واقعۂ ابراہیم ؑ اور چند اہم نکات

امام علی مقصود فلاحی

عید الاضحی کے موقع پر اہل اسلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی پیش کرکے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتے ہیں، یہ مقدس و مبارک عمل در اصل ایک عجیب و غریب واقعہ کی یاد گار اور اسکی نقل ہے، جس کی نظیر پیش کرنے سے تمام اگلے اور پچھلے لوگ قاصر ہیں، اس واقعہ کا تعلق دو عظیم شخصیتوں سے ہے، ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دوسرے حضرت اسماعیل علیہ السلام۔

حضرت ابراہیم کی شخصیت سے کون ناواقف ہوگا، آپ اللہ کے وہ برگزیدہ نبی ہیں، جنہوں نے اللہ کے محبت میں ایسے مصائب جھیلے، کہ اللہ نے آپ کو خلقت کا بلند ترین مقام نصیب فرما دیا، اور قرآن میں جگہ جگہ آپ کی تعریف فرمائی، اور ہمارے نبی محمد صلی کو حکم دیا کہ آپ ملت ابراہیمی کی اتباع کریں۔

آپ ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اللہ کے حکم سے کعبۃ اللہ کی تعمیر فرمائی، ححج کا اعلان کیا اور حج جیسی مقدس عبادت کی تعلیم دی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے وطن عزیز سے ملک شام کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ کے ساتھ آپ کی بیوی حضرت سارہ علیہ السلام بھی تھی۔

جب آپ نے درمیانی منزل مصر میں قیام فرمایا تو وہاں کے بادشاہ نے حضرت سارہ علیہ السلام پر بد نیتی سے دست درازی کی جسکی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسکے ہاتھ شیل کر دیے۔

حضرت سارہ کی یہ کرامت دیکھ کر بادشاہ متأثر ہوا اور ہاجرہ نامی ایک باندی حضرت سارہ کی خدمت میں پیش کیا۔ اور حضرت سارہ نے اس باندی کو اپنے شوہر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہبہ کر دیا، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو اپنی نکاح میں لے لیا۔ پھر ملک شام‌ میں جاکر سکونت اختیار فرمائی۔ مگر ایک طویل مدت تک آپ کے یہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی، یہاں تک کہ آپ کی عمر تقریباً چھیاسی برس کی ہوگئی، تو آپ نے اللہ سے اولاد کے لیے دعا فرمائی:

کہ اے میرے رب مجھے صالحین میں سے ایک صالح پیٹا عطاء فرما۔

پھر کیا ہوا اللہ نے آپ کو ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی۔

جب اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی تو آپ کے گھر حضرت ہاجرہ کے بطن سے ایک حسین و جمیل بچہ تولد ہوا، جسکا نام اسماعیل رکھا گیا۔

اسکے بعد اللہ نے آپ کو بعض مصلحتوں کی وجہ سے حکم دیا کہ آپ اپنی بیوی اور بیٹے دونوں کو مکہ کے بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آئیں۔ اور ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے اس حکم کی تعمیل کی۔

جب حضرت اسماعیل اپنی ماں حضرت ہاجرہ کے ساتھ مکہ میں زندگی بسر کر رہے تھے، اور بڑھتے بڑھتے اس قابل ہوگئے تھے کہ کچھ کام کر سکیں، تو ابراہیم علیہ السلام کو ملک شام میں ایک خواب نظر آیا۔

وہ یہ کہ خواب میں کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے کہ ابراہیم اپنی نذر کو پورا کرو، دیکھو اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اپنے بیٹے کو ذبح کرو، اور یہ خواب ذی الحجہ کی آٹھ تاریخ کو دیکھا۔ جب صبح ہوئی تو سوچنے لگے کہ یہ کیا خواب ہے؟ اور یہ اللہ کی جانب سے ہے یا شیطان کی طرف سے؟

اسی لیے آٹھ ذی الحجہ کو یوم الترویہ یعنی تفکر و تذبذب کا دن کہا جاتا ہے۔

پھر جب نوی ذی الحجہ کی رات ہوئی تو پھر وہی خواب نظر آیا، پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے سمجھ لیا کہ یہ خواب اللہ ہی جانب سے ہے۔ اسی لیے نوی ذی الحجہ کو یوم العرفہ یعنی پہچاننے والا دن کہا جاتا ہے۔

پھر دس ذی الحجہ کی رات میں بھی یہی خواب دیکھا، اور یہ ارادہ کر لیا کہ اپنے لختِ جگر کو اللہ کے راستے میں قربان کرہی دوں گا۔ اسی لیے دس ذی الحجہ کو یوم النحر یعنی کہ قربانی کا دن  کہا جاتا ہے۔

مگر اس سے قبل کہ آپ اس حکم کی تعمیل کرتے، آپ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے مشورہ کیا، اور اس سلسلے میں انکی راے دریافت کی۔

اس پر حضرت اسماعیل نے جو جواب دیا وہ واقعی شان نبوی کا‌ مظہر اتم اور ایک بین روشن علامت ہے۔

آپ کے جواب کو قرآن کریم یوں بیان کیا:

اسماعیل علیہ السلام نے کہا کہ ابو جان آپ کو جو حکم ہوا ہے، اسے کر گذرئیے، انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ (سورہ صافات 102)۔

چند اہم نکات

حضرت ابراہیم کے اس مشورے اور حضرت اسماعیل کے اس جواب میں چند اہم نکات ہیں، جن پر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔

پہلا نکتہ

 حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس سلسلے میں مشورہ لینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، جبکہ آپ جانتے تھے کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک حکم ہے ۔

اور کیا اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام رائے کے خلاف حکم دیتے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس حکم کی تعمیل نہ کرتے؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کا اپنے صاحبزادے سے مشورہ اس لیے نہیں تھا کہ نعوذ باللہ حضرت اسماعیل کے مشورے پر عمل کیا جائے، خواہ وہ مشورہ موافقت میں ہو، یا مخالفت میں۔

بلکہ یہ مشورہ بطور امتحان تھا، کہ آپ حضرت اسماعیل کے ایمانی جذبہ اور تعلق مع اللہ کا امتحان لینا چاہتے تھے، اور یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اس سلسلے میں کیا رائے ظاہر کرتے ہیں۔

اسکی ایک حکمت امام شافعی علیہ الرحمہ نے بیان کی ہے، وہ یہ کہ حضرت ابراہیم نے اپنے صاحبزادے سے مشورہ اس لیے لیا تھا تاکہ اللہ کے حکم کی تعمیل کا ذکر انکی زبان سے بھی ظاہر کروا دیں۔

دوسرا نکتہ

دوسری بات یہ قابل غور ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو یہ نہیں بتلایا کہ مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں ذبح کروں، بلکہ صرف خواب کے حوالے سے بتایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اس میں بظاہر یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے‌ منسوب کرکے پیش فرمانے کی صورت میں خدانخواستہ اگر حضرت اسماعیل اس میں کچھ پس و پیش کرتے تو حکم خداوندی میں صریح اعراض و رو گردانے لازم آتی، لہذا آپ نے اس کو حکم خداوندی میں پیش نہیں کیا، بلکہ اپنے ایک خواب کی حیثیت سے پیش کیا۔

تیسرا نکتہ

حضرت اسماعیل کی بصیرت و فراست کا جائزہ لی جئے کہ حضرت ابراہیم کے خواب کو سن کر فرمایا کہ آپ کو جسکا حکم ہوا ہے وہ کر گذرئیے۔

حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حکم ہونے کا کوئی ذکر ہی نہیں فرمایا تھا۔

اسکی وجہ یہ تھی کہ چونکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خاندان نبوت میں تربیت پائی تھی، اس لیے آپ نے سمجھ لیا کہ نبی کا خواب بھی وحی الٰہی ہوتا ہے، اسی لیے خواب کو حکم سے تعبیر فرمایا، اس سے یہ بھی‌ معلوم ہوا کہ نبی پر جس طرح بیداری میں وحی نازل ہوتی ہے اسی طرح حالت نوم میں بھی نازل ہوتی ہے، کیونکہ نبی کا قلب سوتے وقت بھی بیدار اور متوجہ الی اللہ ہوتا ہے، نیز اس سے یہ بھی‌ معلوم ہوا کہ جس طرح کتاب کی شکل میں وحی آتی ہے اسی طرح کتاب سے ہٹ کر بھی وحی آتی ہے جسکو حدیث و سنت کہتے ہیں۔

چوتھا نکتہ

جب حضرت اسماعیل علیہ السلام نے والد کی بات سن کر یہ فرمایاکہ آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کیجیے ، تو اسکے بعد یہ بھی فرمایا کہ مجھے آپ انشاءاللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

یہ اس لیے کہا تھا تاکہ والد محترم کو یقین ہوجائے کہ میں آپ کا بھر پور تعاون کروں گا، اور کوئی مزاحمت نہیں کروں گا۔

پھر اسمیں "انشاءاللہ” پڑھا کر اپنے نفس پر اعتماد نہ کرکے، مشیت الٰہی پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے نفس پر  بھروسہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ ہر دینی و دنیوی معاملہ میں صرف اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

پانچواں نکتہ

حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اس جواب میں ایک اور بڑی بات قابل غور ہے، وہ یہ کہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ آپ مجھے "صبر کرنے والا” پائیں گے۔

 بلکہ یوں فرمایا کہ آپ‌ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

اس میں اس جانب اشارہ ہے کہ میں اکیلا ہی صبر کرنے والا نہیں ہوں، بلکہ صبر کرنے والے تو بہت ہیں، ان ہی میں سے میں بھی ایک ہوں، یہ در اصل آپ کی غایت تواضع کی بات ہے۔

مقام عبرت

حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جس وقت یہ جواب دیا تھا اس وقت آپ کی عمر صرف تیرہ برس کی تھی۔

اللہ اکبر اس چھوٹی سی عمر میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ایسا جواب دینا، آپ کی سلامتی طبع کی بین دلیل ہے۔

ہمیں اس جواب سے عبرت حاصل کرنا چاہیے کہ اگر اللہ کا حکم ہمارے سامنے آئے، تو کیا ہم اسی طرح رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی قربانی پیش کرتے ہیں؟

 جانور کی قربانی تو ہم بھی کرتے ہیں، مگر جب تک اسکے اندر یہ جذبہ کارفرما نہ ہو وہ حقیقی معنی میں قربانی کہاں؟

غرض یہ کہ جس طرح ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام نے اللہ کی محبت کا حق ادا کرنے کی کوشش کی اسی طرح ہم کو بھی چاہیے کہ ہم بھی اس خالق حقیقی کی محبت میں ہمہ وقت اسکے احکام کی اطاعت کی لیے تیار رہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔