انسان اور ماحول کا رشتہ : قرآن کی نظر میں

سیف انور

ماحول کی تعریف:

          ۱۔انسان اور دوسری مخلوقات کے ما بین اللہ تعالیٰ نے ’تسخیر‘ کا جو ظاہری نظام اور توازن قائم فرمایا ہے اسی کو ’ماحول‘کہتے ہیں۔ واضح الفاظ میں کہا جائے تو جو کچھ دنیا و کا ئنات میں ہے اسے ماحول کہا جاتا ہے۔یعنی طبعی و اجتماعی زندگی کا وہ نظام جس میں انسان زندگی گزارتا ہے۔جو انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ماحول کے لیے انگریزی زبان میں دو الفاظ ۱۔Environment ۲۔Ecologyاستعمال ہوتے ہیں۔انوائرنمنٹ ایک عمومی اصطلاح ہے۔اس سے مراد کوئی بھی ماحول ہو سکتا ہے۔زمین،فضا یا کسی بھی سیارہ کا کوئی حصہ۔جبکہ Ecologyایک بنیادی اصطلاح ہے جس کے معنٰی ہیں کسی بھی ماحول کا مطالعہ اس میں موجود جاندار کوسامنے رکھ کر کیا جائے۔

انسان و ماحو ل کا رشتہ:

 قرآن کریم میں تقریباً دو سو آیات ماحولیات کے متعلق ہیں۔ جن میں پانی،زمین،ہوا، زندہ و مردہ مخلوقات،شجر و حجر،پہاڑ،سمندر اور وہ سب عجائبات عالم زیر بحث آئے ہیں جواللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی گواہی دیتی ہے۔

 صنع اللہ الذی اتقن کل شئیٍ(النحل:۸۸(

 ترجمہ”اللہ تعالیٰ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوطی کے ساتھ بنایا ہے۔“

   ”ماحول“ انسان کا لازمی جزو ہے اور ”انسان“ ماحول کا۔انسان بحیثیت خلیفہ ارض تمام مخلوقات ارضی کے صحیح و غلط کا ذمہ دار ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اس کو شعور،احساس و عقل جیسی دولت سے نوازا ہے۔زمین سے لے کے فضا تک،صحراء سے سمندر تک خدا کی جتنی نعمتیں و خزانیں موجود ہیں وہ انسان کے لیے تخلیق کئے گئے ہیں:

  الذی جعل لکم الارض فراشاً والسماء بناء اً(بقرہ:۲۲(

    ہو الذی جعل لکم ما فی الارض جمیعاً:(بقرہ:۹۲(

          پھر انسان کو تسخیر کی قوت بھی عطا کی گئی ہے۔کائنات کے خزانوں کے استعمال اور ان کو جاننے کی جستجو اس کی طبیعت میں ودیعت کی گئی ہیں۔ علم جیسی قیمتی دولت سے نوازکر اس کو کل مخلوقات میں ممتاز و منفردبنا یا ہے۔

   وسخر لکم ما فی السمٰوٰت وما فی الارض جمیعاً منہ (الجاثیہ:۳۱(

   وعلم آدم الاسماء کلہا(بقرہ:۱۳(

          اس لیے انسان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی تسخیر و تخلیقی قوتوں کو بروئے کار لاکر دنیوی اشیاء سے استفادہ کرے۔ کائنات کے خزانوں سے فائدہ حاصل کرنے سے نہ قرآن منع کرتا ہے نہ ہی اس کی طیب چیزوں کے اکل و شرب کو ممنوع قراکر دیتا ہے۔ البتہ کسی بھی چیز کے بے جا استعال یعنی اسراف و تبذیر سے روکتا ہے۔اس لیے کہ کسی بھی چیز کا بے جا استعمال توازن کوبگاڑ دیتا ہے اور بے اعتدالی کا سبب بنتا ہے۔

 ولا تبذر تبذیراً ان المبذرین کانوا اخوان الشیٰطین(الاسراء:۶۲،۷۲(

 ترجمہ:  ’اور فضول خرچی نہ کر،بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں‘

ماحولیاتی آلودگی اور انسانی ذمہ داری:

آلود گی دور حاضر کا ایک بڑا المیہ ہے۔ انسان نے اپنے اس مسکن کو خود اپنے ہاتھوں آلودہ کرکے جہنم نما بنا دیا ہے۔دور حاضر میں آلودگی اور اس کے مضر اثرات کے سبب انسان اور دوسری مخلوقا ت بڑی تعداد میں متاثر ہو رہے ہیں۔گزشتہ دو صدیوں میں توانائی کے حصول،صنعتی ترقی،بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل قدرت کے بے دریغ استعمال نے ماحول کا توازن بگاڑ دیا ہے۔جس کی وجہ سے روزانہ لاکھوں انسان و چرند پرند لقمہء اجل بن رہے ہیں۔زرخیز زمین بنجر ہوتی جا رہی ہے،ہوا اور پانی زہر آلود ہو رہے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی میں گندہ پانی،ارضیاتی آلودگی،صوتی آلودگی اور تابکاری (Radiation)اثرات جیسے مختلف اقسام شامل ہیں۔

          کائنات کی ان گنت سیارو ں میں زمین وہ سیا رہ ہے جس پر پانی،آکسیجن اور بے شمار عناصرزندگی موجود ہیں۔ انسان نے اگر قدرت کی ان نعتوں کی قدر نہ کی تووہ دن دور نہیں کہ یہاں بھی عرصہ حیات تنگ ہو جائے۔ خود انسان جیسی عظیم مخلوق اس سیار ہ سے نا پید ہو جائے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں بڑھتے ہوئے تشدد کا سبب ماحولیاتی تبدیلی ہے۔درجہء حرارت کے بڑھنے سے نہ صرف جنسی زیادیتوں،قتل،کشیدگی اور جنگ کے اثرات رونما ہوتے ہیں بلکہ جسم مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔عالمی ادارۂ صحت نے فضائی آلودگی کو دنیا میں صحت عامہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ایک نئی تحقیق کے مطابق یہ آلودگی دنیا میں مرنے والے ہر آٹھویں فرد کی موت کی وجہ ہے اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں صرف سن 2012ء میں 70 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔(1)

ماحول اور اسلامی ہدایات:

انسان کا قدرتی خزانوں کے ساتھ اسراف کا رویہ اور ان کا غیر محدود استعمال ایک قسم کا فسادفی الارض ہے۔جس کو قرآن سختی سے منع کرتا ہے۔

          ولاتفسدوا فی الارض بعد اصلاحہا(الاعراف:۶۵(

نظام فطرت کو بدل دینے،اس میں بگاڑ پیدا کرنے،انسانی ماحول کی سفائی ستھرائی،امن و سلامتی،سکون و اطمنان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو انتظام و انصرام کیا ہے اس کی خلاف ورزی کرنے کا نام ہی ’فساد‘ہے۔

          مذکورہ آیت میں جس فساد کی ممانعت ہے اس کا مدلول فقط دینی،اخلاقی و معاشرتی فساد نہیں ہے۔ بلکہ کائنات کے طبعی نظام کا بگاڑ اور خلل بھی اس میں شامل ہے۔ما حول کو ہر قسم کی آلودگی اور مضر اجزا سے محفوظ رکھنا شرعاً مطلوب ہے۔اور یہ مقاصد شریعت میں شامل ہے۔اس لیے کہ مقاصد شریعت انسان کی دینی و دنیوی مصالح سے عبارت ہیں۔(2)

۱۔تلف سے حفاظت:

شریعت میں ماحول اور اس کے عناصرکو تلف کرنے اور ضائع کرنے کی شدید مانعت وارد ہوئی ہے۔نباتات و جانور انسانی زندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔ان کے بغیر حیات انسانی کا تصور محال ہے۔ حیوانات سے انسان غذا،چمڑا،اون،دودھ وغیرہ حاصل کرتاہے،اسی طرح نباتات سے قسم قسم کے پھل،جڑی بوٹیاں،دوایاں حاصل کرتا ہے۔لہٰذا تعلیمات اسلامی میں انکی تلف کرنے سے منع کیا گیا ہے۔جانوروں اور نباتات کو بغیر ضرورت کے مارنے اور کاٹنے کو اسلام سختی سے منع کرتا ہے۔

۲۔تلویث سے ماحول کی حفاظت:

اسلام نے نہ صرف شخصی یا ذاتی نظافت کا حکم دیا ہے بلکہ انفرادی و اجتماعی دو نوں سطحوں پر انتہائی حد تک پاکیزگی اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔اسلام ان تمام ذرائع کا سد باب کرتا ہے جس سے کسی فرد خاص کی طبیعت سلیمہ کو گزند پہنچے یا عام لوگوں کو تکلیف ہو۔اپنی ذات،گھر،محلہ،ماحول،پڑوس،سڑکوں و راستوں،ندیوں ونالوں وغیرہ کی صاف صفائی کا حکم دیتاہے۔قرآن پاک صاف رہنے والے لوگوں کی تعریف بھی بیان کرتا ہے۔

 ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطہرین(البقرہ:۲۲۲(

          اسلام میں غیرموزوں جگہ پر تھوکنے کی بھی ممانعت ہے۔پانی کسی بھی انسانی سماج کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام پانی کے اسراف و ضیاع اور اس کی تلویث (to pollute)سے اجتناب کی تاکید کرتا ہے۔ قضائے حاجت کے آداب سکھاتا ہے۔ الغرض اسلام حیات انسانی کے دوسرے شعبوں کی طرح اس میں بھی ہماری پوری رہنمائی کرتا ہے۔اور ان تمام اعمال سے جو ماحولیاتیآلودگی کا سبب بنتے ہیں،باز رہنے کی تاکید کرتا ہے۔(3)

حوالہ جات:

۱۔چھوٹا ادیپوری ،مولوی طلحہ ،کثافت اور ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں شریعت کا موقف، جامعہ علوم القرآن جمبوسر ،۲۰۱۸،ص۷۲ا

۲۔صدیقی ،انجینئر شفیع احمد ،قرآن اور ماحولیات ،دارالاشاعت ،کراچی،۱۹۹۹،ص۳۷-۵۷

۳۔سعادتی ،سراج الحق ،ماحولیات نیز ماحولیاتی کثافت کے بارے میں شریعت کا موقف،گجرات ،ص۲۶،۱۶،۱۱

تبصرے بند ہیں۔