حصول علم فرض عین ہے

ساجد احمد خان

(ضلعی صدر آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس ایسوسی ایشن،مہاراشٹر)

رب کائنات نے جب آدم کی تخلیق کی تو فرشتوں کو حکم دیا کہ انکے آگے سجدہ ریز ہوجائیں۔ اور آدم کو فرشتوں سے افضل ثابت کیا تو صرف ان کے علم کی بنیاد پر۔ خالق کائنات نے حضرت آدم علیہ السلام کی برتری اس طرح ظاہر فرمائی کہ فرشتوں کے ہمراہ ان پر تمام علوم پیش کیے اور پہلے فرشتوں سے فرمایا کہ انہیں میرے سامنے دہراؤ جس پر تمام فرشتوں نے اپنی معذرت پیش کردی۔ جب وہی حکم حضرت آدم کے لیے کیا گیا تو آسمان والوں نے جان لیا کہ کھنکھناتی مٹی کی یہ تخلیق تمام موجودہ مخلوقات  میں سب سے افضل ہے۔ عبادت پر علم کی برتری کا یہ پہلا واقعہ رب العالمین کے دربار میں ظاہر ہوا۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل بن گیا کہ خدا کی بنائی ہوئی اس دنیا میں بھی سربلندی اسی کو حاصل ہوگی جو علم کے میدان میں خود کو ثابت کرےگا۔ دنیا میں انسان کے اتارے جانے سے لیکر دور حاضر تک اور دنیا کے آخری انجام تک بلند مقام اسی کو ملتا رہا اور ملتا رہے گا جو علم میں دوسروں سے سبقت لے جائے گا۔ تمام انسانوں کی رہنمائی کے لیے رب کریم نے ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر دنیا میں مبعوث فرمایۓ۔ کتابیں اور صحائف نازل فرمائے اور انسان کو قلم کے ذریعے وہ علم دیا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔ ی

ہ تمام حقائق اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ انسان کی ترقی کا واحد ذریعہ صرف تعلیم ہے۔ آج دنیا میں ہمیں جو بھی ترقیاں نظر آتی ہیں وہ اسی تعلیم کا نتیجہ ہیں۔ جسکی ابتداء پیغمبر آخرالزماں نے اس فرمان کے ساتھ کی کہ ‌‌”علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے”۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں میں مخلوقات کائینات کو پرستش کے مقام سے ہٹا کر مطالعہ اور تحقیق کا موضوع بنادیا۔ انسانوں میں یہ یقین پختہ ہوا کہ سورج ،چاند، دریا،  سمندر،  درخت اور پہاڑ تمام چرند و پرند اور تمام جاندار انسانوں کے لیے مسخر کر دئیے گئے ہیں۔ ان کا مطالعہ کیا جائے اور انکے ذریعے ان کے خالق کی عظمتوں کو دریافت کیا جائے۔ یہ راستہ مخلوق کے ذریعے خالق حقیقی کو پہچاننے کا راستہ ثابت ہوا اور اسی کے ساتھ انسانوں پر وہ تمام پوشیدہ راز کھلتے چلے گئے جس کے نتیجے میں ہم موجودہ زمانے میں ترقی کی بلندیاں طے کرتے جارہے ہیں۔ گویا کہ اسلام کا ظہور ہی اس دور کا خالق ہے۔

ان تمام دلائل کے ذریعے تعلیم کی اہمیت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے۔ اب کس قدر محرومی کی بات ہے کہ جس اسلام نے ان تمام ترقیات کی راہیں کھولیں ہوں اسی اسلام کے ماننے والے اس ترقیاتی دوڑ میں دوسروں سے ہر لحاظ سے پچھڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہی ہے کہ آج مسلمانوں میں تعلیم کے حصول کے لیے وہ سنجیدگی نہیں دکھائی دیتی جو اسلام کے ابتدائی دور میں پائی جاتی تھی۔

یقینأ رہبر منزل کہیں پر راہ بھولا ہے  

وگرنہ قافلے کے قافلے گم ہو نہیں سکتے 

 آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اپنا بھولا ہوا سبق پھر یاد کرنا ہے کہ جس طرح دور اول میں مسلمانوں نے علم کی بنیاد پر ہر میدان میں ترقی کے منازل طے کیے تھے آج بھی اگر اپنے کھوئے ہوئے مقام کو پانا ہے تو تعلیم وتربیت کے علاوہ کوئی اور راستہ ہمارے لیے دستیاب نہیں ہے۔ آج تمام اہل علم کی یہ پہلی ذمےداری ہے کہ اپنی قوم کے بچوں کو ہر ممکن ذریعے سے اس راہ پر دوبارہ گامزن کریں۔ ہر سرپرست کی یہ پہلی ذمےداری ہے کہ اپنی اولاد کو حصول علم کے لیے ہر راستے کو ہموار کریں۔ انہیں بے جا لاڈ پیار دینے کی بجائے انہیں اپنی ذمےداری کا احساس دلائیں۔ انہیں ہر حال میں منفی سوچ سے بچا کر مثبت سوچ کے عادی بنائیں۔ انہیں وقت کی اہمیت کا احساس دلائیں۔ انہیں اپنے وسائل کے صحیح استعمال کے گر سکھائیں۔ اور آخر میں تمام بچوں کے لیے یہ نصیحت ہے کہ وہ اس راز کو دریافت کریں کہ ان کے مستقبل کو بنانے اور بگاڑنے کا دور یہی بچپن کا دور ہے۔ جو تعلیم وہ اس عمر کے حصہ میں حاصل کر سکتے ہیں وہ اسکے بعد کبھی ممکن نہ ہو سکے گا۔ اگر آج وقت ضایع کردیا تو پھر دوبارہ یہ دور اور یہ مواقع انہیں ساری زندگی کبھی دستیاب نہ ہوں گے۔ آج حصول تعلیم کے لیے کسی عذر کو عذر نہ بنائیں۔

 آج ہم کورونا وبا کے دور میں باقاعدہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں سے دور ضرور ہیں لیکن حصول تعلیم سے دور نہیں۔ آج بھی ہمارے پاس کتابیں موجود ہیں۔ ہمارے اس پاس ایسے افراد بھی ہوں گے جو ہماری پڑھائی میں ہماری مدد کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس موبائل میں انٹرنیٹ موجود ہے جس میں ہر طرح کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے لامحدود ذخیرہ موجود ہے۔ پھر کون سا عذر درپیش ہے کہ ہم حصول تعلیم میں پیچھے رہ جائیں۔ اسی طرح ان اساتذہ کرام سے بھی درخواست ہے کہ چلتے پھرتے گھروں میں مساجد میں جہاں کہیں بھی ہمیں یہ بچے ملیں انہیں ترغیب دلاتے رہیں۔ انکی مشکلات کو دور کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ یقینا یہ ہماری قوم کا اثاثہ ہے اوریہی بچے ہمارے روشن مستقبل کے ضامن ہیں۔  یہ فرمان شہ کونین ہے۔۔ حصول علم فرض عین ہے۔

تبصرے بند ہیں۔