مطالعہ سیرت ابراہیم علیہ السلام

محمدعبد اللہ جاوید

انشاءاللہ چند دنوں بعدماہ ذی قعدہ شروع ہوگا۔ اس کے بعد ذی الحجہ جیسا بابرکت اور حرمت والا مہینہ سایہ فگن ہوگا جس کی پہچان سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سیرت مبارکہ اور عالمی عبادت حج سے ہے۔ اس ماہ مبارک سے تمام مسلمانان عالم کا خاص تعلق قائم رہتا ہے۔ چاہے عازمین حج ہوں کہ غیر عازمین مناسک حج میں سے بعض سب کے لیے مشترک ہوتےہیں کہ وہ ان کا التزام کریں۔

سیرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا امت محمدﷺ سے بڑا زندہ و ایمانی تعلق ہے۔آپ علیہ السلام کی سیرت مبارکہ سے معرفت رب اور فنا فی اللہ ہوجانے کا بے پایاں جذبہ میسر آتا ہے۔ آپ علیہ السلام کا اپنے والد اور قوم کے دیگر لوگوں سے خطاب سے دین حق کی سربلندی اور کفر و شرک کے ابطال کے لیے جہد پیہم کا درس ملتا ہے۔آپ علیہ السلام کی ازواج مطہرات کی بے پناہ محبت و اطاعت سے مثالی زوجین کا ایک انتہائی پاکیزہ نمونہ منکشف ہوتا ہے۔ آپ علیہ السلام کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی راہ خدا میں جان کی قربانی کےلیے آمادگی، آداب بندگی وفرزندی کےحیات آفریں پہلو ظاہر کرتی ہے۔اور آپ علیہ السلام کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کی اپنی قوم کے لیے دعوت و اصلاح کی کوشش، اہل و عیال کو بھی خدائے واحد کی بندگی کے لیے تیار کرنے کا ایک پراثر پیغام دیتی ہے…. رب کریم نے اسی لیے امت محمدﷺیہ کوخاص ہدایت فرمائی کہ ان سب برگزیدہ ہستیوں کی زندگیوں کو بطورنمونہ اپنے پیش نظررکھیں ۔

وَمَن أَحسَنُ دِينًا مِّمَّن أَسلَمَ وَجهَهُ ۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحسِنٌ وَٱتَّبَعَ مِلَّةَ إِبرَٲهِيمَ حَنِيفًا   ۗ   وَٱتَّخَذَ ٱللَّهُ إِبرَٲهِيمَ خَلِيلاً

اُس شخص سے بہتر اور کس کا طریق زندگی ہوسکتا ہے جس نے اللہ کے آگے سر تسلیم خم کر دیا اور اپنا رویہ نیک رکھا اور یکسو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقے کی پیروی کی، اُس ابراہیمؑ کے طریقے کی جسے اللہ نے اپنا دوست بنا لیا تھا(سورہ النساء:125)۔

مگر کیسے؟ ایک قابل عمل طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ سیرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں مطالعہ اور غور و خوص کیا جائے۔اورہماری زندگیوں کو ایمانی اور عزیمت کی آئینہ دار بنانے کے لیے ان سےقلبی وعملی تعلق پیداکرنے کی شعوری کوشش جائے۔قرآن مجید کےحکم…ملۃ ابیکم ابراہیم… کے توسط سے دی گئی تعلیمات اور مناسک حج کی انجام دہی اسی غرض کے لیے ایک فکری و حرکیاتی پیغام ہے۔

اب آئیے سیرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مطالعہ، غور و خوص اور عمل کے لیے ضروری امور کی منصوبہ بندی کرلیں۔

موضوعات:

حسب ذیل موضوعات کے تحت سیرت ابراہیم ؑ سے متعلق اہم امور جاننے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے:

  • سیرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی پیغمبری سے پہلے اور بعد کی زندگی۔
  • قرآن مجید میں آپ علیہ السلام کے بیان کردہ بنیادی صفات کا فہم وشعور۔
  • ابتلا و آزمائش۔
  • راہ خدا میں اہل و عیال کی ثابت قدمی۔
  • آپ علیہ السلام کی دعوت دین کی کوششیں، قوم کا رد عمل اور نتائج۔

طریقہ کاراور ذرائع:

ان موضوعات پر کماحقہ غور و خوص اور تبادلہ خیال کے لیے حسب ذیل پروگرام منعقد کئے جاسکتے ہیں:

1) قرآنی آیات اور منتخب کتابوں کاانفرادی مطالعہ۔

2)  قرآنی آیات اور منتخب کتابوں کا اجتماعی مطالعہ۔

3) متعین تربیتی، دعوتی اور عائلی مقاصد کے تحت تربیتی اجتماعات۔

4) خطبہ جمعہ جس کے ذریعہ ملت اسلامیہ میں سیرت ابراہیم علیہ السلام اور فلسفہ حج سے متعلق شعور کی بیداری۔

5) سماعت سیرت ابراہیم علیہ السلام برائے مرد و خواتین علیحدہ علیحدہ…. جس میں آپ علیہ السلام کی سیرت پر ذیل میں ردج کسی کتاب کا تسلسل کے ساتھ اجتماعی مطالعہ اور سوال و جواب۔۔۔

6) محلہ واری سطح پر پیغام سیرت ابراہیم علیہ السلام پر خطابات۔

7) منتخب مرد و خواتین کے ملے جلے یا علیحدہ اجلاس جن میں مع سوال و جواب اس موضوع پر گفتگو اور تبادلہ خیال ہو… مثالی ازدواجی زندگی اوراہل و عیال کی تربیت   – سیرت ابراہیم علیہ السلام کی روشنی میں۔

9) سیرت ابراہیم علیہ السلام اور حج و قربانی جیسے موضوعات پر لٹریچر کی تقسیم۔

10) سیرت ابراہیم علیہ السلام کے مختلف پہلوؤں پر مسابقتی اور انعامی مقابلہ جات کا انعقاد۔

11) دینی مدارس اور اسکول و کالجز کے طلبہ وطالبات کے لیے سیرت ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام پر بیداری شعور کے پروگرام۔

12) بچوں کے خصوصی اجلاس جن میں عام فہم انداز سے سیرت ابراہیم اور سیرت اسماعیل و اسحاق علیہم السلام پر گفتگو۔

13) دینی مدارس وجامعات میں سیرت ابراہیم ؑ سے متعلق آیات کی مختلف تفاسیر کی روشنی میں تفہیم و تشریح کا اہتمام۔

14) حج کے فرائض وواجبات جیسے احرام‘ تلبیہ‘طواف‘ وقوف عرفہ‘رمی جمرہ‘ قربانی‘حلق یا تقصیر ‘سعی وغیرہ کے تحت خصوصی غور وخوص اور آج کے حالات پرانطباق کی کوشش۔

15) حضرت ابراہیم ؑ کی اپنی اولاد اور آنے والی نسلوں کے لیے کی گئی دعا (سورہ البقرہ: ۱۲۴) اوربیت اللہ کے عالم انسانیت کیلیے رشد وہدایت ہونے کےبیان (سورہ آل عمران :۹۶) کی روشنی میں ملت اسلامیہ کی موجودہ دینی واخلاقی صورت حال پرغوروخوص اور بہتری کیلیے عملی تدابیر اختیار کرنے کا اہتمام۔

ان تمام پروگراموں کے تحت انفرادی واجتماعی سرگرمیوں کیلیے حسب ذیل تفصیلات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔بہتر طور پر استفادہ کیلیے سیرت ابراہیم علیہ السلام کی روشنی میں متعین عناوین کے ساتھ قرآنی آیات اور کتابوں نشاندہی کی جارہی ہے۔

قرآنیات

  • سیرت سیدنا ابراہیم ؑ : سورہ الممتحنہ: ۴
  • سیدنا ابراہیم ؑ کااللہ تعالیٰ پر یقین اور اطمینان قلب کے ذرائع – سورہ البقرہ: ۲۶۰
  • معرفت رب و حق کے حصول کا ذریعہ – سورہ الانعام: ۷۵تا ۷۹
  • ابتلا وآزمائش – سورہ البقرہ:۱۲۴- سورہ الصافات: ۱۰۰ تا۱۱۳
  • حضرت ابراہیم ؑ کی قرآنی صفات:
  • حنیف اور توحید پرست: سورہ آل عمران: ۹۵
  • حنیف‘ مطیع‘ شاکر وغیرہ : سورہ النحل:۱۲۰تا ۱۲۳
  • صدیق اور راست باز: سورہ مریم: ۴۱
  • وفا کا حق ادا کرنے والے : سورہ النجم: ۳۷
  • اللہ کے دوست: سورہ النساء: ۱۲۵
  • دین حق کی جانب لوگوں کو دعوت:سورہ الشعرا: ۶۹تا۸۵ – سورۃ الممتحنہ: ۴
  • کفر وشرک پر تنقید اور اسکا ابطال- سورہ الانعام: ۷۴ – سورہ الانبیا:۵۱تا ۶۹ سورہ الشعرا: ۶۹تا۸۵ – سورہ العنکبوت: ۱۶تا۱۸
  • سورہ الصافات: ۸۳ تا۹۹ – سورہ الزخرف: ۲۶تا۲۸
  • سیدنا ابراہیم ؑ کانمرود سے مکالمہ – سورہ البقرہ:۲۵۸
  • سیدنا ابراہیم ؑ کی اپنے والد سے کفر وشرک ترک کرنے کیلیے گفتگواور اس کا نتیجہ- سورہ مریم: ۴۲ تا۵۰
  • اولاد کی تربیت اور اسکے لیے دعائیں – سورہ ابراہیم ؑ : ۳۷تا۴۱ – سورہ الصافات :۱۰۰ 
  • امت محمدیہ ﷺ ‘ ملت ابراہیم بھی ہے۔اسوہ ابراہیم ؑ پر چلنے کی خاص ہدایت: سورہ البقرہ: ۱۲۵ تا۱۳۱- سورہ النساء:۱۲۵
  • سورہ الانعام: ۱۶۱تا۱۶۳- سورہ النحل:۱۲۳- سورہ الحج:۷۸ اور سورہ الممتحنہ: ۴۔
  • حج‘اس کی فرضیت‘ فضیلت‘احکامات ومناسک: سورہ البقرہ: ۱۲۵ – سورہ آل عمران: ۹۶تا۹۷ – سورہ الحج: ۲۶تا۳۷-

سورہ البقرہ: ۱۵۸

  • امت محمدیہﷺ کے لیے پیغام اور ایک عظیم مشن کیلیے اسکی تیاری – سورہ البقرہ: ۱۲۵ تا۱۳۱ – سورہ ابراہیم ؑ :۳۵تا۳۷

احادیث

حسب ذیل موضوعات پر مستند کتب سے احادیث منتخب کرلیں:

  • سیرت سیدناابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل و اسحاق علیہم السلام
  • تصورحج ‘ اس کی اہمیت وفضیلت
  • مناسک حج سے متعلق احکامات
  • تصور قربانی اور اس سے متعلق احکامات

کتابیات 

(1) آج بھی جو ہو براہیم کاایمان پیدا از اخلاق حسین

(2) حضرت ابراہیم علیہ السلام   –  امام انسانیت از رضی الاسلام ندوی

(3) حضرت ابراہیم علیہ السلام از مائل خیرآبادی

(4) حج(خطبات) از مولانا سید ابوالاعلی مودودی

(5)  حج کس لیے ازمولاناشمس پیرزادہ

(6) حج کیا ہے ؟ از مولانا سیدحامد علی

(7) عید قربان از مولانا سید ابوالاعلی مودودی

(8) قربانی کی شرعی حیثیت از مولانا سیدعروج قادری۔

یہ تمام کتابیں کسی بھی  اسلامی مکتبہ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

اوپر بیان کردہ پروگراموں کی نوعیت کی مناسبت سے نہ صرف قرآن وحدیث اور لڑیچرکا انتخاب ہو بلکہ انفرادی واجتماعی سرگرمیوں کو انتہائی موثربنانے کیلیے ان کی قبل از وقت منصوبہ بندی بھی یقینی بنائی جائے۔انفرادی واجتماعی سرگرمیوں کے لیے ذی قعدہ کا پورا مہینہ یا حسب ضرورت چند ایام کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔

4 تبصرے
  1. نصرت محی الدین کہتے ہیں

    الحمداللہ بہت ہی نفع بخش رہنمائی ہے جزاکم اللہ خیر الجزا

  2. Mohammed Yusuf کہتے ہیں

    Can we have more books on biography of prophet ?Ibrahim(a.s

    1. محمد عبد اللہ جاوید کہتے ہیں

      Dear Muhammad Yusuf
      Here are some references which include books on Seerah of Prophet Ibrahim (as) and other related issues
      قصص الانبیا ؑ ازامام ابن کثیرؒ
      مناسک حج از امام ابن تیمیہؒ
      حضرت ابراہیم خلیل اللہ:قرآن‘تورات‘ زبور‘ انجیل اور احادیث رسولﷺ کی روشنی میں از محمد ایوب
      محاضرات قرآنی از ڈاکڑمحمود احمد غازی

      1. Mohammed Yusuf کہتے ہیں

        Jazak Allah javed sb

تبصرے بند ہیں۔