ماحولیاتی تحفظ اور اسلامی  تعلیمات (تیسری و آخری قسط)

محمدفیاض عالم قاسمی

آج کل مشین خواہ وہ کسی بھی  شکل میں ہو انسان کی ضرورت بن گئی ہے،خاص طورپر کمپیوٹر،فریج،ایرکنڈیشن وغیرہ ہر گھر کاحصہ بن گئے ہیں،اس سے نکلنے والی شعائیں انسان کے لیے نقصان دہ ثابت ہورہی ہیں، اس سے فضائی آلودگی پیداہوتی ہے۔اس لیے حکومت اس کے لیے کوشاں ہے کہ دھواں فری موٹراورالیکٹرانک سامان تیارکروائےجائیں۔ایسے وسائل جس میں دھواں نہیں ہوتاہےاورجس سے ماحول آلودہ نہیں ہوتاہے،وہ  نسبتاکسی قدرمہنگے ہوتے ہیں، اس لیے مالدارلوگوں کو  ایسے وسائل استعمال کرناچاہیے؛تاکہ انسانی زندگی کوتحفظ فراہم ہوسکےاورخطرات  کے بادل اس کے سرپرنہ منڈلائے،اس سے جہاں ایک طرف انسان بہت ساری بیماریوں سے محفوظ رہے گاوہیں دوسری طرف شریعت کے مقاصد کی تکمیل بھی ہوگی۔قرآن کریم میں ہے کہاپنے آپ کو قتل نہ کرو،بے شک اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرنے والاہے۔(سورۃ النساء:٢۹)؛البتہ جولوگ غریب ہیں اورجن کے لیے ایسےمہنگےوسائل کی خریداری ممکن نہیں ہے، یاممکن تو ہے مگر اس سے تنگی وحرج میں مبتلاہونے کاغالب گمان ہے تو ان کے لیےایسے وسائل کی خریداری  لازم نہیں ہوگی،ورنہ اس سے لوگ تنگیوحرج  میں مبتلاہوجائیں گے، حالاں کہ رفع حرج اصول اور مقاصد شریعت میں سے ہے،اللہ تعالیٰ کاارشادہے:ترجمہ: اوراللہ نے تم پر دینی معاملات میں تنگی نہیں رکھی ہے۔ (سورۃ الحج:۷۸)

بیڑی وسگریٹ نوشی وغیرہ  سےانسانی جان کی ہلاکت کاخطرہ ہے،کینسر، پھیپڑوں کی بیماریاں عمومااسی سے پیداہوتی ہیں، چوں  کہ اس سے نکلنے والےدھواں کی وجہ سے ماحول بھی آلودہ  ہوجاتاہے، جس سے نہ یہ کہ صرف پینے والوں کونقصان ہوتاہے،بلکہ جولوگ نہیں پیتے ہیں انھیں  بھی اس کاخمیازہ بھگتناپڑتاہے۔ اس لیے حکومتی سطح پر پابندی عائد کرنے کی درخواست کی جانی چاہیے۔ جہاں تک رہی بات شریعت میں اس کے حکم کی تو شریعت نے پہلے ہی سے مکروہ تحریمی قراردیاہے۔

تھوک ،پان اورگھٹکاوغیرہ  میں بھی چوں کہ جراثیم پیداہوتے ہیں ،اس   سے ماحول بھی پراگندہ ہوتاہے اوربیماریاں بھی پھیلتی ہیں،اس لیے کھلے عام تھوکنامناسب نہیں ہے۔اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے جاری ہدایات پر عمل درآمد کرناضروری ہے۔

پلاسٹک کی تھیلی ،چائے کا کپ،پانی کی بوتل وغیرہ کااستعمال بہت ہی بڑھ گیاہے،چوں کہ  یہ چیزیں  نہایت ہی ردی اورخراب پلاسٹک سے بنائی جاتی ہیں،اسی وجہ سے نسبتااس کی قیمت بھی بہت کم ہوتی ہے،جب گرم چیزیں ان میں ڈالی جاتی ہیں تو یہ اپنی اصل ماہیت میں آجاتی ہیں اوراس سےکینسر کابھی خطرہ پیداہوجاتاہے۔دوسری طرف یہ چیزیں تحلیل بھی نہیں ہوتی ہیں،ان کوتحلیل کرنے کی صرف ایک ہی شکل ہے کہ ان کو جلادیاجائے اورجلانے کی صورت میں نہایت ہی بدبوداردھواں نکلتاہے، جس سے فضاء آلودہ ہوجاتی ہے اورسانس کی بیماریاں پھیلنے لگتی ہیں، اس سلسلے میں حکومت کوچاہیےکہ ان چیزوں پرپابندی عائد کردے، تاہم اگر حکومت اپنی ذمہ داری نبھانے میں کوتاہی کرتی ہے تو مسلمانوں کو اس سے بچناچاہیے۔مسلمانوں کو چاہیےکہ  پلاسٹک  سے بنی ایسی اشیاء جن کو استعمال کرکے پھینکناپڑتاہوجیسے چائے کا کپ،پانی کی بوتل،سامان ڈھونے کی تھیلی وغیرہ،ان کااستعمال نہ کریں،البتہ ایسی اشیاء جن کو استعمال کرکے پھینکنے کی نوبت بہت کم آتی ہو جیسے قلم،رسی،پلاسٹک کے برتن وغیرہ تو ان کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

جانوروں کےوہ اجزاء جو کھائے نہیں جاتے ہیں،جیسےخون،اوجھڑی،اوراس کی غلاظت،یامردہ جانوروں کویوں ہی کھلے عام چھوڑدیاجائے تو یقینی طورپر ماحول آلودہ ہوجائےگا،فضاء بھی تعفن سے بدبودار ہوجائے گی،انسانوں؛ بلکہ دیگر جانوروں کابھی جینامشکل ہوجائے گا،حالاں کہ ازروئے شرع  صفائی اسلام کی اہم تعلیمات میں سے ہے،نظافت نصف ایمان ہے،پاک وصاف رہنا اللہ کو پسندہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ  پاک ہیں، پاکی کو پسند کرتے ہیں،نظافت کو بھی پسند کرتے ہیں۔توتم لوگ پاک صاف رہاکرو۔(سنن الترمذی:٢۷۹۹) اس لیے لوگوں پرلازم  ہے کہ ایسے اجزاء کو زمین میں دفن کردیں،کیوں کہ قدرت نے مٹی کے اندر یہ صفت رکھی ہے کہ وہ گوشت پوست حتیٰ کہ ہڈیوں کو بھی بہت جلد ہضم کرجاتی ہے،اسی وجہ سے شریعت میں مُردوں کو دفن کردینے کاحکم ہے۔

اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ بھی اپنی عوام کاتعاون کریں،خاص طورپر عیدالاضحیٰ کے موقعہ پر کثیر تعداد میں جانورذبح ہوتے ہیں، تو ان کے ناقابل انتفاع اجزاء بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں،اس لیے اگر حکومت تعاون کرے گی تو عوام کواور خاص طورپر مسلمانوں کو اپنے ماحول سے ان اجزاء  کوفوراہٹانے میں اورفورادفن کردینے میں سہولت ہوگی۔

اس کی شکل یہ ہوسکتی ہے کہ حکومت کی طرف سے خاص اسی کام کے لیے گلی کوچوں میں کوڑے دان ہوں،پھر ان کوڑے دانوں سے ان اجزاء کو ہٹانے کے لیے گاڑیوں کاانتظام ہو،جو فوری طورپرویرانوں میں لے جاکرپہلے سے کھودے ہوئےبڑےحوض وغیرہ میں دفن کردیں،اس سلسلے میں صرف آرڈر دینے سے بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا، بلکہ حکومت اپنی نگرانی میں یہ کام کروائے۔مسلم تنظیموں ،مساجد کے ٹرسٹیوں،اوردیگر رفاہی اداروں کو بھی چاہیے کہ اعزازی طورپر یہ خدمات انجام دیں۔مسلمانوں کوبھی چاہیے کہ اس سلسلے میں حکومت اوررضاکار تنظیموں کاتعاون کریں،گاؤں دیہاتوں میں جہاں یہ سہولیات بہم نہیں پہونچائی جاسکتی ہے ،وہاں کے رہنے والوں کو چاہیے کہ   خود ہی یہ کام انجام دیدیں۔

روشنی کے حصول کے لیے بھی ان ذرائع کو استعمال کرناان لوگوں کے لیے ضروری ہے، جو اس کی استطاعت رکھتے ہیں اورجو لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں، ان کے لیےوہ حتیٰ المقدوران کا استعمال کم کرے، اوران  ذرائع کو خریدنے کی کوشش کرتارہے جن سے آلودگی نہ ہوتی ہو۔گوکہ شمسی توانائی کے حصول کے لیےیکبارگی خطیر رقم لگتی ہے،مگرچوں کہ شمسی توانائی کے استعمال سے ماحول آلود ہ نہیں ہوتاہے،بجلی کی بچت بھی ہے ،بجلی بل سے چھٹکارہ ملتاہے، اس لیے صاحب استطاعت لوگوں کو چاہیے کہ اپنے مکان میں، آفس اورفیکٹریوں میں نیز  مساجد ومدارس میں بھی شمسی توانائی کااستعمال کریں ۔

ماحول کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سب سے اہم کام یہ ہے کہ درخت اورپودے کثرت سے لگائے جائیں،تاکہ ماحول  کی حفاظت میں یہ اہم کرداراداکرسکیں اورحدیث کے مطابق ثواب بھی حاصل ہوتارہے۔

تبصرے بند ہیں۔