لڑکیوں کی تعلیم وقت کی اہم ضرورت

ریحانہ کوثرریشی

(منڈی، پونچھ)

یہ حقیقت ہے کہ تعلیم انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ جس طرح زندگی گزارنے کے لیے طلب معاش اور کسب معاش ضروری ہے اسی طرح ایک بہترین اور مذہب معاشرہ کی تشکیل کے لیے تعلیم ضروری ہے۔دراصل یہی انسان کو معرفت خداوندی اور اسرارِ عالم سے واقف کرواتی ہے۔لیکن تعلیم حاصل کرنا صرف مردوں کا ہی حق نہیں ہے۔ عورت انسانی معاشرہ کی وہ حصہ ہے جو انسانی نسل کی نشو نما اور تعلیم و تربیت میں اہم اور بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اتنی بڑی آبادی معاشرہ کے اہم جز کو ناخواندہ اور ان پڑھ نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ اسی لیے تعلیم نسواں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور دی بھی جا رہی ہے۔آزادی کے پہلے بھی لڑکیوں کی تعلیم جاری تھی اور آزادی کے بعد تو اس کو لازم قرار دے دیا گیا۔تعلیم ہر قوم کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ دنیا اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے تاہم اگر ہم نے تعلیمی نظام میں خاطر خواہ ترقی نہیں کی تو نہ صرف کہ ہم دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گئے، بلکہ شاید ہمارا وجود ہی قائم نہ رہے۔

لیکن افسوس کہ آزادی کے 75سال بعد بھی آج ہماری بہنیں تعلیم کے میدان میں پیچھے ہیں۔ حتی کہ والدین جو خود پڑھے لکھے نہیں وہ اپنی بیٹیوں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ان کا مستقبل اسکول جانے میں ہے جبکہ دوسری طرف حکومت بھی لڑکیوں کی تعلیم پر خاصی توجہ دے رہی ہے۔پھر بھی ناجانے کیوں لڑکیاں تعلیمی اعتبار سے مردوں کے مد مقابل کافی پیچھے ہیں، جبکہ اگر سال 2011میں ہوئی ملک کی مردم شماری میں شرح خواندگی کے گراف کو دیکھا جائے تو ملک میں کل خواندگی کی شرح 74.04فیصد  ہے۔جبکہ مردوں کی 82.14اور خواتین کی صرف65.16 فیصد ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ بیسوی صدی میں ہمارا ملک اور ہمارا سماج خواتین کو خواندہ بنانے میں ناکام ہے۔ جس کی ہزاروں وجوہات ہیں لیکن ان سب وجوہات میں سب سے بڑی وجہ ہندوستانی اسکولوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے کیلیے خاطر خواہ انتظامات نہیں کی گئی ہے۔ کئی علاقہ جات ایسے ہیں جہاں اسکول اتنے دور ہیں کہ والدین بچیوں کو اسکول بھیجنا گوارہ ہی نہیں کرتے اور کئی اسکولوں میں بیت الخلاء جیسی سہولت تک میسر نہیں جو لڑکیوں کی تعلیم میں ایک رکاوٹ ہے۔

 اسی سلسلہ میں، قارئین کو سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے گاؤں چکھڑی بن کی سیر کرواتی ہو ں۔ جہاں کے مقامی لوگوں سے جب بات چیت ہوئی تو انہوں نے اس حوالے سے بہت ساری مشکلات بتائی۔وہیں 32 سالہ شمیمہ اختر جو چار بچوں کی ماں ہے اْن سے جب بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں یہاں کسی کی طرح کی سہولت میسر نہیں ہے۔شمیمہ کہتی ہیں کہ میری لڑکیوں نے تعلیم اسکول نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ دی ہے۔ گھنٹوں سفر کر کے انکو اسکول جانا پڑتا ہے۔ نہ سڑک، نہ پانی اور نہ ہی کوئی ہائر سطح کا اسکول ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ گرمیوں کے موسم میں یہاں جنگلی جانوروں کے ڈر سے نہ بچے اسکول جاتے اور نہ ہی ٹیچر آ سکتے ہیں۔گھر تک پہنچنے میں لوگوں کو گھنٹوں کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔کوئی بیمار ہوتا ہے تو اسے کندھوں پراٹھا کر گھوڑے پر لایا جاتا ہے۔ شازیہ اور طیبہ، شمیمہ اختر کی دو بیٹیاں ہیں۔ شازیہ کی عمر 15 سال ہے طیبہ کی محض 11 سال ہے۔ لیکن اسکول قریب نہ ہونے کی وجہ سے دونوں نے پڑھنا لکھنا چھوڑ دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اسی گاؤں میں شازیہ اور طیبہ جیسی کئی اور لڑکیوں نے بھی نو عمری میں تعلیم کو خیر آباد کہہ کر اپنے خوابوں کو کنارے رکھ دیا ہے۔

وہیں اس حوالے سے مقامی نائب سرپنچ فاطمہ زھرا کہتی ہیں کہ گاؤں چکھڑی بن(درمیانہ بن) جو نا گا ناری کے ساتھ ہے یہاں کے حالات کچھ بھی بہتر نہیں ہیں۔ بجلی، پانی، سڑک، سیکنڈری سطح اسکول، شفا خانہ ان میں سے کوئی بھی سہولت یہاں پر دستیاب نہیں ہے۔وہیں رہائشی عائشہ کوثر جنکی عمر 21 سال ہے کالج کی طلبہ ہیں۔عائشہ سمسٹر اول میں پڑھتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہاں پر لڑکیاں صرف آٹھویں، ساتویں، پانچویں تک ہی پڑھی لکھی ہیں۔یہاں کی لڑکیاں نوی،دسویں کلاس میں جانے کی اْمید تو رکھتی ہیں لیکن سڑک اور اسکول نہ ہونے کی وجہ سے وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔وہ مزید کہتی ہیں کہ یہاں کا تعلیمی نظام اس وقت زمانے قدیم کی طرح چل رہا ہے۔ غربت کے ماری عوام دن رات محنت مزدوری کر کے دو وقت کی روٹی کھاتے ہیں۔افسوس کے اس ٹیکنالوجی کے دور میں بھی ہمارے لیے آج تک ایک سڑک نہیں بن پائی ہے۔ہر کوئی آتا ہے اورصرف کھوکھلے وعدے کر کے چلا جاتا ہے، یہاں کوئی بھی مدد کرنے کو تیار نہیں ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں خود کرائے پر رہ کر اپنی تعلیم حاصل کر رہی ہوں۔ مہینے کا دس ہزار خرچہ مجھے لگتا ہے باقی لوگوں کی طرح ہمیں کوئی بھی سہولت فراہم نہیں کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں اس گاؤں کے ایک اور باشندے قمر دین جن کی عمر 60  سال ہے جو کہ چکھڑی گاؤں درمیانہ بن وارڈ نمبر نو کے پنچ بھی ہیں، انکا کہنا ہے کہ بچوں کو چھ کلو میٹر لورن ہائرا سیکنڈری اسکول میں پیدل چل کر جانا پڑتا ہے جو بہت مشکل ہے۔ خاص کر کے بچیوں کو آنے جانے میں بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گرمیوں کے موسم میں جنگلی جانور آ کر ان پر حملے کرتے ہیں۔ کئی نوجوانوں کو ریچھ نے کاٹ کر کھا لیا اور کچھ کی موت موقع پر ہی ہو گئی ہے۔وہ مزید کہتے ہیں ہماری سرکار سے سڑک کی مانگ ہے لیکن ابھی تک کچھ بھی حل نہیں نکلا۔اسی سلسلہ میں ماسٹر محمد شبیر تا نترے جو لور بن مڈل اسکول کلساں میں اساتذہ کی حیثیت کام کر رہے ہیں، انکا کہنا ہے کہ یہاں پر خاص کر کے بچیوں کا تعلیمی نظام بہتر نہیں ہے کیوں کہ اسکول صرف آٹھویں تک ہیں۔اس کے بعد بچیاں پڑھائی چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں،کیوں کہ یہاں سے ٹھیک آٹھ کلو میٹر لویل بیلا گاؤں میں ہائی اسکول ہے جبکہ لورن میں ہائر اسیکنڈری ہے۔ وہاں تک پہنچنے میں انہیں بہت وقت لگا جاتا ہے۔

تا ہم اس سے صاف ظاہر کہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے یہ گاؤں تعلیمی لحاظ سے بے حد پسماندہ ہے جس کا سیدھا اثر یہاں کے بچوں کے مستقبل پر پڑ رہا ہے۔ بالخصوص یہاں کی بچیوں کے تعلیمی خواب چکنا چور ہو کر رہ گئے ہیں۔کویڈ۔19کے حالات بہتر ہونے کے بعد بچوں کے اسکول ایک بار پھر سے کھل گئے ہیں۔وہ اسکول جاکر تعلیم کی روشنی حاصل کرینگے لیکن گاؤں چکھڑی بن کی لڑکیاں آج بھی اس روشنی سے محروم ہیں جبکہ لڑکیوں کی تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس لیے مقامی انتظامیہ اور حکومت کو چائے کہ اس گاؤں کو سڑک سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ یہاں پر ہائی یا ہائی اسکینڈری اسکول کا قیام کیا جائے تاکہ چکھڑی بن کی لڑکیاں بھی پڑھ لکھ کر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا مکمل کردار نبھا سکیں۔ (چرخہ فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا