موسمی اساتذہ کہیں یا موسمی مزدور؟

 یار محمد تانترے

(منڈی، پونچھ)

ملک کی ترقی کے لیے ہر سال جہاں مرکزی حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کے لیے کروڑوں کا بجٹ رکھاجاتاہے۔ وہیں شعبہ تعلیم کے لیے بھی کروڑوں کا خرچ حکومت برداشت کرتی ہے۔ اس کے علاوہ تمام ریاستیں بھی اس شعبہ میں ا ضافی خرچ کرتی ہیں۔ یوٹی جموں و کشمیر میں بھی تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں اور یہ دعوے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ابھی بھی روبہ عروج کی طرف گامزن ہیں۔ لیکن زمینی حقیقت دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ تعلیمی نظام بجاے سدھرنے کے بگاڑ کی طرف ہی گامزن ہے۔ تعلیم کے نام کا صرف اور صرف ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔

تعلیم کو ہر دور میں ضروری سمجھا گیا ہے۔ لیکن تعلیم دینے والے استاتذہ کو وہ اہمیت، عزت، مقام اورحق نہیں دیا جاتا ہے جس کے یہ مستحق ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور کا ہر استاد اپنے آپ کو الگ تھلگ اور تنہا محسوس کر رہا ہے۔ کیونکہ اسے بہترین کارکردگی پر نہ ہی محکمہ کے اعلی افسران اور نہ ہی والدین کبھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ماضی کے مقابلے میں موجودہ محکمہ تعلیم کے اعلی افسران کے ساتھ ساتھ والدین کا نقطہ نظر بھی کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ گزشتہ دور کی طرح آج بھی اسا تذہ کو سمجھنا، ان کی اہمیت اور وہ مقام دینا ہمارے لیے بہت ضروری ہے تاکہ کوئی استاد خود کو اکیلا محسوس نہ کرے۔ دور حاضر میں استاد بننے والے ہر خواہش مند امیدوار کے لیے پہلے مشکل حالات پیدا کیے جاتے ہیں، پھر ان حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں اتار دیا جاتا ہے۔ جہاں رہبر تعلیم ٹیچرروں نے کم تنخواہوں پر روکھی سوکھی کھا کر گذارہ کر کے کڑی محنت و مشقت کے بعد چین کی سانس لی تھی۔ وہی اب موسمی اساتذہ کوایجوکیشن والنٹیر(ای وی) کے نام پر اس آگ کی بھٹی میں دھکیل دیا گیا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ چھ ماہ نوکری چھ ماہ مزدوری؟

غریب کنبہ جات سے تعلق رکھنے والے متعد موسمی اساتذہ پنجاب، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈکے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں میں جاکر مزدوری کرنے کے بعد وقت مقررہ پر اپنے اپنے سیزنل سینٹروں میں پہنچ کر بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔ محکمہ ایجوکیشن کی جانب سے بطور تنخواہ جو ہرماہ دیے جاتے ہیں۔ اس سے اس مہنگائی کے دور میں کسی کا بھی گھر چلنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ موسمی اساتذہ فاقہ کشی کے باوجود بھی وقت اور حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ حکومت نے ان موسمی اساتذہ کو استعمال کرو اور پھینک دو، کی پالیسی کے تحت تعینات کیا ہے؟آخر کیوں ان موسمی اساتذہ کو جموں کشمیر کے دیگر ملازمین کی طرح پوری عزت،پکّی نوکری اور پوری تنخواہ نہیں دی جا سکتی ہے؟

اس حوالے سے ہماری بات جب سجاد احمد تانترے جن کی عمر 26 سال ہے،سے بات ہوئی، جو تحصیل منڈی کے بالائی علاقہ سا و جیاں سے6کلو میٹر کی دوری پر واقع ڈھوک دھولا والی میں بطور موسمی استاد تعینات ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمی استاتذہ کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ محکمہ ایجوکیشن ان موسمی سنٹروں کے لیے کوئی بھی ضروری سامان فراہم نہیں کر رہا ہے۔ شروع شروع میں جب یہ موسم تعلیمی سینٹر شروع ہوئے تھے۔ اس وقت ہم اور زیر تعلیم بچے بے یارومددگار تھے۔ بچوں کو کہاں بٹھایا جائے یہ ہمارے سامنے ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ لیکن وہاں موجود والدین اور دیگر موسمی رہائش رکھنے والوں سے ہماری یہ حالت دیکھی نہ گئی۔ تو انہوں نے اپنے اپنے گھروں سے پھٹی پرانی بوریا وغیرہ دیں۔ جن پر ہم بچوں کو بٹھاتے تھے۔ لیکن اب ہم بازار سے پلاسٹک کی شیٹ خرید کر لے جاتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے کئی بار موسمی سیزنل سینٹروں کی چیکنگ کے لیے ملازمین بھی آتے ہیں۔ بار ہافریاد کی کہ بچوں کے بیٹھنے کے لیے ٹاٹ کی ضرورت ہے۔ محکمہ افسران سے کہہ کر ہمیں بچوں کے بیٹھنے کے لیے ٹاٹ فراہم کی جائے۔ لیکن آج تک آ فسر صاحبان نے کوئی توجہ نہ دی۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ کہاکہ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ موسمی تعلیمی سنٹر محکمہ ایجوکیشن کی جانب سے عدم توجہی کا شکار ہے؟

ہم نے موسمی تعلیمی سینٹروں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین سے بات کرنے کی کوشش کی۔ سرحدی علاقہ ساوجیاستر بن ڈھوک میں موسمی رہائش رکھنے والے غلام احمد شیخ جن کی عمر 45سال،نے بتایا کے سیزنل  سینٹر میں زیر تعلیم بچوں کے بیٹھنے کے لیے ٹاٹ، استاد کے بیٹھنے کے لیے کرسی یا چھت جیسی بنیادی سہولیات پر بھی محکمہ ایجوکیشن کے اعلیٰ افسران نے کبھی غورنہیں کیاہے،جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ جہاں کروڑوں کی رقم دوسرے شعبوں میں صرف کی جاتی ہے وہی اس شعبہ میں بھی تو ان غریبوں کے بچوں کے بیٹھنے کے لیے ٹاٹ، چھت اور استاد کے لیے کرسی، بلیک بورڈ کا بندوبست کیاجاسکتا ہے۔

یہ سوال جب ہم نے سیزنل ٹیچرز ایسوسیشن کے ریاستی صدر جاوید اقبال گیگی سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں موسمی تعلیمی سینٹروں کی تعداد 1521 ہے۔ ان موسمی تعلیمی سینٹروں کو 2005 سے چلایا جا رہا ہے اور ان تعلیمی سنٹروں میں اساتذہ کی کل تعداد 1748 ہے.جو بڑی محنت اور لگن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی بہترین خدمات کے لیے جموں کشمیرانتظامیہ نے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا جبکہ مرکزی سرکار اس دور میں اساتذہ کا پورا ساتھ دے رہی ہے۔ مرکزی سرکار نے بجٹ کے دوران ان موسمی اساتذہ کی خدمات کو سراہا تھا۔ اور ان کے مسائل کو حل کرنے کا حکومت جموں و کشمیر کو کہا تھا۔

جناب جاوید اقبال نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار کی بات پر جموں و کشمیرانتظامیہ نے کوئی عمل نہیں کیا۔ نہ تو موسمی اساتذہ کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی کوئی بنیادی سہولت فراہم کی۔ جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر نے موسمی اساتذہ کے ماہانہ تنخواہ کوچھ ہزار سے بڑھا کر دس ہزار کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ لیکن اسے بھی لاگو نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایل جی نے جموں کشمیر میں الگ الگ اعلانات کیے تھے۔ جن سے موسمی اساتذہ کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ انہوں اپیل کی کہ موسمی اساتذہ کے ساتھ یوز اینڈ تھرو پالیسی اختیار نہ کی جائے،بلکہ ان کے مستقبل کا بہترین فیصلہ عمل میں لایا جائے۔ جناب جاوید اقبال نے کہا کے محکمہ ایجوکیشن ان تعلیمی سنٹروں کے لیے جلد از جلد بنیادی سہولت فراہم کرے۔ اگرچہ موسمی تعلیمی سینٹر کے لیے کوئی عمارت تعمیر کرنا ممکن نہیں۔ لیکن محکمہ ٹینٹ وغیرہ فراہم کرے تاکہ زیر تعلیم بچوں کو سہولیت مل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان موسمی تعلیمی سینٹروں میں تعلیم اچھی طرح چل رہی ہے اور اساتذہ بھی محنت و لگن سے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ اور ہم ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اس حوالے سے ہم نے زونل ایجوکیشن پلاننگ آفیسر منڈی محمد اسلم کوہلی سے بات کی گئی تو انہوں نے موسمی اساتذہ کی تنخواہ کے بارے میں بتایا کہ ان کی تنخواہ چار ہزار روپے تھی۔ جسے بڑھا کر دس ہزار روپے دینے کا جو اعلان ہوا تھا اس کے بارے میں ابھی تک کوئی بھی تحریری نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوئی ہے۔ جبکہ ہم نے گزشتہ کئی برسوں سے کام کر رہے تجربہ کار موسمی اساتذہ کو ہی تعینات کیا ہے۔ نئے فارم بھی آئے ہیں۔ لیکن ان نئے امیدواروں کو تعینات کرنے کے لیے نئے سینٹر کھولنے کا کوئی آرڈر جاری نہیں ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کو تعینات نہیں کیا جا سکا۔ حلانکہ انہوں نے ان موسمی تعلیمی سنٹروں میں ٹاٹ یا کرسی جیسی بنیادی سہولیات سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ان سیزنل سنٹروں میں بچوں کے لیے کاپی پینسل اور بلیک بورڈ آچکے ہیں۔ جسے جلدی ہی موسمی تعلیمی سنٹروں میں تقسیم کردیا جائیگا۔

بہرحال جہاں بچوں کے بیٹھنے کے لیے ٹاٹ نہ ہو، استاد کے لیے ایک کرسی نہ ہو، بچوں کو دھوپ اور بارش میں سر چھپانے کے لیے چھت مّیسر نہ ہو،جہاں تعلیم دینے والااستاد گھر چلانے کے لیے چھ ماہ مزدوری کرنے پر مجبور ہوتو وہاں نتیجہ کیاہوگا۔ اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہی ایک ستم ہے کہ تعلیمی سفر تاریکیوں میں ڈوبتاجا رہا ہے۔ (چرخہ فیچرس)

تبصرے بند ہیں۔