فارسی زبان کیوں سیکھنی چاہیے!

ڈاکٹر علی ربانی

(کلچرل کاونسلر، اسلامی جمهوریه ایران،نئی دهلی)

آج ایک ہندوستانی  جوان کے لیے اس کا جواب اور جواز تلاش کرنا تھوڑا مشکل ہوسکتا ہے کہ اسے فارسی کیوں سیکھنی چاہیے، کیوں کہ آج زبان کی تعلیم کا مقصد سائنسی، تجارتی اور سیاسی ترقی، مواصلات اور بات چیت کے لیے گفتگو کی مہارت حاصل کرنا اور روزگار حاصل کرنا هے۔ یقینی طور پر، اس طرح کی  تعریف اور نقطہ نظر  اور کچھ زبانوں خاص طور پر انگریزی کی ہندوستان سمیت آج کی دنیا بھر میں  فروغ و ارتقا  کے یش نظر فارسی سیکھنے کی واضح وجوہات  کو بھی بآسانی سمجھا جا سکتا هے۔ لیکن دوسری طرف، ایسا لگتا ہے کہ زبان محض مذکورہ ضروریات کو پورا کرنے تک ہی محدود نہیں ہیں  اور فارسی زبان سمیت کچھ زبانیں، اس کے  مشمولات ک اور اسکے مواد کی دوسری اہم قابلیتیں اس کے سیکھنے  کی محرک هیں۔ آج انسانوں کی روحانی کیفیات اور ضروریات اس کو ضروری بناتے ہیں۔ خاص طور پر  جب  ایک زبان کسی تاریخ، ثقافت اور قومی تشخص کا حصہ ہو لہذا، فارسی زبان سیکھنے کا ایک  ہندوستانی کی زندگی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے  اسکو  اسی تناظر میں ئیکھا جانا چاهئیے.  آج بھی، ہندوستان میں فارسی کی تعلیم میں تمام تر اتار چڑھاو اور پریشانیوں کے باوجود، فارسی زبان سیکھنا ایک بہت ہی کارآمد اور تعمیری  ثابت ہوسکتا ہے۔ اس مسئلے کی بہتر تفہیم کے لیے مندرجہ ذیل نکات ملاحظه ہوں۔

فارسی زبان ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو آسان بنانے میں فارسی زبان کا رول
فارسی یا پارسی ایک  ایرانی زبان ہے جو  ہند -و یورپی زبانوں کی ہند-ایرانی شاخ ہے، جو زیادہ تر ایران، افغانستان، تاجکستان اور ازبکستان میں بولی جاتی ہے۔ فارسی ایک ملٹی  فوکل اور ایران، تاجکستان اور افغانستان کی سرکاری و قومی  زبان ہے۔ ایران اور افغانستان میں، زبان فارسی حروف تہجی میں لکھی گئی ہے، جو عربی رسم الخط سے ماخوذ ہے، اور تاجکستان اور ازبکستان میں، تاجک حروف تہجی میں، جو سیرلک حروف تہجی سے ماخوذ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ایران میں 80 ملین، افغانستان میں 25 ملین، تاجکستان میں 9 ملین اور ازبکستان میں 10 سے 12 ملین کے درمیان  لوگ فارسی  بولتے هیں۔ بحرین، عراق، پاکستان، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، روس، جمہوریہ آذربائیجان، قرقزستان، قزاقستان، ترکمنستان، چین اور ہندوستان  کے بعض علاقوں میں لوگ  فارسی سے واقف هیں۔ ایران، افغانستان اور تاجکستان میں سرکاری طور پر فارسی زبان اور دوسری زبان بولنے والوں کی دوسری زبان کے طور پر تسلط کو دیکھتے ہوئے، دنیا میں فارسی بولنے والوں کی کل تعداد کا تخمینہ 120 ملین سے زیادہ ہے۔ فارسی  ویب مواد یا انٹرنٹ میٹیریل  میں پانچویں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان ہے۔

ہندوستانیوں کے لیے فارسی سیکھنے  کا محرک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ  مد نظر زبان  کے آله کارنے ہندوستان اور فارسی بولنے والی  اقوام بالخصوص هند و ایران کے مابین ثقافتی روابط اور تعلقات میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج بھی، یہ قومیں، اس تاریخی تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور فارسی زبان کو جو ان کے تاریخی روابط کا اثاثه و ذریعه  هے،ایک متمدن معاشرےکی بامقصد تعمیر کر سکتی ہیں . ایشیائی تہذیب کی تعمیر  نو کی داغ بیل باہمی تعامل، مذاکره  اور ثقافت، خاص طور  سے هندو ایران کے بغیر، جو  تہذیب  و تمدن؛  تصوف اور مذاہب کا گہوارہ رہے ہیں، قابل تصور نهیں هے۔ کیونکہ تہذیب اور ثقافت کے بنیادیں افهام و تفهیم اور باهمی گفتگو پر مبنی ہیں۔ فارسی جیسی مشترکہ   تهذیبی میراث کو آله کار قرار دے کر باهمی  تهذیبوں اور افهام و تفهیم کا فروغ  اور اسکا حصول ممکن  ہے۔ کیوں کہ اس دو طرفه افهام و تفہیم کا تاریخی تجربہ بنیادی طور پر صوفیانہ اور روحانی ادب اور روایات کی بنیادوں  پر  استوارہے  اور گذشتہ پوری تاریخ میں اشراف  اور دانشوروں کی تفہیم، اجتماعیت اور تہذیب و ثقافت کی اساس رہاہے۔

لہذا، آج، ہندوستان کے سیاسی اور تجارتی تعلقات میں فارسی بولنے والے ممالک کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے، ہندوستان میں فارسی زبان کی تعلیم خطے میں فارسی بولنے والی جماعتوں کے ساتھ ملک کے تعلقات میں یقینی طور پر ایک سہولت بخش کردار ادا کرسکتی ہے۔ ان ممالک اور اقوام کے مابین  رو به ارتقا  هندوستان رشتے، نیز سیاحت کی امکانات، سائنسی اور ثقافتی تعلقات، ان لوگوں کو تربیت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں جو فارسی زبان میں روانی رکھتے ہیں تاکہ  وه ان باہمی روابط کو آسان بنانے میں اهم کردار ادا کر سکیں۔

ہندوستان کی تاریخی اور ادبی شناخت کو بچانے کے لیے فارسی زبان کی تعلیم بلاشبہ، فارسی، جو سب سے اہم صوفیانہ زبان ہے، گذشتہ تاریخ میں ایران اور ہندوستان کی مشترکہ کاوشوں سے پروان چڑھی ہے، اور ہندوستان میں فارسی زبان کی ترقی کا ایک حصہ ہندوستانی شاعروں،  صوفیوں اور مصنفین سے متعلق ہے۔ فارسی بولنے والے صوفی اور شاعر جو ہندوستان میں پیدا ہوئے اور اس سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں ان کا اپنا ایک ادبی مکتب فکر تھا اور وہ فارسی زبان و ادب کی ترقی اور نشوونما میں  شانه به شانه رهے هیں۔ چنانچه یه بات اہم ہے کہ ہندوستان میں فارسی زبان، نے اس سرزمین کے عظیم شاعروں اور صوفیوں کی مدد سے، وقت کے ساتھ ساتھ ایک ہندوستانی اور دیسی نوعیت کی شکل اختیار کرلی اور  فارسی ادب میں سبک  هندی نام کا ایک خاص اسکول  وجود میں آیا۔ لہذا، اگر ہم کسی ملک میں ادب، ادبی کاموں اور عظیم شاعروں کے وجود کو اس سرزمین سے اس زبان اور ادب سے وابستہ ہونے کی علامت سمجھتے ہیں تو  ہندوستان میں فارسی زبان بلاشبہ  امیر خسرو  دہلوی،  مرزا غالب  اور بیدل دہلوی جیسے مشہور شعرا کی وجہ سے ہے، سیکڑوں عظیم شعراء نے عمدہ ادبی کاموں کے ساتھ جو کہ فارسی میں پیش کیا گیا تھا، ہندوستان میں فارسی ادب کی درختکاری کی، گوکه اسکی تخم پاشی هندوستان میں مقیم   ایرانی شعرا، عرفا و صوفیا کے ذریعے هی هوئی تھی  مگر  ایرانی تهذیب و ادب کی آب و هوا  نے اسے ہندوستان میں اسکی جڑوں کو اتنا مضبوط کیا که دیکھتے هی دیکھتے یه ایک تنومند درخت میں تبدیل هوگیا اور آج  اس سرزمین سے  اسکا ایسا رشته هے که  اسے ہندوستان کے تشخص، تهذیب اور تاریخ  کا اٹوٹ حصہ سمجھا جاتا ہے ۔  یهی و ه زبان هے جس سے اس ملک کے صرف مسلمانوں نے نهیں بلکه  هندو، سکھ، عیسائی سبھی نے محبت کی نظر سے دیکھا هے  اور اپنی  تهذیبی و روحانی  یشرفت کے لیے اس سے استفاده کیا ہے۔ جس طرح دنیا کو ہندو متون مقدس، هندوستانی فلسفه، تهذیب اور تعلیمات روشناس کرانے میں فارسی زبان کی خدمات رهے هیں، اور اس زبان نے اپنی همه گیریت کی وجہ سے ہندوستان کی رنگارنگ سرزمین کے تمام عوام و خواص کو متاثر اور راغب کیا ہے۔ اس کی متنوع ثقافتی اقدار کا تحفظ اور تمام مذاہب اور فرقوں کے مابین یکجہتی اور ہمدردی کو فروغ دینا اور جدیدیت کے دور میں معاشرتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مقامی، نسلی اور ایشیائی شناخت اور اقدار کے تحفظ کے لیےادب کے استعمال کی ضرورت ہے اور جو  زبان تاریخ میں  اپنی اس خاصیت کو منواچکی هو  اسے اس حواله سے بروے کار لایا جانا  ناگیزر هے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ آج ہندوستان دنیا میں فارسی مخطوطات اور دستاویزات کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ لاکھوں فارسی نسخے اور دستاویزات جو غیرمعمولی مادی اور ثقافتی اہمیت کے حامل  ہیں وہ اس ملک بہت بڑا اثاثہ ہے ؛ہندوستانی عوام کی گرانقدر میراث  ہے۔ یهاں کے بزرگوں نے آٹھ صدیوں سے زیادہ عرصے میں ایرانیوں اور دیگر فارسی بولنے والوں کی مدد سے اس کی ثقافتی اور تہذیبی ترقی میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے کر اسےتیار کیا ہے۔ یقینی طور پر ہندوستان کے اس عظیم ثقافتی اور تاریخی ورثے کا تحفظ کے لیے ایسے مرد و زن کی ضرورت ہے جو، فارسی زبان  سے شغف  رکھتے هوں  اور اس قیمتی سرمایے سے استفاده کرسکیں اور اس کی حفاظ کے ساتھ ساتھ اسے نوجوان نسل  کو بھی  اس سے متعارف کروائیں۔

• مادیت کے اس دور میں ہندوستانی معاشرے کی اخلاقی اور روحانی قدروں کی نشوونما پر فارسی ادب کے اثرات ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں قابل ذکر اور حیرت انگیز پیشرفت ہوئی ہے۔ یہ پیشرفت ایسی ہے کہ جس نے پوری طرح سے دنیا کا چہرہ بدل دیا ہے، گویا انسان کے حال اور ماضی کے مابین کوئی رابطہ   هی نهیں ہے۔ چنانچه اسے ایک تاریخی بے ربطی کہا جاسکتا ہے۔ اس  بی ربطی کے وقفه  میں، دو تاریخی ادوار ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں اور ان کے درمیان ایک بہت بڑا فاصلہ اور خلا پیدا ہوتا ہے۔ اس خلا نے ماضی کو حال کے لیے اجنبی بنا دیا ہے۔ تاریخ  کے اس موڑ اور وقفے میں ماضی ناقابل فہم ہوجاتا ہے اور نیا دور ماضی کے ساتھ بالکل نئے اور غیر مربوط   خصوصیات کے ساتھ ایک عہد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس تلخ حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جدید تہذیب، اپنی تمام تر کامیابیوں کے لیے، انسانی وجود کے بنیادی دائرے یعنی اسکی ملکوتی روح کو نظرانداز کرنے کا سب سے اہم عنصر رہی ہے، جس کا نتیجہ اخلاقی بنیادوں کا خاتمه ہے۔ عصر حاضر کی دنیا میں روحانیت  دھندلی هوتی جا رهی هے۔ شعر و  ادب ایک عظیم مفکرین کے روحانی تغیر اوران کے اندرونی اور بیرونی کشمکش کی حسیات کا نتیجہ هوتے ہیں۔ عظیم الشان لوگ جنہوں نے ماضی سے لے کر اب تک انسان  کے بنیادی مسائل کے بارے میں سوچا ہے اور اس کا اظہار نثر یا شاعری کی زبان میں کیا ہے۔ چنانچه فارسی ادب عصری انسانوں کے لیے ایک روحانی تحفہ ہے  جو ا پنے روحانی تخیلات اور تعلیمات کے سبب، اخلاقی اور انسانی اقدار کے تحفظ و فروغ کا ذریعه بن چکاہے۔ اس  کا راز فارسی ادب میں روشن خیالی، بدیہی تجربات، فطرت کی طرف توجہ اور  انسانی فطری تقاضوں اور حسیات کی عکاسی میں ڈھونڈنا چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں، فارسی ادب بشریات کا آئینہہ ہے۔ فارسی ادب کے شاہکار، خود شناسی، خود سازی اور  فطرت انسانی کے گہرے ادراک  کا نام هے ؛ یه تمام مادی، روحانی،  جسمانی، دنیاوی جہتوں  کے ساتھ ساتھ  انسانی  درد  اور اسکے  علاج   جیسے مسائل پر محیط هے۔ شاید یهی وجه هے که فارسی ادب کا پیغام اور حکمتیں کل اور آج کے دور کے لیے  برابر سے موثر درس ہیں۔ چونکہ انسانی فطرت  اس کے ابدی حق سے تعلق کا ذریعہ ہے جو کسی وقت، مقام، تاریخ وغیرہ سے مشروط نہیں ہوتی ہے۔ یہ  روز اول سےانسان کے ساتھ ہے۔ اخلاقی اقدار کو فروغ دینے   اور  غیر معمولی تعلیمی اور تربیتی مو فراهم کرنے تاهم  افکار کی نشوونماکرنے  میں فارسی ادب کا نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

• ہندوستانی معاشرے کی شعری و ادبی حس کے تحفظ و ارتقاء میں فارسی زبان  کی  تاثیرگزاریاں شاید اقوام عالم کم هی لوگ هوں جو ایران اور ہندوستان کی طرح شاعری اور شائستگی میں اتنی دلچسپی رکھتے ہوں اور اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے شاعری کی زبان کا استعمال کرتے ہوں۔ هندوستانی عوام کا شعر و ادب کے تئں اتنا لگائو هی شاید باعث بنا عظیم ایرانی شعرا ادبا او رصوفیا نے  ہجرت کرکے  اس سرزمین  کو  پنی غیر معمولی ادبی تخلیقات منتخب  کیا۔ صدیوں  تک ہندوستانی معاشرے نے فارسی زبان  و  ادب، خاص طور پر سعدی  شیرازی، مولانا رومی  اور خیام جیسے نامور شعراء کے شعری و ادبی   سرمایه سے براہ راست  استفاده کیا۔ بہت سے ہندوستانی شعراء، ادبا اور داشنوروں نے جن میں ہندو، مسلمان سبھی شامل هیں گلستان  و بوستان اور  دیگر مشہور ایرانی شعراء کو حفظ  اور محفوظ کیا  چنانچه  فارسی کو این قومی یا مذهبی  زبان نهیں بلکه  بنیادی طور پر ایک تهذیب و تمدن  کی شناخت کا ذریعه شمجھا جانا چاهئے۔ فارسی  خوبصورت، اظہا خیال  کے لیے  انتهائی  موزوں  زبان ہے،  جو ا پنے ساتھ انسانی معارف، بشری  حسیات  و  عقلانیت  کی عظیم میرات کی حامل ہے۔ شاید  دنیا  میں کم زبانیں هں جو فارسی کی طرح  اتنے وسیع پیمانے پر پوری دنیا کی توجہ ا پنی طرف مبذول کرانے  میں کامیاب رهی هوں۔ ایک  زمانے میں اسکاٹ فتگزرالڈ کے ذریعہ خیام کے رباعیوں  کا ترجمہ بائبل اور شیکسپیئر کے ڈراموں کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بن گئی تھی۔ یہ شعر محض سے بڑھ کر شعار بن گیا، اظهار نظر  کی علامت بن گیا، اور بیسویں صدی کے دوران انگلینڈ اور امریکہ میں کوئی مکان نہیں تھا اور ان دونوں ممالک میں طلباء کی کوئی ایسی بک  شیلف نہیں تھی جس میں خیام کے رباعیا ت کی ایک کاپی موجود نہیں تھی۔ فارسی شائقین کے کم و بیش یهی حالت آج شاهنامه کی هے. شاہنامہ بلاشبہ انسانی ذہانت کی سب سے پُ و دانته جوش  محصولات میں سے ایک ہے جو ہومر اور ڈانتے کے شاهکاروں  کے برابر ہے، اور تاثیرگزاری، خوبصورتی، پاکیزگی  ، نرمی، اسلوب اور زبان میں، یہ سب سے ممتاز یونانی ادبی شاهکاروں کے برابر ہے۔ مثالیں مستشرقین، خاص طور پر روسی مستشرقین، فردوسی کے شاہنامی کو عالمی ادب کا ایک غیر معمولی خزانہ سمجھتے ہیں۔ جیسے گلستان اور بوستان  سعدی نے دنیا کو متوجہ کیا ہے۔ اور مشرق  سے لیکرمغرب کے باشندوں کو  اپنی اخلاقی تعلیمات سے مسحور کیا ہے۔ انیسویں صدی کے ایک امریکی مصنف اور مفکر ایمرسن کے مطابق: سعدی دنیا کی تمام قوموں اور لوگوں کی زبان بولتےہیں، اور اس کے اقوال ہومو، شیکسپیئر، سروینٹس اور مونٹائگن کی طرح ہمیشہ نئے  اور تازگی بھرے ہیں۔ ایمرسن، گلستان کو دنیا کی انجیلوں اور مقدس کتابوں میں سے ایک مانتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس کے اخلاقی اصول عام اور بین الاقوامی قوانین  کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مولانا جلال الدین  رومی، ایک پرہیزگار ایسے صوفی  هیں عشق  جنکا مذهب ہے اور جن کے اقوال میں وحدت کی دعوت هے، وہ  عاشق ہیں  سوخته حاں  هیں لیکن الہی تعلیمات سے واقف جن کا وجود خدا کی محبت اور  حمد و ثناء  سے پر ہے۔ انکی مثنوی اور غزلیں، معشق و عرفان سے کے ساتھ ساتھ اسلامی اور ایرانی ثقافت اور تهذیب کا خلاصہ ہیں، اور ہمیشہ ہی دنیا کے لیے دلچسپی کا باعث رہی ہیں۔ ایرانی شاعروں میں، شاید سعدی کے علاوہ کوئی بھی شاعر ایران سے باہر تاثیر گزاری  و عالمی سطح پر پذیرائی  کے لحاظ سے رومی تک نہیں پہنچ سکتا، چنانچه فارسی، ہندوستانی، عربی، ترک ثقافت کے دائرے میں رومی کے کلام کی فکر اور روحانی تسلط کی گہرائی  کو محسوس کیا جا سکتاہے۔ رومی نے لوگوں اور مفکرین کے افکار و دلوں کو چھواہے ان کا اثر نہ صرف فلسفہ اور تصوف میں هے بلکہ ان سرزمینوں کے جمله  ادبیات ان سے متاثر نظر آتے  هیں۔ اسی طرح نظامی اور عطار جیسے عظیم شاعر بھی قابل ذکر هیں  جو قوموں کے ذہنوں اور دلوں کو راغب کرنے میں کامیاب رهے هیں اور ان کے کاموں کو، ہندوستان سمیت متعدد ملکوں کی مختلف زبانوں  میں  بارها ترجمہ اور شائع کیا گیا هے۔

آج بھی، ان عظیم انسانی ثقافتی اور ادبی  سرمایه سے استفاده  کے لیے فارسی زبان سے واقفیت درکار ہے۔ اس سے آشنائی ناگزیر هے  تاکه نئی نسل سعادتوں کی راہ اور زندگی کا صحیح راستہ  اپناسکے۔ اس سےمحرومی یقینی طور پر اس  ملک کے تهذیبی ڈھانچه کے حق میں نہیں ہوگا کیوں کہ ہندوستانی ثقافت؛ شاعری اور آداب کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور اس خصوصیت کا تحفظ اور نشوونما ہندوستانی معاشرے کے  ادبی ورثے سے استفادہ کیے بغیر ممکن نہیں ہوگا فارسی شعر و ادب؛ میانه روی، عدم تشدد، بقائے باہمی، مروت و رواداری، اخوت  وعقلانیت، گفتگو اور تعاممل، زندگی اور موت کی صحیح تصویر، ایمانداری اور راستبازی، انصاف اور مساوات کا پیغام دیتا هے۔، تشدد سے پاک دنیا کا قیام  اورتمام مذاہب کے پیغام کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے مولانا رومی، فردوسی، حافظ، سعدی، بیدل اور عامیرخسرو دہلوی اور دیگر فارسی شاعروں کو  پڑھنا لازمی هے۔

ایرانی زبان، ادب اور ثقافت سے محبت کرنے والوں کو فارسی شاعری اور عالمی یوم ادب  اور روز فارسی مبارک ہو۔ آج، اسلامی دنیا کی دوسری  اور تمدن و  ثقافت کی  پهلی زبان کی حیثیت سے، فارسی زبان اور ادب کا انمول ورثہ، ہمارے پاس مختلف ادبی، صوفیانہ، فلسفیانہ، نظریاتی، تاریخی، فنی اور مذہبی اثاثه کے طور پر موجود هےاور ماضی کی طرح آج بھی همارے بهت سے سماجی و اجتماعی درد کا مداوا  ثابت هو ہوسکتا ہے۔

خوش نصیبی سے، ہندوستانی حکومتیں  فارسی زبان پر ہمیشہ توجہ دیتی رهی هے۔ ہندوستان کی نئی  قومی تعلیمی پالیسی 2020، جس میں فارسی کو ہندوستان کی کلاسیکی زبان قرار دیا گیا ہے، ہندوستانی اسکولوں اور طلباء کے لیے فارسی زبان کی تعلیم میں توسیع کے لیے مناسب مواقع فراہم هوئے ہیں، یقینی طور پر، یہ دانشمندانہ انداز اور پالیسی ہندوستانی نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا  ثابت هوسکتی ہے که  فارسی زبان ک جو یهاں کی تاریخی اور ثقافتی  سرمایه  کا حصه هے وه اسکی حفاظت کرتے هوئےاسکی بشر دوستانه تعلیمات اور اقدار کو بروئے کار لا کر اپنی زندگی کو خوبصورت بنائیں اور اپئےعزیز ہندوستان کی ترقی میں تعمیری کردار ادا کرسکیں۔ چونکه اچھی فکر اور روحانیت کسی بھی معاشرے کی صحت اور خوشی کا بنیادی عنصر هوتی ہے۔

ایران کلچر هاوس دہلی میں ہمیشہ دو نوں ملکوں کے دوطرفہ ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے فارسی زبان کی تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ ان دنوں ہندوستانی اور ایرانی معاشرہ کورونا کی مشکل سے جوجھ رها ہے، لیکن چونکہ ان مشکل اور دشوار گزار دنوں میں ذہنی سکون حاصل کرنے کا ایک سب سے موزوں طریقہ شائستہ اشعار کا استعمال ہے، لہذا فارسی زبان کی تعلیم دینے کی سرگرمی بند نہیں ہوئی  هے بلکه جاری ہے۔ لہذا، تمام دلچسپی رکھنے والے افراد جو فارسی زبان سیکھنا چاہتے ہیں ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ان کورسز میں حصہ لیں اور اس سے استفادہ کرنے کے لیے فارسی زبان کی مہارت حاصل کریں۔

آخر میں، ان سبھی افراد کی خدمت میں تعزیت کرتے ہوئے جنہوں نے ان دنوں کورونہ کی وجہ سے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے، میں ہندوستان کے تمام لوگوں کی صحت کی امید کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ مشکل دن جلد از جلد ختم ہوجائیں گے اور ایک بار پھر خوشیوں کی دن  ہو ں اور ہم ساتھ بیٹھ کر عظیم ایرانی اور ہندوستانی شعر و ادب کا مطالعہ کریں ور اس سے لطف اندوز هوں۔

تبصرے بند ہیں۔