آئی اے ایس شبیر احمد : طلبہ کے لیے مشعلِ راہ

الطاف حسین جنجوعہ

گاؤں دیہات میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے قدرتی طور ماحول انتہائی سازگار ہے لیکن وہاں پر مناسب رہنمائی ، مثبت سوچ وطرز عمل نہ ہونے کی کمی آج بھی شدت کے ساتھ محسوس کی جاتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ معیاری تعلیم کے لیے بچوں کو آمادہ کرنے اور اُنہیں ترغیب دینے کا رحجان بھی کم ہے۔ ہم اپنے بچوں کی تو اعلیٰ اور بہتر تعلیم کی سوچتے ہیں اور کوشش بھی کرتے ہیں لیکن وہیں محلہ گاؤں اور پڑوسی کے بچوںکیلیے اچھی رائے نہیں رکھتے۔حسد، بغض ، کینہ، کھینچا تانی یہ نفسیاتی بیماریاں آج بھی گاؤں میںگھر کرتی ہیں۔ہمارا یہ یقین کامل ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی ہے جوکہ ہمیں آخرت میں ملے گا۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ اچھے کاموں کا پھل ہمیں دُنیا میں بھی کسی نہ کسی صورت میں ضرورملتا ہے۔ اگر آپ سچائی ، ایمانداری، محنت ولگن، تندہی، صدق دلی، رشک کرنے کارحجان، دوسروں کے لیے دردِ دل اور جو اپنے  یا اپنے بچوں کے بارے میں سوچت ہو، وہی سوچ پڑوسیوں اور اہل محلہ کے لیے رکھتے ہوں اور پھر اُس پر عمل بھی کرتے ہوں تواُس کا بہترین پھل آپ کو اور آپ کے اہل خانہ میں سے کسی کو کسی نہ کسی صورت میں ضرور مل جاتاہے اور کبھی کبھار اللہ رب العزت کو آپ کی ادا اتنی پسند آجاتی ہے کہ وہ آپ کو اتنا نواز دیتا ہے جس کی آپ نے توقع بھی نہیں کی ہوتی۔محنت، ذہانت، قابلیت کے ساتھ ساتھ رضا الہیٰ ،تقدیر کا ساتھ بھی بہت اہم ہے اور ایسی ہی ایک مثال ہمیں حالیہ دنوں میں اُس وقت دیکھنے کو ملی جب یونین پبلک سروس کمیشن کی طرف سے ملک کے سب سے وقاری امتحان سول سروسزکے نتائج کا اعلان کیاگیا جس میں جموں وکشمیر یوٹی کے سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل سرنکوٹ کے دور دراز گاؤں بچاں والی سے تعلق رکھنے والے 26سالہ شبیر احمدنے کامیابی حاصل کی جنہوں نے ملکی سطح پر414واں رینک حاصل کیا۔ کل 685اُمیدواروں نے کوالیفائی کیاجس میں پہلے180پوزیشنیں حاصل کرنے والوں کو IASکیڈر،اُس کے بعد37اُمیدواروں کو آئی ایف ایس،200کو آئی پی ایس کیڈر ملے گا۔ 417پوزیشنوں کے بعد کو سینٹرل سروسز گروپ ’A‘اور گروپ’B‘گریڈ میں شامل کیاجائے ۔ شبیر احمد جنہوں نے تیسری کوشش میں کامیابی حاصل کی، کی موجودہ رنکینگ کے حساب سے اُنہیں آئی پی ایس کیڈر ملنا متوقع ہے اور آئندہ انتخابات میں دوبارہ حصہ لیکر اپنی پوزیشن بہتر بناکرIASکیڈر میں بھی آسکتے ہیں۔

                آج گاؤں اور دور دراز علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں شبیر احمد موضوع ِ بحث ہے جس سے اُن کو تحریک ملی ہے کہ وہ بھی یہ امتحان پاس کرسکتے ہیں کہ بشرطیکہ اِس کے لیے محنت کریں۔شبیر احمد کی کامیابی نے جموں وکشمیر بالعموم اور خطہ پیر پنجال میں بالخصوص رائج اِس سوچ کو یکسر مسترد کر دیا کہ یو پی ایس سی سول سروسزکا امتحان صرف اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے اور مالی طور اچھے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے طلبا ہی پاس کرسکتے ہیں۔ شبیر احمد نے ایک مثال قائم کی ہے جنہوں نے اپنے اسکولنگ کے ابتدائی سالوں میں بہت ساری سہولیات سے محرومی کے باوجود اپنی منزل کی طرف سفر جاری رکھا۔ اُن کے والد غلام احمد محکمہ خوراک، شہری رسدات وعوامی تقسیم کاری کے راشن ڈیلر ہیں ۔ایمانداری،سادگی، دیانتداری، صداقت، نیک نیتی کے لیے وہ اپنے علاقہ میں جانے جاتے ہیں اور اِن اخلاقی اقدار کو نہ صرف انہوں نے اپنی عملی زندگی کا شیوا بنایا بلکہ اپنی اولاد میں بھی منتقل کیا۔غلام احمد کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اُن کی یہ خواہش رہی ہے کہ اُن کے گاؤں کا ہر بچہ پڑھے جس کے لیے وہ اُن کی ہر طرح کی رہنمائی کرتے۔ہرسماجی مجلس میں وہ پڑھائی پرزور دیتے، راستے میں اگر اُنہیں بچے ملتے تو اُن کو بھی سختی سے تعلیم کی تلقین کرتے۔اُن کی ترغیب سے بہت سارے بچے دینی تعلیم کے لیے مدارس میں داخلہ لیا۔ گجربکروال ہوسٹل پونچھ کا زیادہ سے زیادہ فائیدہ اُٹھانے کے لیے تو انہوں نے ایک مہم چھیڑ رکھی تھی۔ پانچویں پاس کرنے کے بعد جو بھی مالی طور کمزور بچے ہوتے تھے، اُن کے والدین سے اُن کا اصرار رہتا تھاکہ بچے کو پونچھ گجر بکروال ہوسٹل چھوڑو، وہاں اُس کو اچھا تعلیمی ماحول ملے گا، ساتھ ہی قصبہ پونچھ کے کسی اچھے اسکول میں پڑھنے سے اُس کی سوچ پختہ ہوگی اور زندگی کا مقصد سمجھ آئے گا۔ از خود انہوں نے بہت سارے بچوں کی گجر بکروال ہوسٹل میںایڈمیشن کرائی۔المختصر کے غلام احمد کا یہ موقف ہے کہ تعلیم ہی سے آپ کی بہتری اور کامیابی کا راز ہے۔اِس بلند پائیہ سوچ اور اخلاقی اقدار کا پھل اُنہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے بیٹے کی صورت میں دیا، جس نے یوٹی سطح پر بچاں والی گاؤںکا نام روشن کیا اور ہزاروں لاکھوں سول سروسزخواہشمند نوجوانوں کے لیے مشعل راہ بنا۔

                شبیر احمد جوکہ اپنے والد کو اپنا سب سے بڑا گورو اور رہبر مانتے ہیں،کی سوچ ،ڈائریکشن اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی عنایت سے اُن کے ذہن کے دریچے کھل گئے اور اکیڈمکس میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پانچویں تک انہوں نے گاؤں میں موجود ایک چھوٹے نجے تعلیمی ادارہ ’کیمونٹی ڈولپمنٹ اکیڈمی‘سے تعلیم حاصل کی۔ چھٹی میں گجر بکروال ہوسٹل پونچھ میں چلے گئے ۔ آٹھویں گورو نواس اکیڈمی پونچھ سے ہی، دسویں ہائی اسکول پرانی پونچھ اور بارہویں امتیازی پوزیشن کے ساتھ گورنمنٹ بائز ہائر اسکینڈری اسکول پونچھ سے کی۔2013میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رُخ کیا اور بی ایس سی آنرز (زولوجی ) کی ڈگری 2016میں مکمل کی اور آئندہ دو سالوں کے دوران یہیں سے ایم ایس سی زولوجی اچھے نمبرات سے پاس کی۔ دوران ایم ایس سی انہوں نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا اہلیتی امتحانJRFبھی کیا اور ملکی سطح پر44واں مقام حاصل کیا لیکن اُن کی منزل کہیں اور تھی۔ سال 2018سے باقاعدہ سرول سروسز امتحانات کی تیار ی کی، دو مرتبہ ناکامی ہوئی لیکن اِس کومایوسی میں تبدیل نہیں ہونے دیا بلکہ ایک چیلنج کے طور قبول کر کے تیسری مرتبہ کامیابی کی سیڑھی چڑھ ہی لی۔ شبیر احمد نے سال رواں یوپی ایس سی کے چار امتحانات دیئے اور سبھی میں الحمدللہ کامیابی حاصل کی۔ مارچ 2022کو ہی انہوں نے یو پی ایس سی کا سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز ایگزام(CAPF)امتحان پاس کیا اور بی ایس ایف میں اسٹنٹ کمانڈینٹ تعینات ہوئے اور جوائنگ ابھی ہوناباقی تھی کہ IASکی صورت میں خوشخبری ملی۔

                شبیر احمد کا ماننا ہے ’’بڑی کامیابی اُس کو ملتی ہے جو بڑے خواب دیکھتا ہے کیونکہ جب آپ بڑے خواب دیکھتے ہو، پھر اُس پر سوچتے ہو، پلان کرتے اور پھر عمل کرتے ہیں اور لگاتار عمل ہی ایک دن کامیابی میں بدل جاتا ہے،اس دوران آپ کے ساتھ ہم خیال لوگوں کا قافلہ بھی جڑتا ہے جوکہ آپ کی مدد ورہنمائی بھی کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یو پی ایس سی امتحانات کیلیے بہترین پلیٹ فارم ہے کیونکہ وہیں پر2014اور2017کو دو ورکشاپس ہوئیں جس میں آئی اے ایس ٹاپرز آئے جن کے لیکچررز سن کر تحریک ملی، لہٰذا جوکہ بھی بچے وہاں تعلیم حاصل کریں جائیں تو وہ وہاں اپنا پورا وقت اپنی منزل کی حصولی کے لیے استعمال کریں۔گپ شپ ودیگر تفریح سرگرمیوں کو محدود پیمانے پر ہی کریں۔ناکامی کے لیے آپ کے پاس دس وجوہات ہوسکتے ہیں لیکن وہ جوازیت نہیں رکھتیں، ناکامی آپشن ہوسکتا ہے لیکن ہارنا آپشن نہیں، لگاتار کوشش کرتے رہیں، کامیابی ضرور ملے گی۔ یو پی ایس سی امتحان میں اکیڈمکس میں بہت زیادہ نمبرات معنی نہیں رکھتے ، وہاں یہ چیززیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ آپ خود کتنا بہتر سوچتے ہو، کتنے Creativeآپ ہو…اگر آپ کا پلان صحیح ہے اور اُس کو مقررہ مدت کے اندرحاصل کرنے کے لیے محنت کر رہے ہیں تو پھر آپ سرکاری اسکول کے بچے ہو، غریب ہو، دور دراز علاقے میں رہتے ہو،…یہ چیز کبھی معنی نہیں رکھتی‘‘۔

                شبیر احمد کی IASمیں کامیابی کے ساتھ ساتھ اُن کے والد کی سوچ وعمل بھی باعث ِ تحریک ہے، اگر ہم گاؤں دیہات میں ایسی سوچ کو اقلیت سے اکثریت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو یقینا وہ دن دور نہیں کہ یو پی ایس سی جیسے وقاری امتحانات کوالیفائی کرنے والوں کی اکثریت بھی گاؤں دیہات، سرکاری اسکولوں سے تعلیم یافتہ اور غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کی ہوگی۔آئیے ہم سب خود کے علاوہ اپنے اڑوس پڑوس، محلہ اور گاؤں میں زیادہ سے زیادہ تعلیم کا رحجان بڑھائیں، کوئی بچہ پڑھائی ادھوری نہ چھوڑے، اُس کی اچھی رہنمائی کریں، حکومت کی طرف سے چلائی جارہی اسکیموں اور اسکالرشپ وغیرہ متعلق اُنہیں مکمل جانکاری دیں تاکہ انتظامیہ کے اندر زیادہ سے زیادہ بچے ہوں۔کسی بھی قوم کی بااختیاری اس بات پر بھی بہت حد تک منحصر ہے کہ سول وپولیس انتظامیہ کے اندر اُس کی کتنی رسائی یا نمائندگی ہے۔جب ہمارے اندر اپنی اولاد کی طرح اپنے گاؤں اور اڑوس پڑوس میں رہ رہے بچوں کو بھی تعلیمی فکر ہوگی، تب ہم یقینی طور ایک باشعور اور باغیور قوم کہلانے کے حقدار ہیں۔

٭٭٭

تبصرے بند ہیں۔