دینی مدارس اور امتحانی بورڈز

نور عالم شاہ قریشی

علم انسان کی وہ ضرورت ہے جس پر زندگی کی بقاء ہے۔ جس طرح جسم کو غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور يہی غذا توانائی و صحت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ تب یہ 5، 6 فٹ کا ڈھانچہ حرکت کرتا ہے۔ حق بجانب ہوں گے کہ کہیں غذا بقاء ہے۔ انسانی جسم کے ڈھانچے کے لیے۔ اسطرح ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کردہ ایک اور  شے  روح ہے۔ اس روح کی حیات بامقصد کے لیےاور اسکی درست سمت چلن کے لیے علم ایک غذا کی صورت رکھتاہے۔ اور یہی وجہ ہے جس کی بناپر ہمیں اشرف المخلوقات کا درجہ دیاگیا وگرنہ ہماری ظاہری ڈھانچے کی کیا اہمیت۔ رہے جسم کے اندر دِل ودماغ، سہولت کار ہیں۔ روح تک علم لے جانے کے لیے اور روح کوبامقصد حیات گزارنے کی طرف لے جاتاہے۔ جب مقصدِ علم سے واقفیت ہوتب اس عظیم کائنات کے اسرار سے وقفیت ملتی ہے۔ وہی علم خدا کی وحدانیت کی طرف لے جاتا ہے۔ چونکہ فطرتاً ہر بشر میں خدا کی واحدانیت شامل ہوتی ہے۔ علم اسے حکمت عطافرماتا ہے۔ اور صورتاً غائب چیز کی یقینی قلب وذہن میں پیوست ہوجاتی ہے۔ ایک ہی مالک ایک ہی بادشاہ کا تصور ظاہر ہوتاہے۔ اس علم سے جسمانی ڈھانچے کی ضروریات / اسائشیں بامقصد طریقے سے پورا کرنے کی راہیں کھلتی ہیں۔ اور سب سے بڑ کر اس نظام سے پیوستہ / منسلک (جس کو ہم معاشرہ انسانی کہتے ہیں )معاشرے کی بامقصد وباہم معمولات واحساسات کی بقاء ہے۔ اور وہ بقاء جسکی بنیاد پر خالقِ کائنات نے اس کی تشکیل کی ہے۔

یہی علم الٰہی ہے مقدس ہے اوراس علم کو کامل طریقے سے قرآن مجید میں منظم کیا گیاہے۔ اس لیے علوم کاماخذ قرآن مجید ہے۔ علم کے باقی تمام جزئیات واکائیوں کے لیے قرآن مجید رہنماہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی بنائی گئی قدرت جسکو ظاہری طور پر ہم دیکھتے ہیں کائنات کا نام دیتے ہیں۔ یہ ایک بصری علم ہے۔ جس کا ذکر قرآن کرتا ہے۔ اور بصارتاً کائنات کی شکل میں دیکھاتا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ مکتب یا کتب تک رسائی نہ کر سکے۔ مگر قدرت کے ان اشکار سے راہ ہدایت پاگئے اور علم سے منور ہوئے۔ معاشرے کے دیگر افراد کے معمولات / احساسا  ت کو جانچ کرکی علم کی تشنگی ہوتی ہے۔ یہ انسان بھی روح کے بامقصد حیات کے راز تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ علم بہت کم کے دسترس میں آتاہے۔ باقی عموماً مکتب / کتب کے لیے پابند ہوتا ہے۔ کہ وہ علم حاصل کر سکے۔ جب ہم یہ یقین پالیتے ہیں کہ علم روح کی غذا ہے اور بامقصد حیات کے لیے علم کا ہونا شرطِ اول ہے۔ تب مردوزن پر علم کا حصول فرضیت کا درجہ رکھتی ہے فرض وہ چیز ہوتی ہے جس پر سرزش ہوتی ہے اگر ادائیگی نہ کی جائے۔ علم کے ضمن میں دوسرا اہم نقطہ کچھ یوں ہے کہ علم الٰہی ہے  اس کائنات میں ہر انسان کے پاس جو بھی ہے وہ من جانب اللہ ہے۔ علم ایک عطاء ہے عطائے الٰہی ہے یہ خیر ہے۔ شر اسکی خاصیت نہیں۔ ہمارے مالک کے پا س کبریائی ہے۔ کبر ان ہی کا خاصہ ہے۔ تکبیر ہم اس لیے پڑھتے ہیں ہمارا محدود علم (نعوذبااللہ)کبھی بھی اِس کبر کی خاصیت کو نہیں پاسکتااور نہ ہی شراکت داری کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے (نعوذبااللہ)اور نہ ہی کائنات کے فیصلوں اور اس کے طے شُدہ تسلسل میں ہمارا علم فیصلے کی اہمیت رکھتا ہے(نعوذبااللہ)یہی وجہ ہے کہ علم خیر کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتے ہوئے ابلیس کبر کی خود میں پھنس گیا اور لگا ایسے کہ اس کائنات کے فیصلوں میں وہ اپنی رائے رکھ سکتا ہے۔ اور اس بنا پر دخل اندازی کی۔ اور خاک و نار کی تشریح خود کرنے لگا۔ اور اپنی تشریح پر گھمنڈ کیا (دخل اندازی کی مطلب دخل اندازی کی کوشش کی؛ کبھی بھی کوئی دخل اندازی نہیں کر سکتا)اس بنا پر تفاخرنے علم خیر کو پانے کے باوجود روح کی پاکی نہ کرسکا۔ اور اس علم خیر کے ثمرات سے تاقیامت معزول رہے گا۔ ملعون ٹھہرایاگیا۔ اور جب خالق جسکو ملعون ٹھہرائے تو اس کائنات میں اس کی حیثیت ناچیز کی رہ جاتی ہے۔ اور یہ ایک ایسا عذاب ہے جس سے شیطان گزر رہاہے۔ قلب و ذہن کے اطمنان سے خالی۔ یہاں تک کہ عذابِ عظیم کا کوڑا قیامت کے روز پڑے گا۔

علم کا یہ اصول اصل ہے باقی مخلوقات کے لیے۔ شیطان کی بھی کوشش ہے کہ علم خیر کو شر میں تبدیل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے عالم (علم والے) روح کی پاکیزگی نہیں کر پاتے اور سزائے خفیف کے طور پر اب علم کے بل بوتے فقط اپنی جسمانی راحت واسائش کی تکمیل میں 24گھنٹے سرگرداں رہتے ہیں۔ حقیقی خوشی سے دور ہوتے ہیں۔ قلب و ذہن سے روح تک علم کی ترسیل روک جاتی ہے۔ پھر یہی دل ودماغ ایک عجب سی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ کہ احد کے تین پہاڑ بھی سونے کے مل جائے تب بھی دل ودماغ کی خوشی ناپید ہوتی ہے۔ یہ سزاے خفیف ہے جو ایسے انسان دنیا  میں لے کر زندگی بسر کر رہے ہیں۔

ہم نے جانا کہ علم الٰہی ہے اور عطاء کردہ ہے۔ لہٰذا جتنا عطاء کیا گیا ہے۔ اس علم سے روح کی تازگی کرتے ہیں۔ اور مالک احد کے قائم کردہ نظام کو ساتھ لے کر کہ زندگی  گزارتے ہیں۔ سوال پید اہوتا ہے کہ تب ہم نے کچھ صدیوں سے علم کو دینی و عصری علوم میں تقسیم کیوں کیا ہے۔ یہ منطق کس نے دی ہے۔ آدم کو علم عطاء کیا گیا۔ وہی علم جوانسانوں کے پاس ہے۔ جس کی بنیاد پر تا آخر دنیا ہماری زندگیوں کے اصول وضوابط منظم ہیں۔ اس علم کو اذہان کے شعوری تکمیل پر حضرت محمد ﷺ پر قرآن مجید کی صورت میں کامل فرمایاگیا۔ تاقیامت زمانے کے وقت کے ساتھ نئے خدوخال وکائنات کے عجائبات وتسخیرات اس قرآن مجید سے ہیں۔ اور یہی قرآن کے عجائب ہیں۔ اج جو خدوخال ہیں۔ اس کائنات کے خدوخال کل اور ہوں گے۔ جس کا ادراک آج انسان شائد نہ کرسکے لیکن مستقبل میں کرسکیں۔ قرآن مجید کی مکمل حکمت ودانائی، عجائب کاادراک کرنے والے خود حضرت محمدﷺ ہیں۔ اس لیے حقیقی اور کمل مفسرِ قرآن آپﷺ کی اعلیٰ ذات ہے۔ جب تمام علوم کی اکائیوں کا ماخذ قرآن ہے۔ علم الہٰی ہے۔ اس بناء پر تمام علوم الہٰیہ ہوئیں۔ پھر دینی وعصری علوم کی درجہ بندی کیوں ؟اس بنا ء پر یہ اشکال تمام اہلِ علم حضرات کے ذہنوں میں پیوست ہوناچاہیئے کہ تمام علوم کی یکساں قدرومنزلت کی جائے۔ تحقیر نہ کی جائے۔ اور ہر انسان کو کوئی بھی علم سیکھنے پر یہ نہ کہا جائے کہ یہ سکول کی تعلیم ہے۔ یہ انگریزی تعلیم ہے،یہ دنیاوی تعلیم ہے۔ انسان جو علم سیکھتا ہے وہ اس علم کا فرض کو پورا کررہا ہوتا ہے۔

اب ہم اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ یہ تمہید موضوع کے لیے ضروری تھا۔ مسالک کی بنیاد پر پاکستان میں مدارس کا وجود ہے۔ یہ ایک المیہ ہے بحر کیف اب وجود ہے سو انکارممکن نہیں۔ ذیل کے بورڈز کے تحت ہزاروں مدارس کام کر رہے ہیں۔ اور علم الٰہی کی ترویج کررہے ہیں۔ نصاب اسی مسلک کا

پڑھایا جاتا ہے اور انہی علماء کی کتب پڑھائی جاتی ہیں۔

  1۔       وفاق المدارس العربیہ :    ویوبند مکتبِ فکر

2۔       تنظیم المدارس          :    بریلوی مکتبِ فکر

  3۔       وفاق المدارس السنعتہ :    جماعت یا فکر اہلحدیث

 4۔       رابطہ المدارس الاسلامیۃ   :   جماعتِ اسلامی یا نظریہ جماعتِ اسلامی

اس طرح اہلِ تشیع کے مدارس کے بورڈ وفاق المدارس الشیعۃ ہے۔ یہ تمام بورڈ حکومت کو نمائندگی کے طور پر اتحاد مدارس تنظیمات مدارس دینیہ میں ایک دوسرے کے ساتھ نمائندگی کی حد تک محدود ہیں۔ موجودہ حکومت(جس کے وزیرِ تعلیم صاحب تعلیم وتدریس سے کوسوں دور ہیں )نے پانچ نئے بورڈ تشکیل دئیے ہیں۔

1۔       اتحاد مدارس العربیہ(دیوبند)

2۔       نظام المدارس پاکستان(بریلوی)

3۔       وفاق المدارس الاسلامیۃالرضویۃ (بریلوی)

4۔       اتحاد المدارس الاسلامیۃ (اہلحدیث)

5۔       مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمۃ (اہلِ تشیع)

ظاہراً عمل کا مقصد کچھ یوں لگتا ہے۔ کہ موجودہ بورڈ کی اجاراداریاں اثرونفوذکو کم کیا جائے اور نئے بورڈ حکومتی سرپرستی اور مالی تعاون کی بنا پر ملک کے اس طبقے پر کنٹرول (جس کا حکومت کو اہتمال ہے،کہ وہ دہشتگردی، بنیاد پرستی کو عام کرنے  میں معاون ہیں )صد افسوس جب ان بورڈز کے طویل مدتی پہلو کو دیکھا جائے تو اس سے تفرقہ بازی میں مزید اضافہ ہوتا جائے گاجس کے ذمہ دار یہ حکمران ہیں۔ حکومت کی کوشش ہوگی کہ نئے بورڈز ہی نمائندہ بورڈز ہوں۔ اور امالی استحکام کی وجہ سے طلباء کی تعداد اور مدارس کی تعداد کا اضافہ ہوتاجائے گا۔ اور اس طرح پرانے بورڈ کی حد تک اثرورسوخ میں کمی آجائے گی۔ اگر حکومت اہلِ علم کے ساتھ بات کرتے تو ان مدارس اور بورڈز کو ملکی تعلیمی نظام میں باحسن طریقے سے شامل کیا جاسکتا تھا۔ لیکن یہ شاہد وہ چاہتے نہیں۔ یا چاہتے ہیں لیکن لائحہ عمل کا فقدان ہے یہاں پر متبادل تجاویز پر غور کیا جائے گا۔

ان مدارس کے اسناد کی اہمیت کچھ یوں ہیں۔

1۔       شہادۃ ثانویہ عامۃ      (میٹرک کے برابر)

2۔       شہادۃ ثانویہ خاصۃ    ( ایف اے کے برابر)

3۔       شہادہ عالیہ    (بی اے کے برابر)

 4۔     شہادۃ عالمیہ   (ایم اے کے برابر)

اگرچہ عملہ ً پاکستان کے بیشتر جگہوں پر ان ڈگریوں کی کوئی اہمیت نہیں اور وہ یونیورسٹی کی ڈگری کو اہمت دیتے ہیں۔ نئے بورڈ کے مطابق طالب علم کو ایف اے تک عصری تعلیم دی جائے گی۔ جبکہ صورتِحال یہ ہے کی عصری تعلیم دینی مدارس میں کلاس ہشتم تک پہلے تین سالوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ جس کا ذکر بعدمیں کریں گے۔ نصاب جس کاذکر پہلے کیاگیاہے۔ ہر مدارس میں خاص فرقہ /  مسلک یا گروہ کے علماء کی کتب ہی پڑھائی جاتی ہیں۔ جس کی بناء پر ان فکروں / مسالک کو مزید تقویت ملتی ہے۔ اور معاشرہ مختلف افکار میں تقسیم ہوتا جاتا ہے۔ افکار کی ترویج معاشرے کوتب مضبوط بناتی ہیں۔ جب ایک دوسرے کے لیے احترام وعزت کاپہلو ہو۔ ایک دوسرے سے اختلاف مثبت تنقید کی صورت میں ہو۔ افسوس لہ بات ہے کہ ان افکار کے اختلاف پر اک دوسرے کو ناحق اور یہاں تک کہ بات کفر تک چلی جاتی ہے۔ معاشرہ حقیقی تصور اسلام سے بھٹک جاتا ہے۔ قرآن مجید ہم سب کے یے راہِ ھدایت ہے۔ اور اسکی تشریح وتفسیر میں کوئی خاص بنیادی فرق نہیں ہوتا لیکن ہر مکتب فکر قرآن کی تفسیر کو مسلک کے زاویے کے ساتھ لے جاتا ہے۔ اور مخالف تفسیروں کو پسند کی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتاکہ احسن طریقے سے مثبت تنقید کی جاتی۔ قرآن مجید کاکلام ہمارے فکر کے لیے  رہنماہے۔ قرآن مجید کی گہرائیوں اور حکمت کے خزانوں کو ڈھونڈنے کے لیے عربی زبان کی ناواقفیت ہمیں کمزور بنادیتی ہے۔ تجوید / حفظ القرآن کی طرف توجہ دی گئی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس کے ساتھ عربی صرف و نحو کو بغیر اردو کے سہارے ایسا پڑھایاجاتا کہ طالب علم اس میں بات بھی کرسکتے تحقیق بھی کر سکتے اور قرآن کو بغیر ترجمہ کے سمجھ سکتے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے حفاظ کرام عربی زبان سے ناواقف ہوتے ہیں اور قرآن کی وہ چاشنی حاصل نہیں کرپاتے جو حاصل ہونی چاہئیے۔ جس طرح دیگر علوم الٰہی معاشرتی و قدرتی علوم کے لیے انگریزی زبان کی ضرورت ہے (یہاں پر بھی سکولوں میں انگریزی زبان کواردو میں سکھایاجاتا ہے بدقسمتی ہے)اس بناء پر آگے اعلیٰ تعلیم میں دشواری کم پیش آتی ہے۔ یہی بنیاد ہے۔ علم قرآن، حدیث، فقہ، تاریخ ِاسلام، علم کلام، تقابل ادیان ان سب کے لیے عربی زبان کی تعلیم بہت ہی ضروری ہے۔ قرآن وحدیث کے مطالب کو عربی زبان جانے بغیر تشریح وتفسیر کرنا ایک مشکل تریں کام ہے۔ نصاب کے حوالے سے دوسری بات کہ نصاب میں وقتاًفوقتاً تبدیلی نہی نظر آتی ہیں۔ فارسی زبان (جو اب محدود ہوچکی ہے)اب تک مدارس کی زینت ہے۔ اور طلباء کے لیے ایک اضافی بوجھ ہے۔ یہی وقت عربی زبان کو دیا جاسکتا ہے۔ نصاب کی از سرِنوتشکیل کے لیے ان بورڈز نے کافی تحقیقی کام کرناہوگا۔ نصاب میں وسعت لازمی ہے۔ اور تمام فقہاء کی اراء کو شامل نصاب کیا جائے تاکہ وہ اختلاف پر تحقیق بھی ہواور دل قبولیت کی طرف مائل بھی ہو۔ اور اس سے تمام بورڈز کے مدارس میں یگانگت کی صورت نظر آئے گی۔ جہاد کو باقائدہ ایک علیحدہ مضمون پر شامل کیا جائے اور اس کو تخصص کے درجے تک لے جایاجائے۔ نصاب کو زمانے کے عام اسلوب اور عالمی وحدت کی روسے وسعت دی جائے۔ علما ئکی تضحیک وتفکیر کا سلسلہ بند ہوناچاہیے۔ اور آج تک جتنی اختلافی و انتشاری کتب لکھی گئی ہیں بورڈ کو چاہیے کہ طالب علموں کی دسترس اس تک نہ ہو  تاکہ یہ اختلاف یہی پر تم جائے۔

مدارس کے تعلیمی وتدریسی مراحل میں پہلے تین سال قرآن مجید کا ناظرہ تجوید، ریاضی، انگلش، معاشرتی علوم، سیرت النبی، تعلیم الاسلام اور اردو شامل ہیں۔ اور یہ دورانیہ کلاس ہشتم (12 سے13 سال عمر )/ مڈل سکول کے برابر ہے اس کے بعد 9 سال پر محیط تین مدارج میں طالب علم کو مختلف علوم پڑھائے جاتے ہیں۔ پہلے تین سال (مڈل سکول) اور اس سے پہلے کنڈرگارٹن اور پرائمری کی تعلیم ان مدارس میں ہو۔ اور وہی حکومت کا نصاب ہو۔ اور اس طرح دوسرے سکولز کے بچے بھی جماعت ہشتم کے بعد مدارس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ اسی حکومتی نصاب میں اخلاقیات، بنیادی تعلیم الاسلام،عربی تجوید، زندگی کے اصول وضوابط اور مہارتیں اور مخصوص حفظ شامل ہوں۔ پاکستان میں بعض سکولز میں بھی ہشتم تک اسی طرز کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے بعد بچے اپنی پسند، دلچسپی، لگائو کی بنیاد پر منحصر ہوگا کہ بچہ آگے معاشرتی علوم پڑھنا چاہتا ہے، طبعاتی علوم یاخالص علوم اسلامیہ۔ علوم اسلامیہ لیے وہی مدارس تخصص دیں گے جہاں پر انکے درجوں کو 9 سال ایم اے اسلامیات، ایم اے عربی، ایم اے حدیث، ایم اے فقہ اور ایم اے نقابل ادیان ودیگر کے عنوانات کے ساتھ دی جائیں گی۔ جس کو HEC مکمل Verified اور Recognised کرے گی۔ باقی یونیورسٹیز میں ایم اے اسلامیات وعربی وغیرہ کی ڈگریاں نہیں ہونی چاہیئے۔ پاکستان یونیورسٹی یا تو معاشرتی علوم کی یونیورسٹی ہو گی یا طبیعاتی علوم۔ ہاں ہشتم کے بعد سکولز اور اسکے بعد یونیورسٹی میں بھی اخلاقیات کی تعلیم، بنیادی دین اسلام اور زندگی کی مہارتیں کے مضامین پڑھائے جائیں۔ تاکہ تعلیم یافتہ شخص بنیادی اسلام سے خوب واقف ہو۔ اور زندگی میں اسکے اصول وضوابط کے لیے کسی دینی علوم کے عالم کامحتاج نہ ہو خودہی نکاح خواں ہو خود ہی امام نماز ہو سکے اور خود ہی امام جنازہ ہوسکے۔

اب دوبارہ آتے ہیں بورڈز پر تمام بورڈز ایک نظم کے ذریعے آپس میں منسلک ہو جو نصاب پر اپنی اراء وتجاویز پیش کر سکیں۔ سبق کو رٹھوانے اور مخصوص مسلک کی کتب سے نکل کر وسعت دینی ہوگی۔ تاکہ محققین پیدا ہوسکیں اورنئے مسائل کاحل وسعت نظری کے ساتھ ہمہ گیر وعلمگیر ہو۔ مثلاً اسلامی اقتصاد کا اپنا ڈھانچہ ہو۔ نہ کی مروجہ بینکنگ کو اسلامئیز کرنا۔ اس وسعت کے ساتھ شخصیت پرستی، خالص پیروکاری کی لعنتیں ختم ہو جائیں گی۔ محبت وعزت ایک الگ چیز ہے۔ اور ایمان وعبادت ایک الگ چیز ہے۔ اسلام کی صحیح تصور نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں پیروں، فقیروں، خانقاہوں میں وہ دیکھنے کو ملتا ہے جس کی مثال دینا شائد قلم کے احاطے میں نہ کرسکوں۔ بحرکیف بزرگانِ دین کی عزت وتوقیر اس لیے ہے کہ وہ قرآن سے محبت اور اس کے تعلیمات پر خود عمل پیرا ور اس کی تلقین کرتے تھے۔ فی الواقع میں وہ ایک خالی جسم ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ اورچھوڑ دیجئے یہ بڑے بڑے القابات، اعزازات ذیل میں کچھ نقات بیان کرنےجارہے ہیں۔ جس پر ہر بورڈکو غور وفکر کرناچاہیئے۔

1۔       ہشتم تک کی تعلیم کو فیس کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ مدارس خود کفیل ہوں۔ اس کے بعد اسلامی علوم کی یونیورسٹی(جامعات)کے لیے اصحاب استطاعت خود ہی اخراجات کا بیڑا اٹھائیں۔

2۔       چندے کا نظام مدارس کی سطح پر ختم کیا جائے اور تمام اصحابِ استطاعت لوگ بورڈکو اپنے عطیات جمع کرائیں۔ (زکوٰۃ کی رقم اگر یہاں خرچ نہ کی جائے۔ توبہتر رہے گا۔ بحر کیف یہ ایک رائے ہے)پر بورڈ اپنے تشکیل کردہ مالی نظام کے ذریعے مدارس کو فنڈز طلباء کی تعداد کی مناسبت سے جاری اخراجات  کے لیے مہیا کریں۔ اساتذہ کرام کی تنخواہ پورے ملک میں یکساں ہوں۔

3۔       نئے مدارس کی تشکیل کو پابند کیا جائے۔ پرنسپل (مہتمم)مدرسہ کا باقائدہ امتحان ہو کہ وہ انتظامی طور پر مدرسے کو چلا سکتے ہیں یا نہیں اور اساتذہ کرام کی تریننگ جاری ہو۔ مہتمم مدرسہ پابند ہوکہ نئے مدرسے کے بلڈنگ کے لیے مقامی صاحب استطاعت سے فنڈ کی دستیابی کراسکتاہو۔ اور باقی جاری اخراجات بشمول تنخواہ مہتمم ) بورڈ کے فنڈ سے جاری ہونگے۔

4۔       اساتذہ کرام کو گاہے بگاہے طریقہ ہائے تدریس، بچوں کی نفسیات پر تربیت کا معمول جاری ہونا چاہیئے۔

5۔       عربی زبان کو تدریسی زبان کادرجہ دیا جائے۔ جماعت ہشتم تک باقی علوم کی تدریس وکتب بھی عربی زبان میں ہو۔ حکومت بھی عربی زبان میں امتحان کا انعقاد بنائے۔

6۔       تدریس کے دورانئے کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ صبح سے عصر 3 / 4 بجے تک تعلیم دی جائے۔ باقی کھیل وکود اور طالب علم کے اپنے مشغولات۔ دن رات تعلیم وتعلم سے گریز کیا جائے۔

7۔       ان بورڈز سے ملحق مساجد (ملک بھر میں ) کو بھی نظم میں لایا جائے۔ نئے مسجد ضرورت اور بورڈ کی اجازت سے ہو۔ اور خطبہ جمعہ باقاعدہ طور پر ملک بھر (بورڈز کی سطح جے مطابق) یکساں ہوں۔ مساجد کو ضلعی سطح پر مالی لحاظ سے منظم کیا جائے۔ اور اس فنڈ سے امام کی تنخواہ ودیگر اخراجات پورے ہو سکیں۔ ایسا نہ ہو کہ جمعہ کی نماز میں چادر پھیلا کرکے چندہ مانگا جائے۔ یہ ایک مذاق ہے کہ ہم نے چندہ تب دینا ہے جب کوئی چادر ہمارے سامنے پھیلائے۔ افسوس کا مقام ہے۔ اللہ کے گھروں کو چندہ تب دیں گے جب چادر سامنے لائی جائے۔

آخر میں تمام اہلِ علم لوگوں سے درخواست ہے۔ کہ عربی زبان کی اتنی تعلیم ضرور حاصل کریں تاکہ قرآن مجید کو سمجھ سکیں۔ جو تلاوت کر رہے ہیں انکو مفہوم کی سمجھ ہو۔ قرآن کے عجائب ناختم ہونے ولاے ہیں۔ اور عربی زبان ہی ہمیں ان عجائب تک لے جاسکتی ہھ۔

تبصرے بند ہیں۔