اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ

ڈاکٹر حسن رضا

تعلیم کے میدان میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ  (IIISR)نئی دہلی ایک منفرد پہل ہے، جس کے امتیازی پہلوؤں سے ابھی تک ہماری نئی نسل کے ہونہار طلبہ الا ماشاءاللہ واقف نہیں ہیں۔ تعلیم کے میدان میں کام کرنے والے کئی اہل علم اور مسلمانوں کی صحیح تعلیم وتربیت کے خواہشمند اہل دل حضرات بھی ابھی تک اس کی اہمیت اور معنویت سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوسکے ہیں۔

اس سے پہلے بھی ہم اس تعلیمی ادارے کے چند نمایاں پہلوؤں پر روشنی ڈال چکے ہیں لیکن عجیب اتفاق کہ اس کے بعد کورونا وائرس کی دوسری آندھی نے ایسی قیامت ڈھادی کہ آکسیجن سیلنڈر،  وینٹلیٹر، کوروناٹسٹ، ویکسین، قبرستان، تدفین اور لاک ڈاؤن کے سوا سب باتیں ذہن سے محو ہوگئیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب حالات قابو میں آئے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ اس ماہ کے آخر تک معمولات زندگی میں نئی حرارت آجائے گی۔ اس کے پیش نظر ادارے نے بھی اپنے تینوں رہائشی کورسیز کے لیے نئے داخلوں کا اعلان کردیا ہے۔

دو سالہ ایڈوانسڈ ڈپلومہ تقابل ادیان و تہذیب:

آپ کے علم میں ہوگا کہ مدرسے کےفارغین کے لیے ادارے کا دو سالہ کورس چار سمسٹرس پر مبنی ہے۔ یہ ہندوستان میں مختلف مسالک سے وابستہ  مدارس کے فارغین کے لیے گویا ایک بریج کورس ہے۔ جس میں، 1۔ انگریزی اور ہندی زبان کے علاوہ 2۔ سوشل سائنس کے بعض اہم سبجکٹس کے تنقیدی مطالعہ کے ساتھ 3۔ مذاہب عالم بالخصوص ہندوستانی مذاہب کا مطالعہ کرایا جاتا ہے، نیز 4۔ کمپیوٹر کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ 5۔ اردو عربی زبان اور قرآن و حدیث کا مطالعہ مدرسے کے طلبہ کرچکے ہوتے ہیں، ان میں بھی ترقی کا سلسلہ جاری رہے اس کے لیے خصوصی تدبر/درس قرآن اور ٹیوٹوریل کلاسیز ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ ہفتہ وار خصوصی پروگرام اور وال میگزین ”دریافت“ سے مدد لی جاتی ہے۔ یہ پندرہ روزہ وال میگزین ہے جو طلبہ ہی نکالتے ہیں۔ اس کے مشمولات اردو، ہندی، انگریزی اور عربی زبان میں ہوتے ہیں۔ طلبہ چاروں زبان میں اپنی تحریریں پیش کرتے ہیں اس طرح طلبہ میں ان زبانوں میں اپنی بات رکھنے کی استطاعت پیدا ہوتی ہے نیز ان میں زبان دانی اور مضمون نویسی کا شوق پروان چڑھتا ہے۔ اخیر سال میں طلبہ کسی ایک موضوع پر تحقیقی مقالہ تحریر کرتے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مختلف مسالک کے طلبہ جب ساتھ رہتے ہیں تو ان میں آہستہ آہستہ مسلکی عصبیت بہت حد تک ختم ہوجاتی ہے اور دینی شعور میں ایک وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس وقت برصغیر میں مسلمانوں کے دینی اتحاد میں مسلکی عصبیت ایک بڑی رکاوٹ ہے۔اسلامی اکیڈمی ٹرسٹ کے تحت جاری یہ ادارہ اس پہلو سے ملت کی بڑی اہم خدمت انجام دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے نتائج فوری طور پر نظر نہیں آرہے ہیں لیکن اگر ملت کے ہر طبقے کا تعاون رہا تو اس کے ذریعہ خاموشی کے ساتھ امت مسلمہ میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ مذاہب کےتقابلی مطالعے کے ذریعے مختلف مذاہب کے ماننے والوں سے رابطے اور مکالمے کا نیا سلیقہ طلبہ میں پیدا ہوتا ہے۔ اسٹڈی کے دوران طلبہ کو جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گریجویشن کا موقع فراہم کیا جاتا ہے جس سے آگے چل کر ایم اے اور پی ایچ ڈی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ محنتی طلبہ کو دوسالہ ایڈوانسڈ ڈپلومہ کورس کے بعد ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے منتخب کرکے نیٹ اور جے آر ایف کی تیاری میں مدد کی جاتی ہے۔ ان باتوں کے علاوہ اس دینی کیمپس میں رہنے کی وجہ سے انھیں علمی و عملی استفادے کے بہت سے مواقع ملتے رہتے ہیں۔ لہذا میری گزارش ہے کہ جو لوگ دینی مدارس کے فارغین کی تعلیمی ترقی کی اہمیت سمجھتے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ ذہین اور محنتی طلبہ تک ان باتوں کو پہنچائیں۔

دو سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ ان اسلامک تھاٹ اینڈ اسٹڈیز

یہ ادارے کا دوسرا رہائشی کورس ہے۔ یہ بھی دو سال یعنی چار سمسٹرس پر مشتمل ہے۔ یہ کالج اور یونیورسٹی کے گریجویٹس کے لیے بریج کورس نہیں ہے بلکہ اس کو میں فلائی اوور کورس کہتا ہوں تاکہ محنتی اور حوصلہ مند طلبہ کم وقتوں میں اسلامک اسٹڈیز کی باضابطہ تعلیم وتربیت کے ساتھ اعلی تعلیم کی پسندیدہ شاہراہ پر چل کر  مستقبل کو سنوار سکیں۔

اس کورس میں سائنس، آرٹس، کامرس، لاء، منیجمنٹ، اور انجینئرنگ کے گریجویٹس داخلہ لیتے ہیں۔ اس کورس میں طلبہ کو 1۔ عربی زبان (بنیادی گرامر اور ادب) سکھائی جاتی ہے۔ 2۔ قرآن کی تجوید، تفہیم اور تدبر کی مشق کرائی جاتی ہے۔3۔ حدیث و سیرت 4۔ اصول فقہ، مقاصد شریعت اور 5۔ تصوف کی تاریخ اور مسائل بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ 6۔ مدارس کے طلبہ کی طرح ان گریجویٹس کو بھی اسلامی تناظر میں سوشل سائنسز کی تعلیم دی جاتی ہے، نیز 7۔ علم کلام کی بحث، فکر اسلامی کے ارتقاء کی تاریخ امام غزالی سے علامہ اقبال تک، پھر اس کے بعد تحریکات کا مطالعہ کرایا جاتا ہے۔ اس حصے سے متعلق موضوعات پر اہل علم سے محاضرات کے ذریعہ استفادے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اردو، ہندی اور انگریزی زبان میں صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ہفتہ وار پروگرام، گروپ ڈسکشن، سیلف اسٹڈی اور وال میگزین ”دریافت“ سے مدد لی جاتی ہے۔

آخر میں کسی ایک موضوع پر طلبہ مبسوط مقالہ پیش کرتے ہیں۔ مدارس کے طلبہ کی طرح کالج کے طلبہ کو بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ایم اے کرنے کی اجازت رہتی ہے۔ دو سال کا کورس مکمل کرنے کے بعد ذہین اور بہتر ریزلٹ دینے والے طلبہ کو نیٹ جے آر ایف اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے ادارے میں ریسرچ اسکالرس کی حیثیت سے داخلہ لینے کی گنجائش رہتی ہے۔

یک سالہ ڈپلومہ ان اسلامک ڈسکورس

ادارے کا تیسرا کورس 2+ یعنی 12ویں پاس طلبہ کے لیے ہے۔ اس کورس کا نام ڈپلومہ ان اسلامک ڈسکورس ہے۔ یہ ایک سال (یعنی دو سمسٹر) پر مشتمل ہے۔

اس کورس میں طلبہ کو 1۔ قرآن کی تجوید اور تفہیم کی تربیت دی جاتی ہے، نیز 2۔ عربی زبان کی ابتدائی تعلیم اس طرح دی جاتی ہے کہ اس زبان سے ان کی اجنبیت دور ہو جائے اور وہ اس سے اس حد تک مانوس ہو جائیں کہ  نماز، دعا اور اذکار کو سمجھنے لگیں اور ان میں اس زبان کو مزید سیکھنے کا شوق پیدا ہو جائے۔ 3۔ اردو زبان و ادب میں الطاف حسین حالی، اکبر الہ آبادی اور اقبال؛ نثر میں سرسید، حالی، شبلی اور سید ابو الاعلی مودودی کی تحریروں کے حوالے سے علمی و ادبی ذوق پیدا کرنے اور اس کی نشو نما کی کوشش کی جاتی ہے۔ 4۔ اسلامی عقائد عبادات، معاملات زندگی اور اخلاقیات کی بنیادی تعلیم اور ان کے آپسی رشتے کی حکمت کو جدید اسلامی لٹریچر کے ذریعہ واضح کیا جاتا ہے تاکہ وہ شعوری طور پر مطمئن ہو جائیں کہ اسلام ہی ایک اعلیٰ طرز حیات کا ضامن ہے جس میں ساری انسانیت کی فلاح ہے۔ 5۔ بیسویں صدی کے  اسلامی لٹریچر کا تعارف اس طرح کرایا جاتا ہے کہ وہ جدید اسلامی ڈسکورس کو سمجھنے کے لائق بن سکیں۔ 6۔ ہندی اور انگریزی زبان کو بہتر بنانے کے لیے ہفتہ وار پروگرام اور وال میگزین کو استعمال کیا جاتا ہے۔

ابھی یہ ایک سال کا کورس ہے لیکن ادارے کے پیش نظر اصل منصوبہ یہ ہے کہ اگر کچھ اصحاب خیر تیار ہو جائیں تو اس کو تھری ایئرس انٹیگریٹڈ کورس میں بدل دیا جائے اور 2+ کے بعد فل اسکولرشپ کی بنیاد پر دس بارہ ذہین طلبہ کو منتخب کیا جائے۔ یہ منتخب طلبہ ادارے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پرائیویٹ گریجویشن کریں (بعد ازاں پوسٹ گریجویشن بھی کریں۔) اس دوران انھیں خصوصی طور پر ڈیزائن کیے گئے ایسے کورسز سے گزارا جائے کہ وہ ان سے فراغت کے بعد ہر فن مولا بننے کے بجائے علم کے مختلف میدانوں میں سے کسی ایک میدان میں فکر اسلامی کی نشو نما کے لیے آگے بڑھنے کے لائق بن جائیں۔ کسی زندہ قوم کو ایسے میدان کار کی ہر وقت ضرورت ہے اس کے بغیر وہ ذہنی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکتی اور نہ اپنی تہذیبی قدروں کو تمدنی ترقی کے ساتھ ہر آن تازہ رکھ سکتی ہے۔ اسی کے لیے اسلامی اکیڈمی ٹرسٹ، دہلی کا قیام کیا گیا ہے۔ اس انٹیگریٹڈ کورس کے بغیر اس ادارےکا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ اس مشن کے لیے کسی ایک حلقے کو نہیں پوری ملت کے اہل خیر اور اہل دماغ کو آگے آنا ہوگا۔

بہر حال ابھی ادارے میں مذکورہ تین کورسیز کے داخلے کے امتحان کے لیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ ہر حلقے کے ذہین اور محنتی طلبہ ہمت کرکے اس امتحان کے لیے فارم بھریں۔ مزید تفصیلات کے لیے ادارے کے ویب سائٹ (iiisr۔org) سے رجوع کریں۔ مذکورہ رہائشی کورسز کے علاوہ دیگر کورسز بھی ادارے کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔ ان پر ان شاءاللہ آئندہ کبھی گفتگو ہوگی۔ امید ہے کہ جو طلبہ اسلامی فکر کے ساتھ اعلی تعلیم کا حوصلہ رکھتے ہیں وہ ادارے کو اپنے علمی و تحقیقی سفر میں ہمسفر اور رہنما پائیں گے۔

تبصرے بند ہیں۔