کیا عصری تعلیم شجرِ ممنوعہ ہے؟

نہ تو عصری تعلیم کو دینی تعلیم سے علاحدہ کیاجاسکتا ہے، نہ دینی تعلیم کو عصری تعلیم سے بالکل تہی دامن ہو کر دیکھاجاسکتا ہے

مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی

کیا عصری تعلیم شجرِ ممنوعہ ہے؟کیا عصری تعلیم کی جانب بالکل رخ نہیں کرنا چاہیے، کیا وجوہات ہیں کہ جس کی بناء پر عصری تعلیم کو، دینی ماحول میں برا سمجھا جاتا ہے، اکبر الہ آبادی نے یہ جو کہا ہے،

یوں قتل پہ بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ موجودہ دورکے جو کالجس اور یونیورسٹیاں ہیں اور وہاں جو مخلوط ماحول ہے، اس میں مرد مرد نہیں رہتے، عورتیں عورتیں نہیں ہوتیں، إلا ماشاء اللہ، مرد وصف مردانیت سے عاری، عورتیں حیاء وپاکدامنی کی صفت سے بے بہر ہ ہوتی ہیں، اس کے علاوہ مغربی تہذیب وثقافت کو نہایت احترام وعقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے، دینی ماحول، مشرقی تہذیب کے جنازے نکالے جاتے ہیں، اکبر الہ آباد ی بھی یہی کہنا چاہتے ہیں کہ اگر فکری اور تہذیبی وثقافتی سوچ اور اپچ سے خالی خولی، انسانی شکل میں ہڈیوں کی ڈھانچے، جس میں اغیار کی فکر وسوچ کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہو، مغربی تہذیب ان کے رگ وپے میں شامل ہو، فرعون بمقابل موسی علیہ السلام کے یہی صورتحال تھی، اس لیے فرعون اگر کوئی کالج قائم کرلیتا تو فکری اعتبار سے پروان چڑھے ہوئے یہ بچے شاہین اور باز نہ ہوتے، بلکہ مرغی کے بچے ثابت ہوتے، جو بجائے اس کے اس کی سلطنت وحکومت کے خاتمہ کا سبب بنیں، کالج کی صرف ایجاد اور تعمیر سے فکری اعتبارسے ان بچوں کو ایسے پروان چڑھانا ممکن تھا کہ فرعون ’’سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی ٹوٹنے نہ پائے‘‘ کے مصداق بچوں کے قتل سے بدنام نہ ہوتا، جس سوچ وفکر کی بنیاد پر وہ بچوں آمادۂ قتل تھا، وہ سوچ کی بر آوری اور اپنی سلطنت کے محافظوں اور اپنے فکر وتہذیب کے جیالوں کو پیدا کرکے اپنی حکومت کے خاتمہ کے بجائے اس کے پروان چڑہنے اور مستحکم ہونے کا ذریعہ بنتے۔

اکبر الہ آبادی نے جب اس صورت حال کو دیکھا کہ انگریز مسلمانوں کے بچوں کو قتل تو نہیں کر رہا، لیکن سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں داخل کرکے اپنا بنایا ہوا نصاب، اپنے بنائے ہوئے سیکولر ماحول میں پڑھا کر ان بچوں کو ذہنی طور پر اپنا غلام بنا رہا ہے، تاکہ نئی نسل سے ہمیں کوئی خطرہ باقی نہ رہے، اکبر الہ آبادی مرحوم نے اس تعلیمی پالیسی پر اپنے اس شعر میں خوب تبصرہ کیا ہے۔ فرعون کو جادو گروں یا کسی خواب دیکھنے والے نے یہ بتلایا تھا کہ بنی اسرائیل میں کوئی لڑکا پیدا ہونے والا ہے، جو تیری حکومت کا خاتمہ کر دے گا، تو اس نے یہ حکم دے دیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا بھی پیدا ہو اس کو قتل کر دیا جائے، تاکہ فرعون کی فرعونیت کے لیے کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔ فرعون نے نومولود بچوں کو قتل کیا اور اتنا بدنام ہوا کہ آج تک اس کے اس ظلم کا چرچا زبانوں پر ہے، لیکن اللہ تعالی کو کچھ او رمنظور تھا، اللہ تعالی نے اسی کے ہاتھوں حضرت موسی علیہ السلام کی پرورش کرائی، پھر حضرت موسی علیہ السلام ہی نے اس کی حکومت کا خاتمہ بھی کیا۔

 علمائے کرام نے اس وقت مسلمان بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخلے سے روکا، آج یہ طعنہ دیا جاتا او راعتراض کیا جاتا ہے کہ علما، جدید علم او رحکمت کے خلاف ہیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کو برا سمجھتے ہیں، یہ بالکل واقعات کے خلاف بہت ہی بھونڈہ الزام ہے، علما نے سائنس اور ٹیکنالوجی یا عصری علوم کی کبھی مخالفت نہیں کی، علم وفن کی کبھی مخالفت نہیں کی،بلکہ ہمیشہ علم وفن کی سرپرستی اور قدردانی کرتے رہے اور علم وفن کو ترقی دینے میں کوشاں رہے۔

مخالفت اس ماحول کی او راس خاص نصاب ونظام کی کر رہے تھے جو اسکولوں اور کالجوں میں مسلمان بچوں کو ذہنی طور پر غلام بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا اورانگریزی زبان کی مخالفت بھی اس وجہ سے کر رہے تھے کہ وہ انگریزی کو مسلمانوں کی قومی وسرکاری زبان فارسی کی جگہ رائج کر کے مسلمانوں کا رشتہ ان کی قومی روایات سے، ان کی تاریخ سے او ران کے شان دار ماضی سے توڑنا چاہتے تھے

جامعہ دیوبند اور علی گڑھ کی تاسیس کی وجوہات۔

ان حالات میں اس بات کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں اس دور محکومی میں اسلامی علم وحکمت، قرآن وحدیث، فقہ، اصول فقہ، تفسیر او رتمام اسلامی علوم کی وہ میراث جو دینی مدارس کے ذریعے تیرہ سو سال سے اب تک محفوظ چلی آرہی تھی، وہ ہمارے ہاتھوں سے نہ جاتی رہے، اس وقت ہمارے بزرگوں نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی، جس میں سب سے آگے مولانا محمد قاسم نانوتوی ہیں۔ انہوں نے سوچا کہ ہم کم از کم اسلامی علوم کو اور اسلامی اقتدار کے زمانے میں علم وحکمت کے جو دوسرے شعبے تھے مثلا حساب، الجبرا، جیومیٹری( اقلیدس)، علم ہیئت ( فلکیات)، جغرافیہ، منطق، فلسفہ، عربی شعر اورادب اور طب وغیرہ ان سب کو تو محفوظ کر ہی لی۔

عین اسی زمانے میں جب دارالعلوم دیوبند قائم ہو رہا تھا، مولانا محمد قاسم نانوتوی کے ایک ہم سبق سرسید احمد خان مرحوم نے علی گڑھ میں تعلیمی ادارہ قائم کیا، ان کے پیش نظر یہ تھا کہ مسلمانوں کو سرکاری ادارہ میں ملازمتیں نہیں مل رہی ہیں اور ہندوخوب ملازمتیں حاصل کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی معاشی وسیاسی موت واقع ہو جانے کا ندیشہ ہے، انہوں نے مسلمانوں کی سیاست ومعیشت کے تحفظ کے لیے علی گڑھ کا داراہ قائم کیا، تاکہ وہاں انگریزوں کے لائے ہوئے نصاب تعلیم کو رائج کرکے کم از کم مسلمانوں کی سیاست اور معیشت تو محفوظ کر دی جائے۔ تو دیوبند کا مشن تھا، مسلمانوں کے دِین کا تحفظ اور سرسید کے اس تعلیمی ادارے کا مقصد تھا مسلمانوں کی دنیا کا تحفظ، دونوں نیتیں اپنی اپنی جگہ ٹھیک تھیں، مسلمانوں کے دِین کا تحفظ بھی ضروری ہے، ان کی سیاست ومعیشت اور دنیا کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ یہاں سے دین ودنیا میں تفریق پیدا ہوئی،لیکن المناک بات یہ ہوئی کہ پہلے یہ دونوں کام ایک ہی قسم کے تعلیمی اداروں میں ہوا کرتے تھے، اب یہ کام تقسیم ہو گئے، علی گڑھ کا نصاب ونظام اور طریقہ کار الگ اور دیوبند کا نصاب ونظام اور طریقہ کار جدا۔ دین اور دنیا میں تفریق ہوئی، تعلیم کے دونوں نظاموں میں خلیج پیدا ہوئی، اپنے اپنے مقصد میں دونوں ادارے کامیاب ہوئے۔

حقیقت یہ ہے کہ نہ عصری تعلیم شجر ممنوعہ ہے، یہ نہ کوئی زہر ہلال ہے جس کو پینے کی وجہ سے انسان کا ضمیر اوراس کی روحانیت اور دینداری ختم ہوجاتی ہے، وہ انسانیت کی صف سے نکل کر حیوانیت اور درندوں کی صف میں آجاتا ہے، بلکہ عصری تعلیم، عصر حاضر کی ضرورت ہے، ڈاکٹر، انجنیر،پروفیسر، ہر فن کے ماہرین، ہر فن کے درک رکھنے والوں کی پہلے بھی ضرورت تھی آج بھی ضرورت ہے، در اصل عصری تعلیم کو دینی تعلیم سے علحدہ اس لیے کیا گیا کہ خالص دینی ماحول میں دینی تعلیم سے  علماء، فضلاء، ماہرین شریعت، ماہرین فقہ، ماہرین تفسیر اورماہرین علوم دینیہ نکلیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ پہلے زمانے میں عصری اور دینی تعلیم کی کوئی قید نہیں تھی، دونوں دو خانوں میں بٹے ہوئے نہیں تھے، بلکہ ہوا یوں کرتا تھا کہ ایک ہی جامعہ اور یونیورسٹی میں ایک بچوں کو ایک حد تک یوں پروان چڑھاجاتا کہ وہ دینی مزاج کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ہی جامعہ سے عصری تعلیم یافتہ اور دینی تعلیم یافتہ سند فراغت حاصل کرتے، دونوں کی دینداری میں کوئی فرق نہیں ہوتا، دونوں اپنی اپنی جگہ اپنے فن کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت دیندار، متبع شریعت ہوتے۔

 اسی لیے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب  بار بار فرمایا کرتے تھے کہ دیوبند جس مقصد کے لیے قائم ہوا تھا اور علی گڑھ جس مقصد کے لیے قائم ہوا تھا دونوں اپنے اپنے مقاصد میں کامیاب ہوئے، لیکن یہ دونوں نظام تعلیم دفاعی تھے، اقدامی نہیں تھے۔ یہ دونوں دفاعی نظام تعلیم تھے، ا قدامی نہیں تھے، یعنی ایک غیر مسلم قوم ہم پر مسلط ہو گئی تھی، اسلام اور مسلمانوں کو اس کی دست برد سے بچانے کے لیے دارالعلوم دیوبند کی شکل میں ایک قلعہ تعمیر کیا گیا، جہاں اور علوم دین اور اسلامی روایات کی حفاظت کی گئی اور جدید علوم وفنون سے مجبورا قطع نظر کرنی پڑی، جوبلاشبہ دنیاوی حیثیت سے ایک نقصان تھا اور علی گڑھ میں مسلمانوں کی دنیا اور ان کی معیشت کی حفاظت کے لیے جدید علوم وفنون کو اپنایا گیا مگر وہاں جانے والوں میں دین کی وہ پختگی نہیں رہی، ان میں سے بہت سوں کے اندرانگریزوں کی ذہنی مرعوبیت پیدا ہو گئی اور اپنی دینی وقومی روایات کے بارے میں ان میں سے بہت سے لوگ احساس کمتری کا شکار ہو گئے۔ بہرحال یہ دونوں نظام تعلیم دفاعی نوعیت کے تھے جو حالات کے جبر کے باعث  دفاعی حیثیت سے آگے نہ بڑھ سکے۔(حضرت مفتی شفیع صاحب ؒ، ماہنامہ الفاروق کراچی، ذو الحجہ : ۴۱۳۱ھ)۔

ہمارے نظامِ تعلیم کیساہو ؟

ہمارے دوسرے بزرگوں کا یہ سوچا سمجھا نظریہ تھا کہ یہاں ایسے نظام تعلیم کی ضرورت ہے جس میں دین ودنیا کی تفریق نہ ہو ایک مرحلے تک مثلا میٹرک تک مشترک نصاب تعلیم چلے اور اس میں ضروری دینی مسائل اور قرآن وسنت کی بنیادی تعلیم بھی قومی اور مادری زبان میں ہو اور عصری علوم وفنون بھی ساتھ ساتھ چلیں، میٹرک تک دینی اور دنیاوی نصاب تعلیم میں کوئی فرق نہ ہو، میٹرک کے بعد جس طریقے سے ہر علم وفن کے لیے اسپیشلائزیشن اور تخصص ہوتا ہے اس نظام میں بھی ہو کہ کوئی طالب علم عصری علوم میں آگے بڑھے، کوئی دینی علوم میں، پھر آگے جا کر کوئی فقہ میں تخصص کرے، کوئی حدیث میں، کوئی جغرافیہ میں، کوئی انجینئرنگ میں، کوئی طب میں۔ لیکن میٹرک تک تعلیم سب کی مشترک ہو اور آگے سائنس، ٹیکنالوجی، جغرافیہ، ریاضی، انجینئرنگ اور طب وغیرہ کی تمام تعلیم بھی اسلامی رنگ میں رنگی ہوئی ہو، تعلیمی اداروں کا ماحول مسلمانوں کے شایان ِ شان ہو اور ہمارے نظام تعلیم سے معیاری محدثین وفقہا اور مفسرین ومتکلمین تیار ہوں او رمثالی مسلمان انجینئر، مثالی مسلمان ڈاکٹر، مثالی مسلم سائنس دان تیار ہوں، جو ملک وقوم کی بھی مثالی خدمت کرسکیں اور اسلام کے مبلغ بھی بن سکیں۔

دور اسلام کی مشہور یونیورسیٹیاں اور ان کا نظام تعلیم

اگر ہم اسلامی تاریخ کی مشہور اسلامی جامعات کا جائزہ لیں تو چار بنیادی اسلامی جامعات ہماری تاریخ میں نظر آتی ہیں۔ ان میں سب سے پہلی مراکش کی جامعہ القرویین ہے۔ دوسری تیونس کی جامعہ زیتونہ ہے۔ تیسری مصر کی جامعہ الازہر ہے اور چوتھی دارالعلوم دیوبند ہے۔ تاریخی ترتیب اسی طرح ہے۔

اس میں سب سے پہلی اسلامی یونیورسٹی جو مراکش کے شہر فاس میں قائم ہوئی، تیسری صدی ہجری کی جامعہ ہے۔ ابھی تک ایسی کوئی ترتیب میرے سامنے نہیں آئی کہ یہ صرف عالم اسلام ہی کی نہیں، بلکہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے۔ اس تیسری صدی کی یونیورسٹی کے بارے میں اس کی تاریخ کے کتابچے میں یہ بات لکھی ہوئی کہ اس وقت جامعہ  القرویین میں جو علوم پڑھائے جاتے تھے ان میں اسلامی علوم، تفسیر، حدیث، فقہ اور اس کے ساتھ ساتھ طب، ریاضی، فلکیات جنہیں ہم آج عصری علوم کہتے ہیں، وہ سارے علوم پڑھائے جاتے تھے۔ ابن خلدون، ابن رشد، قاضی عیاض اور ایک طویل فہرست ہمارے اکابر کی ہے جنہوں نے جامعہ لقرویین میں درس دیا۔ ان کے پاس یہ تاریخ آج بھی محفوظ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ابن خلدون درس دیا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ابن رشد درس دیا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں قاضی عیاض نے درس دیا ہے۔ یہاں ابن عربی مالکی نے درس دیا ہے۔ تاریخ کی یہ ساری باتیں ان کے پاس آج بھی محفوظ ہیں۔ یہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے، اس لحاظ سے کہ چھوٹے چھوٹے مدارس تو ہر جگہ ہوں گے، لیکن جامعہ القرویین ایک یونیورسٹی کی حیثیت رکھتی تھی جس میں تمام دینی اور عصری علوم پڑھائے جاتے تھے۔

اس یونیورسٹی میں آج بھی تیسری اور چوتھی صدی کی سائنٹفک ایجادات کے نمونے رکھے ہیں۔ اس زمانے میں اسی جامعہ القرویین سے فارغ لوگوں نے جو ایجادات گھڑی وغیرہ کی کیں، ان ایجادات کے نمونے بھی وہاں پر موجود ہیں۔ آپ تیسری صدی ہجری تصورکیجیے۔ یہ تیسری صدی ہجری کی یونیورسٹی ہے۔ اس میں اسلامی علوم کے بادشاہ بھی پیدا ہوئے۔

اور وہیں سے ابن رشد فلسفی بھی پیدا ہوا اور وہیں سے بڑے بڑے سائنسدان بھی پیدا ہوئے۔ ہوتا یہ تھا کہ دین اسلام کا فرضِ عین علم سب کو اکٹھا دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد اگر کوئی علمِ دین میں تخصصات حاصل کرنا چاہتا تھا تو وہ اسی جامعہ القرویین میں علم دین کی درس گاہوں میں پڑھتا۔ اگر کوئی ریاضی پڑھانے والا ہے تو وہ ریاضی بھی وہاں پڑھا رہا ہوتا۔ اگر کوئی طب پڑھانے والا ہے تو وہ طب بھی وہاں پڑھا رہا ہوتا۔ یہ سارا کا سارا نظام اس طرح چلا کرتا تھا۔ جامعہ القرویین کی طرح جامعہ زیتونہ تیونس اور جامعہ الازہر مصر کا نظامِ تعلیم بھی رہا۔ یہ تینوں یونیورسٹیاں ہمارے قدیم ماضی کی ہیں۔ ان میں دینی اور عصری تعلیم کا سلسلہ اس طرح رہا۔

اس میں آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ اگر قاضی عیاض جو حدیث اور سنت کے امام ہیں، ان کا حلیہ دیکھا جائے اور ابن خلدون جو فلسفہ تاریخ کے امام ہیں، ان کا حلیہ دیکھا جائے، دونوں کو دیکھنے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تھا کہ یہ دین کا عالم ہے اور وہ دنیا کا عالم ہے۔ دونوں کا حلیہ، لباس، ثقافت، طرزِ زندگی، طرزِ کلام سب یکساں تھا۔ اگر آپ مشہور اسلامی سائنسدان فارابی، ابن رشد، ابوریحان البیرونی ان سب کا حلیہ دیکھیں اور جو محدثین، مفسرین اور فقہا پیداہوئے ان کا حلیہ دیکھیں، دونوں کا حلیہ ایک جیسا نظر آئے گا۔ اگر وہ نماز پڑھتے تھے تو یہ بھی نماز پڑھتے تھے۔ اگر ان کو نماز کے مسائل معلوم تھے تو اِن کو بھی معلوم تھے۔ اگر ان کو روزے کے مسائل معلوم تھے تو اِن کو بھی معلوم تھے۔ بنیادی اسلامی تعلیمات جو ہر انسان کے ذمے فرضِ عین ہیں، اس دور میں ہر انسان جانتا تھا اور اس یونیورسٹی میں اس کو پڑھایا جاتا تھا۔۔ تفریق یہاں سے پیداہوئی کہ انگریز نے آکر باقاعدہ سازش کے تحت ایک ایسا نظامِ تعلیم جاری کیا کہ اس سے دین کو دیس نکالا دے دیا گیا۔

بقول حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ کے: نہ علیگڑھ کی ضرورت تھی، نہ ندوہ کی ضرورت تھی، نہ دارالعلوم دیوبند کی ضرورت تھی، ہمیں جامعہ القرویین کی ضرورت ہے، جامعہ زیتونہ کی ضرورت ہے اور ایسی یونیورسٹی کی ضرورت ہے جس میں سارے کے سارے علوم اکٹھے پڑھائے جائیں۔ سب دین کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں، چاہے وہ انجینئر ہو، چاہے وہ ڈاکٹر ہو، چاہے کسی بھی شعبہ زندگی سے وابستہ ہو، وہ دین کے رنگ میں رنگا ہوا ہو، لیکن ہم پر ایسا نظامِ تعلیم لاد دیا گیا جس نے ہمیں سوائے ذہنی غلامی کے سکھانے کے اور کچھ نہیں سکھایا۔ اس نے ہمیں غلام بنایا۔ اکبر الہ آبادی نے صحیح کہا تھا

اب علیگڑھ کی بھی تم تمثیل لو

اب معزز پیٹ تم اس کو کہو

صرف پیٹ بھرنے کا ایک راستہ نکالنے کے لیے انگریز یہ نظامِ تعلیم لایا اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی پوری تاریخ اور پورا ورثہ تباہ کردیا گیا۔

بہر حال نہ دینی تعلیم ممنوع ہے، دینی تعلیم بیدار مغزی کے ساتھ ہو، موجودہ احوال کے مناسب حال ہو، باہر سے آنے والے ہر فتنہ کا دفاع کرنے کی صلاحیت موجودہ علماء میں ہو، دنیوی تعلیم دینی ماحول میں ہو،مغربی ماحول میں نہیں، جہاں کے تعلیم یافتہ حضرات کا دین سے کوئی لگاؤ نہیں۔ (منظم مدارس :۳۸۹، فیصل انٹر نیشنل، دیوبند )

موجودہ دور کے عصری تعلیم کے مضر نتائج

نتیجہ یہ کہ آج اس نئے نظامِ تعلیم کے ذریعے زبردست دو فرق واضح طو رپر سامنے آئے ہیں۔ ایک یہ کہ موجودہ تعلیمی نظام میں اسلامی تعلیم کے نہ ہونے کی وجہ سے فرضِ عین کا بھی علم نہیں۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے اکثر طالب علم جانتے ہی نہیں ہیں کہ دین میں فرض کیا ہے؟ دوسرے ان کے اوپر افکار مسلط کردیے گئے ہیں کہ اگر عقل اور ترقی چاہتے ہو تو تمہیں مغرب کی طرف دیکھنا ہوگا۔ تیسری ان کی ثقافت بدل دی گئی۔ ان کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ اگر اس دنیا میں ترقی چاہتے ہو تو صرف مغربی افکار میں ملے گی، مغربی ماحول میں ملے گی، مغربی انداز میں ملے گی۔ افسوس یہ ہے کہ اس نئے نظامِ تعلیم سے جو گریجویٹس، ڈاکٹرز یا پروفیسرز بن کر پیدا ہوتے ہیں، وہ ہم جیسے طالب علموں پر تو روز تنقید کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے اجتہاد کا دروازہ بند کردیا، یہ اجتہاد نہیں کرتے۔ قرآن و سنت اور فقہ میں اجتہاد ایک عظیم چیز تھی، لیکن ایک ایسی چیز جس میں اجتہاد کا دروازہ چاروں طرف چوپٹ کھلا ہوا تھا، وہ تھی سائنس اور ٹیکنالوجی، ریاضی، علومِ عصریہ اس میں تو کسی نے اجتہاد کا دروازہ بند نہیں کیا۔ علیگڑھ کے اور اس نئے نظامِ تعلیم کے ذریعے آپ نے کیوں ایسے مجتہد پیدا نہیں کیے جو مغرب کے سائنسدانوں کا مقابلہ کرتے۔ اس میں آپ نے کیوں ایسے مجتہد پیدا نہیں کیے جو اجتہاد کرکے طب، فلکیات، ریاضی، سائنس وغیرہ میں نئے راستے نکالتے۔ اجتہاد کا دروازہ جہاں چوپٹ کھلا تھا وہاں کوئی اجتہاد کیا ہی نہیں، اور جہاں قرآن و سنت کی پابندی ہے اور قرآن و سنت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اجتہاد کرنا ہوتا ہے، وہاں شکایت ہے کہ علمائے کرام اجتہاد کیوں نہیں کرتے؟ ہمارے ملک میں بے شمارجڑی بوٹیاں لگی ہوئی ہیں، اس پر آپ نے کبھی تحقیق کی ہوتی، اس سے آپ نے کوئی نتیجہ نکالا ہوتا کہ فلاں جڑی بوٹی ان امراض کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلونجی کے فوائد بیان فرمائے تھے، اس پر کوئی تحقیق کی ہوتی۔ وہاں تو اجتہاد کا دروازہ ٹوٹل بند ہے اور اس میں کوئی تحقیق کا راستہ نہیں، اور جو قرآن و سنت کی بات ہے اس میں اجتہاد کا مطالبہ ہے۔ یہ ذہنی غلامی کا نظام ہے جس نے ہمیں اس نتیجے تک پہنچایا۔

دوسرا یہ کہ تصورات بدل گئے۔ پہلے علم کا تصور ایک معزز چیز تھی جس کا مقصد معاشرے اور مخلوق کی خدمت تھی، یہ اصل مقصود تھا۔ اس کے تحت اگر معاشی فوائد بھی حاصل ہوجائیں تو ثانوی حیثیت رکھتے تھے، لیکن آج معاملہ الٹا ہوگیا، علم کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے۔ علم کا مقصد یہ ہے کہ اتنا علم حاصل کرو کہ لوگوں کی جیب سے زیادہ سے زیادہ پیسہ نکال سکو۔ تمہارا علم اس وقت کارآمد ہے کہ جب تم لوگوں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کماسکو۔ آپ دیکھیں کہ موجودہ دور میں کتنے لوگ پڑھ رہے ہیں اور گریجویشن کررہے ہیں، ماسٹر ڈگریاں لے رہے ہیں، قسما قسم کی ڈگریاں حاصل کررہے ہیں، ان کے ذہن سے پوچھا جائے کہ کیوں پڑھ رہے ہو؟ وہ کہیں گے کہ اس لیے پڑھ رہے ہیں کہ کیریئر اچھا ہو، اچھی ملازمتیں ملیں، پیسے زیادہ ملیں۔ تعلیم کی ساری ذہنیت بدل کر یہ تبدیلی کردی کہ علم کا مقصد پیسہ کمانا ہے۔ علم حاصل کرکے معاشرے یا مخلوق کی کوئی خدمت انجام دینی ہے، اس کا کوئی تصور اس موجودہ نظامِ تعلیم میں نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر شخص پیسے کمانے کی دوڑ میں مبتلا ہے اور اس کو نہ وطن کی فکر ہے، نہ ملک و ملت کی فکر ہے اور نہ مخلوق کی خدمت کرنے کا کوئی جذبہ اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ دن رات اسی دوڑ دھوپ میں مگن ہے کہ پیسے زیادہ بننے چاہیے۔ اس کے لیے چوری، ڈاکہ، رشوت  ستانی وغیرہ کے ناجائز ذرائع بھی استعمال کرتا ہے۔

یہ بتائیے! موجودہ نظامِ تعلیم کے تحت جو لوگ یہاں تیار ہورہے ہیں، انہوں نے مخلوق کی کتنی خدمت کی؟ کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچایا؟ ہمیں تو پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تلقین فرمائی تھی: اللھم لاتجعلِ الدنیا اکبر ھمِنا ولا مبلغ عِلمِنا ولا غایتۃ رغبتِنا یااللہ! دنیا کو ہمارے لیے نہ تو ایسا بنائیے کہ ہمارا ہر وقت دھیان دنیا ہی کی طرف رہے اور نہ ہمارے علم کا سارا مبلغ دنیا ہی ہوکر رہ جائے، اور نہ ہماری ساری رغبتوں اور شوق کا مرکز دنیا ہوکر رہ جائے۔(مزید تفصیل لیے دیکھئے : (منظم مدارس :۳۸۹، فیصل انٹر نیشنل، دیوبند )

 لیکن اس نظامِ تعلیم نے کایا پلٹ دی۔ انگریزوں نے یہ چال بازی کی کہ قتل عام تلوار سے تو نہیں کیا، لیکن نظام تعلیم کے ذریعے نظریاتی قتل عام کیا۔ اس صورت حال کو کسی اور شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے کہ :

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم

کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

 اس لیے نہ تو عصری تعلیم کو دینی تعلیم سے علاحدہ کیاجاسکتا ہے، نہ دینی تعلیم کو عصری تعلیم سے بالکل تہی دامن ہو کر دیکھاجاسکتا ہے، ہر شخص اپنے فن کا ماہر ہو کر ضروری دینی علم اور ضروری دنیوی علم سے لیس ہو کر اپنی دنیا وآخرت کو سنوار کو راہی عالم بقا ہوجائے۔

تبصرے بند ہیں۔