ماحولیاتی تحفظ اور اسلامی تعلیمات (دوسری قسط)

قاضی محمد فیاض عالم قاسمی

        آج کل آواز کی آلودگی سے لوگ باگ بہت زیادہ پریشان ہیں،ٹرافک،موٹرگاڑیوں، لاؤڈاسپیکر، مشین،اورہارن کی ضرورت سے زیادہ آوازنےانسان کے چاروں طرف ایک ہنگامہ برپاکررکھاہے،کسی زمانہ میں انسان کی آواز بغیر کسی لاؤڈاسپیکر کے کافی دور تک سنائی دیتی تھی، مگر آج آواز کی آلودگی کی وجہ سےاس کی آواز قریب فاصلہ تک سنائی نہیں دیتی ہے، دراصل آواز کو اپنی رفتار طے کرنےکے لیے پرسکون ماحول درکارہوتاہے، چوں کہ چاروں طرف شوروہنگامہ ہمہ وقت موجودرہتاہے،اس لیے آواز اپنی رفتار طے نہیں کرپاتی ہے، اس شوروہنگامہ نے انسان کی قوتِ سماعت پر بہت ہی برااثرڈالاہے۔ صوتی آلودگی کی وجہ سےانسان یکسو ہوکر کام کاج نہیں کرپاتاہے،اس کی توجہ منتشررہتی ہے،توجہ یکجاکرنےمیں کافی  دشواری ہوتی ہے،جس کی وجہ سے آدمی جلد تھک جاتاہے،اسی طرح صوتی آلودگی سے دل ودماغ کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ان کے علاوہ صوتی آلودگی عمارتوں کو بھی نقصان پہونچاتی ہے،سخت آواز کی وجہ سےبعض دفعہ درودیوارہلنے لگتی ہیں اورنتیجہ کے طورپر کمزورہوکر گر جاتی ہیں۔تحقیق کے مطابق صوتی آلودگی فصلوں کی پیداوار اورپودوں کی نشونمامیں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔

        اسلام نےکرخت آواز کو سختی سے ناپسند کیاہے، قرآن کریم نے تیزآواز کواس گدھے کی آواز سے تشبیہ دی ہے ، جوبلاوجہ  ڈھینچوڈھینچوکرکےسمع خراشی کرتے رہتاہے،(لقمان ۳۱:۱۹)،بلکہ اسلام نے آواز کے معاملہ میں بھی معتدل راہ اختیار کی ہے کہ آواز نہ بہت زیادہ بلند ہوجس سے لوگوں کو حرج ہو اور نہ ہی اتنی دھیمی کہ سنائی نہ دے۔

        قرآن کریم نےرسول اللہ ﷺکی آواز کے مقابلہ میں اپنی آوازپست رکھنے کی تاکید کی ہےاوراس کی خلاف ورزی کرنے سےاعمال صالحہ کے ضائع ہونے سےڈرایاہے،نیز پست آواز والے لوگوں کو مغفرت کی بشارت بھی دی ہے۔ترجمہ:اے ایمان والو! تم اپنی آوازیں پیغمبر علیہ السلام کی آواز سے بلند مت کیاکرو،اورنہ ان سے ایسے کھل کربولاکرو،جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کھل کوبولاکرتے ہو،ورنہ کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہوجائیں،اورتم کوخبر بھی نہ ہو،بے شک جولوگ اپنی آوازوں کورسول اللہ ﷺ کےسامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لیے خاص کردیاہے،ایسے لوگوں کے لیے مغفرت اوراجر عظیم ہے۔(سورہ حجرات٢-٤)

        اسلامی عبادات میں بھی اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ آواز یں ضرورت سے زیادہ بلند نہ ہونے پائیں، چنانچہ دن میں پڑھی جانے والی نمازوں میں تلاوتِ قرآن کوسری رکھاگیا،تاکہ غیرنمازیوں کوجوعموما دیگر کاموں میں مشغول ہوتے ہیں، خلل نہ ہو، اوررات کی نمازوں میں تلاوت جہری رکھاگیا،تاکہ پرسکون ماحول میں نمازی اس کی آواز سے محظوظ ہوسکیں۔اذان کی آواز جسے دورتک پہونچانامطلوب ہے، وہ بھی بلندی پرجاکردیاجاناسنت ہے؛ تاکہ قریب ہونے کی وجہ سے آوازکی سختی کانوں کو نقصان نہ پہونچائے اسی طرح سے دعا اور ذکر کا بھی معاملہ ہے۔قرآن کریم میں ہے:ترجمہ: اپنے رب کو پکاروعاجزی اورچپکے سے،بے شک وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتے ہیں.(الاعراف:٥٥)دوسری جگہ ہے۔ترجمہ: اوراپنےرب کو دل ہی دل میں عاجزی اورڈرکرپکارو،اورزور کی آواز کی نسبت کم آواز کےساتھ صبح وشام، اورغافل لوگوں میں نہ ہونا۔(الاعراف:٢٥٥)

        اسلام ماحول کو صاف ستھرارکھنے اور ہر اس چیز سے جو کسی بھی شکل میں ماحول کو آلودہ کرے، بچنے کا حکم دیتا ہے، حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: لعنت کی تین باتوں سے بچو،پانی پینے کے مقامات، راستے کے درمیان اور سایہ میں پاخانہ کرنے سے ۔ (ابوداؤد:٢۶)

        نبی رحمت ﷺنے ارشادفرمایا کہ  رات میں سوتے وقت آگ کو یوں ہی چھوڑے نہ رکھو۔(ابوداؤد:٥٢٣۶)ایک دوسری حدیث میں ہے،آپ ﷺنے فرمایا کہ جب تمسونے لگو توجلتے چراغوں کوبجھادو، کیوں کہ شیطان اس کو کسی دوسری چیز سے لگادیتاہے اورتمہیں جلانے کی کوشش کرتاہے۔ (ابوداؤد:٥٢٣۷)

        اسی طرح ارشاد نبوی ؐ ہے: ’’راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا نیکی ہے‘‘۔ (ابوداؤد:٥٢٤٣) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ؐ نے فرمایا:ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں ان کا آخری درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹادینا ہے۔ (سنن ترمذی:٢۶١٤)

        اسی طرح  تھوک وبلغم ،ناک کی رینٹھ وغیرہ کوپاک ہونےکے باوجود دفن کرنے کاحکم دیکر ایسے چھوٹے اعمال کو صدقہ فرمایاگیاہے۔(ابوداؤد:٥٢٤٢)دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: ’’میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے سب اعمال پیش کیے گئے تو میں نے اس کے جو اچھے عمل دیکھے ان میں راستے سے دور کی جانے والی ایذا رساں چیز تھی، اور اس کے برے کاموں میں تھوکا ہوا بلغم تھا جو مسجد میں پڑا رہتا ہےاور اسے دفن نہیں کیا جاتاہے‘‘۔ (صحیح مسلم عن ابی ذر:٥٥٣)

        یہ ساری احادیث پاکی وصفائی نیز ماحول کو خوشگوارکرنے اوراس کو آلودگی سے بچانے کے واسطے ہیں۔اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اسلام میں ماحول کے تحفظ اوراس کو آلودگی سے بچانے کی خاطر بہت ساری واضح تعلیمات ہیں۔

حدیث میں کھلے عام جنگلوں میں قضاء حاجت کرنے کاثبوت ملتاہے، مگر چوں کہ اس وقت آبادی کم تھی اوربیابان زیادہ تھا، اس لیے لوگ باگ آبادی سےکافی دور بیابانوں میں  جاکر قضائے حاجت کرتے تھے، حدیث میں ہے کہ رسول ﷺ قضائے حاجت کے لیے بہت دورنکل جایاکرتے تھے۔(ابوداؤد:١)،دوسری حدیث میں ہے کہ اتنی دورجاتے کہ لوگ دیکھ نہ سکیں۔(ابوداؤد:٢)محدثین  کرام نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ غائت درجہ شرم وحیاکی وجہ سے آپ ﷺ ایساکرتے تھے،دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آبادی میں اگر کھلے عام قضاء  حاجت کیاجائے تو اس سے ماحول پراگندہ ہوگا،طرح طرح کی بیماریاں پیداہوں گی، اس لیے آبادی سے ہٹ کر بیابانوں کارخ کیاجائے، بہرحال گاؤں دیہاتوں میں ایساممکن ہے۔اس سے ماحول آلودہ  نہیں ہوگا۔مگرآبادی کے اندرکھلے عام قضاءحاجت کرناجائز نہیں،یہ حیا اورستر دونوں کے خلاف ہے، نیز یہ ماحول کوپراگندہ کرنےاورطرح طرح کی بیماریاں پھیلنے کاسبب بھی ہے۔مگر افسوس کہ اس کے باوجود بعض بے حیالوگ جہاں چاہتے ہیں اپنی ضرورت پوری کرلیتے ہیں، خاص طورپر ریلوے اسٹیشنوں،ریلوے پٹریوں، بس اسٹینڈوں پر، یہ نہایت ہی بری عادت ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں پانچ سوملین لوگ بیت الخلاء سے محروم ہیں۔قضاءِ حاجت کی یہ شکل کہ فضلہ کھلے نالیوں میں بہنے لگے،ممنوع ہے،کیوں کہ اس سے بھی وہی سارے خطرات پیداہوں گے جو کھلے عام قضاء حاجت  کرنے کی صورت میں ہوتے ہیں،البتہ گندے پانیوں کونالیوں میں بہانے میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ نالیاں گندے پانیوں کی نکاسی کے لیے ہی بنائی جاتی ہیں۔بہرحال اس طرف عوام اورحکومت  دونوں کو  توجہ دینی  چاہیےاور بیت الخلا ء کاانتظام کرنااورکراناچاہیے؛نیز اس کا استعمال بھی ہوناچاہیے۔(جاری)

تبصرے بند ہیں۔