کتاب گھر

ایس ایم حسینی

سُرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر

کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

      کتابیں! کتابیں ہی ہر قوم اور نسل کی ترقی کا راز ہیں، یہ ہمیں ایک بہتر زندگی جینے کا سلیقہ اور یاد کی جانے والی تہذیب عطا کرتی ہیں، جس قوم کے پاس اچھی تعلیم اور عمدہ کتابیں ہوں اور ایسے تخلیق کار و فنکار جو اپنی صلاحیتوں میں یکتا ہوں، ان کو پھر کسی چیز کی ضرورت نہیں، کتابیں دراصل دنیا کے شور سے اکتا جانے والوں کے لیے سکون کا جزیرہ ہیں، اور زمانہ کے سینہ میں دھڑکتا ہوا دل، کتاب ایک اچھا ساتھی بھی ہے اور ایک بے مثال ہمسفر بھی، جس کے ساتھ ہم اپنی ساری زندگی بغیر کسی بوریت کے گزار سکتے ہیں، کتابوں کی تاریخ صدیوں پر منحصر ہے، اچھی کتابوں کا سرمایہ ہمیں روشن مستقبل کی راہ دکھاتا ہے، دنیا سینکڑوں لائبریری اور کتب خانوں سے آباد ہے، یہ چھوٹی سی نظر آنے والی دنیا حقیقی معنوں میں اتنی وسیع اور عظیم تر ہے کہ اس میں پوری دنیا سما جائے، جس کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کتاب میں لکھی گئی ایک سطر یا آدھا جملہ چودہ سو سالہ تاریخ کی عکاسی اور ترجمانی کرسکتا ہے، کسی نے کہا ہے: "دنیا میں جتنی بھی کتابیں ہیں سب کی سب آسمانی ہیں، اور آپ کتابوں کو نہیں چُنتے، بلکہ کتابیں آپ کو چُنتی ہیں”

ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ 

اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

      دیر رات عابد بھائی کا میسج آیا کہ شاہد بھائی کو کچھ کتابوں کی ضروت ہے، لسٹ ہم تم کو واٹسپ کئے دے رہے ہیں، کل وقت نکال کر اتر پردیش "اردو اکیڈمی” گومتی نگر چلے جانا، کیونکہ کل شام ہی ان کی ٹرین بھی ہے، اگلے دن ناشتہ کے بعد کلاسیز اٹینڈ کرنے کے بجائے سالم برجیس کو فون کیا اور بڑے بھائی طہ حسینی سے اردو اکیڈمی کا ایڈریس معلوم کرکے بائک اٹھائی اور چل دئیے، اردو اکیڈمی کا نام تو خوب سن رکھا تھا لیکن کبھی جانے کا اتفاق ہی نہیں ہوا، پالیٹیکنک پہنچ کر میپ پہ سرچ کیا اور اس کی رہنمائی میں چلتے ہوئے اترپردیش اردو اکیڈمی پہنچے، اکیڈمی کی عمارت مین روڈ سے بائیں جانب "بینک آف انڈیا” کے عقب میں واقع ہے، اندر داخل ہونے کے لیے لال پتھر کا نوتعمیر شدہ ایک دروازہ ہے، جس میں سرخ رنگ کے لوہے کے دو پَلّے جڑے ہوئے ہیں، اور دروازہ کے بائیں جانب اردو اکیڈمی کا بورڈ لگا ہوا ہے، اندر داخل ہوتے ہی راستہ کے دونوں طرف خوبصورت ہرے بھرے پیڑ پودے سلیقے سے لگائے گئے ہیں، اور سامنے پچیس قدم پر اردو اکیڈمی کی تین منزلہ مرکزی عمارت ہے، اور دائیں جانب ایک منزلہ "اردو آڈیٹورئیم” ہے، دونوں عمارتوں پر سفید رنگ چڑھا ہوا ہے اور جگہ جگہ پر لگا گیروا رنگ دلکشی میں اضافہ کرتا ہے، عمارت کی اوپری سطح پر چھوٹے چھوٹے گنبد بنے ہوئے ہیں جن پر گرہوا رنگ چڑھا ہے، آڈیٹوریم کے سامنے گاڑی لگائی اور ایک دو تصویریں اتار کر اصل عمارت کی جانب بڑھے، اردو اکیڈمی کی مرکزی عمارت کے سامنے گیٹ سے ذرا ہٹ کر بنے کاؤنٹر پر انٹری کی اور اندر پہنچے، دروازے کے اوپر جلی حروف میں خوش آمدید لکھا ہوا ہے، داخل ہوتے ہی ایک چھوٹا سا ہال ہے جس میں سامنے کی طرف واش روم اور اوپری منزل پر جانے کے لیے زینہ ہے، زینہ سے متصل بائیں جانب کتاب گھر ہے، اور مین دروازے سے داخل ہوتے ہی اوپری حصہ میں اندر کی جانب مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک بڑی سی تصویر لگی ہوئی ہے، اور دونوں طرف اردو کے ادباء وشعراء کی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر تاریخ پیدائش و وفات کے ساتھ آویزاں ہیں، دائیں جانب ثاقب لکھنوی، شیخ غلام ہمدانی مصحفی، خواجہ الطاف حسین حالی، مرزا سلامت علی دبیر، خواجہ حیدر علی آتش، منشی امیر احمد امیر مینائی، نظیر اکبر آبادی، ڈپٹی نظیر احمد اور مولانا عبدالحلیم شرر ہیں تو بائیں طرف مرزا اسد اللہ خان غالب، اکبر حسین الہ آبادی، مولانا محمد حسین آزاد، میر ببر علی انیس، پنڈت رتن ناتھ سرشار، علامہ شبلی نعمانی، شیخ محمد ابراہیم ذوق، سرسید احمد خان، جان نثار اختر اور سید احتشام حسین، تصویریں پر ایک گہری نظر ڈالنے کے بعد جب کتاب گھر کی طرف بڑھے تو دروازے پر کنڈی چڑھی دیکھ کر قدم ٹھٹھک گئے، کچھ دیر تو انتظار کیا لیکن جب کوئی نظر نہیں آیا تو باہر نکلے اور انٹری کاؤنٹر پہ بیٹھے شخص سے آکر کہا کہ کتاب گھر تو بند ہے، فورا ہی اس نے کسی کو فون کیا اور لمحہ بھر میں کتاب گھر کے انچارج موجود تھے، موبائل نکال کر کتابوں کے نام انہیں بتائے اور ذرا سی دیر میں ساری کتابیں ہمارے ہاتھوں میں تھی، البتہ دو کتابیں نہیں مل سکیں، جس کی فون پر شاہد بھائی اطلاع دی، اس کے بعد ایک نظر پورے مکتبہ پر ڈال کر خانوں میں لگی کتابوں کو نہارتے رہے، قدرت نے کتابوں کے لیے طبیعت کو حریص بنایا ہے، کتابیں دیکھتے ہی دل کسی بچہ کی طرح مچل اٹھتا ہے، لکھنؤ میں رہنے کے باجود آج پہلی مرتبہ "اردو اکیڈمی” جانا ہوا، اب آئے تھے تو یوں خالی ہاتھ لوٹنا ناانصافی کی بات ہوتی، اور بہت دنوں سے کتابیں خریدنے کا موقع بھی نہیں مل سکا تھا، سو اپنی لائبریری میں نئی کتابوں کا اضافہ تو بنتا تھا، ساتھ ہی ہر کتاب پر چالیس پرسنٹ چھوٹ بھی تھی، وہ الگ بات ہے یہاں کتابیں زیادہ نہ تھیں لیکن جو بھی تھیں مزے کی تھیں، لہذا جیب کا خیال کئے بغیر ڈپٹی نذیر احمد کی مراۃ العروس، ابن الوقت، توبۃ النصوح، اور "بنات النعش” لینا ضروری سمجھا، اس کے بعد ‘مقدمہ شعر وشاعری”، "مثنوی سحر البیان”، "بہت دیر کردی”، "بات احساس کی ہے”، "لکھنؤ کا دسترخوان” اور جتنے بھی انتخاب وہاں موجود تھے سب کا ایک ایک نسخہ، مثلا انتخاب فسانہ عجائب، خطوط غالب، مضامین سر سید، رشید احمد صدیقی، انتخاب سب رس اور کربل کتھا وغیرہ، سالم نے بھی ذوق کے مطابق دو چار کتابیں لیں، جب لینے والی کوئی اور کتاب نظر نہ آئی تو کاؤنٹر پہ پہنچے اور بل مانگا، شاہد بھائی کے بہانے ان کی منگائی ہوئی کتابوں سے تین گنا کتابیں ہم لے بیٹھے تھے، لیکن اب سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا کریں، سوچا چار چھ کتابیں واپس کردیں بعد میں آکر لے جائیں گے لیکن پھر نہ جانے کب موقع نصیب ہو یہ سوچ کر دھڑکتے دل سے کہا بل بنائیے، البتہ گھر سے نکلتے ہوئے عابد بھائی نے اپنا اے ٹی ایم کارڈ دیدیا تھا کہ اگر پیسوں کی ضرورت پڑے تو نکال لینا، اس لیے پیسوں کی تو کوئی ٹینشن نہیں تھی لیکن امی کا خوف جان لیے لے رہا تھا، خیر سے بِل ہوا جو کچھ زیادہ نہ تھا، اس لیے سانسیں بحال کیں اور پیمنٹ ہوجانے کے بعد انچارج کتاب گھر غفران بھائی نے اپنا نمبر دیا اور اکیڈمی کی جانب سے شائع ہونے والا ماہانہ رسالہ "خبرنامہ” "باغیچہ” اور سہ ماہی "اکادمی” اپنی طرف سے پیش کیا، گھڑی دیکھی تو ڈیڑھ بج رہے تھے، کتابوں کے درمیان ایک سوا گھنٹہ ایسے گزر گیا تھا جیسے بیچ سڑک پر تیز رفتار گاڑی گزر جائے، کتاب سے بھرے چاروں تھیلے اٹھائے اور مسکراتے ہوئے گاڑی تک پہنچے، اب مسئلہ تھا کہ سالم بھائی اتنا سب اکیلے کیسے سنبھالینگے، خیر یہ ہوئی کہ گاڑی میں ڈِگّی لگی ہوئی تھی سو ایک تھیلا اس میں کسی طرح فٹ کردیا، اور باقی جناب کے اوپر لاد دئیے، گاڑی اسٹارٹ کی اور پندرہ سے بیس منٹ میں لیکھراج مارکیٹ، بادشاہ نگر، نشاط گنج، اور ڈالی گنج ہوتے ہوئے ندوہ پہنچ گئے۔

قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو 

ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں

تبصرے بند ہیں۔