تربیتِ اولاد : کب اور کیسے؟

ابوالحسنات قاسمی

(دارالثقافہ، اسونجی بازار، گورکھپور)

شریعت مطہرہ نے فرد و معاشرے کی تربیت و اصلاح پر کافی توجہ دی ہے۔

اور اصلاح (دوسروں کی درستی، یعنی کہ کسی کی خامیاں یا برائیاں دور کرنے، یا صحیح راستے پر ڈالنے) کے لیے صلاح (اپنی درستی، خود نیکوکار، راہِ راست پر ہونا) ضروری ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اپنی فکر کرو، کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر ہو، اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ (المائدہ، 105)

اب جب کہ اپنی درستی ہوگئی تو دوسروں کی اصلاح کی فکر کرنا ہے، مگر اس میں بھی خویش و اغیار کی درجہ بندی ہے۔ پہلے اپنے اعزہ و اقارب پر محنت کی جائے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو”۔ (التحریم، 6)

اسی کے ہم معنیٰ و ہم مفہوم ایک حدیث شریف ہے: "عن عبد اللّٰه عمر قال قال رسول اللّٰه صلی اللہ علیہ وسلم ألا کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیته الامام الذی علی الناس راعٍ وهو مسئول عن رعیته والرجل راع علی اہل بیته وهو مسئول عن رعیته والمرأة راعیة علیٰ بیت زوجہا و ولدہ وهی مسئولة عنہم ”  (مشکوٰۃ، ص: ۳۲۰)

اس حدیث میں صاف لفظوں میں فرمایا گیا ہے: والمرأة راعیة علی بیت زوجہا و ولدہ یعنی عورت کو اپنے شوہر کے گھر کا اور اس کے بچہ کا نگراں اور ذمہ دار بنایا گیا ہے، اور جو بھی کسی کا نگراں اور ذمہ ہوتا ہے اس سے کل قیامت کے دن اپنے ماتحتوں کے بارے میں باز پرس ہوگی کہ صحیح طور پر اس کی حفاظت (اصلاح و و تربیت) کیا یا ضائع کر دیا تھا؟

کسی بھی چیز کے صلاح و فساد کا ایک وقت، مرحلہ اور دورانیہ متعین ہے، کہ وہ چیز اگر اس دورانیے میں درست نہ کی گئی تو (اس متعینہ وقت کے گزرجانے کے بعد) اس میں بگاڑ و فساد برپا ہوجائے گا۔

قربان جائیے مصلح و ہادئ اعظم (جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)پر کہ جنہوں نے تربیت و اصلاح اولاد کا بھی ایک دورانیہ متعین فرمادیا ہے: اپنی اولاد کو نماز کا حکم کرو جب کہ وہ سات سال کے ہوجائیں اور ان کو مارو جب کہ وہ دس سال کے ہوجانے پر بھی نماز نہ پڑھیں۔

اگر اس غنیمت و سنہرے موقع کو گنواں دیا، اولاد کو صحیح راستے، نیکی کے کاموں میں رغبت بالخصوص نماز پڑھنے، روزہ رکھنے کی تاکید و تلقین نہ کی تو سوائے کف افسوس ملنے کے کوئی چارہ نہیں، اس کے بعد ہائے توبہ مچانا یا بچوں پر خواہ مخواہ سختی و سرزنش کرنا بے اثر و بے نتیجہ ثابت ہوگا۔

اگرچہ اس جگہ بطور اصلاح نماز کی تلقین و ترغیب مذکور ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ نماز ہی ایسا تنہا فریضۂ دینیہ ہے جس پر عمل درآمد کرنا نہ صرف یہ کہ جملہ منکرات و بے حیائیوں سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ دیگر احکام شریعت پر کار بندی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے، جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور نماز قائم کرو، یقیناً نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے۔ (العنکبوت،45)

بچوں کو دین کی طرف راغب کرنے کے لیے ان کے سامنے دین کی باتیں کی جائیں، انبیاء و صدیقین اور شہداء و صالحین، صحابہ کرام نیز تابعین و تبع تابعین (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے واقعات و کارنامے گوش گزار کئے جائیں، اہل اللہ و اصحاب دعوت کی کارگزاریاں سنائی جائیں، اذکار و ماثورات مسنونہ یاد کرائے جائیں۔

لمحۂ فکریہ!

مگر ہائے افسوس کہ جس عمر اور جن ایام میں مذکورہ بالا عنوانات کے تحت بچوں کو مثبت فکر کی تاکید و تلقین۔ اللہ کی بڑائی اور اس کے عجائبات و تخلیقات کا ذکر کرنا ہے ان ایام میں ‘ٹوینکل ٹوینکل لٹل اسٹار

Twinkle, twinkle, little star

How I wonder what you are

 اور ‘جوہنی جوہنی ایس پاپا

 Johni Johni Yes papa

جیسی عبث گلوریاں سنائی جاتی ہیں، اور یہیں پر بس نہیں ہوتا بلکہ بے جا لاڈ پیار دیا و کیا جاتا ہے، غیر ضروری مطالبات (چشم زدن میں) لب کشائی کرتے ہی پورے کئے جاتے ہیں۔ بلفظ دیگر اپنے ہاتھ سے ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری جاتی ہے، تو اب ہونا کیا ہے؟ بمصداق ‘خود کردہ را علاجے نیست ،تربیت و اصلاح کے سارے راستے مسدود۔

پھر وہی ہوتا ہے کہ اولاد والدین و دیگر نگہ داروں کے اختیار و مداخلت سے باہر ہوجاتی ہیں، اب ان کی اصلاح و تربیت پر اچھے اچھے مصلحین کی محنتیں، عاملین کاملین کے تعویذی نقوش بھی اکارت ہوجاتے ہیں۔

درست فرمایا ہے شیخ سعدی شیرازی نے:

سر چشمہ شاید گرفتن بہ میل

چو پر شد نشاید گذشتن بہ پیل

کہ چشمے یا باندھ کے سوراخ کو ابتدائی دور میں تو ایک چھوٹے سے پتھر کے ذریعہ بھی بند کیا جاسکتا ہے، مگر سوراخ جب بڑا ہو جائے تو ہاتھی کو بھی بہا لے جاتا ہے۔

حاصل کلام! ضرورت اس بات کی ہے کہ اولاد کی تربیت و اصلاح کا کام ہدایات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں انجام دیا جائے۔

بہر حال! ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچپن سے اولاد کی تربیت کریں اور سات سال کی عمر سے ہی ان کو نماز کی ہدایت شروع کردیں، اگر وہ دس سال کی عمر ہوجانے کے بعد بھی نماز نہ پڑھیں تو ان کے اوپر سختی کریں اور ماریں، اگر وہ بالغ ہوجانے اور بڑی عمر ہوجانے کے بعد بھی نماز نہ پڑھیں تو ان کے اوپر مزید سختی کریں۔ اور بالغ ہوجانے کے بعد چونکہ وہ خود شرعی احکام کے مکلف ہوجاتے ہیں اس لیے خود ان پر اپنے طور پر اس کی فکر اور ا دائیگی کا اہتمام لازم ہے،  تاہم ماں باپ پر بھی لازم ہے کہ وہ حسب استطاعت، حتیٰ المقدور اولاد کو نماز کی تلقین، اور نماز نہ پڑھنے پر سرزنش وتنبیہ کرتے رہیں، اگر ڈانٹ ڈپٹ، زجر و عتاب اور توبیخ نیز مناسب مار کے باوجود وہ نماز نہ پڑھیں تو اصلاح وتادیب کی غرض سے ان سے میل جول اور قطع تعلق کی بھی گنجائش ہے۔

تبصرے بند ہیں۔