہات کے علاوہ دیگر اہم امور کا بھی فیصلہ کن رول ہوتا ہے۔

 اسکولوں کو کامیاب اورمثالی بنانے کے لیے ان وجوہات سے بڑھ کر بعض مسلمہ اصول فیصلہ کن رول ادا کرتے ہیں۔ کامیابی اور ناکامی معلوم کرنے کیلیے صرف یہ دیکھا جائے گا کہ کس اسکول کی جانب سے کس قدر ان مسلمہ اصولوں کی پابندی کی جارہی ہے، صرف نظر اس سے کہ کس کو کس کی سرپرستی اور تعاون حاصل ہے۔ اس لیے جب ہم اپنی مجموعی صورت حال کو دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے اسکول ان اصولوں کا خاطر خواہ لحاظ نہیں رکھ پارہے ہیں جس کی وجہ سے معاشرہ میں ان کا وجود برائے نام رہ گیا ہے۔ ورنہ اگرصحیح معنوں میں اسکول قائم کئے جائیں تو ان کی حیثیت معاشرہ میں بس ایک تعلیمی ادارہ کی سی نہیں ہوگی بلکہ وہ انسانیت سازی اور خدمت سازی کے ایک باوقار مرکز کے طور پر جانے پہچانے جائیں گے۔ اس حقیقت کے پیش نظر اسکولوں کو کامیاب بنانے والے چند مسلمہ اصولوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔ ممکن ہے کہ یہاں پیش کئے جارہے امور سے متعلق بعض ادارے بھرپور توجہ دے رہے ہوں گے‘ لیکن یہاں ان کا ذکر ہمارے اداروں کی مجموعی صورت حال کے پیش نظرکیا جارہا ہے۔

 (۱) متعین وژن اور مشن

کامیابی کے لیے اسکول کے انتظامیہ کا وژن اورادارہ کا مشن بڑا نمایاں رول اداکرتا ہے۔ یہ گویا منزل ہے اوراسکول اپنے ماہ وسال کے سفر سے یہ باور کراتا ہے کہ اس کا سفر عین منزل کی سمت رواں دواں ہے۔ حتی کہ اسکول کی عمارت کا رنگ اور اسکا لوگو وغیرہ بھی اسی مشن کے عین مطابق ہوتا ہے۔ کسی ادارہ کا وژن اور مشن نہ ہونا گویا بے مقصد اور بے منزل سفر جاری رکھنے کے مترادف ہے۔

وژن سے مراد خواب اور تمنا کے ہیں۔ جبکہ مشن سے مراد اس منزل کے ہیں جو اس خواب کی تعبیر ہو۔ اسکول کا قیا م بڑے خواب کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اگر اسکول چلانے والے منتظمین ہی کا کوئی خواب نہ ہو تو پھر اس اسکول سے وابستہ طلبہ اور اساتذہ کسی بڑے خواب کی تکمیل کرنے کے اہل نہیں ہوسکتے۔

 وژن اور مشن کا تعین‘جسے ہم عرف عام میں مقاصد کہیں گے‘اس لیے ضروری ہے کہ اس کا اثر‘ اسکول سے متعلق تعلیمی اور غیر تعلیمی سرگرمیوں میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ یا یوں کہئے کہ اسکول کی تعلیمی اور غیر تعلیمی سرگرمیوں سے معاشرہ جان جاتا ہے کہ فی الوقعی اسکول کے کوئی مقاصد ہیں بھی یا یہ برائے نام قائم ہوا ہے؟ مقاصد کا تعین ہو تو پھر طلبہ کے داخلے‘اساتذہ کی شمولیت اور ان کے یونیفارمس سے لے کر اسکولی نصاب تک کے تمام کے تمام معاملات بحسن وخوبی انجام پائیں گے۔ اور ہر ایک میں مقصدیت نظر آئے گی۔

 اسکول یونیفارم کو لیجئے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کیوں ڈاکڑس کیلیے سفید اور پولیس والوں کے لیے خاکی رنگ کے یونیفارمس تجویز کئے گئے ہیں؟ڈاکڑس کا سفید کوٹ پہننا ان کی نیت کی پاکیزگی اور صفائی ستھرائی ظاہر کرتا ہے تاکہ مریض پر نفسیاتی اثر اسی سے متعلق مرتب ہوتا رہے۔ پولیس خاکی رنگ کا یونیفارم زیب تن کرتے ہیں جس سے ان کی شناخت ہوتی ہے اور وہ بھیڑ میں بھی بڑی آسانی سے نظر آجاتے ہیں۔ یعنی ہررنگ کا ایک پیغام ہوتا ہے اور ایک سے زائد رنگوں کا جس ترتیب سے استعمال کیا جاتا ہے وہ بھی خاص پیغام دیتے ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے جن کپڑوں کو پہننے سے منع فرمایا ان میں قَسِی یعنی موٹا کپڑا ہے۔ اور مُعَصفَر یعنی گہرے لال اور زعفران رنگ کا کپڑاہے(مسلم)۔ مطلب یہ کہ شخصیت پر کپڑے کی بناوٹ اوراسکے رنگ کے محسوس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دور حاضر کی علمی ترقی نے رنگوں کی شناخت اور ان کے پیغام رسانی کو حصول علم کا ایک میدان بنادیا ہے۔ چنانچہ رنگوں کے نفسیاتی اثرات(color psychology)اور رنگوں سے متعلق مختلف تھیوریز (color theories)وجود میں آئی ہیں۔ رنگوں کی جان پہچان رکھنے والے آج کے معاشرہ کے سامنے ہم اپنے طلبہ کو کس رنگ کے یونیفارم میں پیش کررہے ہیں؟ ہمارے ادارے میں برسرکار معلمین کس رنگ کے لباس کے ذریعہ اپنی شخصیت کی پہچان کرارہی ہیں؟ان پہلوؤں سے جائزہ لینا چاہیے۔

 (۲) ادارہ میں اساتذہ کی شمولیت کامعیار

پھر یہ دیکھیں کہ ادارہ میں اساتذہ کی شمولیت کا کیا معیار طے ہواہے؟ کیا واقعی ہمارے اسکولوں میں برسرکار اساتذہ‘ تعلیم اور تدریس کی ضروری ڈگریاں اور ٹریننگ حاصل کئے ہوئے ہیں؟ کیا ان کی تقرری بغیر کسی سفار ش یا اقربا پروری (nepotism)کے ہوئی ہے؟کیا ہر ایک استاد بشمول صدر معلم /معلمہ پر واضح ہے کہ اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں اورکون کس کے سامنے جوابدہ ہے؟

اسکول میں اساتذہ کی شمولیت اور ان کے حقوق واختیارات کے تعین کا تعلق‘متعینہ مقاصد سے ہے۔ جیسے اگرکسی بڑے محل کی تعمیر پیش نظر ہو تواس کے لیے ماہرین اور پیشہ ور کاریگروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور اگر پیش نظر کسی معمولی گھر کی تعمیر ہو تو گھر کے ڈائزائن سے لے کر دیگر کاموں تک کی پلاننگ‘کسی ماہر انجینئر کے بغیر بھی کرلی جاتی ہے۔ بحیثیت مجموعی ہمارے اداروں میں برسرکار اساتذہ کی تعلیمی قابلیت اور صلاحیت دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ فی الواقعی صورت حال کیا ہے؟ کسی بھی بارہویں پاس یا ڈگری ہولڈر کی بحیثیت استاد خدمات حاصل کرنا بے مقصدیت اور ادارے کی بے بسی اور مجبوری ظاہر کرتا ہے جس کے کڑوے کسیلے نتائج آج ہمارے تعلیمی اداروں کی ناقص کارکردگی اور معاشرہ میں ان کی بے وزنی سے ظاہرہورہے ہیں۔

 (۳) نصاب تعلیم

پھر تعلیمی نصاب کو لیجئے۔ عمومی طور پر جس طرح کے نصاب تعلیم سے ہمارے بچوں کو گزارا جارہا اسے دیکھ کر تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ اس امت کا تعلیمی نصاب ہے جس کو دنیا کا امام بنانے کیلیے اقراء باسم ربک الذی خلق کے ذریعہ تعلیم دی گئی ہے۔ ہمارے ادارے‘سرکاری اداروں میں ایک اضافہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کی شناخت ان کے اپنے خاص تعلیمی نصاب اور منفرد طریقہ تعلیم و تعلم سے ہونی چاہیے۔ اس سے گزرنے والا ہر طالب علم اپنے آپ کو اپنے رب کوپہچاننے والا سچا مسلمان‘ ملک وملت کا وفادار‘ انسانوں کا بے لوث خادم‘ اوراپنی انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کا مکمل شعور رکھتا ہو۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ نصاب کو تعلیم و تربیت کے اسلامی اصولوں پر مرتب کیا جائے۔ مروجہ نصاب‘سرکاری ہویا غیر سرکاری‘ کو باقی رکھتے ہوئے کس طرح بچوں کی اسلامی طرزپر تعلیم وتربیت کا اہتمام کیا جاسکتا ہے‘اس پر سرجوڑ کرایک ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دینا چاہیے۔

 ورنہ مروجہ تعلیمی نصاب کے ساتھ ایک آدھ گھنٹہ اسلامی اخلاقیات پر لکچررکھنے یا اسلام کے نام پر اسکول قائم کرلینے سے بچوں میں انقلابی تبدیلی ہرگز رونما نہیں ہوسکتی۔ ہمارے اداروں سے فارغ ہونے والے طلبہ بھی آج کل کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی طرح یا تو وطن چھوڑ کر دیگر ممالک میں روزگار اختیار کرلیں گے یا پھر ملک اور ملت کی خدمت کے جذبے سے عاری خود پسند زندگی گزارنے میں اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی عافیت سمجھیں گے۔ ملک کدھر جارہا ہے؟عوام الناس کی کیا صورت حال ہے؟ ہمارا ملک کن مسائل سے دوچار ہے؟ان سب گمبھیر سوالوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

 (۴) مرداساتذہ کا فقدان

خواتین اساتذہ کی کثرت سے سب واقف ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں مرد وخواتین اساتذہ کا تناسب ٹھیک معلو م ہوتا ہے لیکن جہاں تک پرائیوٹ اور غیر امدادی(unaided) اسکولوں کا تعلق ہے‘ وہاں خواتین اساتذہ کی اکثریت ہے۔ اس پہلو سے غور ہونا چاہیے کہ اسکولوں میں مرد اساتذہ کی کمی کی وجہ سے کس قسم کا خلا پیدا ہورہا ہے؟اور بچوں میں مطلوبہ تبدیلیاں کس رفتار سے رونماہورہی ہیں؟

 تعلیم وتربیت کے لیے بچوں کی سرپرستی اور راہنمائی کرنے والوں میں مرد اور خواتین‘ دونوں اساتذہ ہونے چاہئیں۔ لیکن پرائمری سے لے کر ہائی اسکول تک مرد وخواتین اساتذہ کا تناسب برابر نہیں ہونا چاہیے۔ بطور خاص ہائی اسکول کے طلبہ کے لیے ایک رول ماڈل کے طور پر ایک استاد کا ہونا اشد ضروری ہے۔ یہی بات بچوں کی بڑھتی عمر اور ان کے سیکھنے سمجھنے کی نفسیات سے میل کھاتی ہے۔ اس کے حق میں سب سے بڑی دلیل خود ہمارا اپنا تجربہ ہے۔ ہمارے اساتذہ کا طریقہ تعلیم وتربیت‘ آج بھی ہماری راہنمائی کررہا ہے۔

 موجودہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ طلبہ کی کاکردگی میں نمایاں فرق اس وقت رونماہوتا جب ان کو مرداساتذہ پڑھاتے ہیں اور طالبات کا اسوقت جبکہ انہیں خواتین اساتذہ پڑھاتی ہیں۔ جب لڑکوں کی کلاس میں کوئی خاتون پڑھاتی ہیں تو اس بات کا غالب امکان رہتا ہے کہ لڑکوں کی اکثریت شور مچائے یا عدم توجہ اور دلچسپی کا مظاہرہ کرے۔ مزید یہ کہ اساتذہ کا جنسی فرق‘طلبہ اور طالبات‘ دونوں پر اثرانداز ہوتا ہے لیکن اس وقت یہ اثر زیادہ محسوس کیا جاسکتا ہے جب ہائی اسکول سطح پر خواتین اساتذہ کی اکثریت ہوتی ہے۔ یہ بات ذہن رہنی چاہیے کہ طلبہ کو اسکول میں صرف پڑھنا لکھنا نہیں ہوتا بلکہ وہ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ایک استاد کے جنس (مرد یا عورت) کا بڑا نمایا ں رول ہوتا ہے۔ تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اساتذہ کے جنس کا فرق مضامین کے انتخاب میں اثر ڈالتا ہے۔ اگر مرد اساتذہ پڑھائیں تو طلبہ سائنس اور حساب جیسے مضامین کا انتخاب کریں گے جبکہ خواتین اساتذہ پڑھائیں تو زیادہ تر رجحان آرٹس اور لڑیچر جیسے مضامین تک محدود رہ جاتا ہے۔ (ماخوذ: تھامس ایس ڈیی‘ پیاسیفک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ)۔ مرد وخواتین اساتذہ کے پڑھانے کے طریقوں اور طلبہ اور طالبات پران کے اثرات کے جائزہ کے لیے پر دنیا بھر کی تحقیق ہوئی ہے خواہش مند احباب: Effect of Teacher gender on Students’ learningکے تحت مناسب کتابوں کا انتخاب کرتے ہوئے مطالعہ کرسکتے ہیں یاانٹرنیٹ پر دستیاب معلومات بہ آسانی حاصل کرسکتے ہیں۔

 اگر مرد وخواتین اساتذہ کے تناسب میں اعتدال قائم نہ رکھا جائے تو عین ممکن ہے کہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے امانت ودیانت اورعدل وانصاف جیسے معروف اقدارکاخاطر خواہ لحاظ نہ رکھا جائے۔ جیسے مرد کی بہ نسبت ایک خاتون کو ترجیح دی جائے گی‘کیونکہ اس کی تنخواہ بھی کم ہوتی ہے اورکسی قسم کے مسائل پیدا ہونے کا امکان بھی نہیں رہتا۔ اب ظاہر بات ہے اگر کسی اسکول میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہو تو ماحول پر بھی اس کی مناسبت سے اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر کسی کو اس بات کی سچائی جاننا ہے تو کسی بھی اسکول کی کاکردگی کا اس پہلو سے جائزہ لے کر دیکھ لے۔

 (٥) دیگر قابل توجہ امور

اسکولوں کو کامیاب اور مثالی بنانے والے مسلمہ اصولوں کی پابندی کے ضمن میں مزید امور ہوسکتے ہیں جن پر باضابطگی کے ساتھ غور وخوص ہونا چاہیے۔ اس ضمن ان سوالوں کو بطورخاص ایڈریس کرنا چاہیے جو ہماری اب تک کی کارکردگی کی وجہ سے اٹھ رہے ہیں۔ جیسے آج کل کے نوجوان معلمی(ٹیچر) کا پیشہ اختیار کرنے کے جذبہ سے پڑھائی کیوں نہیں کرتے؟ اسکول کی منتظمہ کن لوگوں پر مشتمل ہے‘ کیا ان کا تعلیم اور تعلم سے تعلق ہے اور اگر نہیں توان کی موجودگی سے اسکول کی کارکردگی پر کیا اثر پڑا ہے؟ کیا اسکول کے مختلف امور ومسائل سے متعلق فیصلہ لینے کے لیے باہم مشورہ کیا جاتا ہے؟ اسکول میں پڑھ رہے بچوں کے والدین اور سرپرستوں کا تعاون کیسا ہے‘کیا وہ بھی اپنے آپ کو اسکول کا حصہ سمجھتے ہیں؟ اورایک اہم سوال یہ بھی کہ دیگر ہم مذہب اور ہم خیال اسکولوں سے تعاون واشتراک کی کیا صورت حال ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا