کرونا وبا اور طلباء کی تعلیم کا نقصان

 منتظر ممتاز سیخ

(طالب علم بزم اردو ادب پالگھر ،ضلع پریشد اردو اسکول وسئ مہاراشٹر)

           آج کے اس تیز ترین زمانے میں تعلیم کی ضرورت و اہمیت سے کسے انکار ہو سکتا ہے۔ آج دنیا کی تمام ترقیاں تعلیم کی وجہ سے ہے۔ آج کمپیوٹر کا دور ہے۔ اسکولوں میں بنیادی تعلیم، ٹیکنیکل تعلیم، سائنسی تعلیم، معاشی تعلیم، وکالت وغیرہ جیسی تعلیم حاصل کرنے والے ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ جدید علوم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی اس میں شامل ہے۔

           تعلیم کی وجہ سے آج لوگوں کی پہچان ہے۔ اسی تعلیم کی وجہ سے بڑے سے بڑے مشکلوں پر قابو پایا جاتا ہے اور ہم بڑی آفتوں کا سامنا کر پاتے ہیں۔ ماضی میں مولانا آزاد، سر سید احمد خان، مہاتما گاندھی جسے رہنماؤں نے دوسروں کو تعلیم کی طرف رجوع کیا۔  ساوتری بائی پھلے اور فاطمہ شیخ جیسی مہان خواتین نے کتنی مشکلوں کا سامنا کر کے لڑکیوں کو پڑھایا۔ اور آج ان سب کی کوششوں کی وجہ سے ہم سب تعلیم حاصل رہے ہیں۔

          اسکول میں تعلیم جاری تھی کہ کووڈ ١٩ نامی وبا نے پوری دنیا میں ہل چل مچا دی۔ اس پھیلنے والی بیماری کی وجہ سے لاک ڈاؤن لگا دیا گیا اور اسکول کالج وغیرہ بند ہو گئے۔ طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی پریشان تھے۔ سوچا کچھ دنوں میں کووڈ ١٩ دور ہو جاۓ گا اور پھر سے اسکول کھل جائے گی مگر اس کووڈ ١٩ نے ۲۰۲۰ کا پورا سال لے لیا اور ۲۰۲۱ بھی اس کی لپیٹ میں ہے۔ جس کی وجہ سے طلباء کا بہت بھاری تعلیمی نقصان ہورہا ہے۔ بچے اسکول بند ہونے کی وجہ سے غلط روی کا شکار ہوئے۔ کچھ بچے گھر کی خراب حالت کے سبب کام پر لگ گۓ، کچھ بچے گاؤں چلے گئے۔ کچھ بچے گھر ہی میں پڑھنے لگے مگر اسکول جیسی تعلیم کہاں مل سکتی ہے؟

اس لاک ڈاؤن نے غریب اور مزدور طبقے کی کمر توڑ دی۔ گھروں کے حالات اتنے خراب ہیں کہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم پر دھیان نہیں دے پا رہے ہیں۔ بہت سے بچوں نے اپنی تعلیم چھوڑ دی اور مزدوری کرنے لگے۔ بچہ مزدوری بڑھ رہی ہے۔

         اساتذہ کے بغیر تعلیم کے حصول کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا بے۔ وہی طلباء کو تعلیم کی راہ میں مدد فراہم کرتے ہیں ان کی تربیت کرتے ہیں۔ استاد وہ نہیں جو صرف چار کتابیں پڑھا کر ٹیوشن وغیرہ لے کر اپنا کام ختم سمجھے بلکہ استاد وہ ہے جو طلباء وطالبات کی ترقی کے لیے ان کی خفیہ صلاحیتوں کو اجاگر کرے اور انہیں سیدھی راہ دکھائے۔ خوشی اس بات کی ہے کہ ہمارے زیادہ تر اساتذہ ایسے ہی اپنی ذمہ داری کو سمجھنے والے ہیں۔ کرونا وبا کےایسے حالات میں ہمارے ان اساتذہ نے ہمت نہیں ہاری ۲۰۲۰ سے اب تک وہ بچوں کے تعلیم کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ جسے ہی خبریں تازہ ہوئ کہ لاک ڈاؤن لگایا جا رہا ہے تو اساتذہ نے آن لائن کلاس لینی شروع کر دی۔ واٹسپ وغیرہ پر گروپس وغیرہ بنا کر پڑھانے لگے۔ لوگوں کے گھروں میں جاکر ان کے والدین کو کہا کے انہیں پڑھائ کراؤں روز ایک وقت دے دیا گیا کہ اس وقت میں پڑھائی کرنی ہوگی۔ آن لائن مقابلے منعقد کروائے۔درسی کتاب سے ہر روز ایک سبق پڑھایا گیا۔ zoom کلاسس کی مدد سے سمجھایا۔ آن لائن امتحان لیا۔ اس طرح اساتذہ نے بہت سی پریشانیاں سہی صرف طلبہ کے تعلیم کے لیے۔

             آن لائن تعلیم تو شروع ہوئی مگر اکثر طلبہ موبائل سے محروم رہے۔ اکثر زوم کلاس کے وقت موبائل والد کے پاس ہوتا ہےجو اپنے کام دھندے پر ہوتے ہیں۔ اگر کسی طالب علم کے پاس موبائل ہوتا بھی ہے تو نیٹ ورک کا مسئلہ آن لائن پڑھائی میں کافی ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی وجہ سے استاد کا پڑھایا سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ کافی پریشانی ہوتی ہے۔حالانکہ جب ایسی پریشانیاں پیش آئ تو اساتذہ نے جن کے پاس موبائل فون نہیں تھا انہیں پڑھائی کے لیے موبائل دیا اور اگر کسی کے گھر نیٹ ورک وغیرہ نہیں رہتا تو انہیں پاس کے طلباء کے گھر جانے کی اطلاع دی۔ ورک شیٹ بھی تقسیم کی گئ۔ مگر ان سب کے باوجود ویسی پڑھائی نہیں ہو سکی جس طرح اسکول میں ہوا کرتی تھی۔ اس لیے اچھی پڑھائی کے لیے اسکول کھولنا ضروری ہے۔ کیونکہ۔۔۔۔

       طلبہ گھر پر تعلیم میں توجہ نہیں دے پاتے۔ اسکول کا ایک الگ ہی سکون ہے۔ گھر پر کچھ بچے فون پر اساتذہ کی بات نہیں مانتے مگر اسکول میں ان کو بات ماننی ہی پڑتی ہے۔ اسکول میں اساتذہ خود سامنے ہوتے ہیں۔ اور طلباء کو آمنے سامنے  پڑھاتے ہیں اور بورڈ وغیرہ پر لکھ کر سمجھاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ جلدی سمجھ جاتے ہیں۔ اور پھر کھیل وغیرہ بھی کھیلا جاتا ہے جس سے ذہن کو آرام ملتا ہے۔  اسکول میں کھلے دروازے کھڑکیوں کے بیچ طلباء تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اور اسکول میں کچھ دوست وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔ جو ایک دوسرے سے پڑھائی میں مقابلہ بھی کرتے ہیں جس سے بڑا مزا آتا ہے۔اور اس ماحول میں اساتذہ کو بھی انہیں تعلیم دینے میں آسانی ہوتی ہے۔ جتنا طلباء کو گھر میں تعلیم حاصل کرنے کا سکون نہیں ملتا اتنا اسکول میں ملتا ہے۔

ابھی کچھ دنوں سے بزم اردو ادب پالگھر واٹسپ پر ایک پوسٹ  نظر سے گزر رہی ہے۔ جس سے پتا چل رہا ہے کہ اساتذہ کی تنظیم *آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس ایسوسی ایشن* ایک تعلیمی بیداری مہم تعلیم ہماری ہر حال میں جاری منا رہی ہے۔ آج اس بات کی بے حد ضرورت ہے کہ اس طرح کی مہم  چلائی جائے اور لوگوں میں تعلیمی بیداری پیدا کی جائے کیونکہ آج اس وبا کے ذریعے جتنا نقصان کسی کا نہیں ہوا ہے اس سے کہیں زیادہ ہم طلباء کا ہوا ہے۔

تعلیمی بیداری کی اس مہم کے تعلق سے میں نے بھی سوچا ہے کہ اپنے آس پاس کے چھوٹے بچوں کو اپنے گھر بلا کر پڑھاؤں گا۔  اگر ہم سب مل کر ان حالات کا مقابلہ کریں گے تو کچھ حل ضرور نکلے گا۔  اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ کووڈ ١٩ جلد سے دور ہو اور اسکولیں کھلے اور  پھر سے طلباء کو اچھی تعلیم ملے اور ان ڈیڑھ سالوں میں تعلیم کے ہونے والے نقصان کی بھر پائ ہو۔۔۔۔۔۔ آمین

تبصرے بند ہیں۔