سنبھالو اپنے معصوموں کو!

ام ہشام نوریہ

(ممبئی)

 ہمارے نوجوان اس قوم کا سرمایہ ہیں اور اس امت کا جتنا نقصان ہونا تھا ہورہا ہے آنے والے دن شاید ہمیں آج سے زیادہ بدترین صورتحال دکھانے والے ہوں اس لیے لڑکوں کی تعلیم وتربیت کے متعلق معاشرے میں پھیلی ہوئی بے حسی کو اب بیدار کرنا ہی پڑے گا۔ بڑے بڑے انقلابات،رفاہی فلاح وبہبود کی زبانی جمع خرچیاں، مسلک ومذہب کی تلاطم خیز آندھیاں سب کچھ ایک طرف رکھ دیجیے!

 برائے کرم ایک نظر اپنی گلی کوچوں کے کونوں کھدروں , خالی رکشہ ٹرک  میں بیٹھے،نشے میں دھت ان بچوں پر بھی ڈال لیجیے جو دھیرے دھیرے  نہ صرف اپنی موت کو گلے لگارہے ہیں بلکہ سماج و سوسائٹی کیامن وامان کیلیے بھی خطرہ بن چکے ہیں۔ مسلمان بچوں کو نشے,جوئے اور لڑکیوں کے پیچھے لگائے رکھنے کی یہ ایک منظم سازش ہے۔ جس سازش کو کامیاب کرنے میں والدین %90ساتھ دیتے ہیں اور بچا کھچا تناسب رشتہ دار،دوست احباب اور پڑوسی مکمل کردیتے ہیں۔ سنسان کونوں، بدبودار غلاظتوں کے ڈھیر پر بیٹھے نشہ میں مدہوش ان بچوں کو ایسی جان لیوا اور خون کے آنسو رلادینے والی حالت پر آپ سب نے مل کر  پہنچایا! ان کے والدین کاان سب میں سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ ان باپوں کاایک اہم رول ہے، جنہوں نے صرف دولت کمائی اور بچوں کو بے دریغ پیسے تھماتے رہے۔ ان ماوں کی بھی برابر کی شراکت داری ہے جنہوں نے ان بچوں کو اپنی نظروں سے دور کیا۔ تھوڑی سی تربیت کے بعد ہمت ہار بیٹھیں، بچوں کو نظر انداز کرکے اپنی مصرفیات اور مشغولیات میں مگن رہیں، اور جب بچوں نے ایسے والدین سے زبان درازیاں، اور مطالبات کی کثرت کی،اندرون خانہ چوریوں کی واردات انجام دیں تو انہیں زدکوب کرکے گھر سے نکال دیا اب بچہ رات بھر کہاں رہا کسکے ساتھ رہا اسکی کوئی فکر نہیں۔

 فکر کیجیے،ہوش کے ناخن لیجیے!  یہ بچے میرے نہیں ہیں ! لیکن جب بھی ایسے بچوں کو میں غلاظتوں کے ڈھیر پر، اندھیری گلیوں میں نشہ کرتے ہوئے دیکھتی ہوں، گھر کے آرام دہ بستر کی بجائے فٹ پاتھ یا ٹھیلہ گاڑی پر ہوش سے بیگانہ پڑا ہوا پاتی ہوں میرا دل دکھتا ہے،کڑھن ہوتی ہے یہ سماج جو خود کو مہذب کہلواتا ہے اس کی تہذیب کیا بس یہی ہیکہ…. وہ خود تو مہذب بنا رہے اور وہ بچے جو ذرا سا بہکے تھے انہیں ہاتھ تھام کر میخانہ تک چھوڑ آئے یہ کہہ کر کہ ہم تمہاری تربیت نہیں کرسکتے،ہم تم سے تھک چکے ہیں.

 مسلمانوں ! اجتماعی طور پر انسداد نشہ کی مہم چلائی جانی چاہیے غور کیجیے  دوسری قوموں کے بچے اس لسٹ میں %20 ہیں جبکہ نشہ آور ادویات اور قتل وغارت گیری اور پاکٹ ماری میں مسلم محلوں کے کمسن اور under 18 بچوں کا تناسب %80 ہے۔ تو فکر کسے ہونی چاہیے ہمیں یا انہیں ان کے ایک ایک علاقے میں کئی کئی ریہاف سینٹرز ہیں جہاں فلاحی تنظیمیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے لڑکوں کی جسمانی اور ذہنی  کاونسلنگ کررہی ہیں۔

 سوچیے تو سہی کہ ہمارے پاس کیا ہے…….کچھ بھی تو نہیں صرف باتیں …..اور ہماری آسائش زندگی کی بھرمار، کیونکہ ہمیں صرف اچھی باتیں ہی پسند ہیں – ا چھا کھانا پسند ہے اچھا پہننا پسند ہے۔ یہ سب کچھ ہمارا کمفرٹ زون ہے اگر ہم  اس سے باہر نکل گئے تو پھر ہمیں بڑی بے چینی ہوتی ہے ہم اپنے آرام کو داؤ پر نہیں لگاسکتے،پھر چاہے کوئی ہمارے بچوں کو نشہ کی نیند سلاجائے یا پھر موت کی۔جس طرح ہمارے درمیان اٹھنے بیٹھنے والے لوگوں میں ہی ’’پیڈو فیلیا ‘‘  چھپے ہوتے ہیں ٹھیک اسی طرح ہماری گلی محلوں میں ایسے سخی اور فیاض لوگ ضرور موجود ہوتے ہیں جو مسلمان بچوں کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اپنی جیب سے مال خرچ کرکے انہیں نشہ کی ٹریننگ دینا شروع کرتے ہیں۔ مقصد صرف یہی ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے بچوں کو  جان لیوا کھیل کوداور نشہ میں ڈبوکر ان کو جسمانی اور ذہنی طور پر مفلوج بنادیا جائے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ لت بنانے کی لیے انہیں بس کچھ دنوں تک سستے نشہ کا انتظام اپنی جیب سے کرنا ہوگا پھر اس کے بعد تو بچے خود ہی اپنا گھر صاف کرکے نشہ کا انتظام کرلیں گے۔

خدارا! بچوں کے گھر پر رہنے کے اوقات کو منظم کرکے چند اصول بنائیے کہ بچہ کن اوقات میں کتنے وقت کے لیے گھر سے باہر جاسکتا ہے اور اسے کب تک واپسی کرنی ہوگی۔ اپنی عمر سے بڑے لڑکوں کے ساتھ دوستی ہمیشہ خطرناک ہوتی ہے اور یہ خطرہ اس وقت دگنا ہوجاتا ہے جب دوستی کرنے والا آدمی پختہ عمر کا آدمی ہو۔ اگر کوئی اجنبی آپ کے بچے کیساتھ دوستانہ تعلقات بناتا ہے اور اس پر پیسے خرچتا ہے یا اسے کھلاتا پلاتا ہے تو پہلی فرصت میں اس کو دفع کریں۔ آپ اپنی اولاد کی ضروریات کا خیال رکھنے کو کافی ہیں۔ بچے کو بھی حکمت کے ساتھ سمجھائیں کہ جس انسان کو ہم نہیں جانتے وہ ہمارے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اپنے طریقہ سے حکمت کے ساتھ بچے کو ایسے تعلقات کی قباحت سمجھانے کی کوشش کریں۔ بچے کی چھوٹی بڑی حرکتوں پر نظر رکھیں بالخصوص اس کی نیند،بھوک،پیاس اور رویہ کے بدلتے ہوئے مزاج اور عادتوں پر۔

  محتاط رہیں، بیدار رہیں، یہ بچے آپ کے ہیں ان کی حفاظت کی ذمہ داری آپ پر ہے اپنی ذمہ داری سے پیچھا چھڑاکر دوسروں پر الزام دہی کرنا یہ آپکی اپنی تربیتی کمزور کڑی ہے۔ ہمارے یہ بچے غیروں کے ہاتھ میں تب ہی جاتے ہیں جب ہم  خود اسکے وسائل اور ذرائع  پیدا کرتے ہیں۔ اپنی غفلت اور کاہلی کے سبب کسی کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ آئے اور آپ کی اولاد کو لے جاکر قبر میں اتاردے۔

تبصرے بند ہیں۔