کووڈ 19 کے بعد لڑکیوں کی تعلیم

سلمی راضی

( منڈی پونچھ)

تعلیمی میدان میں جس قدر پچھلے تین چار سالوں میں بچیوں کی تعلیم کا نقصان ہواہے۔ شائید ہی اس سے قبل کسی زمانے میں ان کی تعلیم کا اتنانقصان ہواہوگا۔ جموں وکشمیر کے دیہی علاقوں میں صدیوں سے بچیوں کی دنیاوی تعلیم صفر کے برابر تھی۔ آخر کار تعلیمی میدان میں ترقی آنا شروع ہوئی اور بچیاں بھی تعلیمی میدان میں اپنا لوہا منوانے لگیں۔جوں ہی ان کی تعلیم کا سکہ چلنے لگاتھاکہ اچانک 2018 میں ایمرجنسی جیسی حالت نے ان کی تعلیم پر اثرات چھوڑنے شرو ع کئے۔کچھ حالات سدھرنے والے ہی تھے کہ 2020 میں جموں وکشمیر میں کویڈ 19کا بحران آگیا۔ اور تمام تعلیمی اداروں کو آہستہ آہستہ بند کردیا گیا جو سلسلہ 26فروری 2022تک چلا۔اس سنگین قیدوبند کے دور نے بچیوں کی تعلیم کو دفن کردیا۔ اب اگر زمینی حقائق کی تحقیق کی جاے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان تین سالوں میں بچیوں کی تعلیم کاتمام نظام دھرم بھرم ہوچکا ہے۔

 جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کے دیہی علاقوں میں کووڈ 19کی وجہ سے جس قدر بچیوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ضلع ہیڈ کواٹر سے 30کلو میٹر دور واقع پسماندہ اور پچھڑا ہوا علاقہ چکھڑی بن پنچائیت کا وہ گاؤں جہاں آج تک سڑک تو درکنار، جدید ٹیکنالوجی کے دور میں نیٹ ورک  تک کی سہولیات میسر نہیں ہے۔ یہاں بچیاں بڑی امیدوں کے ساتھ 2019میں پانچویں جماعت میں تھی۔ وہ آج برائے نام آٹھویں یا نویں جماعت میں ہیں۔ریکارڈ میں تو سب کچھ ہورہاہے۔ بچے ایک جماعت سے دوسری جماعت میں بھی جارہے ہیں۔ عمر بھی بڑھ رہی ہے۔لیکن زمینی حالت کو قریب سے دیکھیں تو زمانہ قدیم کی یادیں تازہ ہوتی ہیں۔ ممبر پنچائیت حافظ محمد بشیر پہوملا جن کی عمر 38سال ہے، ان کا کہنا تھاکہ ناگاناڑی جہاں پرائیمری اسکول ہے اور پہلی بار اس دوردارز علاقہ کی بچیوں نے تعلیم کی طرف اپنا رجحان بنایا تھا۔ یہاں تک کہ کچھ بچیاں پانچویں جماعت تک پہونچ چکی تھیں کہ اچانک لاک ڈاؤن کے بعد پھر سے ان کا تعلیمی نظام چوپٹ ہوگیا۔

ناگاناڑی جو ایک پنچائیت وارڈ پر مشتمل ہے۔جس کی آبادی قریب ساڑے چارسو نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں بیس سے تیس بچیاں ایسی ہیں جو اپنی تعلیم کو خیر آباد کہہ چکی ہیں۔ان میں پانچویں جماعت سے دس سے پندرہ بچیاں ہیں جو اب بجائے تعلیم حاصل کرنے کہ زمانہ قدیم کی طرح بھیڑ بکریوں مال مویشی کو چرانے پر معمور ہوچکی ہیں۔ اب جبکہ اسکول کھلا بھی ہے تو اب یہ بچیاں پندرہ، سولہ، سترہ اور اٹھارہ سال سے عمر تجاوز کرچکی ہیں۔ انہوں نے یا ان کے والدین نے قریب اسکول نہ ہونے اور جانکاری کی عدم دستیابی کی وجہ سے اگے کہیں داخلہ نہیں کرواسکی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اب زندگی بھر یہ بچیاں تعلیم کے بغیر ظلمتوں بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہونگی۔یہی پر بس نہیں دیگرعلاقع بن بالا، بن درمیانہ اور بن اول میں بھی یہی حالت ہے۔ اس بدنصیب دوردراز پسماندہ علاقہ کی سینکڑوں بچیاں تعلیم سے اس قدر دور ہوچکی ہیں کہ ان کا دوبارہ تعلیمی میدان میں لانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوچکایے۔

 اس بارے جب خدیجہ کوثر دختر جلال دین اور مریم کوثر دختر منیر حسین سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا کہناتھاکہ ہماری ناگاناڑی میں نہ سڑک، نہ نیٹ ورک، نہ مڈل اسکول اور نہ ہمارے اس بن علاقہ میں کوئی ہائی اسکول ہے کہ کم سے کم ہم دسویں جماعت تک اپنی تعلیم جاری رکھ سکتیں۔ہم ناگاناڑی کے پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کررہی تھیں کہ اچانک اسکول بند ہوگئے اور یہاں سے مڈل اسکول تین کلومیٹر درمیانہ بن میں ہے۔ جہاں ان دشوار گزار راستوں سے جانا نہائیت ہی دشوار تھا۔ جس کی وجہ سے برائے نام داخلہ بھی نہیں ہوسکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں کی ہم تمام کی تعلیم کا سفر ختم ہوگیااور آج ہم گھریلو کام کاج میں ہی دن رات مشغول رہتی ہیں۔ سخی محمد جن کی عمر ستر سال ہے،ان سے بچیوں کی تعلیم کی حقیقت جاننا چاہی تو ان کا کہناتھاکہ ایک امید تھی کہ جب مفتی سعید کی حکومت جموں وکشمیر میں آئی تھی۔ جگہ جگہ اسکول کھلے تھے اور بچوں کے ساتھ ساتھ بچیوں نے بھی اسکول جانا شروع کیاتھا۔اور ہمارے اول بن،درمیانہ بن اور ناگاناڑی میں بچیوں کی اکثریت نے پانچویں چھٹی ساتویں اور آٹھویں تک پڑھائی کی۔انہوں نے کہا کہ پہلے تو لوگ اپنی بچیوں کواسکول میں بھیجتے ہی نہیں تھے۔ پھر رفتہ رفتہ تعلیمی ماحول بنا اور بچیاں بھی اسکول جانے لگیں۔ سلسلہ جاری ہی تھاکہ دفعہ 370کی کی منسوخی کی امرجنسی،پھر ساتھ میں ہی کویڈ 19نے ہماری بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ منقطہ کردیا۔ اب یہ بچیاں گھروں کی چاردیواری میں یاپھر مال مویشی کے ساتھ جنگلوں میں ہی اداس اپنی زندگیا ں گزارنے پر مجبور ہیں۔

 قائیم مقام سرپنچ اور سماجی کارکن یاسین شاہ جن کی عمر قریب 70 سال ہے،انہوں نے کہاکہ کویڈ کی وجہ سے بچیوں کی تعلیم کا نقصان ہی نہیں ہوابلکہ بلکل ختم ہو گئی ہے کیوں کہ یہاں ان تین سالوں میں وہ گھروں میں مقید ہوکر رہ گئی ہیں۔اب والدین ان کی تعلیم سے زیادہ ان کی شادی کی فکر میں مشغول ہوچکے ہیں۔ اس کویڈ نے ان بچیوں کی زندگیوں میں اندھیرا کردیا ہے۔ اس حوالے سے اول بن مڈل اسکول کے انچارج ہیڈ ماسٹر محمد بشیر نے بتایاکہ جب سے اسکول کھلے ہیں بچے جوق در جوق اسکول آ رہے ہیں بلکہ بچیاں بچوں سے زیادہ آرہی ہیں۔ بچیاں 27اور بچوں کی تعداد 22ہے۔ اب یہ سلسلہ آغاز سے شروع کیاجارہاہے۔اور جو بچیاں آٹھویں پاس تھیں ان میں سے کچھ نے جو پڑھنے کی کوشش کی ہائی سکول دور اور سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر رہی ہے۔ اور یہاں سڑک کے انتظار میں برسوں گزرگئے۔ اگر سڑک ہوتی تو شائید یہ بچیاں بھی دنیاوی تعلیم سے روشناس ہوسکتی ہیں۔ اس علاقہ میں مڈل اسکول کے بعد کوئی ہائی اسکول ہوتایا کم سے کم سڑک ہوتی تو اس قدر ان بچیوں کی تعلیم متاثر نہ ہوتی۔

سوال یہ ہے کہ اب اس برفانی علاقہ کی ان بے بس بچیوں کی تعلیم کا فقدان کیسے ختم ہوگا؟کون اس دوردراز زندگی کی تمام سہولیات سے محروم غریبوں کی بچیوں کی تعلیم کا بیڑا اٹھائے گا؟ یہاں بیٹی کیسے بچے گی اور کیسے پڑھے گی جب اس کے لیے اسباب ہی میسر نہیں ہوگا ۔ (چرخہ فیچرس)

تبصرے بند ہیں۔